وہ دلکش منظر، معطر ماحول اور خوبصورت موت

2019 ,اکتوبر 3



ڈاکٹر سلیم اختر کہتے ہیں یہ واقعہ ایک ہسپتال میں میری ایک عزیزہ کے سامنے پیش آیا جسے من و عن بیان کررہا ہوں۔ 
شام کا وقت تھا‘ میری چچی ہسپتال میں داخل اپنی کسی ملنے والی کی خیریت دریافت کرنے ہسپتال کے وارڈ میں موجود تھیں۔ چچی جس کی خیریت دریافت کرنے گئی تھیں‘ وہ اللہ کے فضل سے روبصحت ہورہی تھی لیکن اسکے ساتھ والے بیڈ پر ایک خاتون تقریباً نزع کے عالم میں تھی۔ اسکے عزیز و اقارب اسکے اردگرد جمع تھے جو ایک دوسرے کو تسلیاں دے رہے تھے۔ اچانک وارڈ میں ایک مریضہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔ اسکے عزیز و رشتہ دار چیخ و پکار کرنے لگے۔ فوری طور پر ڈاکٹر نے آکر مریضہ کو چیک کیا اور اسکی موت کی تصدیق کردی۔ ابھی ڈاکٹر وارڈ سے باہر بھی نہ نکلا تھا کہ اس مریضہ کو ہوش آگیا۔ اس اثناء میں جو خاتون نزع کے عالم میں تھی‘ وہ چل بسی۔ جس خاتون کو ہوش آیا تھا وہ زور زور سے رونے لگی۔ اسکے عزیزو اقارب سمجھے کہ شاید یہ کوئی شدید تکلیف میں مبتلا ہے جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے روتے ہوئے کہا کہ کاش! یہ میری ہی موت ہوتی۔ اس نے بڑے دکھ بھرے لہجے میں بتایا کہ ایک عجیب سی خوشبو کے ساتھ خوبصورت لوگوں (فرشتوں) کا ہجوم مجھے آسمانوں میں لے جایا گیا جہاں ہر طرف انتہائی روشنی اور خوشبو تھی۔

اچانک میرے کانوں سے آواز ٹکرائی ”اس کلثوم کو نہیں لانا تھا‘ وہ دوسری کلثوم ہے۔“ مجھے وہی سے چھوڑ دیا گیا اوراگلے لمحے ہی مجھے ہوش آگیا۔ پتہ چلا کہ جو خاتون نزع کے عالم میں تھی‘ اس کا نام بھی کلثوم تھا۔ فرشتے پہلی کلثوم کو دنیا میں چھوڑ کر دوسری کلثوم کو آسمانوں میں لے گئے۔ مجھے بہت زیادہ افسوس ہورہا ہے کہ کاش یہ میری موت ہوتی۔ اس قدر خوبصورت موت تو ہر انسان کی تمنا ہوتی ہے۔ یہ بات وارڈ میں موجود ہر مریض اور ہر شخص نے دیکھی اور سنی۔ لوگ کلثوم کی میت کی طرف بڑھ رہے تھے اور اسکی ایسی موت پر رشک کررہے تھے۔ ممکن ہے وہاں موجود کئی لوگ اپنی دنیاوی خواہشات کو رد کرچکے ہوں اور راست زندگی گزار رہے ہوں۔
دوسری جانب زندگی کی طرف لوٹنے والی کلثوم بے بسی کے عالم میں لیٹی رو رہی تھی‘ اسکے چہرے سے صاف عیاں تھا کہ وہ اس موت کیلئے کس قدر حسرت زدہ تھی حالانکہ لوگ تو موت کا نام سن کر ہی خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ وہ حسرت زدہ ضرور تھی لیکن مایوس نہیں تھی۔ شاید وہ اپنی آئندہ زندگی کے بارے میں فیصلہ کرچکی تھی کیونکہ آج وہ علم الیقین سے عین الیقین تک پہنچ چکی تھی۔ 

٭٭٭

میری اہلیہ عابدہ پروین کے والدسلطان علی کی چک نمبر 113گ ب تحصیل جڑانوالہ میں آٹے کی چکی اور چاول چھڑنے والی مشین تھی، انہوں نے اگلے روز بل جمع کرانے جانا تھا، پروین کو اسی رات خواب آئی کہ ابو کی حادثے میں ٹانگ ٹوٹ گئی ہے،اگلے روز انہوں نے والد کو شہر جانے سے روکا،یہ بل جمع کرانے کی آخری تاریخ تھی،وہ خودبل جمع کرانا چاہتے تھے کسی کو یا تو مبادہ وہ جمع نہ کرائے تو جرمانہ پڑے یا بجلی کٹ جائے، بیٹی نے باپ کو حادثے کے بارے میں بتایا مگر ان کے جانے کے بعد بے چینی سی لگی رہی،کھانا بھی نہ کھانا اور وپہر کو حادثے کی منحوس اطلاع موصول ہوگئی، جس میں ٹانگ ٹوٹ چکی تھی۔ اس کے چند سال بعد پھر خواب آیا کہ پروین کے ابوموٹر سائیکل پر اپنی بھابی مراد بی بی اور اس کی بیٹی کے ساتھ بائیک پر جارہے ہیں، سڑک کے درمیان گدھا کھڑا تھا اس کے قریب بائیک روکی کہ وہ سائیڈ پر ہوجائے، مگر گدھے نے ان کی طرف بڑھتے ہوئے دولتی ماردی اور کھڑی بائیک گر گئی جس سے ان کے کندھے کی ہڈی (ہَس) میں کریک آگیا۔ یہ سب پروین نے خواب میں دیکھا اور صد فیصد یہی ہوا، اس روز بھی والد کو شہر جانے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔
٭٭٭
پنجاب یونیورسٹی میں‘ میں نے 2013ء میں ماس کمیونیکیشن کی کلاس کوایک سمسٹر پڑھایا، سٹوڈنٹس میں  ایک سرفراز حسین راجہ تھے جنہوں نے بعد ازاں  اس کتاب کی تیاری میں معاونت کی۔ اس سے قبل شائع ہونے والی کتاب”قوم کا باپ“ کی تیاری میں بھی انہوں نے کافی ساتھ دیا۔انہوں نے بھی اپنا خواب سنایا جو سو فیصد درست ثابت ہوا ان کا کہنا ہے: ”لاہور میں رہتے ہوئے بھی میں کبھی لاری اڈے نہیں گیا تھا، ایک رات خواب میں لاری اڈے میں رات کے وقت گھوم پھر رہا تھا ایک طرف قمقموں اور لائٹوں سے سجی مسجد مسحورکن نظر آرہی تھی۔ میں بوریوالہ جانے کے لئے کبھی اڈے پر نہیں گیا تھا، راستے میں بس پکڑ لیتا۔ اس مرتبہ دوست شکیل کے اصرار پر لاری اڈے چلا گیا یہ ستائیسویں رمضان کی اگلی رات تھی۔ اڈے میں پہنچا تو حیرانی کی انتہا نہ رہی، وہی عمارتیں، وہی چاکنگ، وہی بسوں کی لائینں، بھیڑ اور دھکم پیل جو ایک رات قبل خواب میں دیکھ چکا تھا، میں نے  شکیل کو بتایا، وہ بھی حیران ہوا۔ اب مجھے رنگ و نور میں نہائی ہوئی سفیدمسجد کی تلاش تھی، اس کا میں نے دوست سے تذکرہ کیا، اس جگہ سے آگے جا کے بائیں دیکھا تو مسجد موجود اور اس پر روشنیاں ستائیسویں کی طرح اگلے روز بھی جھلمل کررہی تھیں“۔ 
ایسے بے شمار لوگ مل جائیں گے جن کے خواب درست ثابت ہوتے ہیں گویا انسان اپنے ماضی سے تو آگا ہ ہوتا ہی ہے مگر اللہ چاہے تو اسے مستقبل سے بھی آگاہ کردیتا ہے۔ مستقبل سے آگاہ کرنے کے لئے صرف خواب ہی ذریعہ نہیں کسی اور طریقے اور ذریعے سے بھی آگاہی ہوسکتی ہے۔ مستقبل کے بارے میں ٹھیک ٹھیک بتانے والے سکالرز اور صوفیاء موجود ہیں ان کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟ جن بچوں نے کسی کے ماضی کو اپنا قرار دیا اس کی کچھ اور وجوہات ہو سکتی ہیں۔
صداقت علی بھٹی
انچارج شعبہ کمپیوٹر نوائے وقت
میں اپنے دو کزنز کے ساتھ خانقاہ ڈوگراں سانگلہ ہل روڈ جو ایک ٹوٹی ہوئی تھی اور سنگل سڑک ہے۔ کے ذریعے لاہور آ رہا تھا۔ جون کا مہینہ۔ دوپہر کا وقت دھوپ ٹکی ہوئی تھی۔ ہم لوگ گاڑی میں بیٹھے پسینہ پسینہ تھے۔ اس دوران میرے بیٹے نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے سڑک کے عین درمیان بیٹھی ہوئی عورت کی طرف توجہ دلائی۔ یہ گاؤں مانگٹ کے بالکل قریب سنسان جگہ ہے ہم اس کے قریب سے گاڑی کی سپیڈ کم کر کے گاڑی کچے پر اتار کر گزرے۔ ہم سب نے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ اس نے دلہن کی طرح سرخ جوڑا اور زیورات پہن رکھے تھے۔ وہ ایک خوبرو اور حسین و جمیل لڑکی تھی۔ اتنی شدید گرمی میں بھی اس چہرے پر پسینے کی ایک رمق بھی نہیں تھی۔ وہ جہاں بیٹھی تھی وہیں چوکڑی جمائے بیٹھی رہی۔ اس کو کراس کر کے پچاس ساٹھ گز آگے آئے ہوں گے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ غائب تھی۔ میں نے سارا واقعہ جناب مقصود احمد بودلا کے گوش گزار کیا۔ انہوں نے ایک ثانیے کے مراقبے سے بتایا کہ وہاں ساتھ ہی جنات کی بستی ہے۔ وہ آپ لوگوں کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے مگر جب انہیں پتہ چلا کہ آپ لوگ داتا دربار جا رہے ہیں تو ان جنات نے آپ کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا۔
مجھے ایک دن نوائے وقت شعبہ کمپیوٹر کے انچارج صداقت بھٹی روحانی سکالر مقصود احمد بودلہ کے پاس لے گئے۔ میں نے ان سے  دوسرے جنم کے دعوؤں کے بارے میں حقیقت جاننا چاہی تو ان کا کہنا تھا۔ ”جنات کی اوسط عمر 15سو سال تک ہوتی ہے جبکہ دو سو تین سو سال کی عمر جنات کے بچپن اور لڑکپن کا دور ہوتا ہے، آپ نے سنا ہوگا فلاں مرد یا عورت پر جنوں کا سایہ ہے یا اس کے اندر جن ہیں۔ جن ایسے لوگوں کو اپنی زندگی کے مشاہدات بتا سکتا ہے جس پر جنات کا سایہ ہو جنات اسی شخص کی زبان اور آواز میں بات کرتے ہیں“۔ ایسے واقعات کی ایک توجیح  انسانی جین(genetic) کی نسل در نسل منتقلی کے حوالے سے بھی کی جاسکتی ہے۔ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک شخص کے مخصوص جین اس کے پوتے میں منتقل کئے گئے تھے جس سے پوتے میں دادا جیسی بہت سی عادات پیداگئی تھیں۔

جین کے اثرات عادات جسمانی ساخت، شکل وصورت اور ذہانت کئی پشتوں بعد بھی سامنے آ سکتی ہے۔ ہم عموماً کسی نئی جگہ جاتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ پہلے بھی یہ منظر دیکھ چکے ہیں۔ یہ احساس بھی جینز کی منتقلی کی وجہ  سے ہوتا ہے۔ ہمارے آباء میں سے کوئی پہلے یہاں آ چکا ہوتا ہے۔
جویریہ افضل
جنات گھروں میں رہتے ہیں۔ کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انسانوں کو تنگ کرتے پریشان کرتے ہیں۔ میں اس کو نہیں مانتی تھی۔ 2013ء میں جب میں راولپنڈی میں اپنے جاننے والوں کے گھر گئی تو وہاں جا کر مجھے پتہ چلا کہ جنات ایسا سب کچھ کرتے ہیں۔ جس جگہ ان کا گھر بنا ہے وہاں بہت سال سے ایک بوڑھا درخت تھا۔ جب وہ سوسائٹی بنائی گئی تو وہاں پر موجود تمام درخت ختم کر دیئے گئے تھے۔ یہ درخت بھی جڑ سے ختم کر دیا گیا تھا۔ اسی درخت پر ان جنات کا سایہ تھا۔ جب درخت کو اکھاڑا گیا تو انہوں نے اس جگہ پرجنات نے اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور اس گھر میں رہنے والوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ وہ بچوں کو نقصان پہنچاتے۔ ان کہ سب سے بڑے بیٹے جو کہ اس وقت حفظ کر رہا تھا۔ اس کو پریشان کرتے۔ وہ ہر وقت بیمار رہنے لگا جس کی وجہ سے وہ حفظ بھی نہ کر پایا اور نہ ہی سکول جا سکا۔ اس کے علاوہ چھوٹے بچوں کو بھی تنگ کرتے۔ ان کے سکول بیگ غائب کردیتے۔ پہنے ہوئے کپڑے کاٹ کر دیتے۔ اس کے علاوہ گھر کی قیمتی اشیاء موبائل اور پیسے وغیرہ کو بھی غائب کردیتے۔ خصوصی طور پر سکول جاتے وقت چیزوں کو غائب کرتے تاکہ بچے سکول نہ جا سکیں اور نہ پڑھ سکیں۔ ایک دن تو حد کر دی انکل گھر میں اپنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھے تھے اور اچانک سے turn لینے پر موبائل پیچھے سے غائب۔ تنخواہ بھی غائب ہوگئی۔ بہت سی جگہوں سے عامل اور مولوی آئے اس چیز کا توڑ کرنے کیلئے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔

جب میں نے یہ ساری باتیں سنی تو مجھے یقین نہ آیا مگرجب اسی گھر میں میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا: میرا موبائل بھی غائب ہو گیا تو مجھے یقین آیا کہ جن بھوت بہت کچھ کرتے ہیں۔ میں نے موبائل بیگ میں رکھا جسے کمرے میں چھوڑ خود باہر لاؤنج میں آ کر بیٹھ گئی۔ میں اسی کمرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ کوئی بھی کمرے میں نہیں گیا۔ دروازہ بند رہا۔ میں خود ہی کمرے میں گئی اور دیکھا۔ موبائل غائب اور بیگ کی زپ بھی کھلی ہوئی تھی۔ دوسرے سیل سے مس کال کی تو موبائل آف آ رہا تھا۔ میں حیران تھی کہ اتنی جلدی ایسے سب کیسے ہو سکتا ہے۔ بہت جگہ ڈھونڈا لیکن موبائل نہ ملا۔ اگلے روز سم اور میموری کارڈ کچن سے ملے اور ٹھیک ایک ماہ بعد ایک دن بیٹری اور ایک دن موبائل کی کیسنگ ملی۔ موبائل بالکل اپنی صحیح حالت میں تھا لیکن ڈیٹا موجود نہیں تھا۔ میرے لئے یہ ایک عجیب بات تھی۔ اب اللہ کہ فضل و کرم سے ان کے گھر سے جن و بھوت جا چکے ہیں کشمیر سے بلائے گئے مولوی حسین شاہ نے ان کے اس مسئلے کو اللہ کہ فضل و کرم سے حل کر دیا ہے اور گھر والوں کو تعویز وغیرہ دیئے جس سے گھر والوں کو بے فکر ہو کر خوشحال زندگی گزارنے کا موقع ملا۔
٭٭٭
ماہ نور بٹ
میری والدہ یہ واقعہ سناتیں تو ہمارے جسم میں سنسنی سی پھیل جاتی تھی۔وہ کہتی ہیں  ہمارے پہلے والے  پڑوس  کے گھر میں جنات کا بسیرا تھا۔ ان کے گھر کے کل افراد 5 تھے۔ میاں بیوی اور ایک لڑکا دو لڑکیاں تھیں۔ ان کا خاوند گندم کا کاروبار تھا۔ ان کا گھر تین منزلہ تھا۔ دوسری منزل پر گھر کے افراد کی رہائش تھی۔ انہوں نے پہلی منزل پر آٹا مشین لگا رکھی تھیں مگر ان کا کاروبار زیادہ منافع بخش ثابت نہ ہوا۔ جو لوگ ان سے آٹا خرید کر لے جاتے۔ وہ اسے تھوڑی دیر بعد واپس کر جاتے اور اس میں ریت اور مٹی کی آمیزش کی شکایت کرتے جبکہ وہی واپس کیا ہوا آٹا وہ لوگ گھریلو استعمال میں لاتے تو نہ اس کے ذائقہ میں کوئی فرق ہوتا تھا اور نہ ہی اس میں ریت و مٹی کی آمیزش محسوس ہوتی تھی۔ منافع نہ ہونے کی بدولت ان کا کاروبار پوری طرح ٹھپ ہو گیا۔ آخر انہوں نے میری نانی اماں کے کہنے پر ایک عامل سے رابطہ کیا جو کہ موچی دروازے کے پاس رہتے تھے۔ انہوں نے عامل بابا کو سارا ماجرا سنایا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح لوگ آٹا واپس کر جاتے ہیں اور جب ہم وہی آٹا استعمال کریں تو وہ ٹھیک ہوتا ہے۔ عامل بابا نے انہیں بتایا کہ ان کے گھر میں جنات کی رہائش ہے اور جہاں ان کے خاوند نے گندم پیسنے والی مشین لگا رکھی ہیں وہاں عبادت کرتے ہیں مشین کے شور کی بدولت انہیں عبادت میں دشواری ہوتی ہے۔ عامل بابا نے یہ بھی بتایا کہ عبادات میں مشکلات پیدا کرنے کی بدولت انہیں رزق میں تنگی آ رہی ہے۔ انہوں نے گھر آ کر اپنے خاوند کو ساری بات سے آگاہ کیا مگر وہ عامل اور پیروں کی بات پر یقین نہیں کرتے تھے چنانچہ انہوں نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا۔ حتیٰ کہ کاروبار پوری طرح ٹھپ ہو گیا اور وہاں پڑی ہوئی گندم کی بوریوں میں اڑنے والے کیڑے پڑ گئے اور جو فرد اس کمرے میں جاتا وہ کیڑے اس کے جسم پر لگ جاتے تھے۔ آخر کار مجبوراً انہیں اپنا کاروبار بند کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ روز مرہ معمول میں وہ جنات موجودگی کا احساس دلاتے رہتے تھے۔ اکثر اوقات گھر کا دروازہ خود بخود کھل جاتا تھا ارو پھر خود ہی بند ہو جاتا تھا۔ رات کو دروازہ بند کرتے تھے اور تہجد کے وقت دروازہ کھل جاتا تھا اور پھر خود بند ہو جاتا۔ عصر کے وقت اکثر و بیشتر اس کمرے سے تلاوت قرآن کی آوازیں آتی تھیں۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ صابن کا کاروبار شروع کیا۔ انہوں نے صابن کا سارا سٹاک دوبارہ اسی کمرے میں رکھا جہاں وہ عبادت کرتے تھے۔ گندم کی طرح یہ کاروبار بھی منافع بخش ثابت نہ ہوا اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔
انکی بیٹی اکثر گھر کی صفائی کرتے ہوئے کوڑا اسی کمرے میں ایک کنارے پر رکھ دیتی تھیں۔ ایک روز انہیں صفائی کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ پاس ہی کوئی لڑکی کھڑی ان کی جانب دیکھ رہی ہے۔ ڈر اور خوف کی بدولت وہ بھاگ کر اوپر چلی گئیں اور جا کر اپنی والدہ کو بتایا کہ وہاں کوئی لڑکی ہے۔ رات انہوں نے خواب میں دوبارہ وہی کمرہ اور لڑکی دیکھی۔ اس نے انہیں کہا تم جس جگہ کوڑا پھینکتی ہو وہاں میں قرآن پڑھتی ہوں تم وہاں کوڑا نہ پھینکا کرو۔ اس کے بعد انہوں نے کوڑا نہ پھینکا۔ اس کے بعد جب وہ شادی کے بعد بچے کی پیدائش کے لئے اپنی والدہ کے گھر آئیں تو انہوں نے اپنی رہائش اسی کمرے میں رکھی۔ وہ روزانہ سورۃ یٰسین کی تلاوت کرتی تھیں۔ دوسرے روز انہیں محسوس ہوا کہ ان کے دائیں کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا ہے اور جہاں ان کا تلفظ غلط ہوتا تھا وہاں وہ چیز ان کے کندھے پر دباؤ ڈالتی تھی۔ ان کی کیفیت عجیب سی ہو جاتی اور یوں محسوس ہوتا تھا کہ کمرے میں روشنی ضرورت سے زائد ہے۔ ایک روز انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہی لڑکی جسے انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔ اس بار خواب میں انہوں نے کہا کہ تم پریشان نہ ہو ہم تمہیں تنگ نہیں کریں گے۔ اور نہ ہی نقصان پہنچائیں گے۔ بس تم اپنی رہائش اور بستر کمرے کے بائیں جانب رکھنا۔ ہم خود تمہارے بیٹے کی حفاظت کریں گے۔ پیدائش کے بعد واقعی بیٹا پیدا ہوا۔ اس طرح ان کا دیکھا خواب سچ ثابت ہوا۔
سلیم بخاری صاحب نے بابا جی کا واقعہ سنایا”یہ 1982ء کی بات ہے میں دی مسلم میں چیف سب ایڈیٹر تھا آئی بی ایم شعبہ کے حسین سمعان انچارج تھے وہ مسلسل جمعہ کی اپنی چھٹی کے ساتھ جمعرات کی چھٹی ملا رہے تھے جس سے اس شعبے میں مسئلہ پیدا ہو رہا تھا۔ میں نے ان کو بلا کر سمجھانے کی کوشش کی تو انہوں نے کہا ان کو سال میں تین ماہ اپنے بابا کے پاس جمعرات کو جانا ہوتا ہے اس لئے چھٹی کرتا ہوں میں نے کہا۔”ایسا کرنے سے ملازمت جا سکتی ہے۔“ 
انہوں نے جواب دیا۔”میں جس مقصد کیلئے جاتا ہوں ملازمت اس کی قیمت نہیں ہے۔
 میں ان کے دل اور دماغ میں بابا جی کیلئے پائے جانے والے عقیدت و احترام کے جذبات سے متاثر ہوا۔ میں نے کہا۔”اگلی جمعرات کو مجھے بھی ساتھ لے جانا۔“
”سر آج جمعرات ہی ہے آج ہی چلیں۔“
 ہم اسی وقت چل پڑے تھوڑی دیر میں ایک کوارٹر تک پہنچے۔
 دروازے کے آگے صحن اس کے بعد برآمدہ اور پھر کمر ہ تھا۔ برآمدے میں قالین بچھے ہوئے تھے ہم یہیں رک گئے تو اندر سے نحیف سی رک رک کر آواز آئی۔”بخاری صاحب آئیے ناں! باہر کیوں کھڑے ہو گئے۔ اندر آجایئے ناں۔“میں حیران وپریشان تھا ان دنوں موبائل فون نہیں آئے تھے۔ ہم اندر گئے تو ایک سرخ و سپید مختصر الوجود شخص چوکڑی مار کے بیٹھا تھا اس کے سامنے بجھے ہوئے سگریٹ کا ڈھیر لگا تھا ایک سگریٹ ختم ہوتا تو دوسراسلگا لیتے ہم ان کے پاس بیٹھ گئے۔ انہوں نے ہمیں مخاطب کئے بغیر کہا۔”ڈوب ڈوب کے تیرنا ہوتا ہے۔ تیرتیر کے مرنا ہوتا ہے۔“ ہم ان کے پاس ایک گھنٹہ بیٹھے ہوں گے انہوں نے کم از کم 25مرتبہ یہ فقرہ دُہرایا ہوگا اس کے بعد ہم واپس دفتر آ گئے۔

میں نے حسین سمعان سے بابا کی ہسٹری سے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا ”یہ سکول دور سے بابا لال شاہ کے مرید تھے جن کا مزار مری میں ہے۔ ایف اے کرنے کے بعد وہ فوج میں بھرتی ہو گئے کاکول سے پاس آؤٹ ہوئے ان کوسوورڈ آف آنر ملی۔ وہ اسی طرح مرشد کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے چل پڑے جوں جوں آستانے کے قریب آتے گئے مرشد کی طرف سے پھٹکار اور لعن طعن کی آواز بلند ہوتی گئی وہاں پہنچے تو ان کو اپنے قریب آنے سے منع کر دیا گیا جس پر اس نوجوان نے کچھا اور بنیان پہنی اور وہیں کے ہو رہے۔ اب یہ نوجوان بابا جی تھے جو ہر سال فروری مارچ اور اپریل کے مہینے مرشد کے مزار پر آتے اس دوران جمعرات کو پنڈی میں اس مکان میں ٹھہرتے جہاں ہم گئے تھے 86یا 87ء میں بابا جی کا انتقال ہو گیا۔ تدفین میں شرکت کے دس دن بعد حسین سمعان ڈیوٹی پر آئے۔
میں اور میرا چھوٹا بھائی شوکت بخاری ہر عید پر اخبار نکال کر پنڈی سے لاہور یا ماہا سکوٹر پر آیا کرتے تھے یہ سلسلہ دس گیارہ سال چلا۔ 92ء میں ہر سال کی طرح ہم پنڈی سے چلے لیکن راستے میں طوفان بادو باراں میں پھنس گئے۔ اندھیری رات، بارش کے قطروں کو آندھی نے بارود بنا دیا تھا۔ شوکت نے میری آنکھوں کے اوپر ہاتھ رکھا ہوا تھا ایک جگہ طوفان کی شدت کے باعث ہم رک گئے اس میں تھوڑی کمی ہوئی تو چل پڑے۔ مگر کچھ ہی دیر میں پھر طوفان اپنے عروج پر تھا۔ ہم اجاڑ بیابان میں کھڑے ہو گئے میں نے کہا۔ ”آگے دریائے چناب پرٹول پلازہ نزدیک ہے وہاں پہنچتے ہیں۔“ خدا خدا کر کے ٹول پلازہ پر پہنچے طوفان کے باعث بجلی بند تھی لالٹین رکھ کے کلرک اِکا دُکا آنے والی گاڑیوں کو ٹوکن دے رہا تھا ہمیں بھیگے اور نچڑتے دیکھ کر کہنے لگا۔ ”باؤ جی! آپ اس طوفان میں کدھر!! یہ تو جلد تھمنے والا نہیں ہے۔“ اس نے ایک کوٹھڑی نما کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ طوفان کے رکنے تک وہاں بیٹھ جائیں۔“ میں سکوٹر کو کھینچ کر اس کوٹھڑی کی طرف چل پڑا شوکت بخاری میرے پیچھے تھا سکوٹر کھڑا کر کے میں نے دروازے کا کنڈا کھولا تو اندر وہی بابا جی بیٹھے تھے میں حیران ہو کر ان کو دیکھتا رہ گیا پھر ان سے پوچھا۔ ”بابا جی آپ تو فوت نہیں ہو گئے تھے؟“انہوں نے کہا۔”ڈوب ڈوب کے تیرنا ہوتا ہے تیرتیر کے مرنا ہوتا ہے۔“ ساتھ ہی وہ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے۔”بخاری صاحب آئیے آئیے بیٹھئے ناں!“میں انہیں دیکھ کے ہکا بکا تھا اسی کیفیت میں مَیں وہاں بیٹھ گیا شوکت بھی ساتھ تھا بابا جی اس دوران باہر نکل گئے تجسس تو بہرحال تھا، میں زیادہ سے زیادہ آدھے منٹ میں ان کو دیکھنے کیلئے اس کوٹھڑی سے باہر نکلا تو طوفان بدستور زوروں پر تھا وہ خراماں خراماں پل کے ساتھ نیچے جانیوالی سیڑھیوں کی طرف جا رہے تھے یکایک طوفان بادو باراں تھم گیا میں نے ان کو سیڑھیاں اترتے دیکھا تو بھاگ کر ان کی طرف گیا جب سیڑھیوں تک پہنچا مگر وہاں کچھ بھی نہیں تھا“۔ اسے آپ کیا کہیں گے اور کونسا جنم قرار دینگے۔
٭٭٭
عامر معاذ ہاشمی کہتے ہیں 
پرانی انار کلی میں اجمل دواخانہ پر ریاض جگرانوی صاحب نے سالہا سال کام کیا۔ ان کی شخصیت اور آواز میں ایسا طلسم تھا کہ دیکھنے اور سننے والا ان کا گرویدہ ہو جاتا۔ میں ان کے پاس کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔ ان کی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ انسان ان کی باتیں سنتے ہوئے دماغی سٹریس اور سٹرین سے یکسر نجات پا جاتا۔ ان سے ملے ایک سال ہو چکا تھا۔ ایک دن سہہ پہر کو اردو بازار میں سامنے سے آتے نظر آئے۔ حسب روایت نہایت  انکساری سے ملے۔ ہاتھ ملاتے ہوئے جھکے تو میں بھی جھک گیا۔ میرا دفتر نزدیک تھا میں نے کہا آئیے تشریف لائیے دفتر میں بیٹھتے ہیں۔ انہوں نے معذرت کرتے ہوئے تین چار خواتین کی طرف اشارہ کیا جو ان کے ساتھ تھیں۔ میرے ساتھ بات کرتے ہوئے وہ کچھ آگے چلی گئی تھیں۔ ریاض جگرانوی صاحب نے کہا۔ ”میں ان کے ساتھ جا رہا ہوں پھر کبھی ملاقات کریں گے“۔ یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے۔ دوسرے روز میں انہیں ملنے دواخانہ چلا گیا ان کے ایک ساتھی سے ملا۔ ان سے جگرانوی صاحب کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا۔ ”آپ کو نہیں پتہ! وہ تو سات ماہ قبل انتقال کر چکے ہیں“۔ یہ سن کر میں سوچ میں پڑ گیا کل جو ملے تھے وہ کون تھے؟؟

سرمد سرمست کا فکرو فلسفہ وہی تھا جو ہر مجذوب کا ہوا کرتا ہے۔ خدا سے گہرا تعلق پیدا ہونے کے بعد انسانی شخصیت میں وہ وسعت وگہرائی آ جاتی ہے کہ آفاق، افلاک اور کائنات اس میں گم ہو جاتے ہیں۔ معراج النبیؐ کے بارے میں سرمد کہتے تھے۔”حقیقت یہ نہیں کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم آسمان پر تشریف لے گئے تھے بلکہ حقیقت یہ ہے، آسمان آپؐ کی ذات میں سما گئے تھے“۔ اسی بناء  پر ا ن کو کفر کا مرتکب قرار دیا گیا۔ اورنگ زیب عالمگیر  سرمد سرمست کی داراشکوہ سے قربت کو اپنے دور میں فراموش نہیں کرسکے تھے۔ ادھوری ستر پوشی پر بھی سرمد کو واجب القتل سمجھا گیا۔
سرمد نماز کی پابندی سے بھی عاری تھے، ایک دن شہنشاہ ہند اورنگزیب عالمگیر نے ان کو اپنے ساتھ نماز کیلئے کھڑا کرلیا۔ سرمد چند لمحے بعد یہ کہتے ہوئے الگ جا کھڑے ہوئے۔ ”امام اور بادشاہ کی نیت میرے قدموں میں“ اسکی سرمد نے وضاحت کی ’امام صاحب نماز کے دوران بادشاہ سے مراعات میں اضافے کے بارے میں سوچ رہے تھے، بادشاہ رعایا سے خراج کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ اسکے بعد قاضی ئ سلطنت ملا عبدالقوی کے فیصلے پر عمل کردیا گیا۔ دنیا نے دیکھا، سرمد کا قلم کیا گیا سر سیڑھیاں پھاندنے لگا، زباں پر تھا۔ ”امام اور بادشاہ کی نیت میرے قدموں میں“۔ دوسری طرف انکی انگلی اپنے لہو میں ڈوب کر اللہ کا نام لکھتی چلی جارہی تھی۔ ان کا سر بریدہ دھڑ کئی قدم چلا تو انکے مرشد جنہیں وہ”ہرے بھرے صاحب“ کہتے تھے انہوں نے سرمد سے کہا ”اپنے راز کو فاش مت کر“ تو ان کا بدن ساکت ہوگیا۔
جن کا ظاہر اور باطن ایک ہوجائے وہ اللہ کے محبوب ہو جاتے ہیں، پھر انہی کے بارے میں ارشاد ہے، اللہ ان کا ہاتھ بن جاتا ہے، کان اور آنکھ بن جاتا ہے۔ مجذوبیت شاید محبوبیت کی اگلی منزل ہے۔ شریعت میں طریقت کو نہیں حقیقت کو دیکھا جاتا ہے جس کے سبب منصورحلاج جسم کے ٹکڑے کراتے اور شمس تبریز اْلٹی کھال اترواتے ہیں۔
مجذوب سرمد کا خون بہائے جانے پر رعایا میں اضطراب پایا جاتا تھا۔ لوگ سمجھتے تھے، اس قتل پر اورنگزیب قدرت کے قہر کا نشانہ بنے گا۔ اسکی بادشاہت سرخ آندھی اورسیاہ طوفان میں خس و خاشاک کی طرح اڑ جائیگی مگر خدا بزرگ و برتر کی ذات انسانوں کی طرح جذباتی نہیں۔ آج بھی ہم جب ایسا ستم ہوتا دیکھتے ہیں تو ظالموں کے عبرت ناک انجام کی توقع کرتے ہیں مگر ظالم کا ہاتھ روکنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے، ہمارے سامنے تصویر کا ایک ہی رخ ہو اور پسِ آئینہ کچھ اور ہو۔

اورنگ عالمگیر کو ایک طبقہ ظالم‘ سفاک اور جابر جبکہ دوسرا حلقہ ولی ئ کامل، انصاف پرور اور رحمدل بادشاہ سمجھتا ہے۔ دونوں دور کی کوڑی لاکر دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں۔ انکی شخصیت کا ایک پہلو آپ کے سامنے رکھا ہے، دوسرا پہلو بھی ملاحظہ فرمایئے۔ دِلّی میں ایک قتل ہوا، عدالت نے قاتل کو سزائے موت سنادی، شہنشاہ اورنگزیب کے پاس کی رحم کی درخواست گئی جو انہوں نے نامنظور کردی۔ پھانسی سے ایک روز پہلے قاتل کا غمزدہ بھائی پریشانی کے عالم میں بازار میں گھوم رہا تھا، ایک نامعلوم شخص نے اس کا ہاتھ پکڑلیا، اس نے دیکھا کہ اسکے سامنے پھٹے پرانے لباس میں بوڑھا مجذوب کھڑا ہے جس کا سر‘ چہرہ اور پورا جسم گرد آلود تھا‘ اپنی حالت سے فاقہ زدہ لگتا تھا۔ اس مجذوب نے اس سے صرف دو لفظ کہے۔ ”بھوک‘ روٹی“۔ اسے مجذوب کی حالت پر رحم آگیا اور اس نے اسے کھانا کھلادیا۔
کھانے سے فارغ ہوکر مجذوب اس شخص سے مخاطب ہوا ”مانگ کیا مانگتا ہے؟“ اس پر وہ شخص بولا کل صبح میرے بھائی کو پھانسی دی جارہی ہے اسے رکوا سکتے ہو؟“ یہ سن کر مجذوب کی کیفیت ہی بدل گئی۔ خوف اسکے چہرے سے ٹپکنے لگا اور وہ”موت‘ موت‘ دیر ہوگئی‘ دیرہوگئی“ کے عجیب وغریب الفاظ کہتا ہوا ایک طرف کو بھاگ نکلا۔
اگلے روز وہ شخص اپنے بھائی سے آخری ملاقات کیلئے قید خانے کے باہر پہنچ گیا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ بادشاہ اورنگزیب گھوڑے پر سوار قید خانے کی طرف آرہا ہے۔ قید خانے کے عملے میں شہنشاہ کی اس غیرمتوقع آمد پر کھلبلی مچ گئی۔ بادشاہ سیدھا اندر چلا گیا اور قید خانے کے داروغہ سے پھانسی پانے والے شخص کے کاغذات طلب کیے اور ان پر حکم لکھا۔ ”قاتل کو فوراً رہا کر دیا جائے“ قید خانے کا داروغہ اس حکم نامے پر ششدر تھا۔ بادشاہ نے پہلی مرتبہ اپنا سزائے موت کا فیصلہ منسوخ کیا تھا، بہرحال بادشاہ کے حکم کے تحت قاتل کو رہا کردیا گیا اور وہ ہنسی خوشی اپنے بھائی کے ساتھ گھر چلا گیا۔ بادشاہ  نے بھی اپنا گھوڑا واپس موڑلیا۔
پھانسی کا جووقت مقرر تھا اس وقت پر متعلقہ جلاد اور دوسرا عملہ مجرم کو پھانسی لگانے قید خانے پہنچا تو قید خانے کے داروغے نے اسے قاتل کی رہائی کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ اس شعبے کے انچارج نے قید خانے کے داروغہ کی اس بات پر یقین کرنے سے انکار کردیا اور سیدھا شاہی محل جا پہنچا، وہاں جاکر اسے معلوم ہوا کہ شہنشاہ باہر جانے کیلئے محل سے نکلے ہی نہیں تو اسکے ہوش اڑگئے۔ اس نے فوراً شہنشاہ کو ملاقات کیلئے عریضہ بھیجا، اورنگزیب نے اسے بلالیا اور تفصیل سن کر سخت مشتعل ہوگیا۔ اسے ساتھ لے کر اسی وقت قید خانے جا پہنچا۔ داروغہ ڈر کے مارے کانپ رہا تھا، اس نے بادشاہ کو بتایا۔ ”آپ اتنی دیر پہلے تشریف لائے تھے اور قاتل کی رہائی کا اس طرح تحریری حکم دیا تھا“ کاغذات پر بادشاہ کے دستخط اور مہر بالکل اصلی تھی۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد گویا بادشاہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ اس نے قیدخانے کے داروغہ سے پوچھا ”ہم قاتل کو آزاد کرنے کے بعد کس طرف واپس گئے تھے“ قیدخانے کے داروغہ نے اس سمت اشارہ کیا۔ بادشاہ نے گھوڑے کو ایڑھ لگائی اور گھوڑا سرپٹ دوڑتا اسی سمت روانہ ہوگیا۔ ہوا سے باتیں کرتا گھوڑا شہر سے باہر ویرانے میں داخل ہوگیا۔ کچھ آگے جاکر اس نے دیکھا کہ ایک مجذوب دوڑتا ہوا جارہا ہے‘ وہ خوفزدہ ہے اور بار بار مڑ کر پیچھے دیکھ رہا ہے۔ بادشاہ کے گھوڑے نے اسے جلد ہی جالیا، وہ سرجھکائے خاموش کھڑا ہوگیا۔ اورنگزیب نے مجذوب سے پوچھا۔”نظام میں خلل ڈالنے کی سزا معلوم ہے“؟
مجذوب نے جواب میں ایک لفظ کہا ”موت“ پھر ایسا کیوں کیا؟ بادشاہ نے پوچھا: ”وعدہ کرچکا تھا‘ مجذوب نے مختصر جواب دیا۔ ”تم خود کہہ چکے ہو اسکی سزا موت ہے‘ اب اپنی گردن پیش کرو“
بادشاہ کے کہنے پر مجذوب نے گردن آگے بڑھا دی۔ بادشاہ کی تلوار بجلی کی سی تیزی سے لہرائی اور مجذوب کا سر تن سے جدا ہوکر دور جاگرا۔ …ع
سرِ آئینہ ”تیرا“ عکس ہے پسِ آئینہ کوئی اور ہے 
 جدید سائنس دوسرے جنم کے دعوؤں کی کوئی توجیہہ پیش کرسکی ہے اور نہ کرسکے گی چاند اور مریخ کو تسخیر کرنیوالا انسان مکھی کا پر بنانے کی طاقت بھی نہیں رکھتا اور انسانی جسم کی مکمل ساخت سے بھی نابلد ہے۔ موت کیا ہے؟ اس کی سائنسی توجیح نہیں ہو سکی روح کی حقیقت جاننے سے بھی سائنس ابھی تک بے بس ہے روحوں کے حوالے سے اگر کچھ معلومات ملتی ہیں تو مذاہب سے ملتی ہیں اب آگے تذکرہ ذرا روحوں کے حوالے سے بھی ہو جائے۔

متعلقہ خبریں