نسیم حجازی کا گداگر اور گدھا

2016 ,نومبر 24

فضل حسین اعوان

فضل حسین اعوان

شفق

awan368@yahoo.com



 

نسیم حجازی نے اپنی کتاب’ سفید جزیرہ‘ سکندر مرزا کو پیش نظر رکھ کر لکھی۔ کتاب کا مسودہ تیار ہوا تو سکندر مرزا کو ’دیس نکالا‘ دیا جا چکا تھا تاہم نسیم حجازی نے اپنی محنت رائیگاں نہ جانے دی۔ انہوں نے مناسب ردو بدل کرکے کتاب شائع کر دی جو انہوں نے دو کرداروں کے نام کی۔ کتاب افسانوی خصائص سے معمور ہے تاہم اس کا پیش لفظ یکتا و نادر ہے۔ پیش لفظ کے آخری حصے میں ایک فقرہ جو انہوں نے کسی اور تناظر میں لکھا اس کالم کی وجہ بنا ہے۔ ”اس کتاب کا پس منظر تلاش کرنے کےلئے میں نے ماضی کے بجائے مستقبل کے خلاءمیں جھانکنے کی کوشش کی ہے“....دیباچہ ملاحظہ فرمائیے ؛
”ایک درویش اور اس کا کم سن چیلا شہر سے دور کسی جنگل میں رہتے تھے۔ درویش عام طور پر یاد خدا میں مصروف رہتا تھا اور چیلا آس پاس کی بستیوں سے بھیک مانگ کر اس کی خدمت کیا کرتا تھا۔ درویش صبح شام انتہائی سوز و گداز کےساتھ یہ دعا کیا کرتا تھا ۔’میرے پروردگار! میں ایک بے بس اور بے وسیلہ انسان ہوں اور تیرے بندوں کی کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ لیکن اگر تو مجھے بادشاہ بنا دے تو میری زندگی کا ہر سانس بھوکے اور ننگے انسانوں کی خدمت کےلئے وقف ہو گا۔ میں یتیموں، بیواﺅں اور نادار لوگوں کی سرپرستی کروں گا۔ میں محتاجوں کےلئے لنگر خانے کھولوں گا۔ میں عدل و انصاف کا بول بالا کروں گا۔ راشی اور بددیانت اہلکاروں کو عبرت ناک سزائیں دوں گا۔ مظلوم مجھے اپنی ڈھال سمجھیں گے اور ظالم میرے نام کانپیں گے۔ میں فحاشی اور بے حیائی کی لعنتوں کا خاتمہ کر دوں گا۔ نیکی اور بھلائی کو پروان چڑھاﺅں گا۔ میں قمار بازی کے اڈے اٹھوا دوں گا اور عبادت گاہیں اور مدرسے تعمیر کروں گا۔‘
کم سن چیلے کو یہ یہ یقین تھا کہ کسی دن مرشد کی دعا ضرور سنی جائیگی ۔۔۔لیکن وقت گزرتا گیا۔ چیلا جوان ہو گیا اور نیک دل درویش میں بڑھاپے کے آثار ظاہر ہونے لگے۔ رفتہ رفتہ چیلے کے اعتقاد میں فرق آنے لگا یہاں تک کہ جب درویش دعا کےلئے ہاتھ اٹھاتا تو وہ اس کے قریب بیٹھنے کی بجائے چند قدم دو بیٹھتا اور دبی زبان میں یہ دعا شروع کر دیتا۔ ’میرے پرودگار! اب میرا مرشد بوڑھا ہو چکا ہے۔۔۔ اگر تجھے ایک نیک دل آدمی کا بادشاہ بننا پسند نہیں تو مجھے بادشاہ بنا دے۔ میں یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا ہر کام اپنے مرشد کی خواہشات کے الٹ ہو گا۔‘
ابتداءمیں یہ ہوشیار چیلا چھپ چھپ کر دعائیں کیا کرتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اس کا حوصلہ بڑھتا گیا اور کچھ مدت کے بعد اسکی یہ حالت تھی کہ جب مرشد دعا کےلئے ہاتھ اٹھاتا تو وہ اسکے قریب بیٹھ کر ہی بلند آواز میں اپنی دعا دہرانی شروع کر دیتا۔ درویش اپنی آنکھوں میں آنسو بھر کر یہ کہتا’ اگر بادشاہ بن جاﺅں تو عدل و انصاف نیکی اور سچائی کا بول بالا کرونگا ‘اور چیلا قہقہ لگا کر یہ کہتا ’ اگر میں بادشاہ بن جاﺅں تو ظلم اور بدی کا جھنڈا بلند کروںگا۔‘ درویش کہتا’ میرے خزانے سے معذور اور نادرا لوگوں کو وظائف ملیں گے۔‘ چیلا یہ کہتا ’میں ان پر جرمانے عائد کروں گا۔‘ درویش اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا اور بسا اوقات ڈنڈا اٹھا کر پیٹنا شروع کر دیتا لیکن چیلا اپنی روایتی نیاز مندی کے باوجود اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ پھر ملک کا بادشاہ چل بسا اور تخت کے کئی دعویدار ایک دوسرے کیخلاف تلواریں سونت کر میدان میں آ گئے۔ دور اندیش وزیر نے راتوں رات تمام دعویداروں کو جمع کر کے یہ تجویز پیش کی۔’ اب ملک کو خانہ جنگی سے بچانے کی ایک ہی صورت باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ شہر کے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں اور علی الصباح باہر سے جو آدمی سب سے پہلے مشرقی دروازے پر دستک دے اسے بادشاہ تسلیم کر لیا جائے۔‘
۔۔۔ پھر یہ ہوا کہ پو پھٹتے ہی چیلا بھیک مانگنے کےلئے ملک کے دارالحکومت کی طرف جا نکلا۔ پہریداروں نے دروازہ کھول کر اسے سلامی دی اور امراءاسے ایک جلوس کی شکل میں شاہی محل کی طرف لے گئے۔۔۔
نئے بادشاہ نے پوری مستعدی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام وعدے پورے کیے۔ نہروں کا پانی بند کر دیا گیا۔ کنوئیں اور تالاب غلاظت سے بھر دیئے گئے۔ چوروں اور ڈاکوﺅں کو جیلوں سے نکال کر حکومت کا کاروبار سونپ دیا گیا۔ نیک اور خداپرست انسانوں کو عبادت گاہوں سے نکال کر جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔۔۔
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے ایک مشہور نجومی کو اپنا وزیر اعظم بنا لیا۔ سردیوں کے موسم میں ایک دن بادشاہ سلامت کے دل میں سیروشکار کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے اپنے دانشمند وزیر سے موسم کا حال پوچھا۔ وزیر نے جواب دیا۔ ”عالی جاہ! موسم نہایت خوشگوار رہے گا۔۔۔ سیر و شکار کےلئے اس سے بہتر دن اور کوئی نہیں ہو سکتا“۔بادشاہ سلامت اپنے مصاحبوں کے ساتھ شکار کےلئے نکلے تو راستے میں ایک کسان ملا، جو گدھے پر سوار تھا۔ کسان بادشاہ کو دیکھتے ہی گدھے سے کود پڑا اور ہاتھ جوڑ کر چلایا۔ ”حضور کا اقبال بلند ہوعالی جاہ! آج آندھی آئے گی، بارش ہو گی اور اولے پڑیں گے“۔بادشاہ نے پریشان ہو کراپنے وزیر کی طرف دیکھا اور اس نے کہا ”جہاں پناہ! آپ ایک پاگل آدمی کی باتوں پرتوجہ نہ دیں ۔۔۔“ بادشاہ غضبناک ہو کر بولا ”اس پاگل آدمی کو جوتے لگاﺅ“۔۔۔
لیکن جب بادشا تھوڑی دور آگے گیا تو آن کی آن میں آسمان پر تاریکی چھا گئی اور بادو باراں کے طوفان کیساتھ اولے پڑنے لگے۔ جنگل میں بادشاہ سلامت کےلئے سر چھپانے کی کوئی جگہ نہ تھی۔ وہ پانی اور کیچڑ میں لت پت ہونے کے بعد سردی سے ٹھٹھر رہے تھے۔۔۔ قصہ مختصر، بعد از خرابی بسیار جب وہ واپس اپنے محل پہنچے تو انہوں نے دو فرمان جاری کئے۔ ایک یہ کہ وزیر کا منہ کالا کر کے شہر میں پھرایا جائے اور اسکے بعد اسے کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے۔ دوسرا یہ کہ وزارت کا عہدہ سنبھالنے کےلئے اس کسان کو تلاش کیا جائے۔۔۔
جب کسان بادشاہ کے دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے کہا ”تم اس وقت کے سب سے بڑے نجومی ہو اس لئے تم وزیراعظم بنا دیئے گئے ہو۔کسان نے جواب دیا عالی جاہ! میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ میں نجومی نہیں ہوں۔،،
بادشاہ نے کہا ”اگر تم نجومی نہیں ہو تو تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ آج طوفان آ رہا ہے“۔کسان نے جواب دیا ”عالی جاہ!“ یہ میرے گدھے کا کمال ہے۔ جب موسم میں کسی ناخوشگوار تبدیلی کے آثار پیدا ہوتے ہیں تو وہ چند گھنٹے پیشتر ہی اپنے کان ڈھیلے چھوڑ دیتا ہے اور آج تو اسکے کان بہت ہی ڈھیلے تھے“ بادشاہ نے کہا ”بہت اچھا آج سے تمہارا گدھا ہمارا وزیراعظم ہے“
نسیم حجازی لکھتے ہیں”میں اس کتاب کا نصف حصہ اس بھکاری کے نام معنون کرتا ہوں جسے ایک زندہ دل قوم نے اپنا بادشاہ بنا لیا اور نصف اس گدھے کے نام معنون کرتا ہوں جسے ایک زندہ دل بادشاہ نے وزارت کا عہدہ پیش کیا “۔

 

متعلقہ خبریں