ٹرمپ سعودی عرب کے کاروباری شراکت دار نکلے

2016 ,نومبر 22



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں کے اپنے ملک میں داخلے کے حوالے سے تند وتیز بیانات جاری کرتے رہے ہیں ۔ اس سے یہ سمجھا گیا تھا کہ شاید وہ مسلمانوں اور سعودی عرب کے سخت خلاف ہیں لیکن عملاً شاید وہ ایسے نہیں ہیں اور اب دھیرے دھیرے ان کی شخصیت اور کاروبار سے متعلق نئے نئے پہلو سامنے آرہے ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنے سعودی شراکت داروں کے ساتھ تعاون اور سرمایہ کاری کو بڑھانے کے لیے کوشاں رہے ہیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ منافع سمیٹ سکیں۔

اخبار میں سوموار 21 نومبر کو شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی انتخاب کے لیے مہم کے دوران بھی آٹھ کمپنیوں کے ساتھ کاروباری شراکت کے سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔ان کمپنیوں کا سعودی عرب میں ہوٹل کے ایک مجوزہ منصوبے سے تعلق تھا۔

واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ مسٹر ٹرمپ نے اگست 2015ء میں ان کمپنیوں کے ساتھ سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔اس سے چندے قبل ہی انھوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا۔ یہ کمپنیاں ٹی ایچ سی جدہ ہوٹل ،ڈی ٹی جدہ ٹیکنیکل سروسز کے نام سے رجسٹر ہیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ ان کمپنیوں کے نام بھی بالکل اسی طرح کے تھے جس طرح کے دوسرے غیر ملکی شہروں میں کمپنیوں کے نام تھے اور جن کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ نے کاروبار کے سلسلے میں سمجھوتوں پر دستخط کیے تھے۔انھوں نے اپنے جو مالیاتی گوشوارے جمع کرائے تھے،ان کے مطابق وہ ان کمپنیوں میں سے چار کے سربراہ اور بعض کے ڈائریکٹر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے 21 اگست 2015ء کو الاباما میں ایک ریلی کے دوران ان چار کمپنیوں کا افتتاح کیا تھا اور یہ بات زور دے کر کہی تھی کہ ان کے سعودی عرب کے ساتھ اچھے تعلقات استوار ہیں۔

اسی روز انھوں نے مزید کہا کہ ''وہ مجھ سے اپارٹمنٹس اور جائیدادیں خرید کررہے ہیں۔انھوں نے چار سے پانچ کروڑ ڈالرز خرچ کیے ہیں تو کیا میں ان سے نفرت کروں گا؟ میں تو ان سے بہت محبت کرتا ہوں''۔

جنوری 2016ء میں وہ امریکی ٹی وی اسٹیشن فاکس نیوز کے ایک پروگرام میں مہمان تھے اور اس میں انھوں نے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ''وہ سعودی عرب کی مدد نہیں کریں گے ،وہ اس ملک کو فوجی امداد یا تحفظ مہیا کرنے کے لیے کوئی کردار ادا نہیں کریں گے لیکن وہ اقتصادی سطح پر ان سے فائدہ اٹھائیں گے''۔

اس پس منظر کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ڈیمو کریٹک حریف ہلیری کلنٹن پر انتخابی مہم کے دورام سعودی عرب کے تعلق سے تابڑ توڑ حملے جاری رکھے تھے اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ کلنٹن فاؤنڈیشن نے سعودی عرب کے ساتھ بعض معاملات طے کیے تھے۔

متعلقہ خبریں