طیبہ ضیا ۔۔۔۔۔۔۔تین عورتیں تین کہانیاں

2017 ,جون 22



 مریم نواز عام شہری نہیں ۔ پاکستان کے تین مرتبہ وزیر اعظم بننے کا اعزاز پانے والے میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور پانچ مرتبہ وزیر اعلی پنجاب کا عہدہ رکھنے والے میاں شہباز شریف کی بھتیجی ہیں ۔ دادا کا شمار ملک کے امیر اور معزز افراد میں ہوتا ہے۔دولت شہرت اقتدار خدا نے بے حساب دے رکھا ہے لیکن مریم نواز کی سوشل میڈیا پر سرگرمیاں دیکھ کر لگتا ہے جیسے کسی میٹرک پاس لڑکی نے نیا نیا سمارٹ فون خریدا ہو ۔سیلفیاں بنا بنا کرسوشل میڈیاپر ڈال رہی ہو۔ سیلفیاں اور ٹویٹس سے سوشل میڈیا کی توجہ درکار ہو ۔ جنرل مشرف نے سعودی عرب ملک بدر کر دیا ۔

برسوں جدہ رہنے کا موقع ملا ۔ سینکڑوں عمرے اور حاضریاں نصیب ہوئیں لیکن کبھی یہ حرکتیں دیکھنے میں نہیں اآئیں جن کا مریم اب شکار ہیں ۔ان کی چھوٹی بہن غالبا اسما نام ہے، نہ اس کو ایسا کرتے دیکھا اور نہ چچا شہباز کی صاحبزادیوں نے سوشل میڈیا کو مشغلہ بنا یا۔مریم نواز کی بھی ماضی میں کسی نے شکل نہیں دیکھی تھی۔سوشل میڈیا تب بھی موجود تھا شاید تب استعمال کرنا نہ آتا ہو گا۔

اب نہ جانے مریم کو کیا ہو گیا ہے ماڈل انداز میں تصاویر بنا کرپوسٹ کرتی ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ سوشل میڈیاوہ تالاب ہے جس میں کیچڑ زیادہ پایا جاتا ہے ۔جھومر والی تصویر مکہ ہوٹل کے بیڈروم سے بیت اللہ شریف کی زیارت کی فوٹو، مخالفین کےکمنٹس سیاسی تنقید تک محدود نہیں رہتے ۔ انتہائی شرمناک غلیظ اور بیہودہ کمنٹس بھیجے جاتے ہیں جو لگتا نہیں مریم ہضم کر پاتیں ہوں یا ان کی خاندانی سیکرٹری برداشت کر پاتی ہوگی۔مخالفین کو برا کہنے سے شریف خاندان کی بیٹی تہمتوں اور غلاظت سے بچ جائے گی؟

ایک عام عورت اور مسلم لیگی وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی کے پس منظر اور امیج میں فرق ہے ۔ اس آخری عشرہ میں ایسی کیا خاص بات ہے جو اس سے پہلے رمضانوں میں نہ تھی کہ محترمہ سیلفیاں بنا بنا کر امچیورٹی کا ثبوت دے رہی ہیں ؟رنگ بیرنگ برینڈڈ عبا قابل تعریف ہیں ۔دھوپ کا برینڈڈ چشمہ بھی کمال کا ہے ۔ بیگ تو بہت ہی عمدہ ہیں ۔ ہر تصویر امارت کا ثبوت دیتی ہے ۔پاکستان میں شاپنگ اور پہننے اوڑھنے کا مزہ امیر طبقہ کو ہے ۔ حکمرانوں کا پہنننا اوڑھنا شاہانہ لائف سٹائل امارت بھی غریب عوام میں حسرت اور مایوسی کا سبب بنے تو اس سے زیادہ تکلیف دہ کوئ چیز نہیں ۔

مریم نواز کے والدین انہیں وزیر اعظم بنانے کا خواب سجائے بیٹھے ہیں ۔ مریم نواز غیر سنجیدہ ٹین ایجر سوشل میڈیا گرل بننے سے گریز کریں ۔ ریحام خان اور تہمینہ درانی بھی حیران ہیں ۔یاد رہے کہ میاں شہباز شریف کےتہمینہ درانی سے نکاح کی خبر شریف فیملی کے لئے ہزیمت کا باعث تھی ۔ نواز بھائی کلثوم بھابھی سکتہ میں ا ٓگئے کہ اس خبر کے بریک ہونے سےسیاست متاثر ہو سکتی ہے۔ مصطفی کھر کی مطلوبہ اور بیباک کتاب کی مصنفہ سے شادی سیاست پر منفی اثرات مرتب کرے گی وغیرہ ۔

اس شادی کو سترہ سال ہو گئےلیکن تہمینہ درانی کو نواز فیملی نے دل سے قبول نہیں کیا جبکہ میاں شہباز اور تہمینہ کی محبت اس رشتے کو نبھا رہی ہے ۔شریف فیملی کا تہمینہ سے نا پسندیدگی کی وجوہات میں ایک وجہ تہمینہ کا لبرل انداز ہے ۔دوسری طرف ریحام خان ہے ۔ اس پر بھی مغربیت کا لیبل چسپاں ہے ۔ لیکن سوشل میڈیا پر جس قدر افسوسناک تنقید کا مریم نواز کو سامنا ہے، تہمینہ درانی اور ریحام خان کو بھی نہیں ۔ اس کا سبب مریم کا وزیر اعظم ہائوس پر غیر ائنی تسلط اور میڈیا سیل کا سرکاری ناجائز استعمال ہے ۔ دوسری عورتوں کو ہدف تنقید بنانا اسان لیکن خود کو تنقید سے بچانا مشکل ہوجاتا ہے ۔

ریحام خان نے عمرہ پر سیلفیاں بنا بنا کر خان کو بھی بدنام کردیا ۔ ریحام کی مجبوری شہرت تھی اور خان سے شادی کا مقصد بھی سیاسی شہرت کا حصول تھا جو اس نے حاصل کر لی ۔ مریم نواز کی کوئ سیلفی ان کے شوہر کے ساتھ نہیں دیکھی۔تہمینہ درانی اور ریحام خان بھی مریم نواز سے متعلق سوالات اٹھا سکتی ہیں ۔تہمینہ اور ریحام گھر کی بھیدی ہیں ۔ میاں بیوی لباس ہوتے ہیں اور بہو سسرال کی چادر ہوتی ہے۔

سسرال کے سر سے چادر اتار لی جائے یاشوہرکا لباس تو معاملات شرمناک صورتحال اختیار کرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ریحام خان مسلم لیگ نون کے لئے اہم اور تہمینہ درانی تحریک انصاف کے لئے اہم ترین مہرہ ہیں ۔ وزیر اعظم ہائوس خواتین چلا رہی ہیں ۔ اہوزیشن سے بھی عورتوں نے سیاست کھیلنا شروع کر دی تو حکومت کو سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنا پڑے گی ۔ ذرائع کاکہنا ہے کہ میاں محمدنواز شریف کے کیمپ میں تہمینہ درانی کا زیادہ خوف پایا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ نہ صرف ادیب ہیں بلکہ عالمی شہرت یافتہ ایک مصنفہ بھی ہیں،حقائق تلخ ہوتے ہیں مگر تاریخ کا حصہ ضرور بنیں گے ۔ تہمینہ درانی اپنی جیٹھانی بیگم کلثوم نواز کی فیملی سیاست سے خائف ہیں ۔ ان کے سسر مرحوم کی وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم بھی تہمینہ کو گراں گزرتی ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے شوہر اپنے بھائی صاحب اور بچوں کو بچانے کے لئے جھوٹ بولیں ۔ دادا کا تمام جائیداد بڑے پوتے حسین نواز کے نام کرنا ، نواز شریف اور ان کی اولاد کو شہباز شریف اور ان کے بیٹوں پر ترجیح دینے جیسے نکات تہمینہ درانی کی کتاب کی تاریخ بننے کا خدشہ موجود ہے۔

ریحام خان کی عمران خان سے شادی پر مریم میڈیا سیل سے جو لعن طعن موصول ہوتی رہی اس کو نظر انداز کیا ہوتا تو اج ریحام مریم کی ٹیم میں شامل ہوتی ۔ یہ تین عورتیں اپنی الگ الگ سیاسی کہانیاں لئے الگ الگ انداز سےسیاست کر رہی ہیں ۔ سیاست کی دنیا میں تینوں اہم کردار ہیں۔

 

متعلقہ خبریں