وقتِ قضاء کبھی انتظار نہیں کرتا

2019 ,نومبر 11




طاہر جمیل نورانی

اکتوبر 2016ء کی یہ ایک گرم سہ پہر تھی اور اِس بار بائی ہینڈ کالم دینے کے لئے مجھے خود دفتر نوائے وقت پہنچنا تھا، دفتر کی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد میں اب اُس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں سے منیر صاحب کی حدود کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔؟ منیر صاحب سے ہاتھ ملانے اور اُن کی خیریت دریافت کرنے کے بعد اُن سے اجازت لئے بغیر آگے جانا ممکن نہیں ہوتا کہ منیر صاحب کی طویل ملازمت اور تجربے نے انہیں کسی حد تک اب ANTHROPOLOGIST بنا رکھا ہے۔۔۔۔۔؟
منیر صاحب سے میری پہلی ملاقات اسی مقام پر 25 برس قبل ہوئی تھی اور اِس مرتبہ بھی اُن سے ہونے والی اِس ملاقات میں اُن کی آواز، رعب اور دبدبہ جوں کا توں تھا، دیکھتے ہی انہوں نے گلے لگایا، ڈھیر ساری عمر درازی کی دعائیں دیں اور پھر یہ انکشاف کر ڈالا کہ پاکستان کے بیشتر سینئر صحافیوں، کالم نگاروں، ایڈیٹروں، ڈپٹی ایڈیٹروں، فیچر رائٹروں، پروف ریڈروں اور کاپی میکروں کے امام اور پیشوا ڈاکٹر مجید نظامی مرحوم سے اُن کے دفتر میں 1990ء میں ہونے والی میری پہلی ملاقات وہہنوز نہیں بھلا پائے اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ ہر سوموار کو شائع ہونے والے میرے کالم بعنوان ”ولایت نامہ“ کا باقاعدگی سے مطالعہ ہی جاری رکھے ہوئے ہیں ”نوائے وقت“ سے میری دیرینہ وابستگی کے گواہ بھی ہیں۔۔۔۔؟ اُس روز ڈپٹی ایڈیٹر جناب سعید آسی کا DAY OFF تھا اِس لئے اُن کا حکم تھا کہ کالم جناب شریف کیانی یا برادرم فضل حسین اعوان صاحب تک پہنچاؤں۔ اعوان صاحب دفتر میں موجود تھے، بڑے پرتپاک طریقہ سے ملے، چائے منگوالی اور پھر لندن کے حسین موسم، وارداتِ عشق، یہاں کی چلتی پھرتی محبت اور معاشرے کی رنگینی پر بہت سی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو ہی اعوان صاحب نے کتاب کی اہمیت اور مطالعہ کی کمی کے موضوع پر بات چیت کا آغاز کرتے ہوئے مجھے پابند کر لیا کہ ”موت“ کے موضوع پر لکھی اُن کی زیرتحریر کتاب میں لندن کے حوالہ سے کوئی ایسا ناقابلِ فراموش واقعہ ضرور قلمبند کروں جس سے موت کی حقیقت آشکار ہو سکے۔

جناب شریف کیانی اور برادرم فضل اعوان سے چونکہ انسان دوستی کا کبھی نہ ٹوٹنے والا دیرینہ رشتہ بھی قائم ہے اِس لئے لفظ معذرت یا ”ناں“ کی گنجائش نہ تھی تاہم ”موت“ کے بارے میں کچھ لکھنے کا یہ اندازہ مجھے ضرور تھا کہ اٹھتے بیٹھے چلتے پھرتے اور سوتے جاگتے ”موت“ کا منظر اگر یاد آجائے تو راتوں کی نیند خود بخود اُڑ جاتی ہے۔۔۔۔۔؟ تب مجھے اپنے دوست کی یکدم موت کا وہ واقعہ یاد آگیا جسے کئی برس گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک میں بھلا نہیں پایا۔ دوست کی اچانک موت جب یاد آتی ہے تو یوں محسوس ہونے لگتا ہے جیسے ”موت“ یہاں کی برفانی شاموں میں آج بھی کھڑی کسی انسان کی منتظر ہو۔۔۔۔۔؟
وہ بھی ایک سردترین دوپہر تھی، پچھلے دو روز سے وقفے وقفے سے شدید برفباری ہو رہی تھی۔ درختوں کے خشک پتوں کی جگہ برفباری نے ٹہنیوں کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، درختوں پر دلہن ہونے کا گمان ہو رہا تھا مگر یخ بستہ طوفانی ہوائیں عجیب سا منظر پیش کر رہی تھیں۔ ننھے بچے سر کو گرم ٹوپیوں سے ڈھانپے اپنے فرنٹ گارڈنز میں SNOW BALL بنانے میں مشغول تھے جبکہ محکمہ موسمیات ”مائنس ون“ کی اطلاع دے رہا تھا۔ میں اِن مناظر میں گم تھا کہ میرے موبائل کی گھنٹی بجی!
دوسری جانب مشرقی لندن میں مقیم میرے وہ دیرینہ دوست تھے جنہیں چند روز ہی قبل لندن میں پاکستانیوں کی ایک معروف فلاحی و سماجی تنظیم کا جوائنٹ سیکرٹری مقرر کیا گیا تھا۔ اسی تنظیم کا میں چونکہ سیکرٹری جنرل رہ چکا تھا اِس لئے دوست کی خواہش تھی کہ فلاحی و سماجی منصوبوں کے بارے میں میں اُن کی آج ہی معاونت کروں۔ دوست نے مشرقی لندن کے ہی ایک ٹیوب سٹیشن پر SWEET SHOP کھول رکھی تھی اِس لئے فوراً حاضری کی درخواست کر ڈالی۔ موسم گو خراب تھا۔۔۔۔ مزید برفباری کی پیشن گوئیاں بھی کی جارہی تھیں مگر دوست کا اصرار تھا کہ اُس کے فلاحی پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لئے اُس سے ہر حال میں آج ہی ملاقات کروں، دوست کو موسم کی خرابی کا شاید اِس لئے بھی اندازہ نہ تھا کہ اُس کی شاپ سٹیشن کے اندر تھی۔ بہت کوشش کی کہ اُس سے معذرت کر لوں مگر کامیاب نہ ہو سکا؟ چنانچہ میں نے اُس کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے 2 گھنٹے تک پہنچنے کا وقت اِس لئے دے دیا کہ برفباری اور انڈر گراؤنڈ ٹرینوں کی رفتار کی کمی آڑے آسکتی تھی۔
میں نے ولنگٹن شُو پہنے اور بھاری OVERCOAT کے ہمراہ انڈر گراؤنڈ سٹیشن کی جانب چل پڑا، برفباری جاری تھی اور سڑکیں سفیدی کا روپ دھار چکی تھیں، ہوا سے اُڑنے والے خشک پتے بڑا حسین منظر پیش کر رہے تھے جبکہ درختوں پر برفباری سے لطف اندوز ہونے والی برفانی چڑیاں اپنے پَر جھٹک رہی تھیں۔ میرے گھر سے اسٹیشن کی پیدل مسافت 20 منٹ اور ٹیوب ٹرین پر دوست کی دکان کا سفر 50 منٹ تھا۔ لندن کا UNDER GROUND RAILWAY سسٹم چونکہ 250 میل پر محیط ہے اِس لئے اپنے سفر کے لئے میں نے آج اضافی وقت کا چناؤ کیا تھا۔ سٹیشن پر پہنچا تو 10 منٹ کے وقفے کے بعد ٹرین آگئی، میں مشرقی لندن کے علاقہ WALTHAM STOW کے لئے روانہ ہو چکا تھا۔ میرا سفر جاری تھا کہ دوست کا دوبارہ فون آگیا۔ کدھر ہو اور کب تک پہنچ رہے ہو…… دوست کی اِس جلدبازی پر مجھے غصہ بھی آرہا تھا کہ آج وہ کچھ زیادہ ہی جلدبازی کا مظاہرہ کر رہا تھا……10 منٹ میں انشاء اللہ پہنچنے والا ہوں۔ میں نے اسے جواب دیا اور یوں فون اُس نے بند کر دیا۔ VICTORIA LINE والتھم مٹو سٹیشن پر پہنچ چکی تھی اور دوست تک پہنچنے کے لئے میں نے بھی TRAVi LATER پر قدم تیز کر لئے تھے……اسٹیشن کے بالائی حصے پر ہی دوست کی دکان تھی…… دکان کھلی تھی……مگر چودھری صاحب کے بجائے اُن کا وہاں بھائی کھڑا تھا جبکہ کچھ گورے جو گاہک معلوم ہو رہے تھے دوست کے بھائی سے بار بار کچھ پوچھ رہے تھے……؟
دوست کے بھائی نے مجھے جونہی اپنی جانب آتے دیکھا……مسکرایا……اور پھر خاموش ہو گیا۔ کدھر ہیں چودھری صاحب! دوست کے بھائی سے میں نے پوچھا……وہ خاموش رہا……انہیں اطلاع کرو کہ میں پہنچ گیا ہوں ……جواب کیوں نہیں دے رہے……؟ دوست کا بھائی پھر مسکرایا مگر اِس بار اُس کی مسکراہٹ میں آنسوؤں کی آمیزش بھی تھی……کدھر ہیں چودھری صاحب! بتاتے کیوں نہیں ……میں نے اُس کے چہرے پر آنسوؤں کو گرتے دیکھ لیا تھا……
نورانی بھائی! تم تو یہاں پہنچ گئے……بھائی تمہارا صبح سے منتظر بھی تھا……مگر دوست تمہارا چند ہی منٹ قبل اب وہاں ”پہنچ“ چکا ہے جہاں سے آج تک کوئی واپس نہیں آیا۔ میرے منہ سے انا اللہ وانا للہ راجعون نکلا اور یوں لگا کہ کسی نے میرے سر پر ہتھوڑا مار دیا ہو……؟ مجھے یقین نہیں آرہا تھا……مگر دوست کا بھائی اپنی بھرائی ہوئی آواز میں کچھ ہی منٹ قبل رونما ہونے والا یہ واقعہ بتا رہا تھا……؟
بھائی صاحب دکان پر آپ کا شدت سے انتظار کر رہے تھے، انہوں نے آپ کو متعدد فون بھی کئے……یہ سب کچھ شاید وہ اسی لئے کر رہے تھے کہ انہیں اِس دنیا سے رخصت ہونے کی جلدی تھی……؟ دوست کے بھائی کے تمام بندھن اب ٹوٹ چکے تھے……گاہک ”سرو“ کر رہے تھے اچانک زمین پر گرے اور جس وقت ایمبولینس آئی وہ مالک حقیقی سے جا ملے تھے……؟ تب مجھے معلوم ہوا کہ بار بار مجھے وہ فون کیوں کر رہے تھے……؟ ”موت“ اُن کی منتظر تھی……برفباری اور طوفانی موسم کے باوجود اُن کی موت کے وقت کا تعین ہو چکا تھا……مجھے ایک طویل سفر کر کے یہاں آنا تھا……مگر اُن سے ملاقات ممکن نہ تھی……اب کی بار میرے آنسو بھی میرا ساتھ دینے لگے……اور میں حقیقت موت میں گم سم ہو چکا تھا……؟ میں اِس سوچ میں گم تھا کہ موت کا واقعی ایک دن متعین ہے۔ میرے اوپر اب جا کر یہ حقیقت آشکار ہوئی تھی کہ ”موت“ یاد آجائے تو راتوں کو نیند کیوں آتی نہیں ……؟
مجھے اب معلوم ہوا تھا کہ ”موت“ فاصلے اور محبت نہیں دیکھتی……ایسا اگر ہوتا تو مجھے فون کر کے بلانے والا دوست ملاقات سے قبل ہی دنیا نہ چھوڑ جاتا……؟
دوست کو مجھ سے بچھڑے ایک عرصہ ہونے کو ہے مگر برفباری اور یخ سردی کے دنوں میں اُس کی جب یاد آتی ہے تو مغموم ہو جاتا ہوں کہ اُس شام اُس نے مجھے بلایا ضرور تھا مگر مجھ سے ملاقات کرنا اُس کے بس میں نہ تھا کہ موت کا فرشتہ میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی دوست کا منتظر تھا……؟ انسان کس قدر مجبور ہے……تلاشِ سکون کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا……؟ مگر وقت قضاء کبھی کسی کا انتظار نہیں کرتا……
اسی لئے تو شاعر نے کہا……سکوں کہیں بھی میسر نہیں ہے اِنساں کو
جنازے والے بھی کندھا بدلتے رہتے ہیں 
٭٭٭
ارشاد احمد عارف
 ایک کھانے سے واپسی پر جناب مجیب الرحمن اور رؤف طاہر کو ان کے گھر ڈراپ کرنا تھا۔ شامی صاحب نے ڈرائیور کو ایک  دومرتبہ گاڑی دھیان سے چلانے کو کہا، مجھے بھی ڈرائیور کی عدم توجہی کا احساس ہو رہا تھا، شامی صاحب کے بعد رؤف طاہر صاحب کو ان کے گھر چھوڑا تو میں نے خود ڈرائیونگ کا فیصلہ کیا، ڈرائیور کو ساتھ والی سیٹ پر بٹھا لیا، میں گاڑی چلاتا تو ڈرائیور عموماً پیچھے بیٹھتا تھا تاہم آج میں نے اسے اگلی سیٹ پر بیٹھنے کو کہا، واپڈا ٹاؤن سے ہم بحریہ ٹاؤن کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں گندا نالہ پڑتا ہے جس کا پل موڑ پر ہے، اس پر ایسے لگا کہ مجھے چکر سا آیا اور گاڑی بے قابو ہوتی گئی جس کا رخ بیس 25 فٹ گہرے نالے کی طرف تھا۔ درمیان میں ایک درخت تھا۔ گاڑی اس سے ایک دھماکے کیساتھ جا ٹکرائی، گاڑی جس طرح ٹکرائی، ہمارا بچ جانا معجزہ تھا، گاڑی کی ونڈ سکرین سمیت تمام شیشے ٹوٹ چکے تھے، میں  اس وقت کو دم آخر سمجھ کر کلمہ کا ورد کر رہا تھا مگر ہم دونوں کو خراش تک نہیں آئی تھی۔ گاڑی سامنے سے درخت کے ساتھ ٹکرائی تھی حیران کن تک ہمیں خراش تک نہیں آئی تھی جبکہ دیکھنے میں لگتا تھا کہ گاڑی کو عقب سے کسی ٹرک نے ٹکر ماری ہے۔ پچھلی سیٹ تباہ ہو چکی تھی۔ ڈرائیور گاڑی چلاتا ہو میں تو عقبی نشست پر بیٹھا کرتا تھا، موت کو اس طرح اور اتنا قریب کبھی نہیں دیکھا۔
٭٭٭
محمد اسلم عرف اسلم لمبا:نوائے وقت میں قاصد 
میں اپنی اہلیہ کے ساتھ موٹر سائیکل پر جا رہا تھا، رش کی وجہ سے رکا تھا کہ ویگن نے ٹکر ماری دی، مجھے کچھ پتہ نہیں کہ میں کہاں ہوں تاہم بیگم ہوش میں تھیں، لوگوں نے مجھے اٹھانے کی کوشش کی، میری جیب سے پرس نکال کر بیگم کو دیا اور کسی گاڑی میں ڈال کر ہسپتال پہنچا دیا، اسی روز سرکاری ہسپتالوں میں ہڑتال تھی تو ڈیفنس میں پرائیویٹ ہسپتال لے جانا پڑا۔ مجھے ہفتے بعد ہوش آیا۔ سرکاری ہسپتال میں ہڑتال نہ ہوتی تو شاید میرے گھر والوں کو میرے ہوش میں آنے کے  سات دن انتظار کی اذیت سے دو چارنہ ہونا پڑتا، اس حادثے میں مجھے اپنی غلطی کا بھی احساس ہے، میں نے ہیلمٹ نہیں پہنا ہوا تھا۔
٭٭٭
فائٹر جہاز کی سیٹ اجیکٹ ہوئی اور۔۔۔۔۔
ڈاکٹر اسد خان

میں کراچی میں پی اے ایف  بیس مسرور (ماڑی پور) میں میڈیکل افسر کے طور پر تعینات تھا۔ ایک روز فائٹر جہاز کی فیملرائزیشن کے لئے جانا ہوا، کاک پٹ کی ایک سائیڈ پر گراؤنڈ کریوکھڑا ہو کر جہاز کے کنٹرولز وغیرہ کے بارے میں بتا رہا تھا، دوسری سائیڈ پر میں کھڑا تھا۔ اس جوان کا ہاتھ اچانک اجیکٹ لیور سے ٹکرا گیا، جس سے جہاز کی سیٹ ایک دھماکے سے اڑتی ہوئی تیس پینتیس  فٹ اونچی چلی گئی، میرے سامنے کھڑا نوجوان تھوڑا سیٹ پر جھکا ہوا تھا، اس کا سینے کے اوپر کے جسم کا سارا حصہ اُڑ گیا، اس کی موقع پر ڈیتھ ہوگئی۔ میں بھی وہاں سے زمین پر گر گیا تاہم معمولی زخم جلد درست ہو گئے۔ میں محض چند انچ پیچھے ہونے کے باعث بچ گیا۔ یہ میری زندگی کے ناقابل فراموش لمحات ہیں۔ جب موت میرے قریب سے گولی کی رفتار سے چھو کر گزر گئی۔
٭٭٭
لقمان پاشا 
 لقمان ہمارے آفس میں ویسے تو نائب قاصد ہیں مگر جہاندیدہ اور سیلانی قسم کی شخصیت ہیں۔ جیکٹوں کی ایکسپورٹ کا  بزنس کرتے تھے، جرمن میں ایک عرصہ رہے، وسط ایشیائی ریاستوں میں کاروبار کرتے رہے۔ ازبکستان میں شادی کی۔ امتداد زمانہ  نے لقمان پاشا کو اخبار کے دفترکی راہداریوں میں لا پہنچایا۔ لقمان پاشا کی سٹوری سنیں تو لگتا ہے روز جیتا اور روز مرتا ہے مگر وہ بتا رہے تھے کہ کراچی میں اپنے دوست اور بھائی کے ساتھ جا رہے تھے گولیوں کی تڑ تڑ سنائی دی۔ ایک لمحے میں میرے ہمقدم دو انسان زمین پر لاش بنے پڑے تھے جبکہ میں زندہ تو تھا مگر ساکت کھڑا تھا۔ موت میرے قریب سے گزر گئی تھی۔ مجھے اپنے بچ جانے کی خوشی نہیں اپنے بھائی اور دوست کی ناگہانی موت کا صدمہ تھا یہ حادثہ ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہا۔
ڈاکٹر فاروق نیو کلیئر سائنسدان ہیں۔ ان سے ملاقات ان کے گھر سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں 18 اپریل 2017ء کو ہوئی۔ اس روز میں اور پھول کے ایڈیٹر محمد شعیب مرزا ایک رات قبل لاہورسے پنڈی آئے تھے۔ ہم نے الہجرہ سکول کی تقریب میں شرکت کیلئے کوئٹہ جانا تھا۔ لاہور سے پی آئی اے کی سیٹیں بک نہیں ہو سکی تھیں۔ پنڈی سے ہونے پر ہم شام چھ بجے والی اسلام آباد ایکسپریس میں پنڈی آ گئے۔ یہاں میجر نذیر احمد فاروق نے رائزنگ سن آرمی گیسٹ ہاؤس میں ہمارے لئے بکنگ کرا رکھی تھی۔ میں اگلے روز 108 ای سیٹلائٹ ٹاؤن چلا گیا۔ ان کے گھر پرسرکاری پہریدار بیٹھے تھے۔پتہ نہیں ڈاکٹر فاروق اپنے سینئر ڈاکٹر اے کیو خان کی طرح پہریداروں کی حفاظت میں  تھے یا حراست میں؟ان دونوں کی نگرانی ہورہی یا نگہبانی؟؟۔ ان کو جہاں جانا ہو اجازت لینا پڑتی ہے۔ اطمینان اس لئے بھی ہے کہ ان کی بہرحال سکیورٹی تو ہے۔ ڈاکٹر فاروق نے اپنے والدصاحب کے بارے میں بتایا کہ کس طرح وہ موت کو چھو کر واپس آئے۔ ڈاکٹر فاروق کہتے ہیں ”والد صاحب حیات والی ہسپتال میں داخل تھے۔ زیادہ سیریس کنڈیشن نہیں تھی۔ میں آفس سے 4 بجے چھٹی کر کے سیدھا ہسپتال چلا جاتا۔ ان کے پاس بیٹھتا ایک روز میں گیا تو لیڈی ڈاکٹر نرس کو ڈانٹ رہی تھی۔ والد صاحب اس روز ہوش میں نہیں تھے۔ مجھے شک گزرا کہ والد صاحب کو اس نے کوئی غلط انجکشن یا میڈیسن دے دی ہے۔ جس کے باعث ڈاکٹر نرس کو ڈانٹ رہی تھی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے مجھے الگ سے لے جا کر کہا کہ آپ کے والد کی حالت بڑی سیریس ہے۔ ہم اب کچھ نہیں کر سکتے، ایمبولینس منگوا لیں ان کو گھر لے جانے کی تیاری کریں۔ ہم نے ایمبولینس منگوا لی۔ ہم چاروں بھائی اور خالہ زاد شام سے پوری رات والد کے بیڈ کے گرد کھڑے جو بھی یاد تھا پڑھتے رہے۔ فجر کی اذان ہوئی تو ایک بہت بڑا معجزہ ہو گیا۔ والد صاحب ہوش میں آ گئے۔ انہوں نے پہلا سوال کیا کہ کیا نیا گھر لیا ہے؟۔ اس کے بعد وہ حیران کن طور پر چلنے پھرنے لگے۔ ہم نے گھر لے جانے کیلئے ایمبولینس منگوائی تھی وہ گاڑی میں گھر گئے۔ اس کے بعد وہ تین سال تندرست و توانا رہے۔ جس روز فوت ہوئے بالکل ٹھیک تھے۔ مسجد نماز کیلئے گئے۔ مولوی صاحب حافظ بھی تھے۔ ان سے کہا کہ ایک حافظ دس لوگوں کی سفارش کر سکتا ہے آپ میری بھی سفارش کرنا۔ مولوی صاحب نے وعدہ کر لیا۔ گھر آئے چارپائی پر بیٹھے تھے کہ روح قبض عنصری سے پرواز کر گئی۔
خالد جاوید نے پاکستان ایئر فورس سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں الیکٹرانک انسٹرومینٹس کی امپورٹ کا بزنس شروع کیا۔ ایک روز اپنے شہر سکھے کی  سے اسلام آباد جارہے تھے کہ بھٹی سی این جی سٹیشن پر اپنے دوست 

کے پاس کچھ دیر رکے‘ انکو بس پر سوار کرانے کیلئے دوست نے سی این جی  سٹیشن پر تعینات گارڈ کو میرے ساتھ بائیک پر بس سٹاپ پرچھوڑنے کیلئے بھیج دیا۔سٹیشن سے نکلتے ہی موڑکاٹتے ہوئے بائیک آہستہ ہوئی توعقب سے تیز رفتار ٹرک کے آنے کا احساس ہوا۔ خالدجاوید کہتے ہیں کہ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور آنکھیں جھپکنے سے بھی قبل ٹرک نے بائیک کو ٹکر مار دی اور ہمیں بائیک سمیت کچلتا چلا گیا۔ ٹرک کے ٹائر بائیک چلانے والے نوجوان کے اوپر سے گزر گئے۔ اسکی موقع پر روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی جبکہ میری ٹانگ پر سے ٹائر گزرااور گھٹنے سے ٹانگ کو مفلوج ومجروح کرگیا۔ میں نے کئی سال علاج کرایا‘ چلنے پھرنے کے قابل ضرور ہوگیا ہوں مگر گھٹنے کا جوڑ ختم ہوگیا۔ میں پاکستان کے سب سے بڑے سپائن سپیشلسٹ ڈاکٹر عامر عزیز کے پاس گیا۔ وہ گُھرکی ہسپتال میں فری چیک اپ کرتے ہیں تاہم مجھے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں دیکھا‘ ان ہسپتال والوں سے ڈاکٹر عامر عزیز کوئی معاوضہ نہیں لیتے۔ انہوں نے آرٹیفیشل گھٹنانہ ڈلوانے کا مشورہ دیا،یہ میرے حیران کن تھا کیونکہ اس کا معاوضہ ڈیڑھ لاکھ روپے تھا،ڈاکٹر تو اپنے کمیشن اورکمائی کی خاطر بے جا ٹیسٹ بھی لکھ دیتے ہیں۔ میرا کاروبار اس نوعیت کا ہے کہ ایک ایک من کی بیٹری اور سولر پینل اٹھا کر اِدھر سے اُدھر کرنے ہوتے ہیں۔ مصنوعی گھٹنے والے شخص کو دس کلو سے زیادہ وزن اٹھانے سے منع کیاجاتا ہے۔ ایک آدھ کلو میٹر سے زیادہ چلنا اس گھٹنے کے ساتھ مشکل ہوتا ہے۔ گو میرا گھٹنا مڑ نہیں سکتا لیکن میرے لئے چلنا پھرنا زیادہ مشکل نہیں ہے۔ 
٭٭٭
نواب غوث بخش باروزئی سابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان
ایک قتل کیس میں مجھے نامزد کیا گیا، جس میں‘ میں بے گناہ تھا، میں اس وقت دو گروپوں کے درمیان بیٹھا ایک جھگڑے کا فیصلہ کر رہا تھا، قتل میرے کزن کے ہاتھوں سے ہوا تھا، مشرف کا مارشل لا لگا  ہوا تھا اور وہ بندے  جنہوں نے مجھے قتل کے مقدمے میں نامزد کیا اس کے ٹاؤٹ تھے۔ جنرل پرویز مشرف نے ٹیک اوور کیا تو وہ میرے والد محمد خان باروزئی کے پاس آئے تھے۔ انہوں نے کہا  آپ ہمیں اوکے کریں تو ہم آپ کو گورنر بناتے ہیں، میرے والد نے کہا میں سیاسی آدمی ہوں، میری سوچ سیاست کی ہے، میں فوج کے ساتھ مل کے حکومت کرنے کا قائل نہیں ہوں، مشرف نے کہا بینظیر نے بھی تائید کی  ہے، بابا نے کہا بینظیر جانے اس کا کام جانے۔  آپ اچھا کام کریں گے ہم آپ کی تعریف کریں گے، اس وقت بابا نے تاریخی الفاظ کہے ”میں نے صبح سے شام تک کمایا ہے اب شام ہو گئی ہے، کل کا دن میرے پاس  نہیں ہے، میں کل نہیں ہوں گا۔ ابھی میں شام کی کمائی گنوا دوں تو پھر کمایا ہوا کچھ  نہیں بچے گا“۔ میں دعاگو ہوں آپ کوئی اچھا کام کریں۔ جنرل پرویز مشرف اس وقت سے  ناراض تھے۔ میں نے جس کو منسٹر نہیں بنایا وہ میرا رشتے دار تھا اور بچپن میں میرے بھانجوں کے ساتھ کھیلتا تھا۔ انہوں نے میرے ہاتھ میں کلاشنکوف دے دی۔ میں نے تو نہیں مارا تھا۔ میرے والد چاہتے تو مجھ پر کیس بن ہی نہیں سکتا تھا۔ مرزا خان ناصر جس کے ذریعے  میرے بابا نے مفتی محمود اور ذوالفقار علی بھٹو کے مذاکرات کروائے تھے۔ ان کے بیٹے اشرف ناصر کو بھی بابا  نے آرمی سے نکال کر ڈپٹی کمشنر لگوایا تھا، وہ چیف سیکرٹری بن چکا تھا،  جب بابا نے گورنر بلوچستان   بننے سے معذرت کی تو امیر الملک مینگل گورنر بن گئے۔ نیپ پر جو غداری کا سازش کیس تھا  اس میں ملوث  سب لوگ  حیدر آباد جیل میں تھے مگر امیر الملک مینگل اور تیس بندے مچھ جیل میں تھے۔ بابا جب وزیراعلیٰ بلوچستان بنے تو انہوں نے ان کو جیل سے نکالا کہ ان کا کوئی رول بھی نہیں اور یہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ امیر الملک مینگل بھی میرے والد کے ممنون تھے۔ اگر میرے والد فون اٹھاتے اور چیف سیکرٹری کو کہتے تو مجھ پر FIR  درج ہونی نہیں تھی، میں نے خود کتنے لوگوں پر FIR نہیں ہونے دی، میرے والد نے کہا میرا بیٹا اللہ کے حوالے ہے۔ لوگ دیکھیں گے حق پر کون ہے اور ناحق کون ہے۔ بابا مجھ سے جب پہلی بار جیل میں ملنے آئے۔ میری ملاقات سپرنٹنڈنٹ جیل کے کمرے میں ہوئی تھی، بابا نے کہا فکر نہ کرنا۔ مجھے بھی پتہ تھا کہ دشمنی میں تم پر کیس بنایا گیا  یہ امتحان تمہیں اونچا لے جانے کے لئے ہے۔ میرا وزن زیادہ تھا میں سوچتا تھا اگر مجھے ہینگ کر دیا جائے گا  تو ایسا نہ ہو سر اوپر رہ جائے اور دھڑ نیچے گر جائے۔ اللہ پر توکل کیا، دشمنوں کی ہار ہوئی اور میں سرخرو ہوا، ہائیکورٹ کا جج کہتا تھا میں اس شخص کی پرسنلٹی دیکھتا ہوں تو مجھے شرم آتی ہے میں کرسی پر بیٹھا ہوں اور یہ میرے سامنے کھڑا ہے، یہ اللہ کی مہربانی تھی، میرے بابا نے کہا اس کا تمہیں کوئی نہ کوئی فائدہ ہو گا۔ ان کے مرنے کے بعد دستار مجھے ملی۔ میں 11 ماہ اور 11 دن جیل میں رہا اور عدالت سے  باعزت بری ہو گیا۔
٭٭٭

٭٭٭
روحیں کیا کمال کرسکتی ہیں، اس کا اندازہ پروفیسر مجنوں گورکھ کی تحریر بعنوان ”حیرت انگیز مشاہدہ“ میں کیا جاسکتا ہے۔ پروفیسر مجنوں گورکھ پوری لکھتے ہیں ”۔۔۔ ہمارے علاقے میں ایک بابا جی رہتے تھے، لوگ انہیں صاحبِ کشف و کرامات تصور کرتے تھے۔ اکثر لوگ اپنی مرادیں لے کر ان کے پاس آتے۔ بابا جی کبھی منت سماجت سے انہیں لوٹا دیتے، کبھی جھنجھلاہٹ میں گالیاں دینے لگتے لیکن عقیدت مندوں کی آمدو رفت میں کمی نہ آتی تھی۔ اس یورش سے بچنے کے لئے باباجی کو اپنی کٹیا کے دروازے بند رکھنے پڑتے تھے۔ میں نے پہلے تو باباجی کی شخصیت کو مضحکہ خیز سمجھ کر نظرانداز کردیا۔ لیکن رفتہ رفتہ میرے خیالات میں کچھ تبدیلیاں رونما ہونے لگیں۔ میں نے اس زمانے میں فلسفے، منطق اور دوسرے علوم کا وسیع اور غائر مطالعہ کیا تھا اور آخرکار ان سب سے بیزار ہوکر اس آخری نتیجہ پر پہنچا تھا کہ نہ عقل و استدلال سے زندگی کے اسرار کو سمجھا جاسکتا ہے اور نہ منطقی استدلال سے انسانی روح کوسکون میسر آسکتا ہے۔ اس ذہنی انقلاب کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں نے باباجی کے ملنے کا اشتیاق اپنے اندر موجود پایا۔ باباجی مجھ سے بڑی ہمدردی سے ملے۔ میں نے ان کے اندر ایک مقناطیسی کشش پائی اور اکثر ان سے ملنے لگا۔ میرے والد کا نقطہ نظر مادہ پرستانہ تھا۔ وہ ان پراسرار معاملات سے ذرا دلچسپی نہ رکھتے تھے اور چیں بجیں تھے کہ میں باباجی سے کیوں ملتا جلتا ہوں؟ وہ کہا کرتے تھے کہ اگر تم اس شخص سے ملتے رہے تو ایک روز پاگل ہو جاؤ گے! کیونکہ یہ شخص بھی خبطی اور پاگل ہے۔ میں بہرحال ان سے ملتا رہااور تھوڑے ہی عرصے میں مجھے معلوم ہوگیا کہ باباجی خاصے عالم فاضل ہیں اور ان لوگوں میں نہیں جو ہر جگہ معجزہ اور کرتب دکھاتے پھرتے ہیں۔ 
باباجی رفتہ رفتہ مجھے سے بے تکلف ہوگئے تھے۔ انہوں نے شروع سے اب تک اپنی پچپن سالہ زندگی کے پورے معاملات مجھے سنا دیئے تھے۔ بڑے عبرتناک واقعات تھے۔ باباجی اگرچہ روح، روحانیت اور کشف و کرامات کی بحث میں کبھی نہ پڑتے تھے اور وہ صرف مجھ سے اس دنیا کے بارے میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ لیکن میں نے اس زمانے میں یہ ضرور محسوس کرلیا کہ وہ ایک پراسرار قوت کے مالک ضرور ہیں۔ باباجی کو کسی مذہب و ملت سے کوئی تعلق نہ تھا، وہ صرف انسانیت کے قائل تھے۔ قرب و جوار میں یہ بات ضرور مشہور ہوگئی تھی کہ باباجی کو مجھ سے خاص لگاؤ ہے۔ اب اکثر حسن ظن رکھنے والے مجھے آکر ستاتے تھے کہ میں چل کر ان کی باباجی سے سفارش کردوں۔ میں باباجی کی طبیعت سے واقف ہوچکا تھا اس لئے عجیب مصیبت میں جان تھی۔ لکھ پتیا، چمار خاندان کی ایک عورت تھی اور میرے موضع کے قریب رہتی۔ وہ ایک روز میرے پاس آئی اور اپنی بپتا بیان کرکے مجھ سے کہنے لگی کہ آپ بابا سے سفارش کردیجئے کہ وہ میرے پتی کے لئے کچھ کریں، میرے پتی پر ضرور کوئی آسیب سوار ہے، ”لکھ پتیا“ نے بیان کیا کہ اس کا شوہر ”بندیسری“ تپ دق کے عارضے میں مبتلا تھا۔ مرض میں روز افزوں اضافہ تھا یہاں تک کہ ایک روز اس کا دم ٹوٹنے لگا۔ چند گھنٹے بعد وہ ایک پیکر بے جان تھا۔ ہر طرف کہرام مچ گیا اور بندیسری کی رسم میت ادا ہونے کا سامان ہونے لگا لیکن لوگوں کے حیرت و تعجب اور خوف و ہیبت کی کوئی انتہانہ رہی جب بندیسری تقریباً آدھ گھنٹے بعد زندہ ہوگیا اور ایک تندرست آدمی کی طرح باتیں کرنے لگا۔ قریب کی تحصیل میں ایک ڈاکٹر رہتے تھے، ان سے واقعہ بیان کیا گیا تو کہنے لگے کہ ہاں سکتے یاکوما (غشی) میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ موت کی حالت طاری ہوجاتی ہے اور پھر وہ جی اٹھتاہے چلو ساری بات ہوا ہوگئی لیکن اس تاریخ کے بعد ہر دوسرے تیسرے مہینے بندیسری پرکوما کے دورے پڑنے لگے تھے اور بیچاری لکھ پتیا کی زندگی  وبال ہوکر رہ گئی تھی۔ لکھ پتیا کی زبان سے بندیسری کی آسیب زدگی کا حال سن کر میرے اندر وسوسہ پیدا ہوگیا اور میں نے ارادہ کرلیا کہ کسی نہ کسی بہانے اس موضوع پر باباجی سے گفتگو ضرور کروں گا۔ کئی دن تک مجھے باباجی نے اس کا موقع نہیں دیا۔ لیکن ایک دن وہ خودبخود کہنے لگے کہ تم کئی روز سے مجھ سے کچھ پوچھنے کی فکر میں ہو۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ تم اس فکر کو دماغ سے نکال دو۔ مگر تم طبیعت کے ضدی ہو۔ جو دُھن ایک بار تم پر سوار ہوجاتی ہے پھر وہ جلد نہیں جاتی۔ انسان کوہر بات پر کیا، کیوں اور کیونکر نہیں کہنا چاہئے اور نہ ہر معاملے میں دخل درمعقولات کرنی چاہئے، دنیا میں بہتیرے اسرار ایسے ہیں جن کو نہ جاننا ہی بہتر ہے۔ میں باباجی کی روشن ضمیری اور غیب دانی کا پہلے ہی سے قائل تھا، اس لئے میں نے ان کی باتوں پر کسی قسم کی حیرت کا اظہار نہیں کیا اور صرف رسماً لکھ پتیا کا واقعہ بیان کردیا۔ دوپہر ہوچکی تھی۔ باباجی نے کہا کہ اچھا تم اس کے جاننے پر ہی تلے ہوئے ہو تو آج رات میری جھونپڑی میں بسر کرو! اور یہ وعدہ کرو کہ جو کچھ دیکھو گے اس سے نہ ڈرو گے اور نہ کسی سے اس کا ذکر کرو گے! میں نے وعدہ کیا اور پھر باباجی کی کٹیا میں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ 
باباجی نے پھر مجھ سے عہد لیا کہ جو کچھ دیکھو گے خاموش رہو گے۔ میں اور باباجی کٹیا میں تنہا تھے۔ انہوں نے چراغ گل کیا اور مجھے اپنی بغل میں لے کر بیٹھ گئے۔ میں یہ دیکھ کر دم بخود رہ گیا کہ باباجی کے سارے جسم سے ایک روشنی نکل کر سامنے کی دیوار پر پڑنے لگی اور دیوار آئینہ کی طرح شفاف ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ ایک لطیف پیکر بہ صورت انسان سامنے والی دیوار پر نمودار ہوا اور شاید باباجی کا اشارہ پاکر (وہ لطیف پیکر) کہنے لگا کہ میں ایک روح ہوں، میرا نام گوبند ہے، میں بچپن سے لکھ پتیا (بدنصیب عورت) کا پجاری تھا شاید میری شادی لکھ پتیا کے ساتھ ہو جاتی مگر میں اس وقت کے آنے سے پہلے مر گیا اور لکھ پتیا کی محبت کا سودا ساتھ لے گیا۔ اس واقعہ کو پندرہ بیس برس گزر چکے ہیں، کوئی گیارہ برس ہوئے کہ لکھ پتیا کی شادی بندیسری کے ساتھ ہوگئی۔ میں اب مجبور تھا۔ آخر وہ دن آیا کہ بندیسری بیمار پڑگیا اور آخرکار مر گیا۔ میں بڑی التجاؤں اور منتوں کے بعد عالم برزخ اور عالم ارواح میں اپنے سرگروہ سے اجازت لے کر بندیسری کے جسم میں داخل ہوگیا چنانچہ اب میں بندیسری کی صورت میں موجود ہوں۔ دنیا والے مجھے بندیسری سمجھتے ہیں لیکن میں اصل میں گوبند ہوں لیکن کبھی کبھی مجھے بندیسری کے قالب سے نکل کر عالم ارواح میں جانا پڑتا ہے اور اس غصب کردہ جسم کو ترک کرنا پڑتا ہے۔ لوگ اس وقت سمجھتے ہیں کہ بندیسری پر سکتے کا دورہ پڑگیا ہے۔ یہ کہہ کر گوبند کی روح غائب ہوگئی۔ باباجی پھر اپنی حقیقی اصلی حالت میں آگئے اور چراغ روشن کرکے کہنے لگے! 
تم نے دیکھا کہ ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے اور نہ ان کی تحقیق کے درپے ہونا چاہئے۔ آج اگر میں تم سے مجبور نہ ہو جاتا تو ہرگز اس معاملہ میں مداخلت نہ کرتا لیکن کم سے کم اتنا سمجھ لو کہ میں ان معاملات کی روک تھام نہیں کرسکتا۔ یہ عالم ارواح کے راز ہیں اور اس عالم پر ہمارا بس نہیں چل سکتا۔ اتنا تو تمہیں اندازہ ہوگیا کہ موت کے بعد جو زندگی گزرتی ہے، وہ ماضی کے واقعات سے پابہ زنجیرہوتی ہے۔ یعنی انسان مرنے کے بعد بھی ویسا ہی رہتا ہے۔ جیسا حیات ارضی میں تھا۔ جاؤ اور کوشش کرو کہ تمہاری یہاں کی زندگی خوشگوار ہو تاکہ آنے والی زندگی کی شورشوں سے بچو! 
بابا جی نے پہلی بار مجھ سے نصیحت آمیز لہجہ میں گفتگو کی تھی۔ بہرحال میری زبان سے ایک لفظ نہ نکلا۔ میری حیرت بدستور قائم تھی۔ دوسرے روز میں نے لکھ پتیا کو بلایا اور اس سے قبل از شادی کے واقعات دریافت کئے۔ میں نے اس کو یقین دلایا کہ اگروہ اپنی مصیبت کی اصلیت سے واقف ہونا چاہتی ہے تو اس کو اپنا راز فاش کرنا ہوگا۔ لکھ پتیا نے جو واقعات بیان کئے تھے، اس کے بعد میں نے باباجی سے اجازت لے کر لکھ پتیا کو حقیقت سے خبردار کردیا۔ اس طرح غریب عورت کو ایک حد تک اطمینان ہوگیا۔ اس واقعے کے سلسلے میں مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ بندیسری پر برابرغشی کے دورے پڑتے رہے۔ یوں سمجھئے کہ گوبند کی روح وقتاً فوقتاً بندیسری کا قالب بدلتی رہی۔ تاآں کہ خود لکھ پتیا طاعون میں مر گئی اور اس کے بعد گوبند کی روح نے بھی بندیسری کے قالب میں حلول کرنا ترک کردیا۔ 
ان واقعات کی علمائے مذاہب اور ماہرین نفسیات جو چاہیں تفسیر اور توجیہہ کریں، لیکن اگر روح واقعی کوئی چیز ہے اور اگروہ اپنی بقاء کے لئے جسم کی محتاج نہیں تو ہم کم سے کم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ روح جسم سے جدا ہونے کے بعد بھی اپنی انفرادیت برقرار رکھتی ہے اور اس انفرادیت کی بناء پر اس کے تعلقات اس دنیا سے باقی رہ جاتے ہیں۔ 
(عالم برزخ، مصنف: رئیس امروہوی۔ صفحہ 125) 

 

متعلقہ خبریں