حضرت انسان کا ایک اور شاندار کارنامہ : مصنوعی سورج ایجاد کر لیا گیا ، اس کی دنگ کر ڈالنے والی خصوصیات اس خبر میں

2017 ,مارچ 24



لندن (ویب ڈیسک) جرمنی کے شہر ژیولِش میں دنیا کے سب سے بڑے مصنوعی سورج نے کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ’سورج‘ ایک سو اُنچاس بڑے بڑے لیمپوں پر مشتمل ہے۔ اس تجربے کا مقصد توانائی کے نئے ماحول دوست ذرائع تلاش کرنا ہے۔

یہ دیو ہیکل لیمپ اُسی طرح کے ہیں، جیسے فلم پروجیکٹرز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ’مصنوعی سورج‘ کا سن لائٹ     

 نامی یہ تجربہ جرمن شہر کولون سے تیس کلومیٹر مغرب کی جانب ژیولِش میں کیا جا رہا ہے۔ جرمن ایرواسپیس سینٹر ڈی ایل آر کے سائنسدان اس ’مصنوعی سورج‘ کی تیز روشنی اور حرارت کے ساتھ تجربات کرتے ہوئے یہ پتہ چلانا چاہتے ہیں کہ سورج سے جو بے پناہ توانائی روشنی کی صورت میں زمین تک پہنچتی ہے، اُسے کیسے زیادہ مؤثر طریقے سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

ان تجربات کے دوران جن نکات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، اُن میں سے ایک کا تعلق مؤثر طور پر ہائیڈروجن پیدا کرنا ہے، جو کہ طیاروں کے لیے مصنوعی ایندھن تیار کرنے کی جانب پہلا قدم ہے۔ تجربات کا مقصد پانی کے خلیوں کو توڑ کر آکسیجن اور ہائیڈروجن میں تقسیم کرنا ہے۔ ہائیڈروجن کو خاص طور پر مستقبل کی  زیادہ سے زیادہ ماحول دوست توانائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

سورج بنیادی طور پر توانائی فراہم کرتا ہے لیکن اس ’مصنوعی سورج‘ کو چلانے کے لیے توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ ان تجربات میں استعمال ہونے والے لیمپ بجلی سے چلتے ہیں۔

چار گھنٹوں کے اندر اندر ان تجربات میں اتنی بجلی استعمال ہوتی ہے، جتنی کہ چار ارکان پر مشتمل ایک گھرانہ پورے ایک سال میں استعمال کرتا ہو گا۔یہ تجربات قدرتی ماحول میں اس لیے نہیں ہو سکتے کہ دھوپ کی شدت مختلف مقامات پر بار بار بدلتی رہتی ہے اور اسی لیے لیبارٹری کے اندر یہ ’مصنوعی سورج‘ تیار کیا گیا ہے تاکہ تجربات کے لیے مسلسل ایک ہی شدت کی روشنی اور حرارت میسر آ سکے۔

لیبارٹری کے اندر تجربات سے زیادہ ٹھیک ٹھیک نتائج حاصل ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔ اسی طرح یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ پانی کے خلیات کو توڑ کر ہائیڈروجن حاصل کرنے کا ایسا طریقہ معلوم ہو سکے گا، جو آج کل رائج طریقوں کے مقابلے میں کافی سستا بھی پڑے گا۔اس ’مصنوعی سورج‘ کی روشنی اصل سورج کی روشنی سے ملتی جلتی ہے۔ اس کے اندر استعمال کیے جانے والے اور اندر سےچمکدار سطح رکھنے والے لیمپوں میں سے ہر ایک کا قطر ایک میٹر سائز کا ہے۔تمام ایک سو اُنچاس لیمپوں کو ایک چودہ میٹر اونچے اور سولہ میٹر چوڑے تختے پر شہد کی مکھیوں کے چھتے جیسی شش پہلو شکل میں نصب کیا گیا ہے۔ان تمام لیمپوں کو ایک نقطے پر مرکوز کرنے سے اتنی زیادہ روشنی حاصل ہوتی ہے، جو دس ہزار سورجوں جتنی تیز ہوتی ہے۔ اس ’مصنوعی سورج‘ سے دیواروں پر پڑنے والی بالواسطہ روشنی کی حدت بھی اتنی شدید ہے کہ انسان اُسے محض ایک سیکنڈ تک ہی برداشت کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں