شاہد خاقان عباسی کی اصل کہانی اور کالے کرتوت۔۔۔ جانئے اس خبرمیں

2019 ,ستمبر 20



لاہور(مانیٹرنگ رپورٹ) اس  تحریر میں آپ شاہد خاقان عباسی کی اصل کہانی اور کالے کرتوت جان کر دنگ رہ جائیں اور شاید پٹواریوں کے دفاع کرنے والے حمایتیوں کی آنکھوں کے سامنے سے پردہ اٹھ جائے،  یہ  2013ء میں نواز حکومت بننے کے کچھ عرصے بعد کی بات ہے جب حکومت نے ایل این جی امپورٹ کا پراجیکٹ لانچ کیا جس میں تکنیکی اعتبار سے سوئی سدرن، سوئی ناردن، پی ایس او اور انٹرسٹیٹ گیس سسٹمز نامی کمپنیوں کی شرکت ضروری تھی۔ لیکن ایل این جی امپورٹ کرنے سے پہلے یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی پورٹ پر ایل این جی سٹور کرنے کا ٹرمنل کرائے پر لیا جائے اور اس کیلئے نوازشریف کے ذاتی دوست سیٹھ داؤد کی کمپنی اینگرو کے ساتھ معاہدہ کر لیا گیا۔ 

جس کے مطابق اسے ہر روز 2 لاکھ 72 ہزار ڈالرز (تقریباً 3 کروڑ روپے روزانہ) کرائے کی مد میں ادا ہونے تھے، چاھے اس کا ٹرمنل استعمال ہو یا نہ ہو۔ یہ معاہدہ کرنے کیلئے سوئی سدرن کو پریشرائز کیا گیا جس کے ایم ڈی نے پہلے تو انکار کیا پھر وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے اسے تسلی دی کہ وہ معاہدہ سائن کرلے، کرائے کی ادائیگی پی ایس او کردیا کرے گا۔ معاہدہ سائن ہوگیا اور اسی دن سے سیٹھ داؤد کو 3 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے ملنا شروع ہوگئے، پھر اس کے بعد پی ایس او کی مینجمنٹ سے کہا گیا کہ وہ ملک میں بڑھتی ہوئی گیس کی قلت کے پیش نظر قطر سے ہنگامی بنیادوں پر ایل این جی امپورٹ کرے۔ پی ایس او چونکہ پبلک لمٹڈ کمپنی ہے اس لئے قواعد کی رو سے اس کے ایم ڈی نے اپنے بورڈ کی رضامندی کے بغیر ایسا کوئی کام کرنے سے انکار کردیا۔ جب  پی ایس او نے انکار کیا تو وزارت پٹرولیم نے اسے ریگولر پے منٹس کی ادائیگی بند کردی۔

 جونہی حکومت کی طرف سے پے منٹ ملنا بند ہوئی، پی ایس او نے ملک میں پٹرول کی سپلائی معطل کردی۔ یہ وہی وقت تھا جب نوازحکومت کی تیسری ٹرم کے کچھ عرصہ بعد پٹرول کا خوفناک بحران کھڑا ہوگیا تھا اور چند دن کیلئے پورے ملک میں پٹرول ملنا بند ہوگیا تھا، یہ بحران حکومت کا اپنا پیدا کردہ تھا۔ جب میڈیا اور عوام کا پریشر پڑا تو وزارت پٹرولیم نے اس بحران کا ذمے دار پی ایس او کو گردانتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرکے اس کا ایم ڈی اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کو برخاست کردیا۔ پھر وزیرپٹرولیم نے شاہد اسلام  نامی شخص کو پی ایس او کا ایم ڈی لگا دیا اور اسے بورڈ کی اتھارٹی بھی تفویض کردی جو کارپوریٹ سیکٹر کی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ تھا۔ شاہد اسلام نے چارج سنبھالتے ہی قطر کی ایک پرائیویٹ کمپنی " کیو تھری " سے ہوشربا ریٹس پر مہنگی ایل این جی خریدنے کا معاہدہ کیا اور اربوں روپے کی مالیت کی ایل این جی آرڈر کردی۔ چونکہ یہ خریداری قوانین کے برخلاف تھی اور پروکیورمنٹ کے رولز پر پورا نہیں اترتی تھی، اس لئے اوگرا کا ایکشن لیا جانا یقینی تھا، وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے پاس اس کا بھی حل موجود تھا۔ اس نے فوری طور پر اوگرا کے چئیرمین کو جبری رخصت پر بھیج دیا اور اوگرا کے بورڈ ممبران کی تقرری التوا میں ڈال دی جس سے اوگرا کے بورڈ کا کورم پورا نہ ہوسکا اور وہ پی ایس او کی جانب سے غیرقانونی مہنگے داموں ایل این جی کی فروخت پر اپنا اجلاس بلا کر کاروائی نہ کرسکی، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے سوئی ناردرن کے ایم ڈی نے ایل این جی ٹرمنل کانٹریکٹ پر دستخط کرنے سے انکار کردیا جس کی پاداش میں شاہد خاقان عباسی نے اسے بھی نوکری سے نکال کر نئے ایم ڈی کو اپوائنٹ کروا دیا۔ 

اوگرا نے پی ایس او کو ایک لیٹر جاری کردیا جس میں اسے ایل این جی کی غیرقانونی خرید اور اس کی قیمت کا سرٹیفیکیٹ پیش کرنے کو کہا۔ معاملہ خراب ہوتے دیکھ کر پی ایس او پر شئیرہولڈرز کا دباؤ پڑا تو اس نے جواب میں کہہ دیا کہ ایل این جی کی خریداری وزارت پٹرولیم کے کہنے پر کی۔ معاملہ میڈیا میں آیا اور وہاں سے ہوتا ہوا نیب تک پہنچ گیا۔ جب وزارت سے رابطہ کیا گیا تو اس نے نیب کے ڈر سے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے نتیجے میں اربوں روپے کی ایل این جی کی پی منٹس پھنس کر رہ گئیں اور کوئی فریق بھی ذمے داری اٹھانے کو تیار نہ ہوا۔

 مجموعی طور پر 200 ارب روپے کی ایل این جی کا آرڈر قطر گیا جس کی ادائیگی اب ٹیکس دہدنگان کی جیب سے، یعنی قومی خزانے سے ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ نوازشریف کے دوست سیٹھ داؤد کو بھی ہر روز کے حساب سے 3 کروڑ روپیہ بغیر کسی ناغے کے ادا ہونا شروع ہوگیا، باوجود اس کے کہ اس کا ٹرمنل حکومت نے شاید ایک سال میں 10 فیصد بھی استعمال نہ کیا ہو۔ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ شاہد خاقان عباسی نے جس شاہد اسلام کو پی ایس او کا ایم ڈی لگایا تھا، یہ وہی شاہد اسلام تھا جو 1997 میں پی آئی اے کا چیف فنانشل آفیسر ہوا کرتا تھا اور خاقان عباسی اس وقت خود پی آئی اے کا چئیرمین ہوتا تھا۔ دونوں نے مل کر پی آئی اے کو اربوں کا نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے مشرف نے ان دونوں کو جیل میں ڈال دیا تھا۔ 2003ء میں جب شاہد خاقان عباسی نے ائیربلیو نامی ائیرلائن شروع کی تو اس کا پارٹنر بھی شاہد اسلام ہی تھا، یعنی یہ دونوں  ' پارٹنر اِن کرائم ' تھے اور ہیں، ناظرین یہ ہیں وہ زرائع جن کی مدد سے ایک طرف قومی خزانے کو 200 ارب روپے کا چونا لگایا گیا اور دوسری طرف سیٹھ داؤد کو روزانہ کی بنیاد پر 3 کروڑ روپے ٹرمنل کے کرائے کے دے کر ان میں سے آدھی سے زیادہ رقم اپنا کمیشن وصول کیا گیا، اور قطر کی جس کمپنی سے 200 ارب روپے کی ایل این جی مہنگے داموں خریدی گئی، اس کا شئیرہولڈر وہی قطری پرنس ہے جس کا خط لے کر نوازشریف نے بے شرمی کی داستان لکھی تھی۔

متعلقہ خبریں