ملا نصیر الدین کا وہ واقعہ جس پر پاکستانی عوام عمل کرلے تو سکھ کا سانس مل جائے۔۔۔ جانئے اس تحریر میں

2019 ,ستمبر 20



لاہور(مانیٹرنگ رپورٹ) ملا نصرالدین ایک صوفی بزرگ تھے، ملا نصیرالدین کے لطیفے اپنی جگہ، بعض اوقات ان کے ذومعنی جملے اور فقرے اپنے اندر لوگوں کے لئے اہم پیغام بھی لئے ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ واقعہ ہے کہ ملا نصیر الدین بازار سے جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔ ملا صاحب نے غصے سے پیچھے دیکھا، وہ شخص گھبرا کر بولا۔
معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے'۔۔، ملا صاحب نے کہا' نہیں، چلو عدالت چلتے ہیں،  انہوں نے جج صاحب کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا۔
جج نے اس شخص کا خوف دیکھ کر کہا، کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دو گے یا 
ملا صاحب بھی آپ کو تھپڑ لگائیں؟""
اس شخص نے نے کہا، جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گا، لیکن میری ایک گزارش ہے کہ میرے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن میری بیوی کے پاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔
جج نے کہا : "ٹھیک ہے، جلدی آؤ۔
ملا صاحب انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا، ملا صاحب اٹھے اور ایک زور کا "چھانپڑ" جج کو مارا اور کہا
اگر وہ زیور لاۓ تو تم لے لینا۔
معزز عدلیہ و نیب جتنی جلدی ہو سکے مجرموں سے زیور یا نقد مال و زر نکالو یہ روز روز کی تاریخیں ریفرنس پیشیاں پروٹیکشن آڈر  اور ضمانت قبل از گرفتاریاں ختم کرو ورنہ یہ نہ ہو کہ عوام بھی ملاں نصیرالدین بننے پر مجبور ہو جائے۔

متعلقہ خبریں