جہاں پانی بہتا ہے وہاں سبزہ اگتا ہے اور جہاں ندامت کے آنسو بہتے ہیں وہاں رحمتِ الٰہی کا نزول ہوتا ہے

2020 ,فروری 13



رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم فرماتے ہیں بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا وہ بڑا مالدار ہوتا تھا پھر ایک وقت آیا کہ اس شخص پر غربت آگئی جب غربت آئی تو اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر روتے ہوئے عرض کرنے لگا اللہ تعالیٰ میری مدد فرما میں بہت غریب ہو چکا ہوں جب مالدار تھا تیری بڑی نافرمانی کرتا تھا کوئی نیک کام نہیں کرتا تھا کبھی موت کو یاد نہیں کیا میرے مولا اب کبھی تیری نافرمانی نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی فریاد سن کر فرشتوں کو حکم دیا کہ اس شخص کو دے دو جو یہ مانگتا ہے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی یاباری تعالیٰ یہ شخص تیرے پاس تیرے ڈر خوف کی وجہ سے نہیں آیا دل سے توبہ کر کے تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہوا یہ تو خود سے اُلجھ کر غربت سے تنگ آکر تیرے پاس حاضر ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں جانتا ہوں یہ شخص مجھ سے ڈر کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ اپنی غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر آیا ہے جیسے بھی سہی مگر میرے پاس آیا تو ہے نا اس کو جو چاہئیے دے دوں فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے پھر عرض کی اللہ تعالیٰ اگر اس شخص کو وہ سب کچھ دے دیا جو یہ مانگ رہا ہے تو یہ پلٹ کر پھر واپس نہیں آئے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں یہ بھی جانتا ہوں کہ واپس نہیں آئے گا بس تم اس کو وہی دولت وہی مرتبہ و مقام دے دو جو اس کے پاس تھا جب اس شخص کو دولت مرتبہ و مقام واپس مل گیا تو کہنے لگا میں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں صحیح طریقہ اختیار کیا اس لیے مجھے سب کچھ واپس مل گیا میں اب ویسے ہی مالدار ہو گیا ہوں کچھ عرصہ گزرا وہ شخص پھر سے غریب ہوگیا پھر اس پر قرضے چڑھ گئے اور غربت کے ہاتھوں الجھ گیا اب جتنی دیر تو مالدار تھا اس کو اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں آئی غربت آئی تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا عرض کرنے لگا اللہ تعالیٰ اب مجھے معاف کر دو میں اب کوئی نافرمانی یا گناہ نہیں کروں گا اللہ تعالیٰ سے فرشتوں نے پھر عرض کی اللہ تعالیٰ یہ شخص جھوٹا ہے مگر اللہ تعالیٰ مالکِ کائنات ہے وہ جانتا ہے بندے کی نیت کیا ہے اس شخص نے اسی طرح ستر بار توبہ کی ستر بار اس توبہ کو توڑا ہر بار فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کی اللہ تعالیٰ یہ شخص جھوٹا ہے جب مالدار ہوتا ہے جب صحت مند ہوتا ہے جب دنیا کی نعمتیں اس کو میسر ہوتی ہوتی ہیں تب اس نے کبھی تجھ سے رجوع نہیں کیا جب اس پر غربت مشکل وقت آتا بیمار ہوتا ہے یا اولاد بیمار ہوتی ہے تب یہ تیری بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں سب جانتا ہوں کہ یہ جھوٹا ہے مگر میرے پاس آتا تو ہے اس کو سب کچھ عطا کر دو

ندامت کے چراغوں سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
اندھری رات کے آنسو خدا سے بات کرتے ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا ایک رات وہ شخص بستر پر لیٹا ہوا تھا تو خیال آیا میں بھی کتنا نافرمان مکار جھوٹا انسان ہوں اپنے خالق و مالک سے ہر بار جھوٹ بولتا ہوں اور وہ اتنا کریم و رحیم ہے کہ ہر بار وہ سب کچھ عطا کرتا ہے جو میری طلب ہوتی ہے کبھی مجھے خالی ہاتھ نہیں آنے دیتا یہ سوچ کر دل ہی دل میں تڑپ اُٹھا آنکھوں سے آنسوں جاری ہو گئے اس حالت میں بستر سے اُٹھا اور مصلہ پر سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ طلب کرنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا فرشتوں دیکھو آج یہ شخص میرے پاس غربت مشکل کی وجہ سے حاضر نہیں ہوا آج یہ میرا ہو کر میرے پاس آیا ہے فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی یااللہ پہلے یہ شخص اپنے لیے مال و دولت صحت تندروستی مانگنے آتا تھا تو اسے عطا کر دیا جاتا تھا آج یہ تیری بارگاہ میں ندامت کے آنسو اور سچی توبہ کرکے آیا ہے آج اسے کیا عطاء کرے گا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے فرشتوں آج یہ شخص میرا بن کر آیا ہے آج اسے بنا

متعلقہ خبریں