پھل‘ ترکاریاں اور بیماریاں

2019 ,نومبر 22



آلو مہنگے، پیاز مہنگے، ٹماٹر مہنگے ہی نہیں نایاب بھی ہیں۔ پھلوں سبزیوں کی قیمتیں اس ملک میں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جو خود بنیادی طور پر زرعی ہے۔ منہ زور مہنگائی میں کیلے کی قیمت سب سے کم، ریڑھیوں پر 25 روپے درجن دستیاب۔ کیلا سستا ہونے کا مطلب نہیں یہ ٹماٹروں آلوئوں کا متبادل ہو گیا مگر ٹماٹر سلاد اور ہانڈی میں نہ ہو تو قیامت نہیں ٹوٹتی، میاں نوازشریف کی گزشتہ حکومت کے ابتدائی دنوں میں لیموں مہنگے اور عدم دستیاب ہوئے تو سیاپا مافیا نے کہرام برپا کر دیا۔ ٹماٹر اور لیموں کے بغیر انسانوں کا انجن اور رنگ پسٹن نہیں بیٹھ جاتا۔ پلیٹ لیٹس پر زوال نہیں آجاتا۔ سبزیوں کی مہنگائی سے زیادہ آٹے کا رونا رونے کی ضرورت ہے۔جلالی حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہی، سچ یا جھوٹ حکمران اس کاذمہ دار بڑی بڑی دلیلوں کے ساتھ پیشرو حکمرانوں اور حکومتوں کو ٹھہراتے ہیں۔ عوام نے آج واقعی مہنگائی کے ہاتھوں تنگ آ کر ماتھے پربانہہ رکھی ہوئی ہے۔ ہم وہ قوم ہیں جو کشمیر آزاد کرانے کیلئے بھارت پر حملہ آور ہونے کو بے قرار ہیں۔ ایٹمی جنگ ہوئی تو جنت مکانی ہونے میں چند ثانئے سے زیادہ وقت درکار نہیں ہو گا، روائتی جنگ ہوئی تو معیشت کی جو حالت ہو گی اس کا اندازہ ’’وا‘‘پڑنے پر ہی ہو گا۔ 155 روپے پر ڈالر لٹکا ہوا ہے۔ یہ ہزار روپے تک جائیگا۔ ٹماٹر کے بغیر جن کو زندگی ادھوری لگتی ہے ان کو بھی چٹنی اچار پر آنا پڑے جن کو یہ میسر ہوگا وہ کئی لوگوں کیلئے قابل رشک ہونگے۔سابقون ایک پلاننگ کے تحت معیشت کا جس طرح بیڑہ غرق کر کے گئے اسے scorched پالیسی ہی کہا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کے بقول اگر معیشت ورثے میں ناتواں نہ ملتی تو عوام کو مہنگائی سمیت مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔ گوناگوں مسائل کی بڑی اور بنیادی وجہ کرپشن ہے۔ ہمارے پاس دستیاب وسائل کی بھی کمی نہیں‘ اگر پاکستان میں درختوں پر نوٹ لگنے لگیں‘ دریا و سمندروں میں پٹرول بہے اور پہاڑ سونے کے ہو جائیں مگر کرپشن نہ رکی تو یقین کریں‘ ایسے وسائل کی فراوانی کے باوجود ہماری تقدیر نہیں بدلے گی۔ اس کی ایک مثال براعظم افریقہ کا چھوٹا سا ملک گنی ہے۔ یہ خطے کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ آبادی ایک کروڑ 16 لاکھ ہے۔ اس کی سرزمین تیل کے ذخائر سے لبریز ہے۔ ایک دوست وہاں گئے بتا رہے تھے۔ بعض مقامات پر تھوڑی سی کھدائی کرنے سے ہیرے نکل آتے ہیں مگر اس آبادی کا ستر فیصد خط غربت کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ دولت اشرافیا اور مافیا کے قبضے میں ہے۔ ہیرے جواہرات کی دھرتی پر چلنے والے بدقسمت لوگوں کی تقدیر یونہی کوئلہ رہے گی تاآنکہ کوئی غیبی مدد آجائے مگر خدا بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتا جسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو۔ ہم میں اور گنی کے لوگوں میں کوئی فرق نہیں تھا۔جی ہاں! کل تک نہیں تھا آج ہے۔ پاکستانیوں میں اپنی حالت بدلنے کی سوچ اور خواہش پیدا ہو چکی ہے۔ ملک قوم ،معاشرے اور افراد کی حالت کو بدترین بنانے والوں کیخلاف نفرت اور حقارت تو پہلے بھی موجود تھی اب کرپٹ مافیا کے کُھرے کیساتھ گردن بھی ناپی جانے لگی ہے۔

آج جن کے گرد انصاف اور احتساب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ انکے کچھ حامی اسے انتقام اور کچھ ’’اِس کو پکڑا تو فلاں کو کیوں نہیں پکڑا‘‘ کہہ رہے ہیں۔ کرپٹ جو بھی ہے، آج بچ نکلا تو کل گرفت میں آ جائیگا۔آج پکڑے جانیوالے بھی پرانے پاپی ہیں۔کل ہم کہتے تھے چھوٹے مجرم پکڑے جاتے ہیں، بڑے بچ نکلتے ہیں۔آج بڑے پکڑے گئے تو بھی درد اُٹھتا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے، انداز بدل رہے ہیں۔ کوئی سوچ سکتا تھا کہ شریف اور زرداری خاندان پر ہاتھ ڈال سکے گا۔ پاکستان کی عدلیہ نے ان لوگوں کی گرفت کی۔ قید میں پہنچتے ہی بیماریاں حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ پھر کوئی اِدھر گرا کوئی اُدھر گرا۔میاں نوازشریف کی حالت تو اس قدر بگڑی کہ خاندان کا ’’ ساہ سُک‘‘ گیا۔ ڈاکٹروں نے ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ ان کی ضمانت ہوئی اور بغرض علاج لندن تشریف لے گئے۔ کچھ شقی القلب بیماری کو ڈرامہ قرار دیتے رہے۔ وزیراعظم کو انکی تشویشناک حالت کا یقین تھا تاہم لندن تک سفر نے کئی شکوک پیدا کر دیئے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نامور قانون دان ہیں۔ زیب داستاں کیلئے، زور بیاں کیلئے یا خان سے قربت کے نشاں کیلئے وزیراعظم کیساتھ طویل اور تواتر سے ملاقاتوں کے دعویدار ہیں۔ یوٹیوب چینل پراندراور باہر کی خبریں دیتے ہیں۔ ان کی مطابق نوازشریف ایئرایمبولنس میں نہیں لگژری قطری جہاز میں 14 بریفک کیسوں کے ساتھ گئے۔ جہاز میں ایئر ایمبولنس والی کوئی سہولت نہیں تھی۔ بشاشت کی تصویریں شاید خود شریف فیملی نے سندر خانی انگوروں کے دلکش خوشوںکی جاری کیں۔شوگر کا مرض اور انگور!۔ مریم نواز کے بیرون ملک جانے کا بندوبست بھی ہو رہا ہے۔ جب ڈاکٹر بون میرو ٹرانسپلانٹ کا کہیں گے تو مریم نواز ہی کا بون میرو میچ کریگالہٰذا ان کو انسانی ہمدری کی بنا پر باہر جانے کی کون مخالفت کریگا۔ بہر حال ایسی باتوں کو ’’تھیوری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔ان میں سنجیدگی بھی ہو سکتی ہے۔ اوہ! ہم کس بحث میں پڑ گئے‘ ذرا پتہ تو کریں کہیں اس دوران آلو‘ ٹماٹر کے ریٹ مزید بڑھ تو نہیں گئے!!!

متعلقہ خبریں