سعودی عرب میں پابندی کیخلاف بھارتی تبلیغی جماعت کا ردعمل سامنے آگیا جبکہ پاکستانی جماعت نے خاموشی اختیار کرلی۔

2021 ,دسمبر 13



سعودی وزارت اسلامی امور نے کہا تھاکہ اس کام کی ابتداء انڈیا اور پاکستان سے شروع ہوئی اور اب ہر ملک میں پھیل گئی، یہ اسلام کی غلط تشریح کر رہے ہیں یہ ایک بدعت ہے جو تفرقات پیدا کر رہے ہیں جس کی یہاں ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سعودی وزیر برائے اسلامی امور ڈاکٹر عبداللطیف ال الشیخ نے کہا کہ مساجدکے مبلغین اور نماز جمعہ کا عارضی اہتمام کرنے والی مساجد اگلے جمعہ کا خطبہ (تبلیغی اور دعوتی گروپ) کے خلاف خبردار کرنے کیلئے مختص کرنے کی ہدایت کی۔خطبہ میں درج ذیل موضوعات شامل ہوں، پہلا نمبر پر اس گروہ کی گمراہی، انحراف اور خطرے کا اعلان اور یہ کہ یہ دہشت گردی کے دروازوں میں سے ایک ہے، خواہ وہ کوئی اور دعویٰ کرے۔ دوسری ان کی نمایاں ترین غلطیوں کا ذکر کریں۔ تیسری معاشرے کے لیے ان کے خطرے کا ذکر کریں۔ چوتھے اور آخری نمبر پر ملک میں متعصب گروہوں بشمول (تبلیغی اور دعوتی گروپ) سے وابستگی ممنوع ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے سعودی عرب میں تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کیے جانے کی مذمت کی ہے۔اپنے بیان میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم و شیخ الحدیث مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی نے سعودی حکومت کی جانب سے تبلیغی جماعت پر پابندی عائد کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جماعت کے بانی مولانا الیاس شیخ الہند مولانا محمود حسن کے شاگردوں میں سے تھے۔ انہوں نے تبلیغی جماعت قائم کی جس کے تحت اکابر کی مخلصانہ جدو جہد دینی و عملی اعتبار سے مفید رہی ہے۔

متعلقہ خبریں