داغِ ندامت نیکی کا جھومر؟

2022 ,مئی 23



رپورٹ: مہر ماہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریک عدم اعتماد جو عمران خان کے خلاف کامیاب ہوئی تھی ۔ عمران خان کی حکومت گر گئی تھی۔ عمران خان گھر چلے گئے تھے وہ ریورس ہونے جا رہی ہے۔ یہ کوئی قیاس آرائی نہیں ہے، کوئی افواہ نہیں ہے۔ بلکہ پکی خبر ہے۔کیوں سارا معاملہ ریورس ہونے جا رہا ہے؟ اوریا مقبول جان کی طرف سے ایک پروگرام میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے جو عمران خان کی حکومت کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا تھا ۔ سپیکر کی رولنگ کو مسترد کر دیا گیا تھا ، اس پر آج عدلیہ میںبے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ اُس بینچ کی طرف سے تصیح کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس معاملہ کو انڈو کرنے کے لیے سپریم کورٹ تیار ہو چکی ہے۔ اس حوالے سے نظر ثانی کی درخواست تحریک انصاف کی طرف سے پیش کر دی گئی ہے۔ اس پر سماعت ہو گی، تو سپریم کورٹ کی طرف سے ہر چیز کو انڈو کر دیا جائے گا۔ پہلے جب ریفرنس پر فیصلہ آیا تھا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے جس میں منحرف ارکان کا ووٹ شمار نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ دیا گیا تھا اس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کی طرف سے جن میں فواد چوہدری اور فیصل چوہدری اور دیگر وکلاءبھی تھے ، ان کی طرف سے بار بار یہ کہا گیا کہ عدم اعتماد کی تحریک اپنی جگہ پر موجود ہے۔ اس بیان کی آج سمجھ آ رہی ہے۔ نظر ثانی کے حوالے سے سپریم کورٹ اپنے فیصلہ پر اگر نظر ثانی کر لیتی ہے تو یوں سمجھ لیجئے کہ فیصلہ ریورس ہو جائے گا اور معاملہ پھر پارلیمنٹ میں جائے گا۔ دوبارہ سے تحریک عد م اعتماد ، وہاں پر دوبارہ اٹھے گی۔ دوبارہ وہاں پر ووٹنگ ہو گی۔ تو آج وہاں کیا صورت حال ہے؟۔ بیس لوگ ووٹ ڈالنے کے قابل نہیں ہیں۔اتحادیوں نے ووٹ دے کر شہباز ریف کو کامیاب کروایا تھا۔ نون لیگ کے تین بڑے لوگ پارٹی کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ق لیگ کے دو لوگ وہ بھی واپس جا رہے ہیں۔باپ کے اندر پھوٹ پڑ چکی ہے۔ ایم کیو ایم فوری طور پر الیکشن کروانے کا مطالبہ کر رہی ہے تو شہباز شریف کے لیے تین اپریل کی طرح172سے زائدلوگوں کو اپنے ساتھ رکھنا ناممکن ہو چکا ہے۔ عدم اعتماد کی تحریک پر اگردوبارہ ووٹنگ ہوتی ہے معاملہ پھر3اپریل تک آجاتا ہے تو یہ عدم اعتماد مکمل طور پر ناکام ہو جائے گی۔اس کے بعد کیا ہوگا؟۔ عمران خان کی حکومت پھر بحال ہو جائے گی، اور عمران خان بحال ہوتے ہیں پہلا کام کیا کریں گے؟۔عمران خان اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی ایک بار پھر صدر کو سفار ش کریں گے اور اس کی مخالفت اب ن لیگ کی طرف سے بھی نہیںکی جائے گی۔بات ہو رہی تھی تحریک عدم اعتماد کے ریورس ہونے کی تو اس حوالے سے ہمارے اور آپ کے سامنے دیگرشواہد بھی موجود ہیں کہ کس طریقے سے سپریم کورٹ کی طرف سے ریفرنس پر فیصلہ دیا گیا۔اس فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے حلقوں میں خصوصی طور پر مولانا فضل الرحمٰن کی پارٹی میں بہت زیادہ پریشانی پائی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی طرف سے یہ نوٹس بھی لیا گیا ہے کہ کس طریقے سے نیب کے افسروں کو پریشان کیا جا رہا ہے۔ ایف آئی اے کے افسروں کو ٹرانسفر کیا جارہا ہے اور کس طریقے سے ان اداروں پر دباؤ ہے کہ کس طرح شہباز شریف کے مقدمات تاخیر کا شکار کر دیئے جائیں یا واپس لے لیے جائیں۔ ساری چیزیں اسی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ سپریم کورٹ کی طرف سے کچھ بہت بڑا ہونے والا ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ جس میں سپیکر کی کی رولنگ کو مسترد کیا گیا تھا وہ فیصلہ انہی فیصلوں میں گنا جائے گا جومولوی تمیز الدین کیس آیا تھا۔کی طرف سے ، وہ فیصلے جو نظریہ ضرورت کے تحت جنرل ضیاءکے مارشل لاءکو مشرف کے مارشل لاءکو جائز قرار دینے کے حوالے سے آئے تھے۔اور پھر ایک فیصلہ جو ذوزلافقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ تھا۔ اس پر جن ججز نے فیصلہ دیا تھا اس کی بات بھی ہوتی رہے گی۔ ان فیصلوں کو کوئی بھی پاکستانی تحسین کی نظروں سے نہیں دیکھتا اور وہ فیصلہ جو سپیکر کی رولنگ کو مسترد کرنے کے حوالے سے آیا تھا۔وہ بھی انہی فیصلوں میں سے ایک ہے۔ فیصلہ دینے والے لوگوں کو وہ جو فیصلہ کریں تحریک عدم اعتماد کو ریورس کر دیں۔منحرف اراکین کی نااہلی کو تاحیات قرار دے دیں۔ شہباز شریف کو بوریا بستر لپٹ دیں۔ اس سب کے باوجود وہ جو ”نیک نامی کا جھومر ہے وہ ہماری سپریم کورٹ کے ماتھے سے نہیں دھل سکتا۔کبھی بھی نہیں دھل سکتا۔ ٭....٭....٭

متعلقہ خبریں