شاپنگ کے دوران پاکستانی لڑکی کے ساتھ ایسا شرمناک واقعہ پیش آگیا کہ پاکستانی لڑکیاں بازار جانے سے ہی گھبرانے لگیں

2017 ,جون 14



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) تعلیمی اداروں سے لیکر دفاتر اور بازاروں تک وہ کون سی جگہ ہے جہاں پاکستانی خواتین کو ہراساں نہیں کیا جاتا۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ خواتین کی زندگی اجیرن کرنے والے اوباش افراد کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ۔ کراچی کے ڈولمن مال میں ملبوسات کی خریداری کیلئے جانے والی ایک نوجوان لڑکی کو بھی اسی طرح کی افسوسناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑ گیا۔ ان کے ساتھ ملبوسات کی دوکان پر کام کرنے والے ایک ملازم نے ہی شیطانی حرکت کر ڈالی، البتہ خوش قسمتی سے اس بار لڑکی کو ہراساں کرنے والے اوباش نوجوان کو بھی نتائج بھگتنا پڑے۔ 
ویب سائٹ مینگو باز کی رپورٹ کے مطابق لڑکی نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ” چند قبل میں طارق روڈ پر واقعہ ملبوسات کی دوکان ’زین‘ میں شاپنگ کیلئے گئی۔ دوکان میں چند خواتین و بچے اور تین سے چار ملازمین تھے۔ میں ایک لباس کو دیکھنے میں محو تھی کہ پیچھے سے کسی نے ہاتھ سے میرے جسم کو مضبوطی سے دبایا۔ یقینا یہ اتفاقاً ہاتھ چھو جانے کا معاملہ نہیں تھا۔ میں پیچھے مڑ کر وہاں کھڑے آدمی پر چلانے لگی۔ یہ شخص دوکان کا ملازم ہی نکلا۔ اس کا نام نجیب تھا۔جب میری والدہ نے غصے میں چلاتے ہوئے کہا’یہ شخص یہاں آنے والی لڑکیوں کے ساتھ یہی سلوک کرتا ہے ؟ ‘ تو ایک خاتون ملازمہ نے مسکراتے ہوئے کہا ’نہیں جی، یہ پہلی بار ہوا ہے۔ ‘ خاتون ملازمہ سمیت دوکان کے تمام ملازمین نے نجیب کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ ابتدا میں تو ملازمین کا رویہ انتہائی افسوسناک نظر آرہا تھا لیکن خوش قسمتی سے بعد ازاں انتظامیہ نے ایکشن لیا اور اس بارے میں ایک بیان بھی جاری کیا گیا۔“ 
ملبوسات سٹور کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سی سی ٹی وی ویڈیو کا جائزہ لینے کے بعد نجیب نامی ملازم کو قصوروار پایا گیا ہے اور اسے فوری طور پر نوکری سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ بیان میں یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے کہ آئندہ کسی کسٹمر کے ساتھ ایسا واقعہ پیش نہیں آئے گا، جبکہ کسی بھی قسم کی شکایت درج کروانے کیلئے ایک فون نمبر بھی جاری کیا گیا ہے۔جس سے خواتین کی کافی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں