جب شیر خان نے گورنر صاحب کو گارڈ کے لیے انٹرویو دیا تو سب کے ہوش اڑ گئے

2020 ,فروری 17



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): گورنر نواب کالاباغ جیسا بھی کوئی مردم شناس ہوسکتا ہے!گارڈ کی ضرورت پڑی تو خود گورنر نے انٹرویو کئے۔ انتخاب پولیس سے کرنا تھا۔ ملٹری سیکرٹری لیفٹیننٹ کرنل شریف تھے جو بعدازاں جوائنٹ سروسز چیف بنے۔ ملٹری سیکرٹری اے ایس آئی کو گورنر کے سامنے لے جاتے اور خود باہر آجاتے۔ تیسرا نوجوان شیر خان تھا۔وہ جلدہی انٹرویو بھگتا کرآگیا۔اسکے ساتھ ہی گورنر نے ملٹری سیکرٹری کو بلا کر ناراضی کا اظہار کیا، شیرا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا رہاتھا۔ ملٹری سیکرٹری پریشانی میں باہر آئے، شیرے کو ڈانٹنے ، ڈسپلن ،ادب آداب کا لیکچر دینے لگے۔ نوجوان بلاجھجک اور دبنگ بولا۔’ کرنل صاحب! روزی خدا نے دینی ہے ،گورنر صاحب جس طرح بات کر رہے تھے اور دیکھ رہے تھے‘ میں نے بھی اسی طرح بات کی اور دیکھا، میں کوئی اس کا ’’کانا‘‘ ہوں جو نظریں جھکا کر بات کرتا۔ گورنر صاحب سب سن رہے تھے، انکے جلال سے زمانہ واقف تھا۔شیر خان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ اسکی خیر نہیں!عمومی تاثر یہی تھا۔ شیرا گیا تو سلیکٹ کرنے کا فیصلہ سنادیا۔اس کا تعلق نواب صاحب کے مخالف میانوالی کے نیازی قبیلے سے تھا۔

متعلقہ خبریں