شکار

2019 ,اکتوبر 11



چند ماہ قبل میری مارکیٹ میں کام کرنے والا ایک ادھیڑ عمر شخص میری دوکان پر آیا. اس نے اپنی بیوی کی بیماری کے علاج کے لیے مجھ سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ آصف بھائی میری دو جوان بیٹیاں ہیں.. بیٹا کوئی نہیں.. مجھے جو تنخواہ ملتی ہے وہ گھر میں خرچ ہوجاتی ہے تو آپ میری مدد کریں اللہ آپ کو اجر دے گا بےشک آپ گھر چل کر دیکھ لیں..جوان بیٹی کا سن کر میرے اندر کا "شکاری" خوش ہوگیا.. میں نے کہا.. ٹھیک ہے دوکان بند کر کے تمہارے ساتھ چلتا ہوں..گھر جاکر دیکھا تو واقعی اس کی دو خوبصورت جوان بیٹیاں تھیں.. اور اس کی بیوی "کینسر " کی مریض تھی
ان کی مجبوری دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی.. انہیں تسلی دیکر گھر آگیا..دو دن بعد اس کو ہسپتال ایڈمٹ کرا دیا اور ہسپتال بھی دیکھنے جاتا رہا.. وہ لوگ مجھے "مسیحا" سمجھنے لگے اور مجھے سر آنکھوں پر بٹھانے لگے.. لڑکیوں کے لیے کبھی گفٹ بھی لےجاتا وہ بڑی خوش ہوتیں.. میں ان لڑکیوں کے والدین کی غیر موجودگی میں بھی گھر جانے لگا.. اب میں نے ان دونوں کو شاپنگ مال بھی لے جانے لگا..سات سو روپے کا سستا سا "سوٹ" پہننے والی لڑکیوں نے جب چار ہزار والے سوٹ پہنے.. جن شاپنگ مال کو وہ دور سے بڑی "حسرت" سے دیکھتی تھیں.. وہاں داخل ہو کر شاپنگ کی تو انہیں میری شکل میں اپنے خوابوں کی "تعبیر" نظر آنے لگی اور یہی تو میں چاہتا تھا.. ماں ہسپتال میں داخل تھی.. باپ کام پر جایا کرتا تھا.. باری باری ہر بہن ہسپتال میں ماں کے پاس ہوتی اور ایک بہن گھر میں رہتی.. تو باری باری میں بھی انہیں اپنے "جال" میں "جکڑتا" رہا.. اب وہ دونوں میری عادی ہوچکی تھیں.. ان کی خواہشات بڑھتی رہیں اور میں ان کے قریب ہوتا رہا اور اس طرح میں نے صرف ایک ماہ میں ہی دونوں لڑکیوں کو مزید "سبز باغ" دکھاکر شکار کرلیا.. اور جب تک ان کی ماں ہسپتال میں رہی ان دونوں کو اپنی "ھوس" کا نشانہ بناتا رہا.. دو ماہ بعد ان کی ماں مر گئی.. اور اب میرا بھی دل بھرچکا تھا.. کیونکہ اگلا "شکار" میرا انتظار کر رہا تھا.. تو وہاں جانا چھوڑدیا.. دو ہفتے بعد خبر آئی کہ ان تینوں باپ بیٹیوں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی ہے.. میں بھی جنازے میں گیا
اور فارغ ہوکر اگلے شکار کے گھر چلا گیا۔

متعلقہ خبریں