ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام۔۔۔۔۔۔۔وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

2017 ,جولائی 7



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): جب کوئی انسان خود کو برتر اور دوسروں کو کم تر سمجھنے لگے تو بہت جلد وہ تقدیر کے چکر میں آ جاتا ہے۔ ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سارا خاندان صوبے کا حکمران ہو۔ صوبے کی پولیس میں اتنی جرأت نہ ہو کہ ملزم کو ہتھکڑی لگائے۔ پولیس افسران ملزم کو سلیوٹ کر کے تھانے سے عدالت لاتے لے جاتے ہوں۔ جیل جا کر بھی ملزم کے ماتھے اور کپڑوں پر شکن تک نہ آئے۔

زیادہ پرانی بات نہیں کراچی میں ایک خوبرو جوان اعلیٰ افسر کے بیٹے کو ایک اعلیٰ سیاسی خاندان کے بگڑے ہوئے رئیس زادے نے اور پنجاب میں ایک بڑے سیاسی خانوادے کے بدمست شہزادے نے ایک نوجوان کو موت کے گھاٹ اتارا۔ مگر یہ لوگ ابھی تک تقدیر کے چکر میں نہیں آئے اس لئے بچ گئے۔ شاید تقدیر بھی پہلے گناہ سے قطع نظر کر لیتی ہے۔ مگر یہ مجید اچکزئی صاحب تو بار بار موقع ملنے کے باوجود سبق نہیں سیکھ پائے۔

اب پتہ چلا کہ موصوف کو تیسرے مقدمے میں بھی ریمانڈ پر دے دیا گیا ہے۔ سارجنٹ کے گھر والوں کی آہ لگتا ہے کچھ زیادہ ہی اثر کر گئی اور سارجنٹ کی ہلاکت اپنے ساتھ کچھ عرصہ قبل کے اغوا برائے تاوان اور 25 سال پرانے ایک مقدمہ قتل کی کہانی بھی سب کو یاد کرا گئی ہے۔ اب کوئی

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

والا شعر کہہ کر دل کے پھپھولے پھوڑے تو الگ بات ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ’’خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا‘‘ اسلئے انسان کو ہمیشہ اپنے ’’کینڈے‘‘ میں ہی رہنا چاہئے۔ ورنہ بعدازاں پچھتاوے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ یہی کچھ یہاں بھی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ امید ہے اب اچکزئی صاحب بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے۔ صوبہ اپنا حکومت اپنی وزیر اپنے گورنر اپنا تو میں تنہا جیل میں کیوں چکی پیس رہا ہوں!

متعلقہ خبریں