طلعت حسین کی زندگی پر ایک نظر

2019 ,نومبر 14



سنہ 1945 میں دہلی میں پیدا ہونے والے طلعت حسین پاکستان ٹیلی وژن اور ریڈیو پاکستان کی ڈراما انڈسٹری کی مشہور و معروف ترین شخصیت ہیں۔

ان کی وجہ شہرت فنِ صداکاری ہے۔ انہوں نے ریڈیو ڈراموں میں صداکاری کی اور بے شمار کمرشل و اشتہارات میں بھی صداکاری کی ۔

طلعت حسین کا تعلق پڑھے لکھے اور روشن خیال گھرانے سے تھا۔ ان کے والد تقسیمِ ہند سے پہلے سرکاری ملازم تھے اور والدہ ریڈیو پر شوقیہ پروگرام کیا کرتی تھیں۔ طلعت حسین کے علاوہ ان کا ایک اور بھائی بھی تھا۔

یہ لوگ دہلی سے ہجرت کر کے اسوقت پاکستان آئے۔ جب طلعت حسین کی عمر 3 سال تھی.اور تب ان کے والد کی پوسٹنگ راولپنڈی میں ہوگئی تھی۔ بڑی مشکل سے اپنا سامان بچا کر پنڈی بھجوایا. اور خود کراچی کے راستے پاکستان پہنچے. تو پتہ چلا کہ والد صاحب کو کراچی میں تعینات کر دیا گیا تھا۔

بعد میں ان کو دمے کا مرض لاحق ہو گیا۔ اور اوور ڈوز انجکشن کی وجہ سے ان کی ایک ٹانگ مفلوج ہو گئی. تو وہ بستر کے ہو کر رہ گئے۔ انہی دنوں کراچی ریڈیو کا آغاز ہوا تو ان کی والدہ نے وہاں ملازمت کر لی. اور آخری دم تک ریڈیو سے وابستہ رہیں۔

ان کی والدہ طلعت حسین کے اس فیلڈ میں آنے کے سخت خلاف تھیں۔ ان کی خواہش تھی کہ بیٹا سول سروس میں جائے۔ پھر رشتے داروں کے سمجھانے پر وہ طلعت حسین کو ریڈیو لے کر گئیں۔ ان کا آڈیشن کروایا۔ اس زمانے میں بچوں کے لیے ایک پروگرام ہوا کرتا تھا۔’’سکول براڈ کاسٹ ‘‘جس میں تعلیمی نصاب پر مبنی ڈرامائی فیچر ہوا کرتے تھے.

توطلعت حسین نے والدہ سے اصرار کیا کہ یہ پروگرام کرنے سے مجھے تعلیم میں بہت فائدہ ہو گا۔ اس طرح ریڈیو پر کام شروع کیا۔
داد ملتی گئی، لوگ پسند کرنے لگے۔ پھرانہوں نے سٹوڈیو 9 میں کام شروع کر دیااور ان کی والدہ کوشش کے با وجودان کو روک نہیں سکیں اور وہ کام کرتے رہے .

1972ء میں ان کی شادی محترمہ پروفیسر رخشندہ سے ہوئی۔ ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہوئے ۔ انگلش لٹریچر میں گریجو ایشن کیا۔ پھر لندن جا کر تھیٹر آرٹس میں لندن اکیڈمی آف میوزک اینڈ ڈرامیٹک آرٹ سے ٹریننگ حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔

کیرئر کا آغاز سینما میں گیٹ کیپر کے طور پر کیا۔ بعد میں جب سینما کے مالک کو ان کے انگریزی بولنے کی قابلیت کا علم ہوا تو اس نے انہیں گیٹ بکنگ کلرک بنا دیا، یہ ان کی زندگی کی پہلی ترقی تھی .

انہوں نے ایکٹنگ کی تعلیم لندن میں حاصل کی۔ بچپن میں انہیں گائیکی‘ مصوری اور کرکٹ کا شوق تھا .

لندن میں اداکاری کی اعلیٖ تعلیم کے دوران انہوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ جاب بھی کی۔ ان کو" بی بی سی "میں کام تھوڑا بہت ملنا تو شروع ہو گیا تھا. مگر یہ ان کے گزر بسر کے لائق نہ تھا۔ جس کے لیے انہیں کچھ اور جاب کرنے کی ضرورت تھی۔

قابل ذکر بات یہ کہ انہيں جاب کے طور پر ویٹر کا کام ملا جیسے انہوں نے مجبوراً کیا۔ باوجود اس کے ,کہ پاکستانی کمیونٹی انہيں ایک اداکار کے طور پر جانتی بھی تھی.

پاکستان ٹیلی وژن پر انہوں نے کام کا آغاز 1967ء سے کیا۔ طلعت حسین بلاشبہ اداکاری کے شعبے میں اکیڈمی کا درجہ رکھتے ہیں۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ میں آپ کی خدمات قابل قدر ہیں ۔

انہوں نے پاکستان کے باہر بھی کئی چینلز پر اداکاری کی۔ 1971ء کی جنگ کے دوران ریڈیو پر ایک پروگرام کیا تھا۔’’کیا کرتے ہو مہاراج‘‘ جو جنگ ختم ہونے تک جاری رہا۔

ڈرامے .
ارجمند - پی ٹی وی (1970ء)
آنسو
طارق بن زیاد
بندش
دیس پردیس
عید کا جوڑا
فنون لطیفہ
ہوائیں
اک نئے موڑ پہ
پرچھائیاں
دی کاسل - ایک امید
ٹائپسٹ
انسان اور آدمی
رابطہ
نائٹ کانسٹیبل
درد کا شور

این ٹی ایم چینل سے

کشکول* *

تھیٹر
ڈاکومنٹری
ایم ایم عالم - پاکستان ایئر فورس .
قرآن کا اردو ترجمہ (آڈیو سی ڈی از شالیمار ریکارڈنگ کمپنی)
توسیع مسجد الحرام

فلمز
چراغ جلتا رہا
گمنام
انسان اور آدمی
جناح
امپورٹ ایکسپورٹ "ناروے"

لاج
قربانی
سوتن کی بیٹی (انڈین)
اشارہ - 1969ء
آشنا
بندگی
محبت مر نہیں سکتی

انہوں نے انڈین فلم میں معاون کردار ادا کیا، وہ فلم سوتن کی بیٹی جو 1989ء میں ریلیز ہوئی۔ فلم میں وہ ایک وکیل کی حیثیت سے نظر آئے، یہ فلم زیادہ کامیاب ثابت نہ ہو سکی ۔

ایوراڈز....... اعزازات
ایمنڈا ایوارڈ۔ بہترین معاون اداکار - فلم"امپورٹ ایکسپورٹ ناروے ۔
تمغا حسن کارکردگی 1982ء

تصنیف
طلعت حسین پر اداکارہ ہما میر نے کتاب لکھی ہے جس کا عنوان ہے “ یہ ہیں طلعت حسین“ جسے آرٹس کونسل کراچی نے شائع کیا ہے .

متعلقہ خبریں