فسلفہ خاموشی

2017 ,اکتوبر 16



خاموشی عقل مند کا زیوراور احمق کا بھرم ہوتی ہے۔ خاموشی میں جہالت چھپی رہتی ہے یہ معرفت کی زبان ہوتی ہے۔ جواب جاہلاں باشد خاموشی کے محاورے سامنے آگئے قرآن نے بھی کہہ دیا جاہلوں سے بحث نہ کرو انہیں سلام کرکے الگ ہو جاو ۔ خاموشی بعض دفعہ تجسس پیدا کرتی رہی کئی اللہ والے بھی اس خاموشی کی زبان کی تشریح کے لئے خاموش رہنے والوں کو کچھ بولنے یا زبان سے موتی گرانے کی فرمائش کرتے رہے ایک اللہ والے کی محفل میں مسلسل خاموشی اختیارکرنے والے شخص نے جب ہر محفل میں یہ چلن اپنا لیا تواللہ والے نے کہا آپ بھی کبھی لب کشائی کریں وہ حکم کی تعمےل مےں ایک لمحے کے توقف کو بھی حرام سمجھ بیٹھا وہ لمحہ جس کے بارے میں کہتے ہیں پہلے سوچو پھر بولو ۔ سوچے بغیر بولنے کو حکم اور حکم کی فوری عمل درآمدی میں تاخیرکو حکم عدولی سمجھ بیٹھا کہا حضرت کیا عزرائیل یہاں بیٹھے سارے لوگوں کی اس وقت جان نکال سکتا ہے۔ اللہ والے نے کہا ہاں کہنے لگا غلط بالکل غلط ، ایک فرشتہ ایک ہی وقت میں اتنے لوگوں کی کیسے جان نکالے گا اور اگرنکال سکتا ہے تونکال کردکھائے، اللہ والے نے کہا تمہارا نہ بولنا ہی اچھا  ہے

متعلقہ خبریں