نوکری سے سبک دوش افراد میں نیند نہ آنے کی بیماری عام مگر اس کا علاج کس طرح ممکن ہے؟۔۔۔ تفصیلات جانئے اس خبر میں

2019 ,ستمبر 29



علی گڑھ (مانیٹرنگ رپورٹ) نوکری سے سبک دوش افراد میں نیند نہ آنے کی بیماری عام لیکن اس کا علاج ممکن ہے، نوکری سے سبک دوش ہونے کے بعد کچھ افراد نیند نہ آنے یا اچھی نیند نہ آنے کی بیماری میں مبتلا ہو کر پریشان رہتے ہیں ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ دن میں ان کی مصروفیت کم ہوجاتی ہے ۔  سابق صدر شعبہ امراض نفسیات اے ایم یو علی گڑھ ڈاکٹر پروفیسر سہیل احمد اعظمی نے میڈیکل کالونی سول لائنس علی گڑھ میں ایک تقریب کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوکری سے سبک دوش ہونے کے بعد ان کے روز مرہ کے معمولات میں فرق آتا ہے ایسی حالت میں بہت سے لوگ یا تو ٹی وی کے سامنے وقت گزارتے ہیں یا دن میں سوتے ہیں دن میں سونے کی وجہ سے قدرتی روشنی یعنی سورج کی روشنی میں کم رہنا رات میں نیند نہ آنے کا باعث ہوتا ہے۔
نیند نہ آنے کی بیماری کو دور کرنے کے لئے نفسیاتی اور معاشرتی طور پر فعال رہنا بہت ضروری ہے، سلیپ ڈائری لکھنے سے یہ بھی معلوم چلتا ہے کہ مریض کی نیند کی مدت اور اس کی کارکردگی کیا ہے۔ نیند کی وجوہات میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مریض کو نفسیاتی امراض جیسے ایزائیٹی، ڈپریشن وغیرہ تو نہیں ہیں جن کا علاج ضروری ہے لیکن نیند کی گولی کا استعمال کچھ مہینے تک ہی کیا جائے کیونکہ اس کی زیادتی مریض کی صحت پر اثر انداز ہوتی ہے، اس کے علاوہ غیرادویاتی اشیاء کا استعمال جسے سلیپ ڈائجن کہا جاتا ہے ان کو اپنانے کے بعد نیند نہ آنے کی بیماری میں فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ امور ایسے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر نیند نہ آنے کے امراض سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔ 
مثلاً سونے اور جاگنے کا وقت مقرر ہو سونے کے بستر پر تبھی جانا چاہئے جب نیند آئے۔ بستر پر جانے پر اگر بیس منٹ کے دوران نیند نہ آئے تو بستر چھوڑ دینا چاہئے اور جب دوبارا نیند آنے لگے تب بستر پر جانا چاہئے ۔اس کے علاوہ شراب، کافی وغیرہ کا استعمال سونے سے قبل نہیں کرنا چاہئے۔ بستر صرف سونے کے لئے استعمال ہو اس پر بیٹھ کر کھانا نہ کھایا جائے اور دن میں صرف 30منٹ کی ہی جھپکی لی جائے، بار بار سونے کے پہلے گھڑی دیکھنے سے بچا جائے، دن میں ورزش کی جائے،سونے کی جگہ آرام دہ ہو۔ سونے سے دو گھنٹے پہلے گرم پانی سے نہانا بھی اچھی نیند میں معاون ہوتا ہے۔ اچھی نیند صحت کے لئے نہایت ضروری ہے اس لئے اس کے متعلق بیداری بہت ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں