سانحہ تلمبہ،جو میں نے دیکھا۔۔

2022 ,فروری 14



،جائے وقوعہ سے تلمبہ چھ کلومیٹر دور ہے یہ تلمبہ سے ملتان جانے کا قدیمی راستہ ہے ،عمومی طور پہ ڈاکے چوریاں راہزنی کے واقعات سے محفوظ رہنے کیلیے مغرب کے بعد کوئی اس علاقے میں نہیں جاتا رات جب ہم چند صحافی اس علاقے میں وقوعہ کے بعد پہنچے تو وہاں مضافاتی علاقوں سے چند لوگ جمع تھے ان میں سے چند لوگ وہ بھی تھے جو اس واقعہ میں ملوث تھے کچھ کے پاس ڈنڈے سوٹے بھی تھے۔ ہم واقعہ کے چشم دید گواہ سابق کونسلر حاجی رمضان کا بیان ریکارڈ کررہے تھے کہ اچانک پولیس نے وہاں پہ کھڑے سبھی لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کردیا جو تماشائی تھے وہ بھاگ گئے مگر ملزمان نے نعرہ تکبیر بلند کردیا یوں پولیس کو ملزمان پکڑنے میں آسانی ہوئی وین بھر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا ۔ضلع بھر کی پولیس جمع تھی۔اہل علاقہ واقعہ پر۔شرمندگی محسوس کررہے تھے جائے واقعہ سے ملحقہ ڈیرے والا اور دیگر چکوک کے لوگ مساجد میں یہ اعلان سن کر ہجوم کی شکل میں جمع ہوئے کہ ایک شخص ہے اس نے قرآن کریم جلایا ہے کسی نے تصدیق کیا کرنی تھی اسے پولیس سے چھڑواکر خود ہی منصف بن کر درخت سے لٹکادیا ۔ میری تلمبہ میں جتنے لوگوں سے بات ہوئی ہر شخص نے مذمت کی اور واقعہ پر شرمندگی محسوس کی ۔ چند لمحوں بعد پولیس تلمبہ ہسپتال میں لاش لائی ہم تین صحافی وہاں موجود تھے ہسپتال کے تمام دروازے بند کیے گئے خوف وہراس کا عالم تھا لاش کو پولیس وین سے نکالا گیا چہرہ بُری طرح مسخ کردیا گیا تھا اینٹوں اور ڈنڈوں کے نشانات واضح تھے لوگوں نے جلانے کا انتظام بھی کیا تھا لیکن پولیس نے ایسا نہ ہونے دیا۔ہاں سوال تو ہے کہ کیا یہ پولیس کی غفلت ہے ؟میرے خیال میں لاہور میں جو پولیس کی مذہبی جنونیوں سے مدبھیڑ ہوئی تھی تو کوئی پولیس والا کیسے رسک لے سکتا تھا یہ محض اتفاق ہے کہ نئے ایس ایچ او کی تعیناتی کو 24گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے اور ایسے مشتعل ہجوم سے کون پنجا آزمائی کرتا ڈاکو لچے لفنگے مزاج لوگوں نے بغیر تصدیق کے خانیوال کے معزور شخص کو قتل کیا۔وہ معذور تو تھا لیکن قاتل بھی تو ذہنی طور پہ معزور تھے کیا دینِ مبین اسلام کے پیروکار ایسے ہوسکتے ہیں؟ توقیر کھرل ۔تلمبہ ضلع خانیوال

متعلقہ خبریں