نجانے ہمارے معاشرے کو کیا ہو گیا ہے۔ ہر ادنیٰ و اعلیٰ پیسے کی ہوس میں اندھا ہے

2017 ,جون 15



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک): یہ محترم پروفیسر پشاور کالج میں علم کے ساتھ ساتھ منشیات فروشی کا منفعت کام بھی سرانجام دیتے تھے۔ نجانے اب تک کتنے معصوم طالب علم ان کے ہتھے چڑھ کر اپنا مستقبل تاریک کر چکے ہوں گے۔ جب پولیس نے ناکے پر انہیں روک کر ان کی گاڑی کی تلاشی لینے کی کوشش کی تو موصوف کے اندر سویا پروفیسر اچانک کسی خوفناک بھوت کی طرح بیدار ہو گیا اور انہوں نے ڈٹ کر تلاشی میں مزاحمت کی پولیس کو طلبہ سے ڈرانے دھمکانے کی بھی کوشش کی مگر پولیس سنتی ہی کس کی ہے۔ پولیس کی یہی خوبی یہاں بھی کام آئی یہ ماسٹر اور پروفیسر تو ان کے لئے تر نوالہ ہوتے ہیں۔ گاڑی کی تلاشی لی تو آئس ہیروئن، چرس اور اسلحہ جب برآمد ہوا تو اس معزز پروفیسر کو ہتھکڑی لگا کر تھانے پہنچا دیا گیا جہاں شنید میں آیا ہے کہ ان کے سر سے بھوت اتر گیا۔ نجانے ہمارے معاشرے کو کیا ہو گیا ہے۔ ہر ادنیٰ و اعلیٰ پیسے کی ہوس میں اتنا اندھا ہو گیا کہ اپنے ہاتھوں اپنی نسل کو تباہ کرتے ہوئے بھی انہیں کوئی احساس ندامت نہیں ہوتا۔ کہاں علم کا نور پھیلانے کا مقدس پاکیزہ عمل اور کہاں معصوم فرشتوں کی رگوں میں منشیات کا زہر انڈیلنے کا مکروہ پیشہ۔ دنیا بھر میں معلمی کو معزز پیشہ کہا جاتا ہے مگر یہ معلم تو کچھ زیادہ ہی استاد نکلا اور طلبہ کو ہی گمراہ کرنے لگا۔ اب ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ خبریں