ایک حقیقت مگریہ بھی ہے!

2019 ,نومبر 14



اس کتاب میں ایسے حالات، واقعات،حادثات اور احساسا ت کو بیان کیا گیا جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ موت کا وقت معین ہے،اس وقت سے قبل انسان موت کی دہلیز پر پہنچ سکتا ہے، موت کی دھمک سن سکتا مگرموت کی وادی میں اسی وقت داخل ہوگا جو اللہ تعالیٰ نے لکھ رکھا ہے۔ یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے: جب موت کا وقت آجائے تو ٹل نہیں سکتا، کسی صورت نہیں ٹل سکتا، تقدیر کے آگے کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوسکتی۔ موت کے متعین وقت سے ذات باری تعالیٰ کے سوا کوئی آگاہ نہیں، تاہم اللہ تعالیٰ کسی کو بھی اس کی یا کسی کی موت سے آگاہ کرنے پر قادر ہے۔ موت انسان کی محافظ ہے مگر اس سے مفر ممکن نہیں۔ کسی عرب ملک کا ایک واقعہ پڑھا اور سنا تھا: ایک نوجوان نے بائی ایئر دوسرے شہر جانا تھا۔ جس روز روانگی تھی، اس کی والدہ نے خواب میں دیکھا وہ جہاز کریش ہو گیا  اس میں اس کے جگرگوشہ نے بھی سفر کرنا تھا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو اس جہاز میں سفر کرنے سے منع کیا تو بیٹے نے اس کو وہم کہہ کر جہاز میں سفر کرنے پر اصرار کیا تاہم والدہ کے ہمہ تن اصرار اورتکرار پر اس نے ہار مان لی اور جہاز پر سفر نہ کرنے پر آمادہ ہو گیا،اس نے اگلے روز جانے کا ارادہ کیا اور سہ پہر کو اپنے کمرے میں آرام کرنے چلا گیا۔ خاتون کو اپنے خواب کے سچا ہونے کا یقین تھا، اس نے ٹی وی آن رکھا۔ شیڈول کے مطابق پرواز کے آدھے گھنٹے بعد اس جہاز کے کریش ہونے کی خبر نشر ہونے لگی۔ یہ عورت اپنے بیٹے کے بچ جانے پر بڑی خوش تھی۔ سمجھ رہی تھی کہ اللہ نے اس کے لخت جگر کو نئی زندگی دی ہے۔ وہ تیزی سے اپنے بیٹے کو یہ خبر سنانے گئی کہ جس جہاز میں اس نے جانا تھا وہ گر کر تباہ ہو گیا اور تمام مسافر اور عملے کے لوگ مارے گئے ہیں۔ بیٹا چادر اوڑھے لیٹا تھا، ماں نے چادر کھینچتے ہوئے اس کے بچ جانے کی خوشخبری سنانے کیلئے بیقرار تھی، چادر اس کے چہرے سے اتری تو دیکھ کر ماں کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے رہ گیا۔ اس کے بیٹے کی روح بھی پرواز کر چکی تھی اور شاید جہاز کے کریش ہونے سے مرنیوالوں کے ساتھ ہی اس کی روح بھی قبض ہو چکی تھی۔

٭٭٭
کتاب کا بڑا حصہ ایسے واقعات پر مشتمل ہے جس میں لوگ موت کے قریب ہوکر واپس آئے،کتاب کی تیاری کے دوران کئی واقعہ نگار مسافر راہی ئ عدم ہوگئے،انسان کی یہی  حیثیت اور حقیقت  ہے۔کئی ایک بار موت سے محفوظ رہے تو انکی کی زندگی میں انقلاب آگیا۔انسان کے جنم کی طرح موت بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔جس پر ہر فرد کا یقین ہے،کوئی نہیں کہتا کہ کبھی نہیں مرنا مگر دل ودماغ کے کسی کونے کھدرے میں یہ احساس جاگزیں ہے کہ ابھی نہیں مرنا۔اسی ابھی اور کبھی کے درمیان حد فاصل نہیں مٹتی جہاں تک کہ موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔جو لوگ موت سے ملاقات کرکے لوٹے اور جو ہر روز عزیزو رشتہ داروں کو موت سے ہم کنار ہوتے دیکھتے ہیں،سب کیلئے خود کو سدھارے کا اسی دنیا میں ایک ہی موقع ہے۔آگے جا کے کیا ہونا ہے اسے ابو یحی ٰ نے ایک دلکش پیرائے میں ناول”جب زندگی شروع ہوگی“ کی شکل دیکر تحریر کیا ہے۔جہاں اس ناول کی تلخیص ملاحظہ کیجئے۔ 
زمین کے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہیں رہی تھی۔ دریا اور پہاڑ، کھائی اور ٹیلے، سمندر اور جنگل، غرض دھرتی کا ہر نشیب مٹ چکا اور ہر فراز ختم ہوچکا تھا۔ دور تک بس ایک چٹیل میدان تھا اور اوپر آگ اگلتا آسمان۔۔۔ مگر آج اس آسمان کا رنگ نیلا نہ تھا، لال انگارہ تھا۔ یہ لالی سورج کی دہکتی آگ کے بجائے جہنم کے اْن بھڑکتے شعلوں کا ایک اثر تھی جو کسی اژدہے کی مانند منہ کھولے وقفے وقفے سے آسمان کی طرف لپکتے اور سورج کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتے۔ جہنمی شعلوں کی لپک کا یہ خوفناک منظر اور بھڑکتی آگ کے دہکنے کی آواز دلوں کو لرزا رہی تھی۔
لرزتے ہوئے یہ دل مجرموں کے دل تھے، یہ غافلوں، متکبروں، ظالموں، قاتلوں اور سرکشوں کے دل تھے۔ یہ زمین کے فرعونوں اور جباروں کے دل تھے، یہ اپنے دور کے خداؤں اور زمانے کے ناخداؤں کے دل تھے، یہ دل اْن لوگوں کے تھے جو گزری ہوئی دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا، مگر جب مرے تو ایسے ہوگئے کہ گویا کبھی دھرتی پر بسے ہی نہ تھے، یہ خدا کی بادشاہی میں خدا کو نظرانداز کرکے جینے والوں کے دل تھے، یہ مخلوقِ خدا پر اپنی خدائی قائم کرنے والوں کے دل تھے، یہ انسانوں کے درد اور خدا کی یاد سے خالی دل تھے۔
سو آج وہ دن شروع ہوگیا جب ان غافل دلوں کو جہنم کے بھڑکتے شعلوں اور ختم نہ ہونے والے عذابوں کی غذا بن جانا تھا۔۔۔ وہ عذاب جو اپنی بھوک مٹانے کے لیے پتھروں اور اِن پتھر دلوں کے منتظر تھے۔ آج اِن عذابوں کا ’یوم العید‘ تھاکہ ان کی ازلی بھوک مٹنے والی تھی۔ ان عذابوں کے خوف سے خدا کے یہ مجرم کسی پناہ کی تلاش میں بھاگتے پھررہے تھے۔۔۔ مگر اس میدانِ حشر میں کیسی پناہ اور کون سی عافیت۔ ہر جگہ آفت، مصیبت اور سختی تھی۔۔۔ اور ان پتھر دل مجرموں کی ختم نہ ہونے والی بدبختی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خبر نہیں اس حال میں کتنے برس۔۔۔ کتنی صدیاں گزرچکی ہیں۔ یہ حشر کا میدان اور قیامت کا دن ہے۔ نئی زندگی شروع ہوچکی ہے۔۔۔ کبھی ختم نہ ہونے کے لیے۔ میں بھی حشر کے اِس میدان میں گْم سم کھڑا خالی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہا ہوں۔ میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے، دوڑتے، گرتے پڑتے چلے جارہے ہیں۔ فضا میں شعلوں کے بھڑکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، گالیاں دے رہے ہیں، لڑ جھگڑرہے ہیں، الزام تراشی کررہے ہیں، آپس میں گتھم گتھا ہیں۔
کوئی سر پکڑے بیٹھا ہے۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا ہے، کوئی چہرہ چھپا رہا ہے، کوئی شرمندگی اٹھارہا ہے، کوئی پتھروں سے سر ٹکرارہا ہے۔ کوئی سینہ کوبی کررہا ہے، کوئی خود کو کوس رہا ہے، کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہرا کر ان پر برس رہا ہے، ان سب کا مسئلہ ایک ہی ہے۔ قیامت کا دن آگیا ہے اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں، اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار ہے۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا، جس کے بعد حساب کتاب شروع ہوگا اور عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ ہوجائے گا۔
یکایک ایک آدمی میرے بالکل قریب چلایا:
”ہائے۔۔۔ اِس سے توموت اچھی تھی۔ اِس سے تو قبر کا گڑھا اچھا تھا۔“
میں اردگرد کی دنیا سے بالکل کٹ چکا تھا کہ یہ چیخ نما آواز مجھے سوچ کی وادیوں سے حقیقت کے اس میدان میں لے آئی جہاں میں بہت دیر سے گم سم کھڑا تھا۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتدا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہوگیا۔ اپنی کہانی، دنیا کی کہانی، زندگی کی کہانی۔۔۔ سب فلم کی ریل کی طرح میرے دماغ میں گھومنے لگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بھیانک دن کے آغاز پر میں اپنے گھر میں تھا، یہ گھر ایک ظاہر بیں نظر کے لیے قبر کا تاریک گڑھا تھا، مگر دراصل یہ آخرت کی حقیقی دنیا کا پہلا دروازہ اور برزخ کی دنیا تھی۔ وہ دنیا جس میں میرے لیے ختم نہ ہونے والی راحت تھی، اْس روز مجھ سے میرا ہمدمِ دیرینہ اور میرا محبوب دوست صالح ملنے آیا ہوا تھا، صالح وہ فرشتہ تھا جو دنیا کی زندگی میں میرے دائیں ہاتھ پر رہا، اس کی قربت موت کے بعد کی زندگی میں میرے لیے ہمیشہ باعثِ طمانیت رہی تھی اور آج بھی ہمیشہ کی طرح ہماری پرلطف گفتگو جاری تھی۔ دوران گفتگو میں نے اس سے پوچھا:
”یار یہ بتاؤ تمھاری ڈیوٹی میرے ساتھ کیوں لگائی گئی ہے؟“
”بات یہ ہے عبد اللہ کہ میں اور میرا ساتھی دنیا میں تمھارے ساتھ ڈیوٹی کیا کرتے تھے۔ وہ تمھاری برائیاں اور میں نیکیاں لکھتا تھا۔ تم مجھے دو منٹ فارغ نہیں رہنے دیتے تھے۔ کبھی اللہ کا ذکر، کبھی اس کی یاد میں آنسو، کبھی انسانوں کے لیے دعا، کبھی نماز، کبھی اللہ کی راہ میں خرچ، کبھی خدمت خلق۔۔۔ کچھ اور نہیں تو تمھارے چہرے پر ہمہ وقت دوسروں کے لیے مسکراہٹ رہتی تھی۔ اس لیے میں ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا ہی رہتا تھا۔ تم نے مجھے تھکاکر مار ہی ڈالا تھا، لیکن ہم فرشتے تم انسانوں کی طرح تو ہوتے نہیں کہ برائی کا بدلہ برائی سے دیں۔ اس لیے تمھاری اس ’برائی‘ کے جواب میں بھی دیکھ لوکہ میں تمھارے ساتھ ہوں اور تمھارا خیال رکھتا ہوں۔“، صالح نے انتہائی سنجیدگی سے میری بات کا جواب دیا۔
میں نے اس کی بات کے جواب میں اسی سنجیدگی کے ساتھ کہا:
”تم سے زیادہ ’برائی‘میں نے الٹے ہاتھ والے کے ساتھ کی تھی۔ وہ میرا گناہ لکھتا، مگر میں اس کے بعد فوراً توبہ کرلیتا۔ پھر وہ بے چارہ اپنے سارے لکھے لکھائے کو بیٹھ کر مٹاتا اور مجھے برا بھلا کہتا کہ تم نے مٹوانا ہی تھا تو لکھوایا کیوں تھا۔ آخرکار اس نے تنگ آکر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اس شخص سے میری جان چھڑائیں۔ اس لیے موت کے بعد سے اب تم ہی میرے ساتھ رہتے ہو۔“
یہ سن کر صالح نے ایک زوردار قہقہہ لگایا۔ پھر وہ بولا:
”فکر نہ کرو حساب کتاب کے وقت وہ پھر آجائے گا۔ قانون کے تحت ہم دونوں مل کر ہی تمھیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کریں گے۔“
یہ بات کہتے کہتے اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی کے آثار نمودار ہوگئے۔ وہ بولتے بولتے چپ ہوا اور سر جھکاکر ایک گہری خاموشی میں ڈوب گیا۔ میں نے اس کا یہ انداز آج تک نہ دیکھا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے سر اٹھایا تو اس کے چہرے سے ہمیشہ رہنے والی شگفتگی اور مسکراہٹ رخصت ہوچکی تھی اور اس کی جگہ خوف و حزن کے سایوں نے لے لی تھی۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے بولا:
”عبد اللہ! اسرافیل کو حکم مل چکا ہے۔ خدا کا وعدہ پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اہلِ زمین کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔ تم کچھ عرصہ مزید برزخ کے اس پردے میں خدا کی رحمتوں کے سائے میں رہوگے، مگر میں اب رخصت ہورہا ہوں۔ اب میں تم سے اس وقت ملوں گا جب زندگی شروع ہوگی۔ تمہاری آنکھ کھلے گی تو قیامت کا دن شروع ہوچکا ہوگا۔ میں اس روز تم سے دوبارہ ملوں گا۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہوا کی تیز سرسراہٹ کی آواز میرے کانوں میں آنے لگی۔ بارش کی کچھ بوندیں میرے چہرے پر گریں۔ مجھے ہوش آنے لگا۔ میں بہت دیر تک اْٹھنے کی کوشش کرتا رہا، مگر میرے حواس مکمل طور پر بیدار نہ ہوسکے۔ کافی دیر میں اسی حال میں رہا۔ اچانک میرے کانوں میں ایک مانوس آواز آئی:
”عبد اللہ! اٹھو جلدی کرو۔“، یہ میرے ہمدمِ دیرینہ، میرے یارِ غار صالح کی آواز تھی۔ اس کی آواز نے مجھ پر جادو کردیا اور میں ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”میں کہاں ہوں؟“، یہ میرا پہلا اور بے ساختہ سوال تھا۔
”تم بھول گئے، میں نے تم سے کیا کہا تھا۔ قیامت کا دن شروع ہوگیا ہے۔ اسرافیل دوسرا صور پھونک رہے ہیں۔ اس وقت اس کی صدا بہت ہلکی ہے۔ ابھی اس کی آواز سے صرف وہ لوگ اٹھ رہے ہیں جو پچھلی زندگی میں خدا کے فرمانبرداروں میں سے تھے۔“، اس نے میرا کندھا تھپکتے ہوئے کہا۔
”اور باقی لوگ؟“، میں نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
”تھوڑی ہی دیر میں اسرافیل کی آواز بلند ہوتی چلی جائے گی اور اس میں سختی آجائے گی۔ پھر یہ آواز ایک دھماکے میں بدل جائے گی۔ اس وقت باقی سب لوگ بھی اْٹھ جائیں گے، مگر وہ اْٹھنا بہت مصیبت اور تکلیف کا اْٹھنا ہوگا۔ ہمیں اس سے پہلے ہی یہاں سے چلے جانا ہے۔“، اس نے تیزی سے جواب دیا۔
”مگر کہاں؟“، یہ سوال میری آنکھوں سے جھلکا ہی تھا کہ صالح نے اسے پڑھ لیا۔
”تم خوش نصیب ہو عبداللہ! ہم عرش کی طرف جارہے ہیں۔“، وہ تیزی سے قدم اٹھاتا ہوا بولا۔پھر مزید تفصیل بتاتے ہوئے اس نے کہا:
”اس وقت صرف انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین ہی اپنی قبروں سے باہر نکلے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کامیابی کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوگیا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خد اکو بِن دیکھے مان لیا تھا، اْسے چھوئے بغیر پالیا تھا اور اْس کی صدا اْس وقت سن لی جب کان اْس کی آواز سننے سے قاصر تھے۔ یہ لوگ اْس کے رسولوں پر ایمان لائے اور اْن کی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کردیا۔ اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو اپنی زندگی بنایا۔ خدا سے محبت اور مخلوق پر شفقت کے ساتھ زندگی گزاری، عبداللہ! آج ان لوگوں کے بدلے کا وقت ہے۔“
صالح کی باتیں سنتے ہوئے میرے چہرے سے حیرت اور اس کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔
”مگر میں تو جنت میں تھا اور۔۔۔“، صالح نے ہنستے ہوئے میری بات کاٹ کر کہا:
”شہزادے وہ برزخ کا زمانہ تھا، خواب کی زندگی تھی، اصل زندگی تو اب شروع ہوئی ہے، جنت تو اب ملے گی۔

لوگ ایک نوعیت کے تفکر میں مبتلا ہیں، راستے میں صالح سے میں نے اس کی وجہ پوچھی تو وہ بولا:
”تمھیں نہیں معلوم اس وقت حشر کے میدان میں کیا قیامت برپا ہے، اس وقت ہر نبی پریشان ہے کہ انسانیت کا کیا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ ان انبیا میں سے کوئی بھی نہیں چاہتا کہ اس کی امت عذاب الٰہی کا سامنا کرے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو معاف کردیں۔ مگر سرِ دست اس کا کوئی امکان نہیں۔ ایسی کوئی دعا کی جاسکتی ہے اور نہ اس کی اجازت ہے۔ لوگ سیکڑوں برس سے خوار و خراب ہورہے ہیں اور سرِدست حساب کتاب شروع ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔“
”سیکڑوں برس؟ کیا مطلب! ہمیں تو اندر آئے ہوئے بمشکل ایک دو گھنٹے گزرے ہوں گے۔“، میں نے چونک کر تعجب سے کہا۔
”یہ تم سمجھ رہے ہو۔ آج کا دن کامیاب لوگوں کے لیے گھنٹوں کا ہے اور باہر موجود لوگوں کے لیے انتہائی سختی و مصیبت کا ایک بے حد طویل دن ہے۔ باہر صدیاں گزر گئی ہیں۔ مگر تم ابھی یہ بات نہیں سمجھو گے۔“،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”رسول اللہ اس وقت بارگاہ ایزدی میں شکر و دعا میں مصروف ہیں۔ تم ان سے بعد میں مل سکتے ہو۔ اس وقت بتانے کی اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جناب رسالتماب کی یہ دعا قبول ہوگئی ہے کہ لوگوں کا حساب کتاب شروع ہوجائے۔ اس قبولیت کی گھڑی میں تم نے بھی ایک دعا کی تھی۔ تم دوبارہ حشر کے میدان میں جاکر وہاں کا احوال دیکھنا چاہتے تھے؟ تمھیں اس کی اجازت مل گئی ہے۔ حساب کتاب کچھ دیر بعد شروع ہوگا۔ تم اْس وقت تک لوگوں کے احوال دیکھ سکتے ہو۔ یہ پیغام دے کر ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمھارے پاس بھیجا ہے۔“
یہ سن کر میرے چہرے پر خوشی کے تاثرات ظاہر ہوئے۔ جنھیں دیکھ کر خلیفہ ئ رسول کے چہرے پر بھی مسکراہٹ آگئی۔ ایک وقفے کے بعد وہ دوبارہ گویا ہوئے:
”باہر بہت سخت ماحول ہے۔ صالح گرچہ تمھارے ساتھ ہوگا، مگر پھر بھی تم یہ پیتے جاؤ۔ یہ مشروب تمھیں باہر کے آلام سے محفوظ کردے گا۔“
یہ کہہ کر انھوں نے پاس رکھا سنہرے رنگ کا جگمگاتا ہوا ایک گلاس میری سمت بڑھادیا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے بڑھاکر یہ گلاس ان کے ہاتھوں سے لیا اور اپنے ہونٹوں سے لگالیا۔گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہی ایک عجیب واقعہ ہوا۔ میں گرچہ بالکل پیاسا نہیں تھا اور نہ کسی تکلیف اور بے چینی ہی میں تھا، مگر جو تسکین مجھے ملی وہ شاید صدیوں کے کسی پیاسے کو بھی پانی کا پہلا گھونٹ پینے پر نہیں ملتی ہوگی۔ اس مشروب کا ایک گھونٹ حلق سے اتارتے ہی لذت، سیرابی، آسودگی، مٹھاس اور ٹھنڈک کے الفاظ اپنے ایسے مفاہیم کے ساتھ مجھ پر واضح ہوئے جس کا تجربہ مجھے تو کیا، کسی دوسرے انسان کو بھی کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ اس مشروب کا ایک ایک قطرہ میری زبان سے حلق، حلق سے سینے اور سینے سے معدہ تک اترتا رہا اور میری رگ رگ کو سیرابی اور سرشاری کی کیفیت سے دوچار کرتا گیا۔
ہم دونوں ایک دفعہ پھر تیزی سے چل رہے تھے۔ عرش کی حدود سے نکلتے ہی ایک انتہائی گرم اور حبس زدہ ماحول سے واسطہ پڑا۔ لگتا تھا کہ سورج نو کروڑ میل سے سوا میل کے فاصلے پر آکر دہکنے لگا ہے۔ ہوا بالکل بند تھی۔ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ مجھ پر جام کوثر کا اثر تھا وگرنہ اس ماحول میں تو ایک لمحہ گزارنا ناممکن تھا۔ مگر میں دیکھ رہا تھا کہ ان گنت لوگ اسی ماحول میں بدحال گھوم رہے تھے۔ چہروں پر وحشت، آنکھوں میں خوف، بال خاک آلود، جسم پسینے سے شرابور، وجود مٹی سے اٹا ہوا، پاؤں میں چھالے اور ان چھالوں سے رستا ہوا خون اور پانی۔ یاس و ہراس کا یہ منظر میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ ہر طرف افراتفری چھائی ہوئی تھی۔ ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی۔ میری نظریں کسی ایسے شخص کو تلاش کررہی تھیں جسے میں جانتا ہوں۔ پہلی شخصیت جو مجھے نظر آئی وہ میرے اپنے استاد فرحان احمد کی تھی۔ انہوں نے دور سے مجھے دیکھا اور تیزی کے ساتھ میری نگاہوں سے اوجھل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔ میں نے صالح سے کہا:
”انھیں روکو! یہ میرے استاد ہیں۔ میں ان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔“
مگر اس نے مجھے ان کی طرف بڑھنے سے روک دیا اورتاسف آمیز لہجے میں بولا:
”دیکھو عبد اللہ! اپنے استاد کی رسوائی میں اور اضافہ مت کرو۔ اس وقت یہاں کوئی شخص اگر خوار و خراب ہورہا ہے تو سمجھ لو اس کے ساتھ عدل ہوچکا ہے۔ وہ خدائی کسوٹی پر کھوٹا سکہ نکلا، اسی لیے اس حال میں ہے۔“
میں تڑپ کر بولا:
”مگر ہم نے تو خداپرستی اور آخرت کی سوچ اور اخلاق کی ساری باتیں انہی سے سیکھی تھیں۔“
”سیکھی ہوں گی“، صالح نے بے پروائی سے جواب دیا۔
”مگر ان کا علم ان کی شخصیت نہیں بن سکا۔ دیکھو! خدا کے حضور کسی شخص کا فیصلہ اس کے علم کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اس کے عمل، سیرت اور شخصیت کی بنیادی حیثیت ہوتی ہے۔ علم صرف اس لیے ہوتا ہے کہ شخصیت درست بنیادوں پر تعمیر ہوسکے۔ جب تعمیر ہی غلط ہو تو یہ علم نہیں سانپ ہے:
علم را برتن زنی مارے بود
علم را بر من زنی یارے بود
(علم ظاہر تک رہے تو سانپ ہے اور اندر اترجائے تو دوست بن جاتا ہے)
یہی تمھارے استاد کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ ایک اچھے مصنف تھے۔ باتیں بھی اچھی کرتے تھے۔ مگر ان کی سیرت و کردار ان کی باتوں کے مطابق نہ تھی۔ درحقیقت تمھارے استاد سانپ پال رہے تھے۔ آج علم کے ان سانپوں نے 

انہیں ڈس لیا ہے۔ آج یہاں جب تم لوگوں کو دیکھو گے تو انہیں ان کے ظاہر اور ان کی باتوں کے مطابق نہیں پاؤ گے، بلکہ ان کی شخصیت ٹھیک ویسے ہی نظر آئے گی جیسا کہ وہ اندر سے تھے۔ یاد رکھو! خدا لوگوں کو ان کے ظاہر اور ان کی باتوں پر نہیں پرکھتا۔ وہ عمل اور شخصیت کو دیکھتا ہے۔ خاص کر اہل علم کا احتساب آج کے دن بہت سخت ہوگا۔ جو باتیں دوسرے لوگوں کے لیے عذر بن جائیں گی، عالم کے لیے نہیں بن سکیں گی۔“
”مگر انہوں نے بڑی قربانیاں دی تھیں۔“، میں نے ہار نہ مانتے ہوئے کہا۔
”ہاں مگر ان کا بدلہ انہیں دنیا ہی میں مل گیا۔“، صالح نے جواب دیا۔“
میں صدمے کی حالت میں دیر تک گم سم کھڑا رہا۔ میں ایک یتیم شخص تھا جس کا کوئی رشتہ ناطہ نہ تھا۔ میرے لیے جو کچھ تھے وہ میرے استاد تھے۔ انہوں نے میری سرپرستی کی، مجھے علم سکھایا، میری شادی کروائی، اور زندگی میں ایک مقصد دیا۔ جو شخص میرے لیے باپ سے زیادہ مقدم تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے ایک شاک (Shock) لگا تھا۔ میں اس کیفیت میں اپنے ماحول سے قطعاً لا تعلق ہوگیا۔
میرے سامنے ان گنت لوگ بھاگتے، دوڑتے، گرتے پڑتے چلے جارہے تھے۔ فضا میں شعلوں کے دہکنے کی آواز کے ساتھ لوگوں کے چیخنے چلانے، رونے پیٹنے اور آہ و زاری کرنے کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ لوگ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہے تھے، گالیاں دے رہے تھے، لڑ جھگڑرہے تھے، الزام تراشی کررہے تھے، آپس میں گتھم گتھا تھے۔
کوئی سر پکڑ کے بیٹھا تھا۔ کوئی منہ پر خاک ڈال رہا تھا۔ کوئی چہرہ چھپارہا تھا۔ کوئی شرمندگی اٹھارہا تھا۔ کوئی پتھروں سے سر ٹکرارہا تھا۔ کوئی سینہ کوبی کررہا تھا۔ کوئی خود کو کوس رہا تھا۔ کوئی اپنے ماں باپ، بیوی بچوں، دوستوں اور لیڈروں کو اپنی اس تباہی کا ذمہ دار ٹھہراکر ان پر برس رہا تھا۔ ان سب کا مسئلہ ایک ہی تھا۔ قیامت کا دن آگیا اور ان کے پاس اس دن کی کوئی تیاری نہیں تھی۔ اب یہ کسی دوسرے کو الزام دیں یا خود کو برا بھلا کہیں، ماتم کریں یا صبر کا دامن تھامیں، اب کچھ نہیں بدل سکتا۔ اب تو صرف انتظار تھا۔ کائنات کے مالک کے ظہور کا۔ جس کے بعد حساب کتاب شروع ہونا تھا اور پورے عدل کے ساتھ ہر شخص کی قسمت کا فیصلہ کردیا جانا تھا۔
مگر میں اس سب سے بے خبر نجانے کتنی دیر تک اسی طرح گم سم کھڑا رہا۔ یکایک میرے بالکل قریب ایک آدمی چلایا:
”ہائے۔۔۔ اس سے تو موت اچھی تھی۔ اس سے تو قبر کا گڑھا اچھا تھا۔“
یہ چیخ نما آواز مجھے واپس اپنے ماحول میں لے آئی۔ لمحہ بھر میں میرے ذہن میں ابتد ا سے انتہا تک سب کچھ تازہ ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے گردن گھما کر صالح کی طرف دیکھا۔ اس کا چہر ہ ہر قسم کے تأثر سے عاری تھا اور وہ مستقل مجھے دیکھے جارہا تھا۔ میری توجہ اپنی طرف مبذول پاکر وہ بولا:
”عبد اللہ! تم میدان حشر کے احوال جاننے کے شوق میں اپنی جگہ چھوڑ کر یہاں آئے ہو تو ایسے بہت سے مناظر ابھی تمھیں اور دیکھنے ہوں گے، میں تمھیں مزید صدمات سے بچانے کے لیے ابھی سے یہ بات بتارہا ہوں کہ تمھاری بیوی، تین بیٹیوں اور دو بیٹوں میں سے تمھاری ایک بیٹی لیلیٰ اور ایک بیٹا جمشید اسی میدان میں خوار و پریشان موجود ہیں۔“
صالح کی یہ بات سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ مجھے چکر سا آیا اور میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ صالح میرے ساتھ ہی زمین پر خاموش بیٹھ گیا۔
میری آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر یہاں کسی کو کسی کی کوئی پروا نہیں تھی۔ کوئی کیوں بیٹھا ہے؟ کیوں کھڑا ہے؟ کیوں لیٹا ہے؟ کوئی کیوں رو رہا ہے؟ کیوں چیخ رہا ہے؟ کیوں ماتم کررہا ہے؟ یہ کسی کا مسئلہ نہیں تھا۔ آج سب کو اپنی ہی پڑی تھی۔ ایسے میں کوئی رک کر مجھ سے میرا غم کیوں پوچھتا؟ لوگ ہمارے پاس سے بھی بے نیازی سے گزرتے چلے جارہے تھے۔ کچھ دیر بعد میں نے صالح سے پوچھا:
”اب کیا ہوگا؟“
”ظاہر ہے حساب کتاب ہوگا۔ پھر اس کے بعد ہی کوئی حتمی بات سامنے آئے گی۔“
 اس وقت شدید گرمی سے چہرے تپ رہے تھے۔ ہر طرف گرد و غبار اڑ رہا تھا۔ لوگ گروہوں کی شکل میں اور تنہا ادھر سے ادھر پریشان گھوم رہے تھے۔ میری متلاشی نظریں اپنے کسی شناسا کو تلاش کررہی تھیں، مگر کہیں کوئی شناسا صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اچانک ایک طرف سے ایک لڑکی نمودار ہوئی اور قبل اس کے کہ میں اس کی شکل دیکھ پاتا وہ میرے قدموں پر گرکر بے بسی سے رونے لگی۔ میں نے قدرے پریشانی سے صالح کی سمت دیکھا۔
اس نے سپاٹ لہجے میں لڑکی سے کہا:
”کھڑی ہوجاؤ!“
اس کے لہجے میں نجانے کیا تھا کہ میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ لڑکی بھی سہم کر کھڑی ہوگئی۔ میں نے اس کا چہرہ دیکھا۔ یہ چہرہ خوف، اندیشے اور غم کے سایوں سے سیاہ پڑچکا تھا۔ چہرے اور بالوں پر مٹی پڑی ہوئی تھی۔ پیاس کے مارے ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی تھیں اور وحشت زدہ آنکھوں میں خوف و دہشت کا رنگ چھایا ہوا تھا۔
کرب کی ایک لہر میرے وجود کے اندر اترگئی، میں نے اس چہرے کو جب پہلی دفعہ دیکھا تھا تو بے ساختہ چشم بد دور کہا تھا، ہما شہاب گورا رنگ، کھڑا کھڑا ناک نقشہ، کتابی چہرہ، گلابی ہونٹ، نیلی آنکھیں اور گہرے سیاہ بال۔ خدا نے اس چہرے کو قدرتی حسن سے اس طرح نوازا تھا کہ زیب و زینت کی اسے حاجت نہ تھی، مگر آج یہ چہرہ بالکل بدل چکا تھا، ماضی کا جمال روزِ حشر کے حزن و ملال کی تہہ میں کہیں دفن ہوچکا تھا۔ سراپا حسرت، سراپا وحشت، سراپا اذیت اور مجسم ندامت یہ وجود کسی اور کا نہیں میرے چہیتے بیٹے جمشید کی بیوی اور اپنی بڑی بہو ھما کا تھا جو حسرت و یاس کی ایک زندہ تصویر بن کر میرے سامنے کھڑی تھی۔
”ابو جی مجھے بچالیجیے، میں بہت تکلیف میں ہوں، یہاں کا ماحول مجھے مار ڈالے گا۔ میں نے ساری زندگی کوئی تکلیف نہیں دیکھی، مگر لگتا ہے کہ اب میری زندگی میں کوئی آسانی نہیں آئے گی۔ اللہ کے واسطے مجھ پر رحم کیجیے۔ آپ اللہ کے بہت محبوب بندے ہیں۔ مجھے بچالیجیے۔۔۔“
یہ کہتے ہوئے ھما ہچکیاں لے کر رونے لگی۔
”جمشید کہاں ہے؟“، میں نے ڈوبے ہوئے لہجے میں دریافت کیا۔
”وہ یہیں تھے۔ وہ بھی آپ کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر یہ اتنی بڑی جگہ ہے اور اتنے سارے لوگ ہیں کہ کسی کو ڈھونڈنا ناممکن ہے۔ ان کا حال بھی بہت برا ہے۔ وہ مجھ سے بہت ناراض تھے۔ انہوں نے ملتے ہی مجھے تھپڑ مار کر کہا تھا کہ تمھاری وجہ سے میں برباد ہوگیا۔ ابو میں بہت بری ہوں۔ میں خود بھی تباہ ہوگئی اور اپنے خاندان کو بھی برباد کردیا۔ پلیز مجھے معاف کردیں اور مجھے بچالیں۔ اللہ کا عذاب بہت خوفناک ہے۔ میں اسے برداشت نہیں کرسکتی۔“
ھما فریاد کررہی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بہہ رہی تھیں۔ میرے دل میں پدری محبت کا جذبہ جوش مارنے لگا۔ وہ بہرحال میری بہو تھی۔ مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، صالح اسی سپاٹ لہجے میں بولا:
”یہ بات تمھیں دنیا میں سوچنی چاہیے تھی ھما بی بی۔ آج تمھاری عقل ٹھکانے آگئی ہے۔ مگر یاد ہے دنیا میں تم کیا تھیں؟ تمھیں شاید یاد نہ آئے۔۔۔ میں یاد دلاتا ہوں۔“
یہ کہتے ہوئے صالح نے اشارہ کیا اور یکلخت ایک منظر سامنے نظر آنے لگا۔ یہ جمشید اور ھما کا کمرہ تھا۔ مجھے لگا کہ میرے اردگرد کا ماحول غائب ہوچکا ہے اور میں اسی کمرے میں ان دونوں کے ہمراہ موجود ہوں اور براہ راست سب کچھ دیکھ اور سن رہا ہوں کہہ ہما نے کس طرح جمشید کو گمراہ اور دین سے دور کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صالح نے دوبارہ اشارہ کیا اور منظر ختم ہوگیا۔ لیکن ساتھ ہی ھما کی ہر امید کو بھی ختم کرگیا۔ صالح نے اسی سفاک اور قاتل لہجے میں سختی کے ساتھ کہا:
”تم نے دیکھا! تمھاری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ریکارڈ کرلیا گیا ہے۔ تو جاؤ ھما بی بی اپنے پیر صاحب کو ڈھونڈو جو تمھیں بخشواسکتے ہیں اور جن کے سامنے اللہ تعالیٰ بھی۔۔۔“
صالح نے جملہ تو ادھورا چھوڑدیا، مگر ھما کے الفاظ دہراتے وقت اس کے لہجے میں جو غضب آگیا تھا، اس سے میں خود دہل کر رہ گیا۔ ھما بھی بری طرح خوف زدہ ہوگئی۔ اس سے پہلے کہ صالح کچھ اور کہتا وہ روتی چیختی ہوئی وہاں سے بھاگ گئی۔
چلتے چلتے خیموں پر مشتمل ایک وسیع و عریض بستی پہنچ  گئے۔ اس بستی میں لوگوں کے کیمپ مختلف زمانوں کے اعتبار 

سے تقسیم تھے۔ بعض خیموں کے باہر کھڑے ان کے مالکان آپس میں گفتگو کررہے تھے۔ یہیں مجھے اپنے بہت سے ساتھی اور رفقا نظر آئے جنہو ں نے دین کی دعوت میں میرا بھرپور ساتھ دیا تھا۔ ان کو دیکھ کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اپنی جوانیاں، اپنے کیرئیر، اپنے خاندان اور اپنی خواہشات کو کبھی سر پر سوار نہیں ہونے دیا تھا۔ ان سب کو ایک حد تک رکھ کر اپنا باقی وقت، صلاحیت، پیسہ اور جذبہ خدا کے دین کے لیے وقف کردیا تھا۔ اسی کا بدلہ تھا کہ آج یہ لوگ اس ابدی کامیابی کو سب سے پہلے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کا وعدہ دنیا میں ان سے کیا گیا تھا۔
یہیں ہمیں امت مسلمہ کی تاریخ کی بہت سی معروف ہستیاں نظر آئیں۔ ہم جہاں سے گزرتے لوگوں کو سلام کرتے جاتے۔ ہر شخص نے ہمیں اپنے خیمے میں آکر بیٹھنے اور کچھ کھانے پینے کی دعوت دی، جسے صالح شکریہ کے ساتھ رد کرتا چلا گیا۔ البتہ میں نے ہر شخص سے بعد میں ملنے کا وعدہ کیا۔
ہم ایک دفعہ پھر چلنے لگے اور چلتے چلتے ہم ایک بہت خوبصورت اور نفیس خیمے کے پاس پہنچ گئے۔ میرے دل کی دھڑکن کچھ تیز ہوگئی۔ صالح میری طرف دیکھتے ہوئے بولا:
”ناعمہ نام ہے تمھاری بیوی کا؟“
میں نے اثبات میں گردن ہلادی۔ صالح نے انگلی سے اشارہ کرکے کہا:
”یہ والا خیمہ ہے۔“
”کیا اسے معلوم ہے کہ میں یہاں آرہا ہوں؟“، میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔
”نہیں۔“، صالح نے جواب دیا۔ پھر ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا:
”یہ ہے تمھاری منزل۔“
میں ہولے ہولے چلتا ہوا خیمے کے قریب پہنچا اور سلام کرکے اندر داخل ہونے کی اجازت چاہی۔ اندر سے ایک آواز آئی جسے سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز تر ہوگئی۔
”آپ کون ہیں؟“
”عبدا للہ۔۔۔“
میری زبان سے عبد اللہ کا نام نکلتے ہی پردہ اٹھا اور ساری دنیا میں اندھیرا چھا گیا۔ اگر روشنی تھی تو صرف اسی ایک چہرے میں جو میرے سامنے تھا۔ وقت، زمانہ، صدیاں اور لمحے سب اپنی جگہ ٹھہرگئے۔ میں خاموش کھڑا ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھتا رہا۔ ناعمہ کا مطلب روشن ہوتا ہے۔ مگر روشنی کا مطلب یہ ہوتا ہے یہ مجھے آج پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا۔
ہم جب آخری دفعہ ملے تھے تو زندگی بھر کا ساتھ بڑھاپے کی رفاقت میں ڈھل چکا تھا۔ جب محبت؛ حسن اور جوانی کی محتاج نہیں رہتی۔ مگر ناعمہ نے اپنی جوانی کے تمام ارمانوں اور خوابوں کو میری نذر کردیا تھا۔ اس نے جوانی کے دنوں میں بھی اس وقت میرا ساتھ دیا تھا جب میں نے آسان زندگی چھوڑ کر اپنے لیے کانٹوں بھرے راستے چن لیے تھے۔ اس کے بعد بھی زندگی کے ہر سرد و گرم اور اچھے برے حال میں اس نے پوری طاقت سے میرا ساتھ دیا تھا۔
”اور اب؟“، ناعمہ نے سوال کرتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔ شاید وہ تخیل کی آنکھ سے جنت کی اْس دنیا کا تصور کررہی تھی جو اب شروع ہونے والی تھی۔
”ہم نے خدا کا پیغام عام کرنے کے لیے اپنی فانی زندگی لگادی اور اب بدلے میں خدا جنت کی ابدی زندگی کی کامیابی ہمیں دے گا۔“
یہ کہتے ہوئے میں نے بھی آنکھیں بند کرلیں۔ میرے سامنے اپنی پر مشقت اور جدو جہد سے بھرپور زندگی کا ایک ایک لمحہ آرہا تھا۔
ہم ایک دفعہ پھر میدان حشرمیں کھڑے تھے۔ بچوں سے متعلق ناعمہ کا سوال میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔ میں نے صالح سے کہا:
”میں اپنے ان دونوں بچو ں سے ملنا چاہتا ہوں جو یہاں موجود ہیں۔“
”اس کا مطلب ہے کہ تم ذہنی طور پران دونوں سے ان کے برے حال میں ملنے کے لیے تیار ہوچکے ہو۔“
میدان حشر میں غضب کی گرمی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ نجانے لوگ پیاس سے زیادہ پریشان ہوں گے یا پھر اس اندیشے سے کہ کہیں انھیں جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں نہ پھینک دیا جائے۔ میں اسی خیال میں تھا کہ صالح کی آواز کانوں سے ٹکرائی:
”عبداللہ! تیار ہوجاؤ۔ میں تمھیں تمھاری بیٹی سے ملوانے لے جارہا ہوں۔“
بے اختیار میں نے اپنا نچلا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبالیا۔ ہم کچھ قدم آگے چلے تو کھردری پتھریلی سطح پر دو لڑکیاں بیٹھی نظر آئیں۔ میں دور ہی سے ان دونوں کو پہچان گیا۔ ان میں سے ایک لیلیٰ تھی۔ میری سب سے چھوٹی اور چہیتی بیٹی۔ دوسری عاصمہ تھی۔ میری بیٹی کی عزیز ترین سہیلی۔
اس وقت ماحول میں سخت ترین گرمی تھی۔ لوگوں کے بدن سے پسینہ پانی کی طرح بہہ رہا تھا۔ بھوک تو پریشانی کے عالم میں اڑ چکی تھی، مگر پیاس کے عذاب نے ہر شخص کو پریشان کررکھا تھا۔ یہ دونوں بھی پیاس سے نڈھال بیٹھی تھیں۔ عاصمہ کی حالت بہت خراب تھی اور پیاس کی شدت کے مارے وہ اپنے بازو سے بہتا ہوا اپنا پسینہ چاٹ رہی تھی۔ ظاہر ہے اس سے پیاس کیا بجھتی۔ اس نے مزید بھڑکنا تھا۔ جبکہ لیلیٰ اپنا سر گھٹنوں میں دیے بیٹھی تھی۔
عاصمہ ایک بڑے دولتمند خاندان کی اکلوتی چشم و چراغ تھی۔ خدا نے حسن، دولت، اسٹیٹس ہر چیز سے نوازا تھا۔ ماں باپ نے اپنی چہیتی بیٹی کو اعلیٰ ترین اداروں میں تعلیم دلوائی۔ بچپن سے اردو کی ہوا تک نہیں لگنے دی گئی۔ عربی اور قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کا تو کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ انگلش میڈیم اسکولوں کا اتنا اثر تھا کہ بچی انگریزی انگریزوں سے زیادہ اچھی بولتی تھی۔ مگر ایسے اسکولوں میں زبان زبان دانی کے طور پر نہیں بلکہ ایک برتر تہذیب کی غلامی کے احساس میں سیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ زبان کے ساتھ مغربی تہذیب اپنے بیشتر لوازمات سمیت در آئی تھی۔ سلام کی جگہ ہیلو ہائے، لباس میں جینز شرٹ، انگزیزی میوزک اور فلمیں وغیرہ زندگی کا لازمہ تھے۔ تاہم عاصمہ خاندانی طور پر نودولتیے پس منظر کی نہیں بلکہ خاندانی رئیس تھی، اس لیے کم از کم ظاہر کی حد تک ایک درجہ کی تہذیب و شرافت، بڑوں کا ادب لحاظ اور رکھ رکھاؤ پایا جاتا تھا۔ اسی لیے میں نے اس دوستی کو گوارا کرلیا تھا کہ شاید لیلیٰ کی صحبت سے عاصمہ بہتر ہوجائے۔
لیلیٰ سے اس کی دوستی کالج کے زمانے میں ہوئی۔ معلوم نہیں کہ دونوں کے مزاج اور کیمسٹری میں کیا چیز مشترک تھی کہ پس منظر کے اعتبار سے کافی مختلف ہونے کے باوجود کالج کی رفاقت عمر بھر کی دوستی میں بدل گئی۔ مگر بدقسمتی سے اس دوستی میں عاصمہ نے لیلیٰ کا اثر کم قبول کیا اور لیلیٰ نے اس کا اثر زیادہ قبول کرلیا۔
لیلیٰ میری بیٹی ضرور تھی، مگر بدقسمتی سے وہ میرے جیسی نہ بن سکی۔ مجھ سے زیادہ وہ اپنے سب سے بڑے بھائی، جمشید کی لاڈلی تھی۔ وہی بھائی جو میرا پہلونٹی کا بیٹا تھا اور اسی کی طرح میدان حشر میں کہیں بھٹک رہا تھا۔ ہم ذرا قریب پہنچے تو عاصمہ کی نظر مجھ پر پڑی۔ اس نے لیلیٰ کو ٹہوکا دیا۔ لیلیٰ نے گھٹنوں سے سر اٹھایا۔ اس کی نظر میری نظر سے چار ہوئی۔ ان آنکھوں میں ایسی بے بسی، وحشت اور دکھ تھا کہ میرا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ اٹھی۔۔۔ بھاگ کر مجھ سے لپٹ گئی اور پوری قوت سے رونے لگی۔ اس کی زبان سے ابو۔۔۔ ابو کے سوا کچھ اور نہیں نکل رہا تھا۔ میں بڑی مشکل سے خود پر ضبط کررہا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ اگر روتی رہی تو کہیں میرے ضبط کا بند بھی میرا ساتھ نہ چھوڑ دے۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرکر کہا:
”بیٹا چپ ہوجا۔ میں نے تجھے بہت سمجھایا تھا نا۔ اس دن کے لیے جینا سیکھو۔ دنیا سوائے ایک فریب کے اور کچھ نہیں۔“
”ہاں آپ ٹھیک کہتے تھے۔ مگر میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔“، یہ کہتے ہوئے اس کی سسکیوں کی آواز اور بلند ہوگئی۔
یاد ہے ابو آپ نے اس سے کیا کہا تھا۔“، عاصمہ کی جگہ لیلیٰ نے جواب دیا۔
”آپ نے کہا تھا کہ بیٹا تم میری بیٹی کی سہیلی ہو۔ دیکھو ایسی سہیلی بننا جو جنت میں بھی اس کے ساتھ رہے۔ ایسا نہ ہو کہ تم دونوں خدا کو ناراض کردو اور کسی بری جگہ تم دونوں کو ساتھ رہنا پڑے۔ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم دونوں ایک دوسرے کو الزام دو کہ تمھاری دوستی نے مجھے برباد کردیا۔“
آخری جملہ کہتے ہوئے لیلیٰ پھر رونے لگی۔ اس کے ساتھ عاصمہ بھی سسکیاں بھرنے لگی۔ میں نے گردن گھماکر صالح کو دیکھا جو اس عرصے میں خاموش کھڑا ہوا تھا۔ میرا خیال تھا کہ شاید وہ کوئی امید افزا بات کہہ سکے۔ مجھے اپنی طرف متوجہ دیکھ کر وہ کہنے لگا:
”عبد اللہ! ویسے تو ہر فرد کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ انسان کا عمل اگر رائی کے دانے کے برابر تھا تب بھی اس کے نامہئ اعمال میں موجود ہوگا۔ ہر عمل کو آج پرکھا جائے گا۔ نیت، اسباب، محرکات، حالات، عمل اور اس کے نتائج، ایک ایک چیز کی جانچ ہوگی۔”مجھے زیادہ پریشانی اپنے بیٹے کی ہے۔“، میں نے جواب دیا۔
اس جواب میں میرے سارے اندازے، امیدیں اور اندیشے جمع تھے۔ میں نے مزید تبصرہ کیا:
”اسے پیسے کمانے، گاڑی، بنگلے اور دولت مند بننے کا بہت شوق تھا۔ یہ شوق جس کو لگ جائے، اسے کسی بھی برے حال میں پہنچاسکتا ہے۔ اس کے بعد اکثر لوگ حلال حرام اور اچھے برے کی تمیز کھوبیٹھتے ہیں۔اگر کسب حرام سے بچ بھی جائیں تو اسراف، غفلت، نمود و نمائش، بخل، تکبر اور حق تلفی جیسی برائیاں انسان کو احتساب الٰہی کی اس عدالت میں لاکھڑا کرتے ہیں جہاں نجات بہت مشکل ہوجاتی ہے۔“
میری اس بات کا جواب غیر متوقع طور پر عاصمہ نے دیا:
”یہ ساری باتیں لیلیٰ مجھے بتاتی تھی۔ اس نے آپ کی کچھ کتابیں بھی مجھے پڑھنے کے لیے دی تھیں۔ مگر مجھے اردو پڑھنی نہیں آتی تھی۔ میری بدقسمتی کہ میری ساری زندگی غفلت، دنیا پرستی، فیشن، نمود و نمائش، اسراف اور تکبر میں گزرگئی۔ مجھ پر حسین نظر آنے کا خبط سوار تھا۔ میں نے لاکھوں روپے زیور، کپڑوں اور کاسمیٹکس میں برباد کردیے۔ مگر غریبوں پر میں کبھی کچھ نہ خرچ کرسکی۔ کبھی کیا بھی تو اس کو بہت بڑا احسان سمجھا۔ حالانکہ اللہ نے ہمیں بہت مال و دولت عطا کیا تھا۔یہ کہہ کر ایک دفعہ پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ لیلیٰ افسردہ لہجے میں بولی:
”اس کے امی ابو بہت برے حال میں ہم سے ملے ہیں۔ ان کے ساتھ پتہ نہیں کیا ہوگا۔“
پھر وہ مجھے دیکھ کر بولی:
”ابو میرے ساتھ کیا ہوگا؟“، یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
ان دونوں کی باتوں سے میرا دل کٹ رہا تھا۔ مجھ میں اب مزید ان کے ساتھ رہنے کی ہمت نہیں رہی تھی۔ صالح کو میری حالت کا اندازہ ہوچکا تھا۔ اس نے ان دونوں سے مخاطب ہوکر کہا:
”عبد اللہ کو اب یہاں سے رخصت ہونا ہوگا۔ آپ دونوں یہاں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ حساب کتاب شروع ہوجائے گا۔“
یہ کہہ کر وہ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آگے لے گیا۔

 

میدان حشر کا ماحول انتہائی سخت اور تکلیف دہ تھا۔ ایک طرف ماحول اور حالات کی سختی تھی تو دوسری طرف لوگوں کو یہ اندیشہ کھائے جارہا تھا کہ آگے کیا ہوگا۔ مایوسی اور پریشانی کے علاوہ لوگوں میں شدید غصہ بھی تھا۔ یہ غصہ اپنی ذات پر بھی تھا اور اپنے لیڈروں اور گمراہ کرنے والے رہنماؤں پر بھی تھا۔ چنانچہ جو لیڈر اپنے پیروکاروں کے ہاتھ آجاتا وہ بے دریغ اس کی پٹائی شروع کردیتے۔ یہ گویا عذاب سے قبل ایک نوعیت کا عذاب تھا۔
ایسے تماشے اس وقت میدان حشر میں جگہ جگہ ہورہے تھے۔ پیروکار اپنے لیڈروں کو، اصاغرین اپنے اکابرین کو، عقیدت مند اپنے علما اور درویشوں کو بے دردی سے پیٹ رہے اور اپنا غصہ نکال رہے تھے۔ مگر اب کیا فائدہ! البتہ اس طرح پریشان اور افسردہ حال لوگوں کو ایک طرح کا تماشہ دیکھنے کو ضرور مل رہا تھا۔
ہم جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے گرمی کی حدت اور شدت بہت تیزی سے بڑھتی جارہی تھی۔ مجھے اس کا اندازہ اس بڑھتے ہوئے پسینے سے ہوا جو لوگوں کے جسم سے بہہ رہا تھا۔ لوگوں کے جسموں سے پسینہ قطروں کی صورت میں نہیں بلکہ دھار کی شکل میں بہہ رہا تھا، مگر زمین اتنی گرم تھی کہ یہ پسینہ تپتی زمین پر گرتے ہی اس میں جذب ہوجاتا۔ پیاس کے مارے لوگوں کے ہونٹ باہر نکل آئے تھے اور وہ کسی تونس زدہ اور پیاسے اونٹ کی طرح ہانپ رہے تھے، مگر پانی کا یہاں کیا سوال؟
کچھ ہی دیر میں سربراہ مملکت آگ اور کیلوں والے کوڑے کھاکر زمین بوس ہوچکے تھے۔ جس کے بعد فرشتوں نے انہیں ایک لمبی زنجیر میں باندھنا شروع کیا جس کی کڑیاں آگ میں دہکا کر سرخ کی گئی تھیں۔ سربراہ مملکت بے بسی سے تڑپ رہے اور رحم کی فریاد کررہے تھے، مگر ان فرشتوں کو کیا معلوم تھا کہ رحم کیا ہوتا ہے۔ وہ بے دردی سے انہیں باندھتے رہے۔ جب ان کا پورا جسم زنجیروں سے جکڑ گیا تو اتنے میں کچھ اور فرشتے آگئے۔ پہلے فرشتے ان سے بولے:
”ہم نے سربراہ مملکت کو پکڑ لیا ہے۔ تم جاؤ اور ان کے سارے حواریوں، درباریوں، خوشامدیوں اور ساتھیوں کو پکڑلاؤ جو اس بدبخت کے ظلم اور بدعنوانی میں شریک تھے۔“
یہ عبرت ناک منظر دیکھ کر بے اختیار میرے لبوں سے ایک آہ نکلی۔ میں نے دل میں سوچا:
”کہاں گیا ان کا اقتدار؟ کہاں گئے وہ عیش و عشرت کے دن؟ کہاں گئے وہ عالیشان محل، مہنگے ترین کپڑے، بیرونی دورے، شاندار گاڑیاں، عظمت، کروفر اور شان و شوکت؟ آہ! ان لوگوں نے کتنے معمولی اور عارضی مزوں کے لیے کیسا برا انجام چن لیا۔“
صالح بولا:
”یہ سب ظالم، کرپٹ اور عیاش لوگ تھے جن کی ہلاکت کا فیصلہ دنیا ہی میں ہوچکا تھا۔ تاہم یہ ان کی اصل سزا نہیں۔ اصل سزا تو جہنم میں ملے گی۔ جس طرف فرشتے انہیں لے جارہے ہیں وہاں سے جہنم بالکل قریب ہے۔ اسی مقام سے انہیں حساب کتاب کے لیے لے جایا جائے گا جہاں ان کی دائمی ذلت اور عذاب کا فیصلہ سنایا جائے گا۔ پھر انھیں دوبارہ بائیں طرف لایا جائے گا۔ جہاں سے گروہ در گروہ انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔“
آخر کار ایک صدا بلند ہوئی:
”الرحمن کے بندے کہاں ہیں؟ پروردگار عالم کے غلام کہاں ہیں؟ اللہ جل جلالہ کو اپنا معبود، اپنا بادشاہ اور اپنا رب ماننے والے کہاں ہیں؟ وہ جہاں بھی ہیں خداوند سارے جہان کے رب کے حضور سجدہ ریز ہوجائیں۔۔۔“
یہ سننا تھا کہ میں کچھ دیکھنے کی کوشش کیے بغیر ہی صالح کے برابر میں سجدہ ریز ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میدان حشر میں یک دم خاموشی چھاگئی۔ ایسا سناٹا تھا کہ سوئی زمین پر گرے تو اس کی آواز بھی سنائی دے جائے۔ میں نے سجدے کے عالم میں جتنی عافیت اس لمحے محسوس کی، زندگی میں کبھی محسوس نہ کی تھی۔ دوسروں کا تو نہیں معلوم کہ وہ سجدے میں کیا کہہ رہے تھے، مگر میں اس لمحے زار و قطار اللہ تعالیٰ سے درگزر اور معافی کی درخواست کررہا تھا۔
نہ جانے کتنی دیر تک  ہُو کا یہ عالم طاری رہا۔ اس کے بعد اچانک ایک صدا بلند ہوئی:
”ھو اللہ لا الہ الا ھو۔“
مجھے پہلے بھی اس کا تجربہ تھا کہ حاملینِ عرش کے اس اعلان کا مطلب مخاطبین کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اب صاحبِ عرش کلام کررہا ہے۔ آواز آئی:
”میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
یہ الفاظ وہی تھے جو میں نے عرش کے قریب سجدے میں پہلی دفعہ سنے تھے، مگر یہ آواز اْس آواز سے قطعاً مختلف تھی۔ اِس آواز میں جو جلال، تحکم اور سختی تھی وہ اچھے اچھوں کا پتہ پانی کرنے کے لیے بہت تھی۔ لمحہ بھر کے لیے ایک وقفہ آیا جو چار سو پھیلے ہوئے مہیب سناٹے سے لبریز تھا۔ اس کے بعد بادلوں کی کڑک سے بھی کہیں زیادہ سخت اور گرجدار آواز بلند ہوئی:
”انا الملک این الجبارون؟ این المتکبرون؟ این الملوک الارض؟“
”میں ہوں بادشاہ۔ کہاں ہیں سرکش؟ کہاں ہیں متکبر؟ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟“
یہ الفاظ بجلی بن کر کوندے۔ لوگوں نے اس بات کا جواب تو کیا دینا تھا ہر طرف رونا پیٹنا مچ گیا۔ اس آواز میں جو سختی، رعب اور ہیبت تھی اس کے نتیجے میں مجھ پر لرزہ طاری ہوگیا۔ مجھے زندگی کا ہر وہ لمحہ یاد آگیا جب میں خود کو طاقتور، بڑا اور اپنے گھر ہی میں سہی، خود کو سربراہ سمجھتا تھا۔ اس لمحے میری شدید ترین خواہش تھی کہ زمین پھٹے اور میں اس میں سماجاؤں۔ میں کسی طرح خدا کے قہر کے سامنے سے ہٹ جاؤں۔ انتہائی بے بسی کے عالم میں میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے:
”کاش میری ماں نے مجھے پیدا ہی نہ کیا ہوتا۔“
اس کے ساتھ ہی میرے دل و دماغ نے میرا ساتھ چھوڑدیا اور میں بے ہوش ہو کر زمین پر گرگیا۔
میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو ایک نفیس اور نرم و نازک بستر پر پایا۔ ناعمہ بستر پر میرے قریب بیٹھی پریشان نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔ میری آنکھیں کھلتے دیکھ کر ایک دم سے اس کے چہرے پر رونق آگئی۔ اس نے بے اختیار پوچھا:
”آپ ٹھیک ہیں؟“
”میں کہاں ہوں؟“، میں نے جواب دینے کے بجائے خود ایک سوال کردیا۔
”آپ میرے پاس میرے خیمے میں ہیں۔ صالح آپ کو اس حال میں یہاں لائے تھے کہ آپ بے ہوش تھے۔“
”وہ خود کہاں ہے؟“
”وہ باہر ہیں۔ ٹھہریں، میں انہیں اندر بلاتی ہوں۔“
اس کی بات پوری ہونے سے قبل ہی صالح سلام کرتا ہوا اندر داخل ہوگیا۔ اس کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ تھی۔ میں اسے دیکھ کر اٹھ بیٹھا اور پوچھا:
”کیا ہوا تھا؟“
”تم بے ہوش ہوگئے تھے۔“
”باخدا میں نے اپنے رب کا یہ روپ پہلی دفعہ دیکھا تھا۔ خدا کے بارے میں میرے تمام اندازے غلط تھے۔ وہ اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے جتنا میں تصور کرسکتا تھا۔ مجھے اب اپنی زندگی کے ہر اس لمحے پر افسوس ہے جو میں نے خدا کی عظمت کے احساس میں بسر نہیں کیا۔“
میری بات سن کر صالح نے کہا:
”یہ غیب اور حضور کا فرق ہے۔ دنیا میں خدا غیب میں ہوا کرتا تھا۔ آج پہلا موقع تھا کہ خدا نے غیب کا پردہ اٹھاکر انسان کو مخاطب کیا تھا۔ تم نصیبے والے ہو کہ تم نے غیب میں رہ کر خدا کی عظمت کو دریافت کرلیا اور خود کو اس کے سامنے بے وقعت کردیا تھا۔ اسی لیے آج تم پر اللہ کا خصوصی کرم ہے۔“
”مگر یہ بے ہوش کیوں ہوئے تھے؟“، ناعمہ نے گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے پوچھا۔
”دراصل ہوا یہ تھا کہ ہم عرش کے بائیں طرف مجرموں کے حصے میں کھڑے تھے۔اُسی وقت فرشتوں کا نزول شروع ہوگیا اور حساب کتاب کا آغاز ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے چونکہ غضب کے عالم میں گفتگو شروع کی تھی اور اس ناراضی کا اصل رخ بائیں ہاتھ والوں کی طرف ہی تھا، اس لیے سب سے زیادہ اس کا اثر اسی بائیں طرف ہورہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنی صفات سے کبھی مغلوب نہیں ہوتے، اس لیے اس غضب میں ہونے کے باوجود بھی انہیں احساس تھا کہ اس وقت ان کا ایک محبوب بندہ الٹے ہاتھ کی طرف موجود ہے۔ اس لیے انہوں نے عبد اللہ کو بے ہوش کردیا۔ وہ اگر ایسا نہ کرتے تو عبد اللہ کو اس قہر و غضب کا سامنا کرنا پڑجاتا جو بائیں جانب والوں پر اس وقت ہورہا تھا۔“
”اب ہمیں کہاں جانا ہے؟“، میں نے صالح سے دریافت کیا۔
”حساب کتاب شروع ہوچکا ہے۔ تمھیں وہاں پہنچنا ہوگا۔ لیکن پہلے ایک اچھی خبر سنو۔“
”وہ کیا ہے؟“
”جب حساب کتاب شروع ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے امت مسلمہ کے حساب کا فیصلہ کیا ہے۔ اور جانتے ہو اس عمل میں تمھاری بیٹی لیلیٰ نجات پاگئی۔“
”کیا؟“، میں حیرت اور خوشی کے مارے چلّا اٹھا۔
”ہاں! صالح ٹھیک کہتے ہیں۔“، ناعمہ بولی۔
”میں اس سے مل چکی ہوں۔ وہ اپنے باقی بھائی بہنوں کے ساتھ دوسرے خیمے میں موجود ہے۔ وہاں سب آپ کا انتظار کررہے ہیں۔“
”اور جمشید؟“، میں نے صالح سے اپنے بڑے بیٹے کے متعلق پوچھا۔
جواب میں ایک سوگوار خاموشی چھاگئی۔ مجھے اپنے سوال کا جواب مل چکا تھا۔ میں نے کہا:
”پھر میں واپس حشر کے میدان میں جانا پسند کروں گا۔ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔“
”ٹھیک ہے۔“، صالح بولا اور پھر میرا ہاتھ تھام کر خیمے سے باہر آگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیمے سے باہر آکر میرا پہلا سوال یہ تھا:
”میں جمشید کے لیے کیا کرسکتا ہوں؟“
”تم لیلیٰ کے لیے کچھ نہیں کرسکے تو جمشید کے لیے کیا کرسکو گے۔ کیا تم اللہ تعالیٰ کو بتاؤ گے کہ اسے کیا کرنا چاہیے؟“
”استغفرا للہ۔ میرا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا۔“، میں نے فوراًجواب دیا،مگر صالح کی بات پر جمشید کو بچانے کا میرا جوش ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ کچھ دیر توقف کے بعد میں نے دریافت کیا:
”اچھا یہ بتاؤ کہ میرے بے ہوش ہونے کے بعد حشر کے میدان میں کیا ہوا؟“
”تم جب ہوش میں تھے تمھیں اس وقت بھی پوری طرح معلوم نہیں تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ اسے پوچھنا ہے تو کسی مجرم سے پوچھو۔ ادھر گروہ در گروہ فرشتے نازل ہورہے تھے اور ادھر مجرموں کی جان پر بن رہی تھی۔ پھر جس وقت سجدے میں جانے کا حکم ہوا تو سارے لوگ سجدے میں تھے اور یہ بدبخت اس وقت بھی خدا کے سامنے سینہ تانے کھڑے تھے۔“
”یہ ان کی کمر تختہ ہوجانے کا نتیجہ تھا؟“
”ظاہر ہے حساب کتاب تو فرداً فرداً ہونا تھا، لیکن اس موقع پر مجرموں کے سامنے ان کا انجام بالکل نمایاں کردیا گیا۔ وہ اس طرح کہ جہنم کا دہانہ مکمل طور پر کھول دیا گیا۔ جس کے بعد میدان حشر کے بائیں حصے کا ماحول انتہائی خوفناک ہوگیا۔ جہنم گویا جوش کے مارے ابلی جارہی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ مجرموں کو دیکھ کر شدت غضب سے پھٹی جارہی ہو۔ اس کے دھاڑنے کی آوازیں دور دور تک سنی جارہی تھیں اور اس کے شعلے بے قابو ہوکر باہر نکلے جارہے تھے۔ یہ شعلے اتنے بڑے تھے کہ ان سے اٹھنے والی چنگاریاں بڑے بڑے محلات جتنی وسیع و عریض تھیں۔ ان کے بلند ہونے سے آسمان پر گویا زرد اونٹوں کے رقص کا سماں بندھ گیا تھا۔ نہ پوچھو کہ یہ سب کچھ دیکھ کر لوگوں کی حالت کیا ہوگئی۔ انہیں محسوس ہورہا تھا کہ اس سے قبل حشر کی جو سختیاں تھیں وہ کچھ بھی نہیں تھیں۔“
”حساب کتاب کیسے شروع ہوا؟“
”سب سے پہلے حضرت آدم کو پکارا گیا جو پوری انسانیت کے باپ اور پہلے نبی تھے۔“
انہوں نے عرض کیا:
”لبیک و سعدیک۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں مستعد ہوں اور سب بھلائیاں تیرے دونوں ہاتھوں میں ہیں۔“
”اپنی اولاد میں سے اہل جہنم کو الگ کرلو۔“، حکم ہوا۔
”کتنوں کو الگ کروں؟“، انھوں نے دریافت کیا فرمایا گیا۔
”ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔“
”تم اندازہ نہیں کرسکتے عبد اللہ! یہ سن کر حشر کے میدان میں کیا کہرام مچ گیا تھا۔“
”لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جہنم کا فیصلہ کیوں ہوا؟“، میں نے دریافت کیا۔
”یہ فیصلہ نہیں اس بات کا اظہار تھا کہ میدان حشر میں جو لوگ موجود ہیں، ان میں ہزار میں سے ایک ہی اس قابل ہے کہ جنت میں جاسکے۔”میں نے پہلے تمھیں بتایا تھا کہ چار قسم کے لوگ ہیں جن کی نجات کا فیصلہ موت کے وقت ہی ہوجاتا ہے یعنی انبیا، صدیقین، شہدا اور صالحین۔“
میں نے اثبات میں گردن ہلائی۔ صالح نے اپنی بات جاری رکھی:
”ان میں سے انبیا اور شہدا وہ لوگ ہیں جن کا اصل کارنامہ عام لوگوں پر دینِ حق کی شہادت دینا اور توحید و آخرت کی طرف لوگوں کو بلانا ہے۔ آج قیامت کے دن ان دونوں گروہوں کے افراد اپنی اس شہادت کی روداد اللہ کے حضور پیش کریں گے جو انہوں نے دنیا میں لوگوں پر دی تھی۔ اس طرح لوگوں کے پاس یہ عذر نہیں رہ جائے گا کہ حق اور سچائی انہیں معلوم نہیں ہوسکی۔ کیونکہ یہ انبیا اور شہدا سچائی کو کھول کھول کر بیان کرتے رہے تھے۔
چنانچہ اس شہادت کی بنیاد پر لوگوں کا احتساب ہوگا اور ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ یہ فیصلے ہوتے رہیں گے یہاں تک کہ سارے انسان نمٹ جائیں گے اور آخر میں تمھارے جیسے سارے شہدا کو بلاکر ان کی کامیابی کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے بعد پھر کہیں جاکر لوگوں کو جنت اور جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا۔“
”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ فوراً جنت یا جہنم میں نہیں جائیں گے۔“
”نہیں فوراً نہیں جائیں گے۔ بلکہ ایک ایک شخص کا حساب کتاب ہوتا جائے گا۔ اگر وہ کامیاب ہے تو سیدھے ہاتھ کی طرف عزت و آسائش میں اور ناکام ہے تو الٹے ہاتھ کی طرف ذلت اور عذاب میں کھڑا کردیا جائے گا۔ جب سب لوگوں کا حساب کتاب ہوجائے گا تو پھر لوگ گروہ در گروہ جنت اور جہنم کی طرف لے جائے جائیں گے۔“
”اور سب سے پہلے؟“
”سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنت کا دروازہ کھلوائیں گے اور پھر اہل جنت زبردست استقبال اور سلام و خیر مقدم کے ساتھ جنت میں داخل ہوں گے۔“
”اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟“
”اس وقت حضور حوضِ کوثر کے پاس ہیں۔ آپ کی امت میں سے جس کسی کا حساب کتاب ہوجاتا ہے اور وہ کامیاب ہوتا ہے تو اسے پہلے حضور کے پاس لایا جاتا ہے جہاں جامِ کوثر سے اس کی تواضع ہوتی ہے۔ جس کے بعد وہ نہ صرف حشر کی ساری سختی اور پیاس بھول جاتا ہے بلکہ آئندہ پھر کبھی پیاسا نہیں ہوتا۔ ویسے تمھیں جام کوثر یاد ہوگا؟“
”کیوں نہیں؟“، میں نے جواب دیا۔
صالح کی باتیں سن کر میرے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کا اشیاق پیدا ہوگیا۔ میں نے صالح سے کہا:
”کیوں نہ ہم پہلے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوجائیں۔“

ابھی میری زبان سے یہ جملہ نکلا ہی تھا کہ ایک صدا بلند ہوئی:
”امتِ محمدیہ کے کامیاب لوگوں کا حساب مکمل ہوگیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صالح مجھے یہ تفصیلات بتا ہی رہا تھا کہ میں نے محسوس کیا کہ میدان میں نشیب کی سمت ایک راستہ اتررہا تھا۔ اس راستے پر جگہ جگہ فرشتے تعینات تھے جو مجرموں کو مارتے گھسیٹتے ہوئے لارہے تھے۔تھوڑا آگے جاکر اس تنگ راستے یا کھائی پر رش بڑھنے لگا۔ یہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ بدہیبت اور بدشکل مرد و عورت اس جگہ ٹھسے پڑے تھے۔ یہ وہ ظالم اور فاسق و فاجر لوگ تھے جن کے انجام کا اعلان ہوچکا تھا اور جہنم میں داخلے سے قبل انہیں جانوروں کی طرح ایک جگہ ٹھونس دیا گیا تھا۔
وقفے وقفے سے جہنم کے شعلے بھڑکتے اور آسمان تک بلند ہوتے چلے جاتے۔ ان کے اثر سے یہاں کا سارا آسمان سرخ ہورہا تھا۔ جبکہ ان کے دہکنے کی آواز ان مجرموں کے دلوں کو دہلارہی تھی۔ کبھی کبھار کوئی چنگاری جو کسی بڑے محل جتنی وسیع ہوتی اس کھائی میں جاگرتی جس سے زبردست ہلچل مچ جاتی۔ لوگ آگ کے اس گولے سے بچنے کے لیے ایک دوسرے کو کچلتے اور پھلانگتے ہوئے بھاگتے۔ ایسا زیادہ تر اس وقت ہوتا جب کچھ بڑے مجرم اس گروہ کی طرف لائے جاتے تو آگ کا یہ گولہ ان کا استقبال کرنے آتا۔ جس کے نتیجے میں ان لوگوں کی اذیت اور تکلیف میں اور اضافہ ہوجاتا۔

جمشید کو ابھی حساب کے لیے پیش نہیں کیا گیا تھا۔ دو فرشتے اس کو عرش کے قریب لے کر کھڑے ہوئے تھے اور وہ اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔ اس کا چہرہ ستا ہوا تھا جس پر دنیا کے پچاس ساٹھ برسوں کی دولتمندی کا تو کوئی اثر نظر نہیں آتا تھا، لیکن حشر کے ہزاروں برس کی خواری کی پوری داستان لکھی ہوئی تھی۔ اس کے قریب جانے سے قبل میں نے اپنے دل کو مضبوط بنانے کی کوشش کی۔ قریب پہنچا تو اس کے قریب کھڑے فرشتوں نے مجھے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ مگر صالح کی مداخلت پر انہوں نے ہمیں اجازت دے دی۔ جمشید نے مجھے دیکھ لیا تھا۔ وہ بے اختیار میرے قریب آیا اور میرے سینے سے لپٹ گیا۔ پھر وہ میری طرف دیکھ کر بولا:
”ابو میں اتنا رویا ہوں کہ اب آنسو بھی نہیں نکل رہے۔“
میں اس کی کمر تھپتھپانے کے سوا کچھ نہ کہہ سکا۔ پھر اس نے آہستگی سے کہا:
”ابو شاید میں اتنا برا نہیں تھا۔“
”مگر تم بروں کے ساتھ ضرور تھے بیٹا!بروں کا ساتھ کبھی اچھے نتائج تک نہیں پہنچاتا۔ تم نے شادی کی تو ایسی لڑکی سے جس کی واحد خوبی اس کا حسن اور دولت تھی۔ خدا کی نظر میں یہ کوئی خوبی نہیں ہوتی۔ تم ہم سے الگ ہوگئے اور اپنے سسر کے ایسے کاروبار میں شریک ہوگئے جس کے بارے میں تمھیں معلوم تھا کہ اس میں حرام کی آمیزش ہے۔ مگر بیوی، بچوں اور مال و دولت کے لیے تم حرام میں تعاون کے مرتکب ہوتے رہے۔ یہی چیزیں تمھیں اس مقام تک لے آئیں۔“
”آپ ٹھیک کہتے ہیں ابو، مگر میں نے نیکیاں بھی کی تھیں۔ تو کیا کوئی امید ہے؟“
میں خاموش رہا۔ میری خاموشی نے اسے میرا جواب سمجھادیا۔ وہ مایوس کن لہجے میں بولا:
”مجھے اندازہ ہوگیا ہے ابو۔ اپنے بیوی بچوں اور ساس سسر کو جہنم میں جاتا دیکھنے کے بعد مجھے اندازہ ہوچکا ہے کہ آج کسی کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ سارا اختیار اس رب کے پاس ہے جس کے احکام کو میں بھولا رہا۔ آج جس کا عمل اسے نہیں بچاسکا اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکے گی۔ میں ہزاروں برس سے اس میدان میں پریشان پھر رہا ہوں۔ میں ان گنت لوگوں کو جہنم میں جاتا دیکھ چکا ہوں۔ مجھے اب اپنی نجات کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ میں نے اللہ سے بہت معافی مانگی ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ آج معافی مانگنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ابو! اللہ میاں شاید مجھے معاف نہ کریں۔ مگر آپ مجھے ضرور معاف کردیجیے۔ آپ تو میرے باپ ہیں نا۔“
یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میری آنکھوں سے آنسو نہ بہیں، مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میری آنکھیں برسنے لگیں۔ اسی اثنا میں جمشید کا نام پکارا گیا۔ فرشتوں نے فوراً اسے مجھ سے الگ کیا اور بارگاہ ربوبیت میں پیش کردیا۔
وہ ہاتھ باندھ کر اور سر جھکاکر سارے جہانوں کے پروردگار کے حضور پیش ہوگیا۔ ایک خاموشی طاری تھی۔ جمشید کھڑاتھا مگر اس سے کوئی سوال نہیں کیاجارہا تھا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ اس خاموشی کی وجہ کیا ہے۔ تھوڑی دیر میں وجہ بھی ظاہر ہوگئی۔ کچھ فرشتوں کے ساتھ ناعمہ وہاں آگئی۔ اس کے ساتھ ہی صالح نے مجھے اشارہ کیا تو میں ناعمہ کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا۔ ناعمہ کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ وہ مجھ سے کچھ پوچھنا چاہ رہی تھی، مگر بارگاہ احدیت کا رعب اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا ا س نے میرے دل کی دھڑکن تیز کردی۔ حکم ہوا اس کے اعمال ترازو میں رکھو۔ پہلے گناہ رکھے گئے۔ جن سے الٹے ہاتھ کا پلڑا بھاری ہوتا چلا گیا۔فرشتے نے پہلی نیکی اٹھائی۔ یہ ناعمہ کے ساتھ کیا گیا اس کا حسن سلوک تھا۔ حیرت انگیز طور پر سیدھے ہاتھ کا پلڑا بلند ہونا شروع ہوا۔ میں نے اپنے برابر کھڑی ناعمہ کو جھنجھوڑ کر کہا:”ناعمہ! آنکھیں کھولو۔“اٹھتے پلڑے کے ساتھ اس کی آس بھی بندھ گئی۔لیکن ایک جگہ پہنچ کر سیدھے ہاتھ کا پلڑا ٹھہرگیا۔ الٹے ہاتھ کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ ہمارے دلوں میں  روشن ہونیوالی  امید کی شمع پھر بجھنے لگی۔ فرشتے نے آخری نیکی اٹھائی اور بلند آواز سے کہا۔ یہ توحید پر ایمان ہے۔ اس کے رکھتے ہی پلڑے کا توازن بدل گیا۔
”ناعمہ! آنکھیں کھولو۔“
میری آواز جمشید تک بھی چلی گئی۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا اور آہستہ آہستہ کھڑا ہوگیا۔اٹھتے پلڑے کے ساتھ اس کی آس بھی بندھ گئی۔لیکن ایک جگہ پہنچ کر سیدھے ہاتھ کا پلڑا ٹھہرگیا۔ الٹے ہاتھ کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ ہمارے دلوں میں جلنے والی امید کی شمع پھر بجھنے لگی۔ فرشتے نے آخری نیکی اٹھائی اور بلند آواز سے کہا۔ یہ توحید پر ایمان ہے۔ اس کے رکھتے ہی پلڑے کا توازن بدل گیا۔
فرشتے نے نجات کا فیصلہ تحریر کرکے نامہئ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دے دیا۔ جمشید کے منہ سے شدت جذبات میں ایک چیخ نکلی۔ اسے جنت کا پروانہ مل گیا تھا۔
ہمارا پورا خاندان حوض کوثر کے وی آئی پی لاؤنج میں جمع تھا۔ میری تینوں بیٹیاں لیلیٰ، عارفہ اور عالیہ اور دونوں بیٹے انور اور جمشید اپنی ماں ناعمہ کے ہمراہ موجود تھے۔ جمشید کے آنے سے ہمارا خاندان مکمل ہوگیا تھا۔ اس لیے اس دفعہ خوشی اور مسرت کا جو عالم تھا وہ بیان سے باہر تھا۔پھر میں نے اپنے بچوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
”میرے بچوں! اب دنیا کی زندگی قصہئ ماضی ہوچکی ہے۔ اب تمھاری منزل ختم نہ ہونے والی جنت کی بادشاہی ہے۔ سکون، آسودگی، آسانی، محبت، رحمت، لطف و سرور۔۔۔ تمھیں یہ سب مبارک ہو۔ دیکھا تم نے ہمارا رب کتنا کریم و رحیم ہے۔ آؤ ہم سب مل کر اپنے رب کریم کی حمد کریں اور مل کر کہیں ’الحمد للہ رب العالمین‘۔“
سب نے مل کر ’الحمد للہ رب العالمین‘کو ایک نعرے کی شکل میں بلند کیا۔”عبد اللہ! حشر کے دن کے معاملات اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تمھیں اگر حشر کے معاملات سے کوئی دلچسپی باقی رہ گئی ہے تو دوبارہ وہاں چلے چلو۔“، کچھ دیر بعد صالح نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔
”اس وقت حساب کتاب کہاں تک پہنچا ہے؟“، ناعمہ نے دریافت کیا۔
”لوگوں کی زیادہ بڑی تعداد آخری زمانے میں پیدا ہوئی تھی۔ وہ سب اب نمٹ چکے ہیں۔ مسلمانوں اور مسیحیوں اور ان کے معاصرین کا عمومی حساب کتاب ہوچکا ہے۔ اس وقت یہود کا حساب چل رہا ہے۔ یوں سمجھ لو کہ بیشتر انسانیت کی تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ دیگر امتوں میں لوگوں کی تعداد بہت ہی کم تھی اس لیے اب بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔“”ٹھیک ہے۔ ہم لوگ چلتے ہیں۔“
میں اسی حال میں تھا کہ صالح نے میرے کان میں سرگوشی کی:
”ناعمہ بڑی شدت سے تمھیں ڈھونڈرہی ہے۔“
”خیریت؟“، میں نے دریافت کیا۔
”بڑا دلچسپ معاملہ ہے۔ بہتر ہے تم چلے چلو۔“
یہ کہہ کر صالح نے میرا ہاتھ پکڑا اور تھوڑی ہی دیر میں ہم ناعمہ کے پاس کھڑے تھے۔ مگر مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ناعمہ کے ساتھ ایک بہت خوبصورت پری پیکر لڑکی کھڑی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی یادداشت پر بہت زور ڈالا مگر میں اسے پہچان نہ سکا۔
ناعمہ نے خود ہی اس کا تعارف کرایا:
”یہ امورہ ہیں۔ ان کا تعلق حضرت نوح کی امت سے ہے۔ یہ مجھے یہیں پر ملی ہیں۔ یہ آخری نبی یا ان کے کسی نمایاں امتی سے ملنے کی خواہشمند تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک تو میں انہیں نہیں لے جاسکتی تھی۔ البتہ میں نے سوچا کہ آپ سے انہیں ملوادوں۔ آخر آپ بھی بڑے نمایاں لوگوں میں سے ہیں۔“”ان کے اماں ابا سے بھی میری ملاقات ہوئی ہے۔“
ناعمہ بیچ میں بولی، مگر یہ اس کا اگلا خوشی سے بھرپور جملہ تھا جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ امورہ سے مل کر اتنا خوش کیوں ہے اور کیوں اس نے مجھے میدان حشر سے واپس بلوایا ہے۔
”امورہ کے شوہر نہیں ہیں۔“
میرے اندازے کی تصدیق صالح نے کردی۔وہ میرے کان میں بولا:
”ناعمہ نے تمھاری ہونے والی بہو سے ملوانے کے لیے تمھیں بلایا ہے۔“
میرا اندازہ بالکل درست تھا۔ ناعمہ جمشید کے لیے دلہن ڈھونڈ رہی تھی۔
امورہ نے بتایا:”دنیا میں صرف 15 سال کی عمر میں میرا انتقال ہوگیا تھا۔ میں بچپن سے ہی بہت بیمار رہتی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اس کا یہ بدلہ دیا کہ بغیر کسی حساب کتاب کے شروع ہی میں میرے لیے جنت کا فیصلہ ہوگیا۔“
 اب مغرب کے جھٹپٹے کا سا وقت ہورہا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ تبدیلی کسی اہم بات کا پیش خیمہ ہے۔
پیچھے سے ایک آواز آئی:
”ہاں تم ٹھیک سمجھے۔“
یہ صالح کی آواز تھی۔ وہ میرے قریب بیٹھتے ہوئے بولا:
”اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ حساب کتاب ختم ہورہا ہے۔ تمام لوگوں کا حساب کتاب ہوچکا ہے۔“اس کے ساتھ ہی امثائیل پیچھے سے نکل کر سلام کرتا ہوا سامنے آکر کھڑا ہوگیا۔ یہ میرے الٹے ہاتھ کا فرشتہ تھا۔ میں نے سلام کا جواب دیا اور ہنستے ہوئے صالح سے دریافت کیا:
”ان کی وجہ نزول؟“
”حساب کتاب ختم ہوچکا اب تمھیں پیش ہونا ہے۔ ہم دونوں مل کر تمھیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کریں گے۔“
پیشی کا سن کر مجھے پہلی دفعہ گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ میں نے گھبرا کر سوال کیا:
”حساب اتنی جلدی کیسے ختم ہوگیا؟“
”میں تمھیں پہلے بتاچکا ہوں کہ یہاں وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور حشر میں وقت بہت آہستہ۔ اس لیے جتنا عرصہ تم یہاں رہے ہو اتنے عرصے میں وہاں حساب کتاب ختم ہوچکا۔“
”وہاں میرے پیچھے کیا ہوا تھا؟“
”تمام امتوں کا جب عمومی حساب کتاب ہوگیا تو میدان حشر میں صرف وہ لوگ رہ گئے جو ایمان والے تھے، مگر ان کے گناہوں کی کثرت کی بنا پر انھیں روک لیا گیا تھا۔ آخر کار حضور کی درخواست پر ان کا بھی حساب ہوگیا۔ اب آخر میں سارے انبیا اور شہدا پیش ہوں گے۔“ اب جنت و جہنم میں داخلے کا وقت آرہا ہے۔ چنانچہ اب اہل جنت اور اہل جہنم سب کو میدان حشر میں جمع کردیا جائے گا۔ ان سب کے سامنے انبیا اور شہدا کی کامیابی کا اعلان ہوگا۔ پھر گروہ در گروہ نیک وبد لوگوں کو جنت و جہنم میں بھیجا جائے گا۔ جس کے بعد ختم نہ ہونے والی زندگی شروع ہوجائے گی۔
میں دیگر شہدا اور انبیا کے ساتھ ایک دفعہ پھر اعراف کی بلندی پر کھڑا تھا۔ اس بلند مقام سے میدان حشر بالکل صاف نظر آرہا تھا۔ تاحد نظر وسیع میدان میں لوگوں کو دو گروہوں میں جمع کردیا گیا تھا۔ میدان کے داہنے ہاتھ پر تاحد نظر لوگوں کی صفیں در صفیں بنی ہوئی تھیں۔ میدان کے بائیں طرف لوگ ایک ہجوم کی شکل میں گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے۔ان کے ہاتھ پیچھے کرکے باندھے گئے تھے اور جہنم کا نظارہ ان کے سامنے تھا۔ یہ اہل جہنم تھے جن کے لیے ابدی خسارے کا فیصلہ سنایا جاچکا تھا۔ وہ منتظر تھے کہ کب وہ اپنے فیصلہ کن انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ ان کے 

چہرے اترے ہوئے، آنکھیں بجھی ہوئیں، پیشانی عرق آلود اور گردن جھکی ہوئی تھی۔ ان کی رنگت سیاہ پڑچکی تھی، جسم پر گرد و غبار اٹی ہوئی تھی۔یہ بائیں ہاتھ والے تھے۔ ان بائیں ہاتھ والوں کی بدبختی کا کیا کہنا تھا۔
سامنے عرش الٰہی تھا۔ اس کے جلال و جمال کا کیا کہنا! عرش کے اطراف صف در صف فرشتے کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے بیچ میں عرش سے متصل آٹھ انتہائی غیر معمولی فرشتے کھڑے ہوئے تھے۔ یہ حاملین عرش تھے۔ فرشتوں کی زبان پر حمد و تسبیح کے الفاظ جاری تھے۔ جبکہ عرش کے پیچھے قدرے بلندی پر جنت و جہنم دونوں کا نظارہ واضح طور پر نظر آرہا تھا۔ داہنے طرف جنت تھی جس سے اٹھنے والی خوشبوؤں نے حشر کے داہنے حصے کو مہکا رکھا تھا اور وہاں سے بلند ہونے والے نغموں نے دلوں کے تاروں کو چھیڑدیا تھا۔ جنت کی بستی کے حسین ترین مرغزار، سبزہ زار، باغیچے، محلات، نہریں، خدام واضح طور پر نظر آرہے تھے۔ اس جنت کا منظر ہر شخص کی نگاہوں کو للچارہا تھا۔ اہل جنت اپنی خوش نصیبی پر رشک کرتے، اس جنت کی آرزو دل میں لیے ایک دوسرے کے ساتھ خوش گپیاں کررہے تھے۔
دوسری طرف جہنم کا انتہائی بھیانک نظارہ عرش کے الٹی طرف نمایاں تھا۔ آگ کے شعلے سانپ کی زبان کی طرح بار بار لپک رہے تھے۔ جہنم میں دیے جانے والے مختلف قسم کے عذابوں کا نظارہ دلوں کو دہلارہا تھا۔ بدبو، غلاظت، آگ، زہریلے حشرات، وحشی جانور، کڑوے کسیلے پھل، کانٹے دار جھاڑ جھنکار، پیپ اور لہو کا کھانا، کھولتا ہوا پانی، ابلتے ہوئے تیل کی تلچھٹ، ان جیسے ان گنت عذاب اور سب سے بڑھ کر انتہائی بدہیبت اور خوفتاک فرشتے جو ہاتھوں میں کوڑے، زنجیریں، طوق اور ہتھوڑے لے کر اہل جہنم کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔اہل جہنم کی بدحالی پہلے ہی کچھ کم نہ تھی کہ اب جہنم کو انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اس منظر نے ان کی ہمت کو آخری درجے میں توڑ ڈالا تھا۔ وہ وحشت زدہ نظروں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔ ان میں سے ہر شخص کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ کسی طرح ان کی موت کا فیصلہ سنادیا جائے۔ مگر افسوس کہ جہنم میں ہر عذاب تھا سوائے موت کے۔ کیونکہ اہل جہنم کے لیے موت سب سے بڑی راحت تھی لیکن جہنم مقام عذاب تھا، مقام راحت نہیں۔
اہل جنت و اہل جہنم کے بیچ میں ایک شفاف پردہ تھا۔ جس سے دونوں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے اور گفتگو کرسکتے تھے، مگر اس پردہ کو عبور نہیں کرسکتے تھے۔ اہل جنت اہل جہنم سے پوچھتے کہ ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچ پایا جواس نے ہم سے کیا تھا۔ کیا تم نے بھی جہنم کے سارے وعدے اور تفصیلات سچ پائے جو اللہ نے تم سے کیے تھے۔ ان اہل جہنم کے پاس جواب میں اعترافاً گردن جھکادینے اور ہاں کہنے کے علاوہ کوئی اور چارہ ہی نہیں تھا۔
وہ بھوک اور پیاس سے بلک رہے تھے۔ اس لیے برابر میں اہل جنت کے سامنے میوے، گوشت کی رکابیاں گردش کرتے اور انھیں جام نوش کرتے دیکھتے تو کہتے کہ یہ پانی اور دیگر غذائیں جواللہ نے تمھیں دی ہیں،کچھ ہمیں بھی کھانے کے لیے دے دو۔ جواب ملتا کہ یہ اللہ نے اہل جہنم پر حرام کررکھی ہیں۔
ہم اوپر کھڑے یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ گرچہ ہمارے فیصلے کا اعلان ایک رسمی سی بات تھی، مگر نجانے کیوں میرا دل ڈر رہا تھا۔ میں اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور درگزر کا سوال کررہا تھا۔ میں دعا کررہا تھا کہ پروردگار ہمیں اہل جہنم کا ساتھی نہ بنا بلکہ اہل جنت میں داخل فرما۔ یہی دعا دوسرے لوگ کررہے تھے۔اسی اثنا میں اعلان ہوا کہ ہمارے انبیا اور شہدا کا نامہئ اعمال انھیں دیا جائے۔ میری توقع کے برخلاف اس موقع پر کوئی حساب کتاب یا پیشی نہیں ہوئی۔ صرف یہ ہوا کہ ہر شخص کو آگے سامنے کی طرف بلایا جاتا جہاں ہر جنتی اور جہنمی اسے دیکھ سکتا تھا۔ وہ شخص اپنے ساتھ موجود فرشتوں کے ہمراہ چلتا ہوا آگے آتا۔ فرشتے انتہائی اکرام کے ساتھ اسے عرش کے سامنے لے جاتے۔ جہاں زندگی میں اس کے کارناموں اور آخرت میں ان کی کامیابی کا اعلان کیا جاتا۔
جس وقت کوئی شخص پیش ہوتا، اس کے زمانے کے سارے حالات، اس کے مخاطبین کی تفصیلات، لوگوں کا ردعمل اور اس کی جدوجہد ہر چیز کو تفصیل سے بیان کیا جاتا۔ سامعین یہ سب سنتے اور اسے داد دیتے۔ آخر میں جب اس کی کامیابی اور سرفرازی کا اعلان ہوتا تو مرحبا اور ماشاء اللہ کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی۔ اہل جنت تالیاں بجاتے، بعض اٹھ کر رقص کرنے لگتے اور بعض سیٹیاں اور چیخیں مار کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے۔
جب میرا نام پکارا گیا تو ساتھ کھڑے ہوئے سارے لوگوں نے مبارکباد دی۔ میں صالح اور امثائیل کے ہمراہ کنارے پر پہنچا جہاں سے میدان میں کھڑے سارے لوگ مجھے دیکھ سکتے تھے۔ امثائیل نے میرا نامہئ اعمال اٹھا رکھا تھا۔ جبکہ صالح میرے آگے آگے چل رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر میں سر جھکاکر کھڑا ہوگیا۔ آواز آئی:
”عبدا للہ سر جھکانے کا وقت گزر گیا۔ اب سر اٹھاؤ۔ لوگ تمھیں دیکھنا چاہتے ہیں۔“
میں نے سر اٹھایا اس طرح کہ میری آنکھوں میں شکر گزاری کے آنسو اور میرے ہونٹوں پر کامیابی کی مسکراہٹ تھی۔
میں نے جائزہ لینے کے لیے نظریں میدان کے بائیں طرف پھیریں۔ یہاں ایک دوسرا ہی منظر تھا۔ شرمندگی، رسوائی، پچھتاوے، اندیشے، ذلت، محرومی، مایوسی، پریشانی، اذیت، مصیبت، ملامت، ندامت اور حسرت کی ایک ختم نہ ہونے والی سیاہ رات تھی جو اہل جہنم کے حال پر چھائی ہوئی تھی۔
میرا دل چاہا کہ میں کسی طرح وقت کا پہیہ الٹا گھماکر پرانی دنیا میں لوٹ جاؤں اور یہ منظر دنیا والوں کو دکھا سکوں۔ میں چیخ چیخ کر انہیں بتاؤں کہ محنت کرنے والو! ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والو! مال و اسباب کی ریس لگانے والو! مقابلہ کرنا ہے تو اس دن کی سرفرازی کے لیے کرو۔ ریس لگانی ہے تو جنت کے حصول کے لیے لگاؤ۔ منصوبے بنانے ہیں تو جہنم سے بچنے کے منصوبے بناؤ۔ میرا دل چاہا کہ میں کسی طرح وقت کا پہیہ الٹا گھماکر پرانی دنیا میں لوٹ جاؤں اور یہ منظر دنیا والوں کو دکھا سکوں۔ میں چیخ چیخ کر انہیں بتاؤں کہ محنت کرنے والو! ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے والو! مال و اسباب کی ریس لگانے والو! مقابلہ کرنا ہے تو اس دن کی سرفرازی کے لیے کرو۔ ریس لگانی ہے تو جنت کے حصول کے لیے لگاؤ۔ منصوبے بنانے ہیں تو جہنم سے بچنے کے منصوبے بناؤ۔ پلاٹ، دکان، مکان، بنگلے، اسٹیٹس، کیرئیر، گاڑی، زیور اور لباس فاخرہ میں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے والو! دنیا کے ملنے پر ہنسنے اور اس کی محرومی پر رونے والو! ہنسنا ہے تو جنت کی امید پر ہنسو اور رونا ہے تو جہنم کے اندیشے پر رویا کرو۔ 
مرنا ہے تو اس دن کے لیے مرو اور جینا ہے تو اس دن کے لیے جیو۔۔۔ جب زندگی شروع ہوگی۔ کبھی نہ ختم ہونے کے لیے۔
میری آنکھوں سے بہنے والی آنسوؤں کی لڑی اور تیز ہوگئی۔ اس دفعہ یہ آنسو خوشی کے نہیں تھے۔ اس احساس کے تھے کہ شاید میں تھوڑی سی محنت اور کرتا تو مزید لوگوں تک میری بات پہنچ جاتی اور کتنے ہی لوگ جہنم میں جانے سے بچ جاتے۔ میرے دل میں تڑپ کر احساس پیدا ہوا۔ کاش ایک موقع اور مل جائے۔ کاش کسی طرح گزرا ہوا وقت پھر لوٹ آئے۔ تاکہ میں ایک ایک شخص کو جھنجھوڑ کر اس دن کے بارے میں خبردار کرسکوں۔ میرے دل کی گہرائیوں سے تڑپ کر ایک آہ نکلی۔ میں نے بڑی بے بسی سے نظر اٹھاکر عرش کی طرف دیکھا۔ وہاں ہمیشہ کی طرح رخ انور پر جلال کا پردہ تھا۔ حسن بے پروا کی اداے بے نیازی تھی اور جمال و کمال کی ردا، شانِ ذوالجلال کے شانہ اقدس پر پڑی تھی۔ مجھ بندہئ عاجز کی نظر ذات قدیم الاحسان کی قبائے صفات میں پوشیدہ ان قدموں پر آکر ٹھہرگئی، جہاں سے میں کبھی نامراد نہیں لوٹا تھا۔ اس حقیر فقیر بندہئ پرتقصیر کی ساری پہنچ انھی قدموں تک تھی۔ کْل جہاں سے بے نیاز شہنشاہ ذوالجلال کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت تھی تب بھی، اور اس کی کوئی اہمیت نہیں تھی تب بھی، یہی میرا کل اثاثہ تھا۔ یہی میری کُل پہنچ تھی۔
دل کو کچھ قرار ہوا تو میری نظر دوبارہ اہل جہنم کی طرف پھرگئی۔ ان میں سے بہت سے لوگ ایسے تھے جنھیں میں جانتا تھا۔ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہ آپس میں گھس پل کرتنگی میں دوزانو غلامانہ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ نظر نہیں ملارہے تھے بلکہ بہت سوں نے تو پیٹھ پھیرلی تھی۔ اس لیے میں اپنے جاننے والے زیادہ لوگوں کو وہاں نہیں دیکھ سکا۔ لیکن ان کو دیکھ کر اس نعمت کا احساس ہوا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل و کرم سے اس برے انجام سے بچالیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ جنت کی ان گنت نعمتوں میں سے دو سب سے بڑی نعمتیں شاید یہ ہیں کہ انسان کو جہنم سے بچالیا جائے گا اور دوسرا اسے بڑی عزت کے ساتھ جنت میں لے جایا جائے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ ایک ایک کرکے اعراف پر کھڑے سارے لوگ نمٹ گئے۔ اب فیصلہ سنانے کے لیے کچھ بھی نہیں رہا تھا۔ مگر شاید ابھی بھی کچھ باقی تھا۔ سب اپنی جگہ کھڑے تھے کہ میدان حشر میں ایک جانور کو لایا گیا۔ یہ جانور بہت موٹا تازہ تھا جس کے گلے میں رسی پڑی ہوئی تھی اور فرشتے اسے کھینچتے ہوئے عرش کے سامنے لے جارہے تھے۔ صالح نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا:
”یہ موت ہے جس کے خاتمے کے لیے اسے لایا گیا ہے۔“
عرش سے اعلان ہوا کہ آج موت کو موت دی جارہی ہے۔ اب کسی جنتی کو موت آئے گی نہ کسی جہنمی کو۔
اس کے ساتھ ہی فرشتوں نے اس جانور کو لٹایا اور اسے ذبح کردیا۔ موت کے ذبح ہوجانے پر اہل جنت نے زور دار تالیاں بجاکر اس کا خیر مقدم کیا۔ جبکہ اہل جہنم میں صف ماتم بچھ گئی۔ ان کے دل میں امید کی کوئی شمع اگر روشن تھی تو وہ بھی موت کی موت کے ساتھ اپنی موت آپ مرگئی۔
عرش سے صدا آئی کہ اہل جہنم کو گروہ در گروہ ان کے انجام تک پہنچایا جائے۔
فرشتے تیزی کے ساتھ حرکت میں آگئے۔ حشر کے بائیں کنارے پر ایک زبردست ہلچل مچ گئی۔ چیخ و پکار اور آہ و فغاں کے درمیان فرشتے پکڑ پکڑ کر مجرموں اور نافرمانوں کا ایک جتھہ بناتے اور انھیں جہنم کی سمت ہانک دیتے۔ ہر گروہ جہنم کے دروازے پر پہنچتا جہاں جہنم کے داروغہ مالک ان کا استقبال کرتے اور ان کے اعمال کے مطابق جہنم کے سات دروازوں میں سے کسی ایک دروازے کو کھول کر انھیں اس میں داخل کردیتے۔
اس دوران میں وقفے وقفے سے عرش کی سمت سے جہنم کو مخاطب کرکے پوچھا جاتا:
”کیا تو بھرگئی؟“
وہ غضبناک آواز میں عرض کرتی:
”پروردگار! کیا اور لوگ بھی ہیں؟ انھیں بھی بھیج دیجیے۔“
یہ سن کر حشر میں ایک آہ و بکا بلند ہوتی۔ رہ جانے والے مجرموں پر فرشتے دوبارہ جھپٹ پڑتے اور انہیں ان کی آخری منزل تک پہنچادیتے۔ یوں تھوڑی ہی دیر میں سارے مجرم اپنے انجام تک جاپہنچے۔
اس کے بعد عرش سے صدا بلند ہوئی:
”اہل جنت کو ان کی منزل تک پہنچادیا جائے۔“
”جنت کا راستہ کس طرف ہے؟“، میں نے سوال کیا۔
”عرش کے بالکل قریب ہے۔ عرش کے پیچھے داہنے ہاتھ کی سمت جہاں آسمان پر جنت کا نظارہ نظر آرہا تھا وہیں سے جنت کا راستہ ہے۔ مگر یہ راستہ جہنم کی کھائی کے اوپر سے گزرتا ہے جہاں ہر سمت اندھیرا ہے۔ جس کے پاس جتنی زیادہ روشنی ہے وہ اتنی ہی آسانی اور تیزی سے جہنم کے اوپر سے گزر جائے گا۔“
”اس کا مطلب ہے کہ ایک امتحان ابھی مزید باقی ہے۔“
”نہیں یہ امتحان نہیں۔ دنیا کی زندگی کی تمثیل ہے۔ جو جتنا زیادہ خدا کا وفادار اور اطاعت گزار رہا اور زندگی کے پل صراط پر استقامت اور یکسوئی کے ساتھ خدا کی سمت بڑھتا رہا وہ اتنی ہی آسانی اور تیزی سے جنت کی سمت بڑھے گا۔ لیکن ہلکے یا تیز سارے داہنے ہاتھ والے یہاں سے گزر جائیں گے۔ سوائے منافقین کے جو ایمان و عمل کی 

روشنی کے بغیر اس کھائی کو پار کرنے کی کوشش کریں گے اور جہنم کے سب سے نچلے گڑھے میں جاگریں گے جہاں انہیں بدترین عذاب دیا جائے گا۔“

اب میرے سامنے ایک ایسا مقام تھا جہاں سے آٹھ راستے نکل رہے تھے۔ ہر راستے پر یہ درج تھا کہ یہ راستہ جنت کے کس دروازے پر نکلے گا۔ میں یہ پڑھنے کی کوشش کررہا تھا کہ کیا لکھا ہے کہ ایک آواز آئی:
”شہدا کے دروازے سے اندر چلے جاؤ۔“

 میں نے اپنے سامنے صالح کو موجود پایا۔ اس کے ساتھ ایک فرشتہ کھڑا ہوا تھا۔ صالح کے بجائے اس نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور کہا:
”السلام علیکم۔ہمیشہ باقی رہنے والی جنت کی اس بستی میں آپ کو خوش آمدید۔
”ہمارے میزبان کا نام کیا ہے؟“، معانقہ کرتے ہوئے میں نے صالح سے پوچھا۔
”یہ میزبان نہیں دربان ہیں اور ان کا نام رضوان ہے۔“
رضوان ہنستے ہوئے بولے:
”یہاں میزبان آپ ہیں سردار عبد اللہ۔ یہ آپ کی بادشاہی ہے۔ ذرا دیکھیے تو آپ کہاں ہیں۔“
اس کے کہنے پر میں نے نظر دوڑائی تو دیکھا کہ میں ایک بالکل نئی دنیا میں داخل ہوچکا ہوں۔ یہاں آسمان و زمین بدل کر کچھ سے کچھ ہوچکے تھے۔ نئے آسمان اور نئی زمین پر مشتمل یہ ایک ایسی دنیا تھی جہاں یقینا سب کچھ تھا۔ مگر اس کے حسن اور کاملیت کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں تھے۔

ہم آگے بڑھے۔ ایک دبیز سرخ رنگ کا قالین اس راستے میں بچھا ہوا تھا۔ ہم اس پر چلنے لگے۔ اس راستے میں دونوں سمت فرشتوں کی قطار تھی جو ہاتھوں میں گلدستے لیے، ریشمی رومال لہراتے،پھولوں اور خوشبو کا چھڑکاؤ کرتے سلام و مرحبا کہتے میرا استقبال کررہے تھے۔ یہ ایک طویل راستہ تھا جو دور تک چلتا چلا جارہا تھا۔ بچپن میں تصوراتی پرستان اور کوہ قاف کی کہانیاں شاید سب سنتے پڑھتے ہیں۔ یہ راستہ ایسے ہی کسی پرستان پر جاکر ختم ہورہا تھا۔ دور سے اس پرستان کی بلند و بالا تعمیرات نظر آرہی تھیں۔ یہ عالیشان عمارات اور شاندار محلات کا ایک منظر تھا جو سبزے سے لدے پہاڑوں، اس کے دامن میں پھیلے پانی کے فرش اور نیلگوں آسمان کی چھت کے ساتھ ایک خیالی دنیا کی تصویر لگ رہا تھا۔
میں نے صالح کی سمت دیکھ کر کہا:
”ناعمہ؟“
میری بات کا جواب رضوان نے دیا:
”سردار عبد اللہ! آپ تو بہت پہلے اندر آگئے ہیں۔ آپ کی اہلیہ محترمہ ناعمہ اور دیگر لوگ کچھ عرصے ہی میں یہاں آجائیں گے۔
”دیکھیے یہ آپ کے خدام میں سے چند نمایاں لوگ کھڑے ہیں۔“
رضوان کے توجہ دلانے پر میں نے دیکھا کہ فرشتوں کے بعد قطار میں دونوں سمت ایسے لڑکے کھڑے تھے جو اپنی ٹین ایج کی ابتدا میں تھے۔ مجھے اندازہ ہوگیا کہ یہ غلمان ہیں اور یہی وہ لڑکے ہیں جن کے لیے قرآن نے موتیوں کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ یہ واقعتا ایسے ہی تھے۔ بلکہ شاید موتیوں سے بھی زیادہ صاف، شفاف اور چمکتے ہوئے۔فرشتوں کی طرح غلمان بھی پرجوش انداز میں میرا استقبال کررہے تھے۔ البتہ جیسے ہی میں ان کے قریب پہنچتا وہ گھنٹوں کے بل بیٹھ کر اپنا سر جھکادیتے۔ یہ موتیوں کی ایک لڑی تھی جو میرے استقبال میں بچھی جارہی تھی۔
ہم کچھ دور اور چلے تو صالح نے کہا:
”اب حوریں آرہی ہیں۔“
 ہم جیسے ہی ان کے قریب پہنچے تو غلمان کے برخلاف انہوں نے ایک مختلف کام کیا۔ وہ گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے بجائے دو زانو بیٹھیں اور کمر کو خم دے کر سر جھکادیا۔
میں نے رک کر صالح سے پوچھا:
”یہ کیا کر رہی ہیں؟“
”یہ دیدہ و دل فرش ِراہ کررہی ہیں۔“، اس نے ہنستے ہوئے کہا۔
رضوان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:
”اصل میں انھوں نے آپ کے قدموں کو راحت پہنچانے کے لیے اپنے بال فرش پر بچھائے ہیں۔ اسی لیے یہ اس طرح جھکی ہوئی ہیں۔“
اس کے کہنے پر میں نے غور کیا کہ وہ اس طرح سر کو جھٹکا دے کر جھک رہی ہیں کہ دونوں سمتوں سے ان کے بال زمین پر بچھ کر ایک ریشمی فرش بناتے جارہے ہیں۔ حسن کی یہ ادا میں نے زندگی میں پہلی دفعہ دیکھی تھی۔ میں پورے اعتماد اور وقار کے ساتھ مسکراتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ جب میرے قدموں نے ریشمی زلفوں سے بنے اس فرش کو چھوا تو سرور کی ایک لہر میری روح کے اندر تک تیرتی چلی گئی۔ مجھے پہلی دفعہ احساس ہوا کہ گرچہ میرے جسم پر انتہائی لطیف، مخملی اور دیدہ زیب شاہی لباس تھا لیکن میں نے جوتے نہیں پہن رکھے تھے۔ آخر کار یہ استقبالی قطار ایک بلند و بالا دروازے پر ختم ہوئی۔ ہمارے قریب پہنچنے سے قبل ہی دروازے کے دونوں پٹ کھل چکے تھے۔ یہاں سے رضوان واپس لوٹ گئے اور میں صالح کے ساتھ اپنی رہائش گاہ میں داخل ہوگیا۔میں نے اس وسیع منظر نامے پر نظر ڈالتے ہوئے صالح سے دریافت کیا:
”اتنے سارے محلات میں سے میری رہائش گاہ کون سی ہے؟“
اس نے ہنستے ہوئے کہا:
”یہ محلات تمھاری رہائش گاہ نہیں۔ یہ تمھارے انتہائی قریبی خدام کی رہائش گاہ ہیں۔ تمھاری رہائش یہاں سے کافی دور ہے۔ تم چاہو تو پیدل بھی جاسکتے ہو، مگر بہتر ہے کہ اپنی سواری میں جاؤ۔“
یہ کہہ کر اس نے ایک طرف بڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اس سمت دیکھا تو ایک انتہائی شاندارمگر قدرے چھوٹاسا گھربنا ہوا تھا۔ چھوٹا اس دنیا کے حسا ب سے تھا وگرنہ پچھلی دنیا کے اعتبار سے یہ کوئی عظیم الشان محل جتنا وسیع تھا۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ صالح توجہ نہ دلاتا تو میں کبھی اس کی موجودگی محسوس نہیں کرسکتا تھا کیونکہ یہ مکمل طور پر شیشے کا بنا ہوا اور اتنا شفاف تھا کہ اس کے آر پار سب کچھ نظر آرہا تھا۔ صالح آگے بڑھا تو میں اس کے پیچھے اس خیال سے چلا کہ اس گھر میں کوئی گاڑی وغیرہ جیسی سواری کھڑی ہوگی۔ مگر وہ سیدھا مجھے اس گھر کے وسط میں موجود ایک کمرے میں لے گیا جہاں ہیرے جواہرات سے مرصع شاہانہ انداز کی عالیشان نشستیں نصب تھیں۔ صالح نے مجھے اشارے سے بیٹھنے کے لیے کہا۔ پھر وہ بولا:
”یہ تمھاری سواری ہے جو تمھیں تمھاری منزل تک پہنچادے گی۔ میں تمھیں تنہا چھوڑ رہا ہوں تاکہ تمھیں یہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کے اصل بادشاہ تم ہو۔ تمھیں کسی سہارے، کسی خادم اور کسی فرشتے کی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ تم جو چاہو گے وہ خود بخود ہوجائے گا۔ اب میں تمھیں تمھارے گھر میں ملوں گا۔“اس کے ساتھ ہی یہ گھر جو ایک سواری تھی خود بخود فضا میں بلند ہونے لگا۔ میں خوشی سے کھلکھلا اٹھا اور میں نے زور سے پکار کر کہا:
”بسم اللہ مجریہا و مرسہا“
میری سواری دھیرے دھیرے ایک سمت بڑھنے لگی۔ میں خاموشی سے سر ٹکاکر نیچے پھیلے ہوئے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونے لگا۔ گھر دھیرے دھیرے اڑ رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ نیچے شام کا سا دھندلکا پھیلنے لگا ہے۔ کچھ ہی دیر میں ہر طرف مکمل تاریکی چھاگئی۔ اس کے ساتھ ہی شیشے کا یہ گھر دودھیا رنگ کی اْس روشنی سے جگمگا اٹھا جس کا ماخذ اور منبع کہیں نظر نہ آتا تھا۔میری خواہش پر ایک دفعہ پھر تاریکی چھاچکی تھی۔ تاریکی سے مجھے خیال آیا کہ کچھ اہل جہنم کا حال بھی دیکھوں۔ میں نے سبحان اللہ کہا اور اس کے ساتھ ہی میرے بائیں طرف نیچے کی سمت ایک اسکرین سی نمودار ہوگئی۔ اس پر جو منظر نمودار ہوا وہ حد درجہ دہشت ناک تھا۔ یہ جہنم کے وسطی حصے کا منظر تھا۔ خوفناک اور توانا فرشتے بھڑکتی ہوئی آگ سے چند انتہائی بدہیبت اور بدشکل انسانوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر باہر نکال رہے تھے۔ ان کے گلوں میں طوق تھے اور ہاتھ پاؤں میں بھاری اور نوکیلی زنجریں بندھی ہوئی تھیں۔ ان کے چہرے کا گوشت آگ میں جھلس چکا تھا۔ ان کے جسم پر تارکول کا بنا ہوا لباس تھا، جس سے سلگتی آگ ان کے گوشت کو جلارہی تھی۔ وہ شدتِ تکلیف کے مارے چیخ رہے تھے۔ رو رو کر اللہ سے فریاد کررہے تھے کہ انھیں ایک دفعہ دنیا کی زندگی میں جانے کا موقع دیا جائے پھر وہ کبھی ظلم، کفر اور ناانصافی کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے۔ مگر وہاں چیخنا، رونا اور دانت پیسنا سب بے سود تھا۔
پھر ان جہنمیوں نے چلا چلا کر پانی مانگنا شروع کیا تو فرشتے ان کو گھسیٹتے ہوئے پانی کے کچھ چشموں تک لے گئے۔ یہاں ابلتے پانی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ مگر یہ جہنمی اتنے پیاسے تھے کہ اسی پانی کو پینے پر مجبور تھے۔ وہ کھولتے ہوئے پانی کو پیتے اور چیختے جارہے تھے۔ وہ اس پانی سے منہ ہٹاتے مگر کچھ ہی دیر میں اتنی شدید پیاس لگتی کہ پھر 

جانوروں کی طرح اسی پانی کو پینے پر خود کو مجبور پاتے۔ اس عمل کے نتیجے میں ان کے چہروں کی کھال اتر گئی اور ان کے ہونٹ نیچے تک لٹک گئے تھے۔
 اسی اثنا میں مجھے محسوس ہوا کہ سواری کی رفتار دھیمی ہورہی ہے۔ میں نے اشارہ کیا اور اسکرین غائب ہوگئی۔ میری سواری منزل مقصود پر پہنچ رہی تھی۔ بلندی سے یہ جگمگاتا ہوا محل اتنا حسین لگ رہا تھا کہ میرا دل چاہا کہ میں یہاں ٹھہر کر یہ منظر دیکھتا رہوں۔ اس منظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے میں نے محل کے اطراف میں دو تین چکر لگائے۔ پھر مجھے خیال آیا کہ صالح نیچے میرا منتظر ہے۔ اس لیے میں نے اترنے کا فیصلہ کیا۔ میری یہ سواری یا شیش محل اسی جگہ دھیرے سے اترگیا جہاں صالح موجود تھا۔
میں باہر نکلا تو صالح نے ایک قہقہہ لگاکر میرا استقبال کیا اورکہا:
”تم پہلے اپنے محل کا معائنہ کرو گے یا کھانے پینے کا ارادہ ہے؟“
”میں تو اس رہائش گاہ کے حسن سے مبہوت ہوکر رہ گیا ہوں۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ خوبصورتی اس طرح بھی تخلیق کی جاسکتی ہے۔“
میں نے صالح سے کہا۔”میں ناعمہ کو اپنی طرف سے تحفے میں ایک گھر دینا چاہتا ہوں۔“
اس کے بعد میں نے اسے ساری تفصیلات سمجھائیں۔ میری بات ختم ہوئی تو وہ بولا:
”چلو محل دیکھنے چلو۔“
میں نے حیران ہوکر پوچھا:
”کیا مطلب؟ کیا محل بن گیا؟“
”تم کیا سمجھتے ہو تم دنیا میں کھڑے ہو کہ پہلے زمین خریدوگے، پھر نقشہ پاس کراؤگے، پھر ٹھیکیدار ڈھونڈو گے اور پھر کئی ماہ میں محل تعمیر ہوگا۔ سردار عبد اللہ! یہ تمھاری بادشاہی ہے۔ خدا کی قوت تمھارے ساتھ ہے۔ تم نے کہا اور سب ہوگیا۔ یہی یہاں کا قانون ہے۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم وسیع و عریض سمندر کے سینے پر سفر کررہے تھے۔ صالح اور میں سمندری جہاز جیسی کسی چیز میں سوار تھے۔ سفر کا یہ طریقہ صالح کے کہنے پر ہی اختیار کیا گیا تھا۔ بقول اس کے جنت میں جتنا خوشگوار منزل پرپہنچنا ہوتا ہے اتنا ہی مزیدار وہاں تک پہنچنے کا راستہ ہوتا ہے۔ اس کی بات ٹھیک تھی۔ مجھے دنیا کی زندگی میں سمندری سفر کبھی پسند نہیں آیا تھا۔ مگر اس سفر کی بات ہی کچھ اور تھی۔ یہ جہاز ایک تیرتا ہوا محل تھا جس کے عرشے پر ہم دونوں کھڑے تھے۔ دھیمی ہوا اور خوشگوار موسم میں آگے بڑھتے ہوئے ہم اپنی منزل کے قریب پہنچ رہے تھے۔
ہماری منزل وہ پہاڑی جزیرہ تھا جسے ایک محل کی شکل میں ناعمہ کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ محل بالکل ویسا ہی تھا جیسا میں صالح کو بتارہا تھا۔ بیچ سمندر میں ایک بہت بڑا جزیرہ، جہاں سرسبز پہاڑ، دریا، ندیاں، آبشاریں، سمندر کے ساتھ چلنے والے پہاڑی راستے، گھاس کے بڑے میدان اور ان سب کے درمیان ایک گھر۔ جس کا فرش شفاف ہیرے کا بنا ہوا۔ ایسا فرش جو ہیرے کی طرح چمکدار اور شیشے کی طرح شفاف ہو، اتنا شفاف کہ اس کے نیچے بنے حوضوں میں بہتا پانی اور ان میں تیرتی رنگ برنگی مچھلیاں صاف نظر آئیں۔ جس کی دیواریں شفاف چاندی کی بنی ہوں جن سے باہر کا ہر منظر نظر آئے اور جس کی بلند و بالا چھت سونے کی ہو اور چھت پر موتی، جواہرات اور قیمتی پتھر جڑے ہوں۔ یہ محل کئی منزل بلند ہو۔ اتنا بلند کہ اردگرد کے پہاڑوں سے بھی بلند ہوجائے۔ جس کی ہر منزل سے فطرت اور اس کی صناعی کا ایک نیا زاویہ نظر آئے۔
یہاں آکر جو کچھ میں نے سامنے دیکھا وہ میرے بیان اور اندازے سے بھی زیادہ حسین تھا۔ اس کا سبب شاید یہ تھا کہ میرے الفاظ ان نعمتوں کو بیان کرنے کے لیے بہت کم تھے جو مجھے حاصل تھیں۔ میں نے تو ایک عمومی نقشہ یا خیال بیان کیا تھا، مگر اس نقشہ میں ڈیزائن، رنگ و روپ، روشنی و آرائش اور دیگر مواد کی جورنگ آمیزی ہوئی تھی وہ میرے بیان اور تصورات دونوں سے کہیں زیادہ تھی۔ 
صالح نے کہا۔ تم دونوں کے بچے یہاں آچکے ہیں اور ان کا فیصلہ ہے کہ ہم اپنی ماں کی شادی خود کریں گے۔ اس کے بعد ہی تم عبد اللہ کے گھر آسکتی ہو۔“
”صالح نے بالکل صحیح کہا۔“، لیلیٰ اندر آتے ہوئے زور سے بولی۔ اور تیر کی طرح بھاگ کر میرے پاس آگئی۔ اس کے پیچھے ہی انور، جمشید، عالیہ اور عارفہ بھی تھے۔ ان کو دیکھ کر میری خوشی کئی گنا بڑھ گئی۔ میں نے سب کو اپنے گلے لگا کر پیار کیا۔ملنے ملانے سے فارغ ہوئے تو ناعمہ نے قدرے غصے کے ساتھ ان سے کہا:
”یہ کیا بچپنے والی بات تم لوگ کررہے ہو کہ ہماری دوبارہ شادی ہوگی؟“
عالیہ نے کہا:
”امی پچھلی دنیا میں ہم میں سے کوئی بھی آپ کی شادی میں موجود نہیں تھا۔ اس لیے ہم سب بہن بھائیوں کی متفقہ رائے ہے کہ ہم آپ لوگوں کی شادی بڑے دھوم دھام سے کریں گے۔ ہم آپ کو خود دلہن بناکر رخصت کریں گے اور اس وقت تک آپ کا ابو سے پردہ ہوگا۔“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ ایک اور الف لیلوی جگہ تھی۔ میں اس سے پہلے صالح کے ساتھ یہاں کئی دفعہ آچکا تھا۔ مگر ہر دفعہ یہاں نت نئی چیزیں موجود ہوا کرتی تھیں۔ اس جگہ کے لیے شاپنگ سنٹر یا بازار جیسی اصطلاحات قطعاً غیر مناسب تھیں۔ یہ سیکڑوں میل تک پھیلا ہوا ایک علاقہ تھا جو رنگ و نور کے سیلاب سے روشن تھا۔ یہاں رات کا وقت ہی طاری رہا کرتا تھا۔ کھانے پینے، پہننے اور برتنے کی یہاں اتنی اشیا تھیں کہ ان کی تعداد تو دور کی بات ہے، ان کی مختلف اقسام اور ورائٹی ہی کروڑوں کی تعداد میں تھی۔ ہر جگہ یہاں فرشتے تعینات تھے۔ لوگ ڈسپلے سے چیز پسند کرلیتے اور پھر فرشتوں کو نوٹ کرادیتے۔ جس کے بعد یہ چیزیں لوگوں کے گھروں میں پہنچادی جاتیں۔ فرشتے ہر شخص کا ریکارڈ چیک کرکے اس کے بارے میں سب کچھ جان لیتے۔ اس بازار کے دو حصے تھے ایک حصے میں عام جنتی خریداری کرسکتے تھے۔ دوسرا حصہ خواص کے لیے مخصوص تھا۔ عام لوگ یہاں جا تو سکتے تھے، مگر یہاں خریداری کی اجازت صرف اعلیٰ درجے کے جنتیوں کو تھی۔
یہ سب پہلی دفعہ یہاں آئے تھے۔ میں پہلے انہیں عوام والے حصے میں لے کر گیا۔ یہ لوگ اس کو دیکھ کر ہی خوشی سے پاگل ہوگئے۔ اس کے بعد انھوں نے جو دل چاہا خریدنا شروع کردیا۔ البتہ ناعمہ سارا وقت میرے ساتھ ہی رہی۔ وہ خریداری سے فارغ ہوگئے تو میں نے کہا کہ میں تمھیں کھانا کھلانے لے جاتا ہوں۔ کھانے کے لیے میں انہیں اوپر لے گیا۔ یہاں چھت سے دور دور تک خوبصورت روشنیاں نظر آرہی تھیں۔ جبکہ اوپر تاروں بھرا آسمان تھا۔ دنیا کے برخلاف جہاں شہر کی روشنیاں تاروں کی چمک کو ماند کردیتی تھیں یہاں زمین و آسمان پر یکساں جگمگاہٹ تھی۔
تاروں کی دودھیا روشنی اور ٹھنڈی ہوا میں کھانے کی اشتہا انگیز خوشبو نے فضا کو بے حد مؤثر بنارکھا تھا۔ بازار کی طرح یہاں بھی پس منظر میں دھیمی سی موسیقی چل رہی تھی۔ کھانے کی اتنی ورائٹی تھی کہ کسی کو سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کھائیں۔ جو چیز لیتے وہ اتنی لذیذ ہوتی کہ چھوڑنے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ مگر شکر خدا کا کہ یہاں پیٹ بھرنے کا کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا جس کی بنا پر جب تک دل چاہتا رہا ہم لوگ بیٹھ کر کھاتے رہے۔
واپسی پر میں جان بوجھ کر ان لوگوں کو بازار کے اس علاقے سے لے گیا جہاں صرف اعلیٰ درجے کے جنتی خریداری 

کرسکتے تھے۔ اسے دیکھ کر ان لوگوں کی آنکھیں پھٹ گئیں۔ جمشید نے کہا:
”یہ بھی شاپنگ سنٹر کا حصہ ہے؟“
”ہاں یہ بھی شاپنگ کا علاقہ ہے۔“، میں نے جواب دیا۔
میری بات پوری طرح سنے بغیر ہی یہ سب لوگ شاپنگ کے لیے بکھر گئے۔ میرے ساتھ صرف ناعمہ ہی رہ گئی۔
”کیوں تم کچھ نہیں خریدوگی؟ پہلے بھی تم نے کچھ نہیں لیا اور اب بھی یہیں کھڑی ہو۔“
میری بات سن کر ناعمہ دھیرے سے مسکراکر بولی:
”میرے لیے سب سے زیادہ قیمتی چیز آپ کا ساتھ ہے۔ یہ انمول چیز آپ کے قرب کے سوا کہیں اور نہیں ملے گی۔“، یہ کہتے ہوئے ناعمہ کا روشن چہرہ اور روشن ہوگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دربار کا آغاز ہونے والا تھا۔ اہل جنت کے عوام و خواص، درباری و مقربین، انبیا و صدیقین، شہدا و صالحین سب اپنی اپنی جگہوں پر آکر بیٹھ رہے تھے۔ دربار سے قبل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی دعوت کا اہتمام تھا۔ یہ دعوت ابھی تک ہونے والی سب سے بڑی دعوت تھی جس میں حضرت آدم سے لے کر قیامت تک کے تمام اہل جنت جمع تھے۔ پانچ جلیل القدر رسولوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دعوت کی میزبانی کی ذمے داری دی گئی تھی۔ نوح، ابراہیم،موسیٰ، عیسیٰ اور محمد علیھم السلام و صلی اللہ علیہ وسلم اس تقریب کے میزبان تھے۔
یہ دعوت ایک بہت بلند پہاڑ کے دامن میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ بہت وسیع اور کشادہ میدان تھا جو ایک باغ کی شکل میں پھیلا ہوا تھا۔ یہاں سے دور دور تک پھیلا ہوا سرسبر و شاداب علاقہ آنکھوں کو ٹھنڈک دے رہا تھا۔ اس میدان کے بیچ بیچ میں دریا بہہ رہے تھے۔ اس دعوت کا پورا انتظام عرب کی روایات اور عجم کی شان و شوکت کے لحاظ سے ترتیب دیا گیا تھا۔ اسی لیے نشستیں شاہی تخت کی شکل میں تھیں جن پر ہیرے اور موتی جڑے ہوئے تھے۔ زمین پر دور دور تک دبیز قالین اور غالیچے بچھے ہوئے تھے۔ غلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہاتھوں میں شراب کے جگ لیے پھر رہے تھے۔ اہل جنت کو جس قسم کی شراب کی طلب ہوتی وہ نظر اٹھاتے اور یہ غلمان لمحے بھر میں حاضر ہوکر ان کی خواہش کے مطابق جام بھردیتے۔ یہ شراب کیا تھی شفاف مشروب تھا جس میں لذت، سرور اور ذائقہ تو بے پناہ تھا، مگرنشے کی خرابیاں یعنی بدبو، دردسر، عقل کی خرابی وغیرہ کچھ نہیں تھی۔ ساتھ میں مختلف قسم کے پرندوں اور دیگر جانوروں کے گوشت سے تیار کیے گئے لذید کھانے؛ سونے اور چاندی کی رکابیوں میں مسلسل پیش کیے جارہے تھے۔ درختوں کی ڈالیاں پھلوں سے لدی تھیں اور جب کسی پھل کا جی چاہتا وہ ڈالی جھک جاتی اور لوگ اس پھل کو توڑ لیتے۔
میرے ساتھ میرے گھر والے اور دور ونزدیک کے احباب کا حلقہ تھا۔ میرے بچے میری دوبارہ شادی کرواکر بہت خوش تھے۔ اسی موقع پر جمشید اورامورہ کی رضامندی سے ان کی شادی کردی گئی اور وہ بھی ہمارے خاندان کا حصہ بن چکی تھی۔ زندگی خوشیوں اور سرشاریوں کی شاہراہ پر ہموار طریقے سے رواں دواں تھی۔ میرے دل میں بس ایک بے نام سا احساس تھا۔ وہ یہ کہ میرے سارے محبت کرنے والے لوگ میرے ساتھ آچکے تھے۔
دربار کے آغاز پر فرشتوں نے اللہ کی تسبیح و تمجید کی۔ اس کے بعد داؤد علیہ السلام تشریف لائے اور اپنی پرسوز آواز میں ایک حمدیہ گیت اس طرح گایا کہ سماں بندھ گیا۔ اس کے بعد حاملین عرش نے اعلان کیا کہ پروردگار عالم اپنے بندوں سے گفتگو فرمائیں گے۔ کچھ ہی دیر میں اللہ تعالیٰ نے انتہائی محبت اور نرمی کے ساتھ اپنے بندوں سے گفتگو فرمانا شروع کی۔
اس گفتگو میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی بڑی تحسین فرمائی جو اپنی محنت، جدو جہد اور صبر سے اس مقام تک پہنچے تھے۔ بندوں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس صلے پر راضی ہیں جو ان کی محنت کے عوض انہیں ملا ہے۔ سب نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ ہم نے اپنی توقعات سے بڑھ کر بدلہ پایا ہے اور وہ کچھ پایا ہے جو کسی اور مخلوق کو نہیں ملا۔ ہم کیوں تجھ سے راضی نہ ہوں۔ اس پر ارشاد ہوا اب میں تمھیں وہ دے رہا ہوں جو ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ میں تمھیں اپنی رضا سے نوازتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی فضا اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے نعروں سے گونج اٹھی۔
پھر مناقب و اعزاز کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ ایک بہت طویل عمل تھا۔ لیکن یہاں ان گنت نعمتیں مسلسل مہیا کی جارہی تھیں جن کی بنا پر لوگ اطمینان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔
کچھ ہی دیر میں میرا نام پکارا گیا۔ میں جو ابھی تک اطمینان سے بیٹھا تھا لرزتے دل کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ میں دھیرے دھیرے قدموں سے چلتا ہوا اس ہستی کے حضور پیش ہوگیا جس کے احسانوں کے بوجھ تلے میرا رواں رواں دبا ہوا تھا۔ قریب پہنچ کر میں سجدہ میں گرگیا۔
کچھ دیر بعد صدا آئی:
”اٹھو!“
میں دھیرے دھیرے اٹھا اور جھکی نظر کے ساتھ ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا۔
لمحہ بھر کی خاموشی کے بعد کہا گیا:
”مجھے معلوم ہے جو کچھ ابھی تم صالح سے کہہ رہے تھے۔ میں وہ بھی جانتا ہوں جو تم حشر میں اپنے نامہ اعمال کی پیشی کے وقت سوچ رہے تھے۔ تم یہی سوچ رہے تھے نا کہ کاش ایک موقع اور مل جائے۔ کاش کسی طرح گزرا ہوا وقت پھر لوٹ آئے۔ تاکہ میں ایک ایک شخص کو جھنجھوڑ کر اس دن کے بارے میں خبردار کرسکوں۔
عبد اللہ! میں تمھاری تڑپ سے بھی واقف ہوں اور اپنی ذات سے وابستہ تمھاری امیدوں سے بھی۔ یہ بھی تم نے ٹھیک سمجھا کہ بے شک میں بے نیاز ہوں اور یہ بھی کہ میں صاحب جمال و کمال اور جلال والا ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمھارا کل اثاثہ یہی ہے کہ تمھاری پہنچ میرے قدموں تک ہے۔ میرے لیے تمھاری بھی اہمیت ہے اور تمھاری اس بات کی بھی، لیکن۔۔۔“
خاموشی کا پھر ایک وقفہ آیا اور میں لرزتے دل کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ میرے رب سے نہ زبان سے نکلنے والے الفاظ پوشیدہ رہتے ہیں اور نہ دل میں آنے والے خیالات اس کے علم سے باہر رہ سکتے ہیں۔ بے اختیار میری زبان سے نکلا:
”میرے رب تو پاک ہے۔“
”مجھے معلوم تھا کہ تم اپنی دلی تمنا کے اظہار کے لیے یہی پیرایہئ بیان اختیار کروگے۔ دیکھو! لوگوں کو دوبارہ دنیا میں بھیجنا میری اسکیم کا حصہ نہیں۔ اس لیے دنیا میں نہ تم جاسکتے ہو اور نہ دوسرے انسان۔ مگر وقت میرا غلام ہے۔ میں چاہوں تو اس کا پہیہ الٹا گھما سکتا ہوں۔“
پھر ایک فرشتے کو اشارہ ہوا۔ وہ ہاتھوں میں چاندی کے اوراق کا ایک پلندہ لے کر میرے قریب آیا۔ میں نے دیکھا تو پہلے ورق پر سونے کے تاروں سے لکھا ہوا تھا:
”جب زندگی شروع ہوگی“
صدا آئی:
”عبد اللہ! یہ تمھاری روداد ہے۔ اس نئی دنیا میں جو تمھارے ساتھ ہوا، اس کا کچھ حصہ اس میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ تمھاری خاطر اب تمھاری اس داستان کو وقت کی کھڑکی سے دوبارہ پچھلی دنیا میں بھیجا جارہا ہے۔ اس بات کا انتظام کیا جائے گا کہ یہ روداد انسانوں تک پہنچادی جائے۔ میں لوگوں کو تمھاری درخواست پر ایک موقع اور دینا چاہتا ہوں۔ ابدی خسارے سے پہلے۔ ابدی ہلاکت سے پہلے۔“
میں بے اختیار ’اللہ اکبر‘کہتا ہوا سجدے میں گرگیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ اکبر اللہ اکبر۔ مؤذن نے ابھی یہ الفاظ ادا ہی کیے تھے کہ عبداللہ ایک جھٹکے کے ساتھ ’اللہ اکبر‘ کہتا ہوا بیدار ہوگیا۔ وہ خالی خالی نظروں سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر تک وہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کہاں ہے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا تھا۔ اس نے غور کیا۔ وہ ابھی بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے موجود تھا۔ عین بیت اللہ الحرام میں کعبہ کے سامنے۔ فجر کا وقت تھا اور مسجد الحرام میں لوگوں کی چہل پہل جاری تھی۔
”تو کیا میں نے خواب دیکھا تھا؟“، عبد اللہ نے خود سے سوال کیا۔
”مگر وہ تو بالکل حقیقت تھی۔ وہ حشر کا دن، وہ جنت کی محفل اور خدا کے سامنے میری حاضری۔۔۔ اگر وہ حقیقت تھی تو پھر یہ کیا ہے؟ اور اگر یہ حقیقت ہے تو پھر وہ حقیقت سے زیادہ یقینی چیز کیا تھی۔ وہ خواب تھا یا یہ خواب ہے۔“
وہ مسلسل بڑبڑائے جارہا تھا:
”ایسا نہ ہو کہ اچانک ایک روز آنکھ کھلے اور مجھے معلوم ہو کہ جو کچھ دنیا میں دیکھا تھا خواب تو دراصل وہ تھا اور حقیقت آخرت کی زندگی تھی۔“
آسمان سے نور اتررہا تھا۔ سفید جگمگاتی ہوئی روشنیوں سے حرم کی فضا دودھیا ہورہی تھی۔ آسمان تاریک تھا، مگر اس جگہ دن کی روشنی سے زیادہ چہل پہل تھی۔ یہ حرم مکہ تھا۔ اہلِ ایمان کا کعبہ۔ اہلِ دل کا مرکز اور اہلِ محبت کا قبلہ۔ خدا کے بندے اور بندیاں۔۔۔ ہر نسل، ہر قوم کے لوگ یہاں جمع تھے۔ خدا کی حمد، تسبیح اور تعریف کرتے ہوئے۔
آج حرمِ پاک میں عبداللہ کی آخری شب تھی۔ مگر یہ آخری شب عبداللہ کی زندگی کی سب سے قیمتی شب بن چکی تھی۔ عبداللہ کچھ دیر قبل حیرانی کی جس کیفیت میں تھا، اب اس سے باہر آچکا تھا۔ اس نے حرم کو دیکھا اور پھر اردگرد نظر ڈالی۔ حرم سے باہر ہر طرف بلند و بالا عمارات کا منظر تھا۔ یہ دیکھ کر اس پر ایک دوسری کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔اس کا دل مالکِ ذوالجلال کے حضور سراپا التجا بن گیا:
”مالک! قیامت کا حادثہ سر پر آکھڑا ہوا ہے۔ ننگے پاؤں بکریاں چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنارہے ہیں۔ تیرے محبوب رسول کی پیش گوئی پوری ہوچکی ہے۔ اب مجھے تیرے بندوں تک تیرا پیغام پہنچانا ہے۔ قیامت سے قبل انھیں قیامت کے حادثے سے خبردار کرنا ہے۔ مجھے لوگوں کو جھنجھوڑنا ہے۔ آج دنیا کی محبت فکرِآخرت پر غالب آچکی ہے۔ تیری ملاقات سے غفلت عام ہے۔ حکمران ظالم ہیں اور عوام جاہل۔ امیر مال مست ہیں اور غریب حال مست۔ تاجر منافع خور، ذخیرہ اندوز اور جھوٹے ہیں۔ سیاستدان بددیانت ہیں۔ ملازم کام چور ہیں۔ مردوں کا مقصدِ حیات صرف دولت کمانا بن چکا ہے اور عورتوں کا مقصدِ زندگی محض زیب و زینت اور اپنی نمائش۔“
عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ اس کے دل سے مسلسل دعا و مناجات نکل رہی تھی۔ وہ دعا جس کا قبول ہونا شاید مقدر ہوچکا تھا:
”مولیٰ! آج لوگ تجھ سے غافل و بے پروا ہوکر ظلم اور دنیا پرستی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر کھڑے ہوئے لوگ فرقہ واریت کے اسیر ہیں یا سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ کوئی نہیں جو تیری ملاقات سے خبردار کررہا ہو۔ تو مجھے اس خدمت کے لیے قبول فرمالے۔ تو مجھے اپنے پاس سے ایسی صلاحیت عطا کر کہ میں تیری ملاقات اور آنے والی دنیا کا نقشہ تیرے بندوں کے سامنے کھینچ کر رکھ دوں۔ جو کچھ تو نے قرآن میں بیان کیا اور تیرے محبوب نبی نے جس عظیم واقعے کی خبر دی ہے، اس دن کی ایک زندہ تصویر میں تیرے بندوں تک پہنچادوں۔ انسانیت کو معلوم نہیں کہ اس کے پاس مہلتِ عمل ختم ہوچکی ہے۔ مجھے قبول کر کہ میں اس بات سے تیرے بندوں کو خبردار کرسکوں۔ پروردگار! ساری انسانیت کو ہدایت دیدے۔ اوراگر تو نے سب کچھ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو پھر میرے لیے آسان کردے کہ جتنے لوگ ہوسکیں، میں انھیں جنت کی راہ دکھا سکوں۔ انہیں تجھ تک پہنچاسکوں۔۔۔ اس سے پہلے کہ صور پھونک دیا جائے۔۔۔ اس سے پہلے کہ مہلتِ عمل ختم ہوجائے۔“
نے آخری طواف ایک خاص کیفیت میں مکمل کیا تھا۔ ایک تو حرم کا طواف…… وہ بھی آخری…… پھر رات جو کچھ دیکھا‘ اس کے بعد کعبہ وہ کعبہ نہیں رہا تھا جو دوسروں کو نظر آرہا تھا۔ یہ کعبہ اب  اسے عرش الٰہی کا پیکر نظرآرہا تھا مگر وہ ایک انسان ہی تو تھا۔ پے درپے طواف کرکے شل ہو چکا تھا۔ وہ آخری طواف سے فارغ ہوا۔ کچھ دیر بیٹھ کر کعبہ کو دیکھتا رہا۔ پھر یاس وآس کی کیفیت میں اٹھا اور اپنے دل پر جبر کرکے وہ کام شروع کیا جو اہل دل کیلئے مشکل ترین عمل ہوتاہے۔ آخری دفعہ مسجد الحرام سے باہرنکلنے کا عملہ۔
کی روشنی پوری طرح طلوع ہوچکی تھی۔ وہ آہستہ آہستہ اس حالت میں باہر کی سمت بڑھ رہا تھاکہ بار بار ایڑیاں گھومتیں اور وہ رک کر دوبارہ کعبہ کو دیکھنے لگتا۔ پھر اس نے ایک مضبوط فیصلہ کیا اور اللہ اکبر کہت ہوئے قدرے تیز رفتاری سے آگے  بڑھنے لگا۔ مگر چلتے ہوئے پھر بے اختیاری کے عالم میں گردن گھومی  اور الوداعی نظریں بیت اللہ کا طواف کرنے لگیں۔ ابھی اس نے ایسا ہی کیا تھا کہ اس کا کندھا کسی سے ٹکرا گیا۔
عبداللہ کی نگاہ لوٹی تو سامنے ایک سفید ریش بزرگ تھے۔ اسے احساس ہو چکا تھا کہ اس کا کندھا ان  بزرگ کے سینے سے ٹکرا گیا جو اس کے ہم وطن محسوس ہوتے تھے۔ عبداللہ کا جذبہ عبادت اب ندامت میں بدل چکا تھا۔ اس نے فوراً معذرت خواہانہ لہجے میں کہا:
”معاف کیجئے گا! غلطی میری ہے۔ میں سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔“
”کوئی بات نہیں۔“ بزرگ نے شفقت آمیز لہجے میں کہا۔ پھر وہ بولے:
”کچھ غلطی میری بھی ہے۔ میں بھی سامنے نہیں دیکھ رہا تھا۔ دراصل میں اپنے گھرووالوں کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ ہم عمرہ ادا کرتے ہوئے رش کی وجہ سے بچھڑ گئے ہیں۔“
”آپ نے ملنے کی کوئی جگہ طے نہیں کی تھی؟“ عبداللہ نے سوالیہ انداز میں کہا۔ پھر اپنی بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولا:
”حرم میں یہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ورنہ بہت مشکل ہو جاتی ہے۔“
”جگہ تو یہی طے کی تھی۔ باب فتح کے پاس۔ یہاں رش کم ہوتا ہے۔ مگر کافی دیر سے وہ لوگ یہاں نہیں پہنچے“، بزرگ نے قدرے پریشانی کے ساتھ جواب دیا۔
”چلیے پھر تو آپ کا مسئلہ حل ہو گیا“، عبداللہ نے مسکراتے ہوئے کہا:
”آپ باب فتح پر نہیں کھڑے ہوئے۔ میں آپ کو وہاں لے چلتا ہوں۔“
بزرگ نے کچھ خجالت کے ساتھ اردگرد دیکھا اور پھر عبداللہ کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے بولے:
”ہم دراصل کل رات ہی یہاں پہنچے ہیں۔ پہلی دفعہ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں کا پوری طرح اندازہ نہیں۔ سعی کے دوران میں میری بیٹیم    ً اور نواسی مجھ سے الگ ہو گئیں۔ ہمارے پاس دو موبائل تھے جو ان کو دے دیئے تھے۔ انہیں جگہ بھی سمجھا دی تھی، مگر خود بھول گیا۔ اللہ کا شکر ہے کہ تم مجھ سے ٹکرا گئے ورنہ نجانے کتنی دیر اور میں یہاں رک کر ان کا انتظار کرتا۔“
”اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔“، عبداللہ نے جواب دیا۔ اللہ کا نام لیتے ہوئے اس کے لہجے میں سارے جہاں کی مٹھاس آ چکی تھی۔
”ارے وہ رہی میری بیٹی“، بزرگ نے عبداللہ کی بات کا جواب دینے کے بجائے خوشی کے عالم میں ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا اور تیزی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ عبداللہ نے ادھر دیکھا تو اندازہ ہوا کہ بزرگ ایک درمیانی عمر کی خاتون کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ان کے ساتھ آگے جائے یا اپنے راستے پر لوٹ جائے۔ ویسے بھی اس کا کام اب ختم ہو چکا تھا۔ مگر اسے محسوس ہوا کہ اخلاقاً ان سے اجازت لے کر ہی لوٹنا چاہیے۔ چنانچہ وہ بھی ان کے پیچھے چل پڑا۔ قریب پہنچا تو وہ اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ پیش آنے والی غلط فہمی کے بارے میں بتا رہے تھے۔ وہ عبداللہ کو دیکھ کر بولے۔
”اسی نوجوان نے مجھے راستہ دکھایا ہے۔“
”بیٹا! آپ کا بہت شکریہ۔“ خاتون نے بہت نفیس لہجے میں کہا۔ گرچہ ان کے چہرے سے سفر اور عمرے کی مشقت اور اب پیش آنے والی پریشانی کے سارے آثار ظاہر تھے۔
”ہم کافی دیر سے یہاں ابو کا انتظار کر رہے تھے۔“
ہم کے صیغے سے عبداللہ کی توجہ ان کے برابر میں کھڑی ہوئی لڑکی کی طرف ہوئی۔ لمحے بھر کو اس نے اس لڑکی کو دیکھا اور بے اختیار نظریں جھکا لیں۔ مگر اس ایک لمحے میں عبداللہ کے دل کی دنیا میں قیامت برپا ہو گئی۔ اس قیامت کا سبب یہ نہیں تھا کہ وہ لڑکی غیر معمولی طور پر حسین نقش و نگار اور رنگ و روپ کی مالک تھی۔ رہا عبداللہ تو اس جیسی بے داغ جوانی کہاں کسی نے دیکھی ہو گی۔ پھر وہ حرم میں جس کیفیت میں تھا ہاں صنف مخالف تو کیا اپنی جنس کے انسان بھی نظر آنا بند ہوجاتے ہیں …… سوائے کعبہ اور رب کعبہ کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔
اور اس صبح سے تو رب کعبہ کا تصور انتہائی گہرا ہو چکا تھا۔ اس نے خواب میں پروردگار عالم کی حضوری کا جو شرف حاصل کیا تھا اس کے بعد عبداللہ کو کچھ ہوش نہیں تھا۔ ایسے میں خواب کی دیگر تفصیلات اسے کہاں یاد رہ سکتی تھیں۔ مگر اس دلکش نسوانی چہرے نے خواب کی ایک ایک تفصیل اسے یاد دلا دی۔ ہر منظر اور ہر واقعہ ذہن کے صفحات پر اس طرح تازہ ہو گیا تھا کہ گویا کوئی لکھی ہوئی کتاب ہے جسے بے تکلف وہ پڑھتا چلا جا رہا ہو۔ اور اب اس کتاب کا سب سے روشن ورق اس کے سامنے کھلا ہوا تھا۔ اس کے سامنے سر تا سر روشنی اور سراپا نور ناعمہ کھڑی ہوئی تھی۔
خاموشی کا وقفہ طویل طویل ہو رہا تھا، مگر عبداللہ اس سے بے نیاز گردن جھکائے کھڑا تھا۔ وہ اپنے آپ کو یقین دلانے میں مشغول تھا کہ جو کچھ اس نے دیکھا ہے وہ اس کا وہم ہے۔ اس کی نظر کا دھوکہ ہے۔ اس کی یادداشت کی کمزوری ہے…… یا شاید اس کی عمر کا تقاضہ ہے یا پھر شیطان کی دراندازی ہے جو حرم سے رخصت ہوتے وقت اس کی ساری ریاضت اور محنت کو ضائع کرنا چاہتا ہے۔ شیطان حرم میں آنے والے بڑے بڑے نیک لوگوں کی کمائی اسی طرح لمحہ بھر میں لوٹ لیتا ہے۔ کسی بھی بہانے سے ایک نظر کی خواہش، ایک لمس کا جذبہ، ایک لمحہ کی حیوانیت، ایک لمحہ کی ہوس، عمر بھر کی ریاضت کو برباد کر سکتی ہے۔
”ہاں یہی لمحہ بطور آزمائش میری زندگی میں آگیا ہے۔ شیطان چاہتا ہے کہ میں اس لڑکی کو اپنے خواب کی تعبیر سمجھ کر اپنی آنکھوں میں شیطان کو بسیرا کرنے دوں۔ میں اس کو ایسا نہیں کرنے دوں گا۔ ہرگز ایسا نہیں کرنے دوں گا“۔
عبداللہ نے دل میں سوچا اور فیصلہ کیا کہ اسے فوراً یہاں سے رخصت ہو جانا چاہیے۔ مگر اس سے قبل کہ وہ ان لوگوں سے اجازت لیتا۔ خاموشی کے طویل ہوتے ہوئے وقفہ کو ایک تھکی ہوئی مگر انتہائی مترنم آواز توڑا:
”نانا ابو! جاگتے ہوئے ساری رات ہوگئی ہے۔ اب جلدی سے ہوٹل چلیے۔“
اس آواز نے عبداللہ کے رہے سہے ہوش بھی اڑا دئیے۔ یہ آواز اس کے لیے اجنبی قطعاً نہ تھی۔ اسے ہلکا سا چکر آیا، بزرگ جو اس کی کیفیت سے قطعاً بے خبر تھے بولے:
”ہاں بیٹا! چلتے ہیں، ذرا ان سے اجازت لے لیں“۔
اس سے قبل کہ وہ بزرگ عبداللہ سے کچھ کہتے ان کی صاحبزادی نے جو ایک نفیس طبعیت خاتون تھیں، عبداللہ سے پوچھ لیا:
”بیٹا! چلتے چلتے اپنا نام تو بتاتے جاؤ؟“
”میرا نام عبداللہ ہے۔“ بمشکل عبداللہ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے۔ اب یہ وہ وقت تھا جب تہذیبی تقاضوں کے پیش نظر بزرگ نے اپنے آپ کو متعارف کرانا ضروری سمجھا:
”اچھا ہوا بیٹا آمنہ تم نے ان سے تعارف حاصل کرادوں۔
میرا نام اسماعیل ہے، یہ میری بیٹی آمنہ ہے“ وہ ایک لمحے کے لئے رکے اور اپنی نواسی کی طرف دیکھتے ہوئے محبت آمیز لہجے میں بولے۔ ”اور یہ سب سے زیادہ تھکی ہوئی میری نواسی ہے، اس کا نام ناعمہ ہے۔“
عبداللہ کی شدید ترین خواہش تھی کہ ایک اجنبی نام اس کے کانوں تک پہنچے تاکہ وہ کچھ تو خود کو بہلاوا دے سکے۔ مگر ناعمہ کا نام تابوت کی آخری کیل بن کر اس کے کانوں امیں گونجا۔ اس دفعہ دنیا کی کوئی طاقت عبداللہ کو دوبارہ نظر اٹھانے سے نہیں روک سکی۔ اس کے سامنے واقعی ناعمہ کھڑی ہوئی تھی۔ وہ لڑکی جسے اس نے زندگی میں پہلی دفعہ جاگتی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ مگر جسے وہ رات خواب میں …… عبداللہ نے گھومتے ہوئے دماغ سے سوچا: ”اگر وہ خواب تھا تو یہ کیسی حقیقت تھی۔ اگر حقیقت ہے تو پھر وہ خواب……۔“
معاملہ عبداللہ کی برداشت سے زیادہ ہو چکا تھا۔ اسے آنے والے چکر اب تیز ہوگئے وہ ناعمہ کو دیکھتے ہوئے لہرایا اور بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑا۔عبداللہ لمحہ بھر بعد اٹھ کر کھڑا ہو گیا اس کے بعد موبائل نمبرز کا تبادلہ ہوا اور سب نے اپنی اپنی راہ لی۔ عبداللہ کے لئے ناعمہ ایک معمہ تھی جلد ہی اسے احساس ہو گیا کہ یہ وہ ناعمہ نہیں ہے جسے وہ خوابوں اور خیالوں اور ایک نئی دنیا میں چھوڑ آیا تھا۔ یہ ایک ماڈرن اور مذہب بیزار لڑکی تھی جسے قرآن کی حقانیت اور خدا کی واحدانیت پر یقین نہیں تھا۔ عبداللہ کا ان کے گھر آنا جانا لگا رہتاتھا۔ اسمٰعیل صاحب اور ناعمہ کی والدہ آمنہ عبداللہ کو پسند کرتے جبکہ ناعمہ نہ صرف پسند نہیں کرتی تھی بلکہ نفرت بھی کرتی تھی۔ اسے عبداللہ کا گھر آنا سخت ناپسند تھا۔ اپنی سہیلی فاریہ کے ذریعے اس نے عبداللہ کو گھر آنے سے منع بھی کر دیا تھا۔ عبداللہ دل و جان سے اس پر فریفتہ اور اسی کے خیالوں میں کھویا اور اسے پانے کی حسرت لئے پھرتا تھا۔ وضعدار عبداللہ کو پیغام ملا تو اس نے ان کے گھر آنا چھوڑ دیا۔ اسمٰعیل صاحب اور آمنہ، عبداللہ اور ناعمہ کی شادی کرنا چاہتے تھے مگر ناعمہ کے خواب و خیال بڑے اونچے تھے۔ اس کی خواہش کے مطابق ایک بڑے گھر میں اس کی منگنی ہو گئی۔ منگیتر امریکہ میں بڑے کاروبار کا مالک تھا۔ ناعمہ منگنی کے بعد اڑتی پھرتی تھی۔ بڑا گھر، بڑی گاڑی نیاگرا فال کی سیر اور دنیا کی سیاحت اس کے ارمان پورے ہونے والے تھے۔ شادی کی تاریخ طے ہو گئی۔ تیاریاں ہونے لگیں۔ لڑکے والوں کی حیثیت کے مطابق جہیز بنایا گیا۔ فائیو سٹار ہوٹل میں 500 باراتیوں کی بکنگ کرائی گئی۔ جمع پونجی سب شادی کی تیاریوں پر لگ گئی۔ گھر بھی گروی رکھنا پڑا۔شادی میں تین دن تھے کہ رشتہ کرانے والوں نے کہا، لڑکے والوں میں رواج ہے کہ جہیز میں بڑی گاڑی دی جاتی ہے۔ یہ پیغام  اسمٰعیل صاحب اور آمنہ پر بجلی بن کر گرا۔ ان کے پاس اب ایسے اخراجات کے لئے کچھ بھی نہیں تھا جہاں سے قرض ممکن تھا وہ لے چکے تھے۔ اسمٰعیل صاحب بہرحال اس رشتے سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتے تھے۔ انہوں نے نیا مطالبہ ناعمہ کے گوش بھی گزار کرنا چاہا مگر تذبذب میں تھے۔
اسی دوران ناعمہ کی زندگی میں انقلاب آ چکا تھا۔ وہ اپنے دادا کی بیماری کے دوران ہسپتال گئی تو ایک خاتون کو بلکتے دیکھا۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کا بیٹا شدید بیمار ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ ناعمہ نے پلک جھپکتے میں فیصلہ کر لیا۔ خاتون کو تھوڑی دیر میں آنے کا کہہ کر گئی اور اپنا لاکر فروخت کرکے پیسے اس خاتون کے حوالے کر دئیے۔ہفتہ دس دن بعد ناعمہ نے خواب میں دیکھا کہ دوسرے دن بچہ فوت ہو گیا تھا۔
ایک روز ناعمہ کی عبداللہ سے لمبی چوڑی بحث ہوئی،جس میں عبداللہ ہاوی رہااور امید اظہا ر کیا کہ ناعمہ کی اب سوچ بدل سکتی ہے۔اس پر ناعمہ نے متکبرانہ انداز میں گویا ہوئی:
فکر نہ کرو! میں بدل نہیں سکتی۔ دنیا کی کوئی طاقت میرے خیالات اور سوچ کو نہیں بدل سکتی۔ میں اپنی دنیا کی خود مالک ہوں۔ میں آپ اپنی خدا ہوں۔"
خدائی کا دعویٰ کرنے والی ناعمہ کے سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ بہت جلد اس کا واسطہ حقیقی خدا رب ذوالجلال کے کمال و جلال سے پیش آنے والا ہے۔
شفاف نیلگوں آسمان کے نیچے وادی میں دور دور تک سبز گھاس کا فرش بچھا ہوا تھا۔ ہر جگہ مختلف رنگوں کے حسین پھول کھلے ہوئے تھے۔ ہر رنگ ایسا تھا کہ نگاہوں کو اپنی طرف سے ہٹ کر کسی اور سمت متوجہ ہونے کی اجازت ہی نہیں دیتا تھا۔ ہوا کے مدھم جھونکو ں کے ساتھ ہولے ہولے یہ پھول لہرارہے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ فطرت نے رنگوں کے تار پر کوئی سر چھیڑ دیا ہے جس پر یہ پھول اور کونپلیں بیخودی کے عالم میں محو رقص تھیں۔ یہ وادی چاروں طرف سے بلند پہاڑوں سے گھری ہوئی تھی۔ کچھ پہاڑ اونچے اور شاداب درختوں سے لدے ہوئے تھے۔ کچھ ہری گھاس کا مخملی لباس پہنے ہوئے تھے۔ بعض پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف جمی ہوئی تھی۔ سورج کی کرنیں جب ان برف پوش چوٹیوں سے ٹکراتیں تو سنہری کرنوں کا عکس فضا میں بکھر جاتا۔ برف اتنی پاک و شفاف تھی کہ سفید رنگ ہر رنگ کا بادشاہ بن کر چمک رہا تھا۔ کہیں کہیں یہ سفیدی سورج کی شعاعوں سے منور ہوکر چاندی کا روپ ڈھال چکی تھی۔ دیکھنے والی آنکھ کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ فضائے بلند میں آسمانی، سبز، سفید اور سنہری رنگوں کا تال میل زیادہ حسین تھا یا زمین پراس وادی کے رنگ زیادہ جاذب نظر تھے جو پھولوں کے ایک گلدستے کی شکل میں سرسبز پہاڑوں کا دل بنی ہوئی تھی۔اس وادی میں ایک اور وجود بھی تھا۔ حسن فطرت کا شاہکار یہ نسوانی وجود ناعمہ کا تھا۔ اس کے گہرے سیاہ اور ریشمی بال جو عام حالات میں گھٹنوں سے بھی نیچے جا پہنچتے تھے، اس وقت فضا میں دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ سیاہ بالوں کی کچھ لٹیں دمکتے ہوئے سنہری چہرے سے چھیڑ خانی کررہی تھیں۔ ناعمہ کی بڑی بڑی آنکھیں، کھڑی ناک، صراحی دار گردن بار بار ان بہکتے ہوئے بالوں کا نشانہ بن رہی تھیں۔ انہیں شہہ دینے والے نرم و لطیف ہوا کے جھونکے تھے۔ یہ جھونکے ناعمہ کو بھی دلکش پھول سمجھ کر اس کے مرمریں وجود سے ٹکراتے اور اپنے آپ کو معطر کرلیتے۔کہیں دور کسی درخت کی آغوش میں چھپی کوئی کوئل فطرت کا ایک اور ساز گنگنا رہی تھی۔ وقفے وقفے سے اٹھتی کوک ماحول میں ایسی موسیقی بکھیر رہی تھی جو روح انسانی کے ہر تار کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی تھی۔وادی کے بیچ میں پھولوں کے درمیان خود کو ایک تتلی کی طرح محسوس کرتی ناعمہ بھی اسی کشمکش میں تھی کہ حسن فطرت کی کون سی ادا زیادہ دلفریب ہے۔ اس کی نظر کبھی رنگ برنگ پھولوں کے قالین پر بہکتی چلی جاتی تو کبھی بلند قامت پہاڑوں کا سبزہ اور سنہری برف اس کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا۔ اس نے اپنی زندگی میں ایسی حسین جگہ دیکھی تھی نہ اس کے وجود نے ایسے سرور کا کبھی ذائقہ چکھا تھا۔وہ اسی کیفیت میں تھی کہ اچانک اس کی نگاہ روشنی کے اس مرغولے کی طرف پڑی جو آسمان کی بلندی سے زمین کی طرف آرہا تھا۔ یہ منظر بڑا عجیب تھا۔ وہ ٹکٹکی باندھ کر اس مرغولے کو دیکھنے لگی جو آہستہ آہستہ اسی کی سمت بڑھتا چلا آرہا تھا۔ جیسے جیسے وہ قریب آرہا تھا اس نے ایک چمکدار ہیولے کی شکل اختیار کرلی تھی۔ بظاہر وہ انسانی ہیولہ تھا، مگر وہ کوئی انسان نہ تھا۔ ناعمہ کو اس سے کوئی خوف اور اندیشہ محسوس نہ ہوا۔ بلکہ اس کے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اس سے باتیں کرے۔ اس خواہش کی تسکین کے لیے اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ ہیولہ آہستہ آہستہ اس کے قریب آیا اور زمین سے چند فٹ اوپرمعلق ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی اس سے آواز آئی۔"تو تم وہ ناعمہ ہو جسے یہ عزت دی گئی ہے۔"اس آواز میں عجیب سی تاثیر تھی۔ یہ آواز ناعمہ کے کانوں سے گزر کر دل و دماغ تک پہنچ گئی۔ اس پر آواز اور اس ہیولے کا رعب چھا گیا۔ وہ ڈرتے ڈرتے بولی:"جی میں ناعمہ ہوں، مگر آپ کون ہیں۔ اور یہ کس عزت کا ذکر کررہے ہیں؟"
ایک دفعہ پھر وہی پرتاثیر آواز آئی۔
"مجھے چھوڑو۔ صرف یہ جان لوکہ اپنی محبوب چیز ایک غریب کو دینے کی ادا تمھارے مالک کو پسند آئی جس کے بعد اس نے تمھیں اپنے قرب کی عزت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔"
ناعمہ کچھ نہ سمجھ سکی اس بات کا مطلب کیا ہے۔ پھر اس خوف اور رعب کا ایسا عالم طاری تھا کہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آواز نہ نکل سکی۔ وہ خاموشی سے ہیولے کی آواز سنتی رہی۔
"مگر تمھیں دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ تم اس عزت کی مستحق نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہت باعزت بہت باحیا ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ تم ان کا قرب حاصل کرو اور تمھارا حال یہ ہو کہ تم بالکل برہنہ ہو۔"
اس جملے کے ساتھ پہلی دفعہ ناعمہ کی نظر خود اپنے وجود کی طرف لوٹی۔ یہ دیکھ کر وہ شرم سے پانی پانی ہوگئی کہ اس کے جسم پر کوئی لباس نہیں تھا۔ وہ اتنی دیر سے اس کھلے میدان میں بالکل برہنہ کھڑی ہوئی تھی۔ اور اب ہیولے کے سامنے بھی وہ اسی حال میں تھی۔ اس کا دل چاہا کاش زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ وہ بے اختیار اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا جسم چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے زمین پردہری ہوکر بیٹھتی چلی گئی۔ اس پر شدید احساس ذلت طاری تھا۔ وہ بے اختیار رونے لگی اور ہیولے کی طرف دیکھ کر بولی۔
"میرے کپڑے کہاں گئے؟"
مگر ہیولہ غائب ہوچکا تھا۔ اس نے گھبراکر ارد گرد دیکھا تو ہر طرف اسے انسانوں کا سمندر نظر آیا۔ ہر شخص اسے دیکھ کر ہنس رہا تھا۔ ناعمہ یہ دیکھ کر بلبلا اٹھی۔ ذلت اور رسوائی کی اس حد کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ ہنسنے والے لوگ اب اس کی طرف دیکھ کر انگلیاں اٹھارہے تھے اور دوسروں کو اس کے بارے میں بتارہے تھے۔ وہ بے چین ہو کر کسی پناہ کی تلاش میں چاروں طرف دیکھنے لگی۔ ایسے میں اس کی نظر قہقہے لگاتے ہوئے ہجوم میں موجود ایک خاموش اور اداس شخص پر پڑی۔ اسے دیکھ کراس کی شرمندگی اور بڑھ گئی۔ وہ اسے دیکھ کر چلائی اور بولی۔
"یہ میں نے خود نہیں کیا۔ میں نے یہ خود نہیں کیا!"
"ناعمہ بیٹا اٹھو! کیا بات ہے؟ کیا ہوا؟"
آمنہ بیگم نے ناعمہ کو جھنجھوڑا تو وہ اٹھ بیٹھی۔ اس کا دل خوف و دہشت سے لرزرہا تھا۔ اس کی سسکیاں ابھی بھی جاری تھیں۔ شعور میں آتے ہی اس نے  بے اختیار اپنے کپڑوں کو چھوا۔ اسے یہ دیکھ کر ایک گونہ اطمینان ہوا کہ اس کے جسم پر لباس موجود تھا۔ اس کے سامنے اس کی والدہ آمنہ موجود تھیں۔ انہوں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا:
"بیٹا ڈرو نہیں۔ تم نے کوئی برا خواب دیکھا ہے۔"
ناعمہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ کئی دن سے یہی خواب دیکھ رہی تھی۔ مگر ہر دفعہ یہ خواب بہت ہی خوبصورت ہوتا تھا۔ یہ خواب ایک حسین وادی کے مناظر تک محدود رہتا جس میں وہ تتلیوں کی طرح اڑتی پھرتی تھی۔ یہ ہیولے والا منظر اور بے لباسی والی بات آج پہلی دفعہ اس نے دیکھی تھی۔ ایک تیسری بات جو اسی لمحے اسے یاد آئی تھی وہ اس کے دل پر ایک اور زخم لگا گئی۔ ذلت کے اس تماشے میں وہ شخص جو آخر میں اداس اور خاموش کھڑا اسے حسرت سے دیکھ رہا تھا، عبد اللہ تھا۔
اگلے دن ناعمہ سہ پہر کے وقت اپنے کمرے میں بیٹھی ہوئی خیالوں میں گم تھی۔ وہ فلسفے کے علاوہ 

نفسیات کی بھی طالب علم تھی۔ عام طلبا کے برعکس اس کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ اس مطالعے کی روشنی میں وہ اپنے خواب کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ خواب ایسا نہیں تھا کہ ناعمہ اسے بھول جاتی۔ ذلت و رسوائی کا وہ احساس جو اسے خواب میں ہوا تھا ابھی تک اس پر طاری تھا۔
ایک دفعہ پھر ناعمہ اسی میدان میں کھڑی تھی۔ بغیر کسی خوف اور پریشانی کے وہ ہر جگہ اڑتی پھر رہی تھی۔ یہ حسین مناظر اس کی طبیعت میں اتنا سرور اور نشاط بھر رہے تھے کہ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وقت تھم جائے اور ہمیشہ وہ یونہی اڑتی رہے۔ اچانک اس کے اڑنے کی صلاحیت ختم ہوگئی اور وہ زمین پر آکر ٹھہر گئی۔
ایک دفعہ پھر وہی ہیولہ اس کے سامنے تھا۔ اس دفعہ ناعمہ کے دل میں اسے دیکھ کر کوئی خوف نہیں آیا۔ بلکہ ایک تجسس تھا۔ اس نے پوچھا:
"تم کون ہو؟"
"تمھیں اس سوال کا جواب جلد مل جائے گا۔۔۔ یہ بتاؤ کیا تم سچائی جاننا چاہتی ہو؟"
"مگر مجھے تو سچائی معلوم ہے؟"
"تمھیں کچھ نہیں معلوم۔ تم دھوکے میں جی رہی ہو۔ تمھیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ لوگوں کو کس چیز سے بچانا چاہیے۔"
"میں سمجھی نہیں اس بات کا کیا مطلب ہے۔"
"تم نے کائنات کے مالک کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ میں تو ایک ہی کو بچاسکی۔ ہوسکے تو باقی لوگوں کو تو بچالے۔"
"ہاں کہا تھا۔"
"تو پھر سن لو جس بچے کو تم نے بچانا چاہا تھا اسے دو دن بعد موت نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ اگر بچانا ہے تو لوگوں کو اس بات سے بچاؤ کہ وہ اللہ کے حضور اس حال میں پیش ہوں کہ وہ بے لباس ہوں۔ کیونکہ جہنم کی آگ ایسے لوگوں کا لباس بن جائے گی۔"
یہ سنتے ہی ناعمہ کی نظر اپنی طرف لوٹی اور یہ دیکھ کر وہ لرز اٹھی کہ ایک دفعہ پھر وہ بے لباس ہے۔ اس کے ساتھ ہی ناعمہ کی آنکھ کھل گئی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ سوئی ہی نہیں ہے۔ اس نے جو کچھ دیکھا ہے جاگتی ہوئی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اسے نہ نیند آرہی تھی نہ یہ سمجھ میں آرہا تھا کہ وہ ایسے بے تکے خواب کیوں دیکھ رہی ہے۔ کافی دیر وہ اسی ادھیڑ بن میں مصروف لیٹی رہی۔ اچانک مسجد سے فجر کی اذان کی صدا بلند ہوئی۔ ناعمہ کسی روبوٹ کی طرح اٹھی۔ واش روم جاکر وضو کیا اور نہ جانے کتنے عرصے بعد فجر کی نماز پڑھنے کھڑی ہوگئی۔
سوچتے سوچتے اس کے ذہن میں پہلے خواب کے بعد پیش آنے والے واقعات گھومنے لگے۔ لباس تقویٰ کا جو مطلب عبداللہ بتا رہا تھا، اس سے اسے اپنی برہنگی کا مطلب سمجھ میں آنے لگا۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اس کے جو دلائل عبد اللہ نے دیے تھے اور جنہیں اس نے صرف اس وجہ سے نظر انداز کردیا تھا کہ یہ سب کچھ دشمن جاں عبداللہ کہہ رہا تھا، اب اس کی بنائی ہوئی فصیلوں کو توڑ کر اس کے دل و دماغ کی سلطنت میں اپنی جگہ بنانے لگے۔ عبداللہ کی بات اس کے کانوں میں گونجنے لگی کہ رسول وہ باتیں بتاسکتے ہیں جو ابھی پیش ہی نہیں آئیں۔ جیسا وہ کہتے ہیں ٹھیک ویسا ہی ہوجاتا ہے۔ اتنے اعتماد سے مستقبل کی خبریں اور ماضی کے واقعات صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے بیان کیے جاسکتے ہیں۔
عبداللہ نے کوئی فلسفیانہ نکتہ نہیں اٹھایا تھا۔ صرف حقائق تھے۔ وہ حقائق جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جیسے کہ یہ ایک حقیقت تھی کہ جس بچے کو اس نے بچانا چاہا، وہ دو دن بعد مرگیا تھا۔ یہ بات اسے کسی طور معلوم نہیں تھی، مگر خواب میں وقت کے بالکل درست تعین کے ساتھ اسے یہ بات معلوم ہوگئی۔ یہ کیسے ممکن ہوا، اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
ناعمہ کے سارے گھروندے ٹوٹ چکے تھے۔ مذہب کا دامن پہلے ہی ہاتھ سے چھوٹ چکا تھا۔ فلسفے اور نفسیات کی مشکل کشائی آج مشکوک ہوچکی تھی۔ اگر کوئی اس سے خدا کے وجود کے حوالے سے بحث و مباحثہ کرتا تو وہ شاید کبھی اتنے جلدی ناعمہ میں وہ تبدیلی نہیں لاسکتا تھا جو اب آرہی تھی۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ ناعمہ کی ذہنی ساخت اور نفسیاتی شخصیت پر حملہ باہر سے نہیں اندر سے ہوا تھا۔ یہ ضر ب اس قدر شدید تھی کہ اس نے ناعمہ کے ہر دفاعی مورچے کو مسمار کردیا تھا۔ اس کی پرانی شخصیت ایک دھماکے کے ساتھ فنا ہوچکی تھی۔
وہ جس تجربے سے حال ہی میں گزری تھی وہ بظاہر ایک خواب تھا۔ وہ چاہتی تو باآسانی اس خواب کو نظر انداز کردیتی۔ مگر وہ بے حس نہیں تھی کہ ذہن کی گرہوں اور الجھنوں کو فراموش کرکے جانوروں کی زندگی گزارنا شروع کردے۔ وہ سوچتی تھی، سوال اٹھاتی تھی اور جواب تلاش کیا کرتی تھی۔ مگر اب صرف سوالات رہ گئے تھے۔ جواب کہیں نہیں تھے، نہ انہیں جاننے کا کوئی ذریعہ بچا تھا۔ اس نے دوبارہ خواب کے بارے میں سوچنا شروع کردیا۔ وہ خواب اسے اول تا آخر پورا یاد تھا۔ وہ اس کے ایک ایک جز کو دہرانے لگی۔ اسے اندازہ ہوگیا کہ اس کا خواب ایک خواب نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ کیا گیا ایک مکالمہ تھا۔ اسے دیا گیا ایک واضح پیغام تھا۔ اس وقت اسے یاد آیا کہ اس ہیولے نے گفتگو کا آغاز اس بات سے کیا تھا کہ کیا وہ سچائی جاننا چاہتی ہے۔ ایک لمحے میں ناعمہ کے ذہن میں بجلی کی طرح ایک خیال کوندا۔ اگر یہ سب خدا کی طرف سے ہے تو اب اس مکالمے میں اگلی بات میں کروں گی۔ اگر کوئی خدا ہے تو مجھے جواب ضرور ملے گا۔ بے اختیار اس کے منہ سے نکلا۔
"ہاں میں سچائی جاننا چاہتی ہوں۔"
یہ کہہ کر وہ اٹھی اور وضو کیا اور ظہر کی نماز پڑھنے لگی۔ وہ جیسے ہی سجدے میں گئی اس کا دل بھر آیا۔ وہ روتے ہوئے کہنے لگے:
"پروردگار میں تجھے نہیں مانتی تھی۔ اس لیے کہ میرے بہت سے سوالوں کا جواب کہیں نہیں ہے۔ اس دنیا میں اتنا ظلم کیوں ہے۔ یہاں عدل اور انصاف کیوں نہیں۔ اگر یہاں اندھے مادے کی حکومت نہیں اور تیرا حکم چلتا ہے تو پھر اتنی ناانصافی کیوں ہے۔ لوگ کیوں مرتے ہیں کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ محروم کیوں رہ جاتے ہیں، کچھ لوگوں کو بلاسبب اتنی نعمتیں کیوں مل جاتی ہیں۔ تو ہے تو سچائی لوگوں کو کیوں نہیں بتاتا۔ کیوں تو نے فلسفیوں اور مذہبی لوگوں کو یہ اجازت دے رکھی ہے کہ جوچاہیں کھڑے ہو کر تیرے نام پر کہہ دیں۔ تو خود کہاں ہے۔ تیری سچی رہنمائی کہاں ہے؟
پروردگار میں اپنے دل سے ہر تعصب اور ہر نفرت ختم کرنے کے لیے تیار ہوں۔ میں اقرار کرتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے رسول ہیں۔ مجھے ان کی رسالت کا یقین اس شخص نے دلایا ہے جس سے مجھے نفرت ہے۔ مگر وہ بات ٹھیک کہہ رہا ہے۔ میں اس کی نفرت کے باوجود یہ اقرار کرتی ہوں کہ وہ سچ کہہ رہا ہے۔ مگر ابھی پورا سچ مجھے معلوم نہیں ہوا۔ میں اس خدا پر کیسے اعتماد کروں جو ظلم پر خاموش رہتا ہے۔ میں اس خدا سے کیسے محبت کرلوں جو محرومیوں کو جنم دیتا ہے۔ میں اس خدا پر کیسے یقین کروں جو سچ کھول کر نہیں بتاتا۔"
ناعمہ بہت دیر تک روتی رہی اور سجدے میں مسلسل یہ دعا کرتی رہی۔
 خواب غلط بھی ہو سکتے ہیں تاہم ناعمہ نے ہسپتال جا کر معلوم کیا تو واقعی وہ بچہ دوسرے دن فوت ہو گیا تھا۔ 
خوابوں نے ناعمہ کی زندگی بدل دی تھی۔اب وہ امریکی رشتے سے انکار کر کے عبداللہ کے ساتھ 

شادی کرنے پر آمادہ ہو گئی مگر رشتے سے انکار کیسے کیا جائے۔ اسی مخمصے میں وہ اپنے نانا کے کمرے میں گئی جہاں اس کی امی موجود تھی۔ اس کے نانا ناعمہ کے سامنے سسرال کے گاڑی کا مطالبہ رکھا تو ناعمہ نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا اور دوٹوک الفاظ میں اس رشتے سے انکار کر دیا جائے۔ اس کی امی اور نانا نے سمجھانے کی کوشش کی کہ کچھ نہ کچھ کر لیں گے اچھا رشتہ ہے جواب نہیں دیتے مگر ناعمہ اب مان کر نہ دے رہی تھی۔کار کے مطالبے کو اخلاقیات سے گری حرکت اور بلیک میلنگ قرار دیا۔ نانا نے کہا کہ بیٹا رشتہ ٹوٹنے سے ہماری بدنامی ہو گی۔ آپ سے شادی کون کرے گا؟۔ ناعمہ نے بلاجھجک کہہ دیا عبداللہ! اس کے بعد اسمٰعیل صاحب نے عبداللہ کو فون کرکے گھر بلایا۔ اس کے سامنے سارا معاملہ رکھا۔ اس نے ایک شرط پر شادی کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ شرط یہ رکھی کہ وہ گروی رکھا گھر اور شادی کے لئے جو قرض لیا گیا ہے اس کی پس انداز کی گئی رقم سے ادائیگی کرے گا۔ تھوڑی سی پس و پیش کے بعد اسمٰعیل صاحب نے شرط قبول کر لی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ وہ مکان عبداللہ کے نام کریں گے۔ عبداللہ نے یہ شرط اس تجویز کے ساتھ منظور کر لی کہ وہ یہ مکان ناعمہ کو حق مہر میں دے دیں گے۔
 دونوں کی بڑی سادگی سے شادی ہو گئی۔ عبداللہ نے چہرہ نمائی کے لئے جو گفٹ دیا ناعمہ اسے دیکھ کر بھونچکا رہ گئی۔ یہ وہی لاکٹ تھا جو اس کی امی نے اسے خرید کر دیا تھاجو ناعمہ نے بیچ کر ایک بے کس ماں کے بیٹے کے علاج کے لئے پیسے دے دئیے تھے۔ عبداللہ نے بتایا کہ وہ جیولری کی دکان پر گیا اس لاکٹ پر آپ کا نام لکھا تھا میرے خیال میں اس سے عمدہ کوئی اور تحفہ نہیں ہو سکتا تھا۔ دونوں کے مذہبی خیالات یکساں تھے۔ ہیولے نے ناعمہ کو بڑے بڑے انبیاء کے ادوار دکھا دئیے تھے۔ دونوں راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ اس کے بعد دونوں مسلمانوں کو نجات کی راہ دکھانے پر کاربند ہو گئے اور یہ سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان سے ملنا قطعی مشکل نہیں ہمارے پاس تو ان کا ایڈریس اور فون نمبر بھی ہے۔ ایڈریس اور فون نمبر ہم اپنی اگلی کتاب موت کے سائے میں دیں گے۔ خدا حافظ
فضل حسین اعوان
0333-4215368

متعلقہ خبریں