تقریر سے کیا ہوتا ہے؟؟؟

2019 ,اکتوبر 5



28اگست1963ء میں دو لاکھ افراد کے اجتماع کے سامنے لنکن میموریل پر لائیو ٹی وی سے مارٹن لوتھر کنگ نے ایک تقریر کی۔

I Have a Dream تو کیا ہو گیا؟
1865میں امریکہ نے غلامی پر پابندی لگائی تھی۔لیکن1963ءکی مارٹن لوتھر کنگ کی تقریر تک امریکہ میں کالے نسلی تعصب کا شکار تھے۔ان کے چرچ الگ تھے۔ان کے سکول الگ تھے۔ ان کو کمتر نوکری ہی مل سکتی تھی۔ان کی رہائشی کالونیاں الگ تھیں یہ بس ٹرین میں گورے کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ اور اسی دور کے ہوٹلوں کے باہر لکھا ہوتا تھا”آپ کتا لا سکتے ہیں کوئی کالا نہیں آ سکتا“۔ لنکن میموریل پر مورٹن لوتھر کنگ کی اس تقریر سے کیا گوروں کی سوچ بدل گئی ؟۔ تو اس کا جواب نہیں ہے۔ہاں سیاہ فارم امریکیوں کی سوچ بدل گئی۔ انصاف پسند سفید فام لوگوں کو حوصلہ ملا۔ بے شک مارٹن لوتھر کنگ کو مار دیا گیالیکن اس کی تقریرI Have a Dreamامر ہو گئی۔ اسی سے حوصلہ لے کر آج امریکہ کے ہر شعبہ میں سیاہ فام سینہ تان کر سفیدفام نسل کے ساتھ برابری کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔ اس کا خوف نکل گیا۔کچھ تقریریں قوموں کی سوچ بدل دیتی ہیں۔ تقریروں سے کچھ نہیں ہوتا لیکن جب کسی قوم کی سوچ بدل جائے تو اس سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔دنیا کی تاریخ بدل جاتی ہے۔عمران خان کی یہ تقریر بھی وہ لکیر ہے جو مسلم امہ کی بدلتی سوچ کا نقطہ آغاز بنے گی۔ اور اگر یقین نہیں آتا کو کنگھال ڈالیں تاریخ کی کتابیں اور دیکھیں پاکستان کا وجود بھی ایک نظریہ اور پھر قائداعظم کی تقریر سے وجود میں آیا دن کا محنت کا نتیجہ ہے کہ ہم آزاد ملک میں سانس لے رہے ہیں۔۔۔ لیکن افسوس ہم اپنی آزادی سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ ہمارے حکمرانوں میں اتحاد ہی نہیں۔۔۔۔ آپس مین اتفاق کی کمی ہے کہ آج بھی ہم کشمیر کو آزاد نہیں کروا سکتے۔۔۔ لیکن اب وہ لوگ جو کہہ رہے ہیں تقریر سے کیا ہوتا ہے سن لیں کہ وقت بدلنے میں وقت نہیں لگتا۔۔

متعلقہ خبریں