بچوں کی تربیت میں والدین کے رویہ کی اہمیت!

2019 ,اکتوبر 19



لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ) اگرچہ اکیسویں صدی کے والدین، ماضی کے والدین کے برعکس زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں لیکن اس کے باوجود بچوں کا استحصال اور ہر طرف زیادتی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ممکن ہے کہ بطور والدین ہم بھی کہیں غلطی یا لاپرواہی کررہے ہوں، جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت اور حفاظت میں کوتاہی ہورہی ہو۔
 جدید دور کے تقاضوں اور پُرآسائش زندگی کے حصول کی خاطر تعلیم یافتہ خواتین اپنے خاوند کے قدم سے قدم ملاکر چلنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ لیکن اس کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ والدین زندگی کی گاڑی چلاتے ہوئے اپنے بچوں کو مکمل طور پر ملازموں کے حوالے کرکے بے فکر ہوجائیں۔  والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں، انہیں آزادانہ بات چیت کا ماحول فراہم کریں تاکہ اگر انہیں کوئی چھیڑے یا چھیڑنے کی کوشش کرے تو وہ الدین یا بڑے بہن بھائیوں کو اس سے آگاہ کریں۔
جدید دور میں ذرائع ابلاغ نے دنیا کو سمیٹ کر ایک گلوبل ولیج بنا دیا ہے دور کی چیزیں بھی قریب ہوگئی ہیں۔ ایسے میں بچے بعض ایسی باتیں سیکھ جاتے ہیں جو باتیں آئندہ دس برسوں میں بھی معلوم نہیں ہونی چاہئیں۔ اسکے علاوہ مائیں کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے انہیں ٹی وی کے آگے بیٹھا دیتی ہیںجس سے غلط راہ میں گامزن ہو جاتے ہیں بچوں کو معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے اِن کی تعلیم پر خصوصی توجہ دیں ان کی تفریح کا خاص خیال رکھیں۔ان کی پسند اور ناپسندیدہ چیزوں کا خاص خیال رکھیں اِن سے بات چیت کریں۔اگر وہ اچھا کام کریں تو انکی حوصلہ افزائی کریںاگر برا کام کریں تو فورًا منع کریں اور والدین کی تربیت اِس انداز میں ہونی چاہیں کہ وہ اِن میں اچھے اور برے میں فرق واضح کر دیں اور ان کے ساتھ اتنا دوستانہ رویہ رکھیں کہ وہ باہر جا کر اپنی دل کی باتیں نہ کریں اپنے بچوں کا اعتماد جیت لیں اِسکے لیے اُنہیں سختی سے کام نہیں بلکہ اُن کے مزاج کے مطابق ڈھالنا ہے۔ بچوں کی تربیت کرتے ہوئے ایک مقولہ یاد آتا ہے۔ 
’’ کھلاؤ سونے کا نوالہ‘ دیکھو شیر کی نگاہ سے‘‘

 

متعلقہ خبریں