یوکرائن:جرم ضعیفی، امریکی وعدے

2022 ,مارچ 5



اہل غرناطہ اب بھی مسیحیوں پر فیصلہ کن حملہ کرنے پر آمادہ تھے۔غرناطہ کا سپہ سالار ’موسیٰ بن ابی غسان آخری سپاہی تک لڑنا چاہتا تھا،مگر ابو عبداللہ بن مولائے ابوالحسن بابِ دل ذہنی طور پر شکست قبول کرچکا تھا۔وہ اور اکثر امرا فرڈی ننڈ سے صلح کا معاہدہ کرنا چاہتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح وہ اپنے لیے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرسکیں گے۔امراء سلطنت سازش میں مصروف ہو گئے۔ پس پردہ مسیحیوں سے رابطے قائم کرنے لگے۔ ان سازشی عناصر کا سر غنہ وزیراعظم غرناطہ ابوالقاسم تھا۔ فرڈی ننڈنے غرناطہ پر قبضے کی صورت میں اس کوغرناطہ کا اہم عہدہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ابو عبداللہ باب دل کی ذہنی شکست میں ابو القاسم کا مرکزی کردار تھا۔بالآخر ابو عبداللہ نے ابو القاسم کو خفیہ سفارتکاری کی اجازت دے دی۔ صلح کی شرائط طے کرلی گئیں۔ آخر کار وہ دن آگیا جو تاریخ اسلام کا سیاہ دن تھا۔2جنوری 1492ء کو غرناطہ کی چابیاں ابو عبداللہ نے فرڈی ننڈ اورملکہ ازابیلا کو پیش کیں۔بابِ دل کانپتے ہاتھوں سے الحمراء کی چابیاں بادشاہ کو دیتے وقت کہنے لگا۔"۔۔۔ خدا کی مشیت کے مطابق ہمارا ملک، مال اور جانیں سب آپکی ملکیت میں ہیں۔"یہ کہتے ہوئے چابیاں ہاتھ سے گر گئیں، اٹھانے کے لئے وہ جھکا تو بادشاہ فرڈی ننڈ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر چابیاں اُٹھاتے ہوئے کہا۔" الحمراء ایسی دولت ہے جس کیلئے ہم تمھارے قدموں میں جھکنے کے لئے تیار ہیں۔ "یہ کسی ڈرامے کا منظر نہیں مسلمانوں کے اقتدارو وقارکے پستیوں میں گرنے کی داستان ہے جس کاہر باب آنسوؤں، آہوں اور خونِ دل سے عبارت ہے۔ پادری اعظم نے قصر الحمراء پر صدیوں سے لہراتا اسلامی پرچم اتار کر صلیب نصب کردی۔ اس طرح سقوط غرناطہ کے ساتھ ساتھ اندلس میں مسلمانوں کا آٹھ سو سالہ حکمرانی کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ الحمرا کی چابیاں حوالے کرنے سے ایک روز قبل غرناطہ میں ناقابلِ دفاع حالات کے پس منظر میں ابو عبداللہ نے وزراء اور امراء کی کونسل سے آخری بار خطاب کرتے ہوئے کہا۔"اپنے باپ سے بغاوت کرکے تاجِ شاہی حاصل کرلینا میرا جرم تھا۔جس کے نتیجے میں دشمن آج ہماری سلطنت تک آ پہنچے ہیں۔میرے اللہ نے میری تقصیر میرے سر پر رکھ دی ہے۔میں نے تمہیں تلوار سے بچانے، قحط سے محفوظ رکھنے کیلئے، تمہاری ازدواج اور بیٹیوں کو انتقامی ہولناکیوں سے محفوظ رکھنے،تمہارا مستقبل، جائیدادیں، آزادی، اور مذہب کی بقا کیلئے حاکمِ اعلیٰ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا کی پناہ میں دیتا ہوں "۔ ابو عبداللہ، اندلس کی آخری مسلم ریاست غرناطہ کا وہ بد بخت حکمران تھا جس نے عین اس وقت اپنے والد ابو الحسن اور چچا محمد بن سعد الزاغل کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا جب وہ اندلس میں عیسائیوں کے مشترکہ لشکر سے اندلس میں مسلمانوں کی بقا کی آخری لڑائی لڑ رہے تھے۔ابو عبداللہ اور فرڈی ننڈ کے مابین طے پانے والا معاہدہ 67(سرسٹھ) نکات پر مشتمل تھا۔جس میں مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔مگر معاہدے کے بعد مسلمانوں پر ایک دن بھی خیر کا نہیں گزرا۔غرناطہ کی گلیوں بازاروں میں خون بہتا رہا۔عزتیں بچانے کیلئے عزت مآب خواتین برہنہ بھاگتی رہیں مگر کہاں جاتیں۔ قصرِ الحمرا کی چابیاں پیش کرتے احساس زیاں کے بوجھ تلے دبے شکست خوردہ،دل شکستہ،افسردہ ابو عبداللہ کی آنکھیں جھکی ہوئی،چہرے پر ہوائیاں اُڑی ہوئی لہجہ گلوگیر،آواز بھرائی ہوئی تھی۔فرڈی ننڈ نے رقت انگیز حالت دیکھتے ہوئے ازراہِ ترحم تسلی دیتے ہوئے کہا۔"ہمارے وعدوں اور دوستی پرشک نہ کرو۔" یہ لمبی چوڑی تمہید فرڈی ننڈ کا یہ فقرہ دہرانے کے لیے باندھی گئی جس میں اس نے بظاہر ابو عبداللہ کو تسلی دیتے ہوئے کہا تھا ”ہمارے وعدوں اور دوستی پر شک نہ کرو“۔ پھر یہ قول جدید تاریخ کی زبان پر رائج ہو گیا۔ امریکی فرڈی ننڈوں کی طرف سے یہ زیادہ استعمال کیا گیا۔شہنشاہِ ایران سے قبل ہمارے صدر ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف کو بھی امریکہ نے یہی کہا تھا۔"ہمارے وعدوں اور دوستی پرشک نہ کرو۔" کرنل قذافی، صدام حسین،حسنی مبارک،مارکوس، حامد کرزئی اور اشرف غنی کو بھی ایساہی یقین دلایا گیا تھا۔ اب یوکرائن کے صدر ولادی میرزیلنسکی کو بھی صدرجوبائیڈن نے ایک کورس کی صورت میں یہی یقین دلایا تھا۔"ہمارے وعدوں اور دوستی پرشک نہ کرو۔"۔ روس کے خلاف زیلنسکی کو ہلہ شہری دینے والوں میں یورپی یونین اور برطانیہ بھی شامل تھے۔ یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانے کا جھانسہ دیا گیا تھا۔ یوکرائن روس کو آنکھیں دکھانے لگاتو روس نے خیر تو نہیں کرنی تھی۔ یوکرائن کو" طاقتوں کی ماں " امریکہ اور اس کے برطانیہ فرانس اور جرمنی جیسے شریر بچوں کی ضرورت تھی۔ یوکرائن ان کی مدد سے متنازعہ علاقوں پر قبضہ مضبوط بنانا چاہتا تھا۔ روس ایک بڑی طاقت ہے۔گو امریکہ جتنی بڑی نہیں ہے۔ یوکرائن کو نیٹو کا حصہ بنانے کا لارا لگایا گیا تھا جس کا حصہ بننے کے بعد یوکرائن کی جنگ میں نیٹو کو بھی کودنا تھا۔ امریکہ اسی بہانے یوکرائن میں اڈے بنا کر روس کی گردن پر سوار ہو جاتا۔ روس نے پہلے وہ علاقے یوکرائن سے کاٹ دیئے جو متنازعہ تھے۔باغیوں کی حکومت کو تسلیم کر کے یو کرائن اور اپنے مابین فاصلہ پیدا کر لیا۔ اب یوکرائن اور روس پڑوسی نہیں ہیں۔ "پڑوسی نہیں بدلے جاسکتے" اس مقولے کی اب مسلمہ حقیقت بدل چکی ہے۔ ولادی میر زیلنسکی کو شدت سے امریکہ اور اس کے بلونگڑوں،شتونگڑوں کی مدد کا انتظار تھا مگر انہوں نے منہ دوسری طرف کر لیا۔ زیلنسکی آنسو بہاتے ہوئے شکوہ کناں ہیں کہ اس نے طوفانوں سے ٹکرا جانے کا مشورہ دینے والے 21 ممالک کے سربراہان نے فون کال کا جواب نہیں دیا۔ اپنے بَل سے بڑھ کر کچھ کرنے کا یہی نتیجہ ہوتا ہے۔ روس کی جارحیت کی بھی مہذب دنیا کی طرف سے حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح تو کوئی بھی کمزورملک محفوظ نہیں رہ سکتا۔کمزور ملکوں کو بھی سوئے بھیڑئیے کی دم پر پاؤں رکھنے سے قبل سوچنا چاہیے۔کسی کی انگخیت پرلومڑی شیر کو پنجا مارے گی 'انجام نخیر' ہی ہو گا۔ یہ وہی یوکرائن ہے جو طاقت کی بلندیوں سے کمزوریوں کی پستی میں اس وقت اتر گیا جب اس نے نیو کلیئر اثاثوں سے دستبرداری اختیار کر لی۔جاپان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو امریکہ کبھی ہیرو شیما اور ناگاساکی کو ملیامیٹ نہ کرتا۔ پاکستان کے پاس ایٹم بم ہوتاتو بھارت مشرقی پاکستان کو الگ نہ کرتا۔ آج پاکستان کے پاس ایٹم بم نہ ہوتا تو پاکستان اپریشن ریٹارٹ میں دشمن کے دو جہاز گرا کر اس کا یہ سرِغرور خاک میں نہ ملا دیتا۔ امریکہ کی طرف سے یوکرائن کا کھل کر ساتھ نہ دینا خانہئ در بند کی طرح سر بستہ راز نہیں ہے۔افغان وار میں امریکہ کی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوئی امریکہ آج ریزیلینس کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ افغان وار دو تین سال اور چلتی تو امریکہ کی اکانوی بھی سوویت یونین کی طرح ڈھیرہوجاتی اور اس کے بکھرنے کا عمل بھی شروع ہوجاتا۔امریکہ سرِدست ایسا رسک لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے امریکہ نے یوکرائن کی جنگ میں کودنے سے گریز کر کے خود کو ٹوٹنے سے بچایا ہے۔ جہاں تک نئے ورلڈ آرڈر کی چہ میگوئیاں کا تعلق ہے تو عالمی منظر نامے پر کوئی تبدیلی وجود پاتی نہیں دِکھتی۔امریکہ بدستور سپر پاور ہے اور رہے گا،تاوقتیکہ کسی ملک میں مداخلت کی حماقت نہ کرے۔ پاکستان کی طرف سے امریکہ کا ہاتھ جھٹکا گیا ہے جو امریکہ کو آگ بگولہ کئے ہوئے ہے۔ ہاتھی آمادہ انتقام ضرور ہے مگر اب کھل کرمحاذ آرائی کی پوزیشن میں نہیں ہے البتہ غداران وطن کی خدمات ہمیشہ پیش رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں