دیکھو اُداس بیٹھی ہیں حوا کی بیٹیاں

تحریر: فضل حسین اعوان

| شائع دسمبر 29, 2016 | 15:13 شام

 رفیق چچا پینٹ کرتے وقت بار بار ہمارے فریج کی طرف دیکھتے اُن کا پسینے میں شرابور چہرہ اور اُن کی بوڑھی آنکھیں مڑ مڑ کر فریج کو دیکھتی میرا تجسس بڑھتا گیا اور آخر کار میں بول اُٹھا کہ رفیق چچا پانی چاہیے آپ کو ؟

بولے نہیں بیٹا میں تو یونہی دیکھ رہا تھا ویسے کمال کی شے ہے نہ یہ بھی

پھر تھوڑی سی خاموشی کے بعد بولے
ایک مناسب سا فریج کتنے پیسوں کا آجاتا ہے ؟

میں نے پوچھا کہ چچا آپ کے پاس کتنے پیسے ہیں ؟ تو بولے مجھ کو ایک دن کام کرنے کے 300 روپے ملتے ہیں اور میں

روز 50 روپے بیٹی کے جہیز کے لیے رکھتا ہوں لیکن روز کام نہیں ملتا اِس لیے پچھلے دو سال میں16000 روپے جمع کر پایا ہوں لیکن بیٹی کہ سسرال والوں نے فریج کی فرمائش کر دی ہے ؟

رفیق چچا کی بات سن کر میں ایک گہری سوچ میں گم ہو گیا۔۔
کہ ہمارے گردونواح میں پتا نہیں کتنے چچا رفیق موجود ہیں ؟

طلب جہیز نے چھین لیں اِن کی تمام شوخیاں
 دیکھو اُداس بیٹھی ہیں حوا کی بیٹیاں