یو ٹو سے یو ایس:25 داستانِ عزیمت ....اور ہزیمت

2023 ,جنوری 19



تحریر: فضل حسین اعوان 
ماضی میں 60کی دہائی میں ذرا نظر ڈالیں تو یہ واقعہ یکم مئی1960ءکا ہے۔ سوویت یونین کے وزیراعظم خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین نے امریکہ کا ایک یوٹوU2جاسوس طیارہ مار گرایا ہے اور اس طیارے کے پائیلٹ فرانسس گیری پاورز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سوویت حکومت کے مطابق یہ امریکی طیارہ سوویت یونین کی فضائی حدود میں تقریباً60ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا۔ دلچسپ امریہ ہے کہ یہ امریکی طیارہ U2پاکستان کے شہرپشاور کے نزدیک بڈبیر کے امریکی ہوائی اڈے سے اڑا تھا۔ اس طیارے میں جدید ترین اور حساس نوعیت کے کیمرے لگے ہوئے تھے جن کی مدد سے یہ طیارہ سوویت یونین کی انتہائی اہم حساس تنصیبات کی تصویریں کھینچ رہا تھا۔ اس تمام واقعہ کی امریکہ اور پاکستان دونوں ہی نے سوویت یونین کے ان الزامات کی تردید کی۔ مگر ہوا یہ کہ اگست 1960ءہی میں طیارے کے پائیلٹ فرانسس گیری پاورز پر سوویت یونین کی ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تو پھر سب کچھ کھل کر سامنے آ گیا ، اس طرح اصل حقیقت پوری دنیانے دیکھ لی۔ 

سرد جنگ: روس کی جاسوسی کے لیے پاکستان کے بڈبیر ایئربیس سے اڑنے والے بدقسمت یو  ٹو طیارے اور امریکی پائلٹ کی کہانی - ہم سب
یہ واقعہ عالمی سطح پر انتہائی اہم تھا پاکستان کی تاریخ میں بھی اسے اہمیت حاصل ہوئی۔اس طرح پوری دنیا کو معلوم ہوگیا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر امریکی فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ سوویت یونین نے اس واقعے کے بعد پاکستان کو کبھی معاف نہیں کیا اور پھر مختلف موقعوں پر پاکستان کو سوویت یونین کے ہاتھوں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی افواج کی جارحیت جو کہ پاکستان کو بے پناہ مسائل سے دو چار کر گئی مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر پاکستان ہی کی حکمت عملی سے سوویت یونین کو پسپا ہونا پڑا اور پھر آج سوویت یونین اپناوجود کھو چکا ہے اور اب عالمی نقشے پر سوویت یونین کے بجائے روس کے نام سے یہ ریاست جانی جاتی ہے۔

سوویت یونین کا انہدام - اہل حرم پاکستان | AhleharamPakistan
18جولائی1969ءکو حکومت پاکستان نے اعلان کیا : امریکہ اور پاکستان کے درمیان دس10سالہ دفاعی معاہدے کے اختتام پر پشاور کے نزدیک بڈبیر کے مقام پر امریکی فوجی اڈے نے اپنا کام بند کر دیا ہے۔ یہ امریکی فوجی اڈا 1959ءمیں حکومت پاکستان کے ساتھ اتفاق سے قائم ہوا تھا۔1960ءمیں سوویت یونین میں گرائے جانے والے امریکی جاسوس طیارےU2یو ٹو نے اسی فوجی اڈے سے پرواز کی تھی اور پھر پوری دنیا کو اس اڈے کی موجودگی کا علم ہوا ۔19اگست1960ءکو ماسکو میں قائم سوویت یونین کی فوجی عدالت نے امریکہ کے جاسوس طیارے U2 یوٹو کے پائیلٹ فرانسس گیری پاورز کو دس سال قید کی سزا سنائی ۔اس مقدمے کا آغاز 17اگست1960ءکو ہوا تھا جہاں فرانسس گیری پاورز نے اعتراف کیاتھا کہ یکم مئی 1960ءکو انہوں نے پشاور کے نزدیک بڈبیر کے فوجی اڈے سے پرواز کا آغاز کیا تھا۔ اس سزا کے ڈیڑھ سال بعد 10فروری1962ءکو اس امریکی پائلٹ کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا ۔ اس کے بدلے امریکہ میں قید روسی جاسوس کرنل رڈولف ایبل کو آزاد کر کے سوویت یونین کے حوالے کیا گیا تھا۔ 

درباره یک اسلحه مخفی و تاریخی در آمریکا | گانز مانیتور|مجله تصویری سلاح
پاکستان کی عسکری تاریخ کا ایک عظیم الشان فضائی معرکہ پاک سرزمین پر4اگست1988ءکو پیش آیا۔ پاک فضائیہ کے اس معرکے میں اس وقت کے سکوارڈن لیڈر اطہربخاری اور سکواڈرن لیڈر توفیق راجہ نمایاں تھے۔ وطن عزیز کا دفاع کرتے ہوئے پاک فضائیہ کے ان شاہینوں نے وطن عزیز کا نام روشن کیا اور عسکری تاریخ میں شاندار کامیابی کی تاریخ رقم کی۔ اس فضائی معرکے کی مختصر تفصیل کچھ یوں ہے کہ روسی جنگی جہازSU25جسے روسی پائیلٹ الیگذنڈرولادیمیررسکوئی اڑا رہا تھا ۔رات کے اندھیرے میں پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوا۔

پاکستان ائیر فورس کا سات ستمبر۔ یوم فضائیہ | Aalmi Akhbar
پاک فضائیہ کے راڈار کنٹرول روم میں کنٹرولر اسکوارڈن لیڈر توفیق راجہ نے رڈار اسکرین پر اپنی عقابی نظروں سے اس جہاز کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیکھ کراطلاع آگے پہنچا دی۔پھر روسی جہاز کو ٹارگٹ کرنے کا ٹاسک فائٹر پائیلٹ سکواڈرن لیڈر اطہر بخاری کے حصے میں آیا۔وہ F16جہاز لے کر اس مشن پر روانہ ہوئے۔

A brief history of F-16 crashes in Pakistan
سکواڈرن لیڈر اطہر بخاری نے روسی جہاز کو پاکستان کی حدود کے اندرما گرایاجبکہ پائلٹ الیگذنڈرولادیمیررسکوئیبیل آﺅٹ کرگیا جسے گرفتار کرلیا۔ یہ پائیلٹ پاکستان میں قید رہا۔ رہائی کے بعد اسے روسی حکومت کے حوالے کر دیا گیا۔بعد میں یہ روسی پائیلٹ جو کہ روس کی فوج میں ایوی ایشن میں میجر جنرل تھا۔ روس کا نائب صدر بنا۔ اس عہدے پر وہ 10جولائی1991ءسے لے کر4اکتوبر1993ءتک رہا۔ اس کے بعد وہ روس کے صوبہ کرسک ابلاسٹ کا گورنر بھی بنا۔روس میں آئینی بحران کے دوران یہ پائلٹ مختصر عرصے کے لیے روس کا قائم مقام صدر بھی رہا۔لندن میں موجود ہمارے دوست خال ایچ لودھی نے اپنی تحقیق میں مزید کہا ہے:۔پاکستان میں روسی پائیلٹ کا جہاز گرانے والے سکواڈرن لیڈر اطہربخاری ایئر مارشل بنے۔ وہ پاک فضائیہ میں وائس چیف آف ایئر سٹاف کے عہدتک پہنچے جبکہ سکوارڈن لیڈر توفیق راجہ ایئرکموڈور کے عہدے پر ترقی پا کر ملیر ایئر بیس کے سٹیشن کمانڈر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

Pakistan air force HD wallpapers | Pxfuel
یکم مئی1960ءکو سوویت یونین نے امریکہ کاU2جہاز جو کہ بڈبیر پشاور سے اڑا تھا اسے مار گرایا تھا۔ پاکستان نے 4اگست1988ءکو پاکستان کی سرزمین پر F16کے ذریعے روس کا SU25جہاز مار گرایا تھا۔اورپھر7 فروری 2019ءکو گروپ کیپٹن الیاس نے بھارتی فائٹر کے پاکستان کی طرف رُخ کو مانیٹر کیا۔ونگ کمانڈر نعمان اور سکواڈرن لیڈر حسن صدیقی ٹاسک ملنے پران پر جھپٹے ۔نعمان کے نشانے پر ابھی نندن کا جہاز آیا۔ ابھی نندن کو گرفتار کرلیا گیاجبکہ دوسرا جہاز پائلٹ سمیت جلتا ہوا مقبوضہ کشمیر میں جا گرا۔

بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری، آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کو 3 سال مکمل

یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے۔یہ بھی ہماری داستانوں میں سے ایک داستانِ عزیمت ہے جو دشمن کیلئے بدترین ہزیمت بن گئی۔ تاریخ ہمیشہ بدلتی بھی رہتی ہے اور حقیقت یہ بھی ہے کہ تاریخ رقم بھی ہوتی ہے۔ پاکستان ایٹمی ریاست ہے اس کا دفاع مضبوط ہے ۔ہمارا دفاع 1971ءمیں بھی مضبوط تھا مگرناتواں ہاتھوں،مفلوج العقل اور مخبوط الحواس افراد کے اختیار میں تھاجس سے پاش پاش ہوگیا۔ایسے ہاتھوں اور دماغوں سے پاکستان کو دور رکھا گیا تو پاکستان کا دفاع یقیناً ناقابل تسخیررہے گا۔

Facts You Did Not Know About Pakistan's Armed Forces

متعلقہ خبریں