قبر کھولی گئی تو تابوت کے گرد سانپ لپٹا تھا۔ ایک ایسا واقعہ جو آپ کے رونگٹے کھڑے کر دے گا

2020 ,مارچ 17



انگریز دور میں کانسٹیبل بن جانا ترقی کی معراج اور خوشحالی کی ضمانت تھی۔ بزرگوں نے بتایا ان کا عزیز انسپکٹر استعفیٰ دیکر گھر آ گیا۔ یہ بڑا حیران کن تھا۔ اس سے وجہ پوچھی جاتی تو چہرے پرخوف کے سائے گہرے ہو جاتے۔ ایک روز بتا کر شَشدر کردیا کہ: ہمارے ساتھی انسپکٹر کی موت کے ڈیڑھ سال بعد قتل کا شبہ ظاہر کیا گیا تو پوسٹمارٹم کا حکم آ گیا۔ قبر کھولی گئی تو ہولناک منظرسے روح تک لرزگئی۔ ہڈیوں کے ڈھانچے کے سر کیطرف سیاہ ناگ بیٹھا تھا۔ وہ ماتھے پر ڈنک مارتا تو پسلیاں سپرنگ دبانے کی طرح سکڑ جاتیں پھر آہستگی سے کھلتیں تو سانپ وہی عمل دُہراتا ۔ہم زیادہ دیر تاب نہ لا سکے لہٰذا قبر بند کر دی۔“ پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل ملک غلام محمد نے حجاز مقدس میں دفن ہونے کی خواہش اور وصیت کی تھی۔ امانتاً کراچی میں دفن کر دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد تابوت سعودی عرب بھجوایا جانے لگا۔ قبر کھولی گئی تو تابوت کے گرد سانپ لپٹا تھا۔ گورکن کی مارنے کی کوشش بے سود نکلی۔ انسپکٹر کے چھ فائر بھی نشانے پر نہ لگے۔ ڈاکٹر نے زہریلا سپرے کرا کے قبر بند کرا دی۔ دو گھنٹے بعد قبر کھولی گئی تو سانپ اسی طرح تابوت سے لپٹا ہوا تھا لہٰذا قبر مستقل طور پر بند کر دی گئی۔ماڈل ٹاﺅن اور ساہیوال میں بے گناہوں کے خون کا حساب کسی نے تو دینا ہے۔ اس دنیا میں نہیں تو قبر میں ہی سہی۔ایک ایس پی پر دوست وکیل کی لاش تیزاب میں پگھلانے کا الزام ہے بعید نہیں اسے تیزاب میں زندہ ہی ڈال دیا گیاہو۔سنا ہے پیٹی بھائی اسے بچانے کیلئے سرگرم ہیں،بچا بھی لیں گے مگر قبر میں ہر ایک نے خود ہی بھگتنا ہے۔ قبروں کے منور ہونے کی مثالیں بھی موجود ہیں:1972ءمیں محمودغزنوی کا مقبرہ زلزلے میں پھٹنے سے تابوت نمودار ہو گیاجسے کھولا گیا تو نعش ترو تازہ تھی۔ قطب الدین ایبک کی کسی نے قبر کھول لی ان کا کفن بھی میلا نہیں ہوا تھا کیونکہ۔ محمد کے غلاموں کا کفن میلا نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں