عمیرہ احمد ۔۔۔۔ نوری یا نار ی ؟؟؟؟

2017 ,اگست 28



عمیرہ احمد کے حوالے سے ایک نئی مہم شروع ہو چکی ہے ۔ کوئی انہیں تھرڈ کلاس رائیٹر کہہ رہا ہے تو کوئی عمیرہ احمد کے ناولوں کو کلاسیک کا درجہ دے رہا ہے ۔ کسی کو نمرہ احمد غیر ملکی ادب سے چوری کرتی نظر آتی ہیں تو کسی کو لگتا ہے نمرہ احمد بہت بڑی ناول نگارہ ہیں .یہاں تک کہ ایک محترمہ کا خیال ہے کہ مرد عمیرہ احمد کے خلاف ہو گئے ہیں کیونکہ عمیر احمد کے ناول پڑھنے کے بعد لڑکیوں نے مردوں کو لفٹ کرانی چھوڑ دی ہے اور ان کے جال میں نہیں پھنستیں ۔ اسی طرح ایک مرد کا کہنا ہے کہ عمیرہ احمد شادی سے پہلے کے عشق میں ہیروئن کے چہرے سے ٹپکتے وضو کے قطروں میں بھی رومانس ڈال دیتی ہیں ۔ بات یہاں تک پہنچ گئی کہ کچھ لوگوں نے کہا کہ کلاسیک کا کوئی فائدہ نہیں ۔ ایسا ادب کون پڑھتا ہے جس کی کم لوگوں کو سمجھ آئے ۔ تحریر وہی ہے جو عمیرہ احمد لکھتی ہیں۔ یہاں تک کہ ادیبوں کے ہی واٹس ایپ گروپ میں یہ بھی کہا جاتا رہا کہ عمیرہ احمد نے ایک مخصوص مکتبہ فکر کے اشاروں پر پیر کامل لکھا تھا اور وہی مکتبہ فکر اس ناول کی کمپین کرتا رہا اور یہ ناول دراصل ایک مخصوص مکتبہ فکر یا مذہب کے خلاف لکھوایا گیا تھا ۔ یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ "پیر کامل " صرف نبی اکرم (ص) ہیں تو پھر عمیرہ نے پیر کامل لکھ کر سیرت لکھنے کا دھوکا کیوں دیا گیا ۔ یا تو یہ سیرت ہوتی یا پھر اس کا نام کچھ اور ہوتا ۔ بعض لوگوں نے ان کے ادارے الف کتاب کے بارے میں بھی اعتراض اٹھایا کہ وہاں دس میں سے ایک ائیڈیا یا کہانی اوکے ہوتی ہے لیکن باقی نو ائیڈیاز کہاں جاتے ہیں کس کے استعمال میں آتے ہیں اس کا بھی بتایا جائے وغیرہ وغیرہ.....

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم جس کی حمایت کریں اس کے حق میں بڑی سے بڑی دلیل بھی دیتے ہوئے نہیں ہچکچاتے اور جس کی مخالفت پر اتر آئیں اس کے چلنے کے انداز کو بھی کافرانہ انداز قرار دے دیتے ہیں ۔ فتوی منڈی میں ہونے والی یہ تربیت ہمیں حقائق سے دور لے جاتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ عمیرہ احمد تھرڈ کلاس رائیٹر ہے یا اس کے ناول کو کلاسیک کا درجہ حاصل ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ تعریف یا تنقید کر رہے ہیں ان کا اپنا مطالعہ کتنا ہے ، انہوں نے کلاسیک کا مطالعہ کیا ہے یا نہیں ۔ ادب کے حوالے سے ان کا تحقیقی کام کتنا ہے ۔ وہ کلاسیک اور پاپولر فکشن کے درمیان فرق کو سمجھتے ہیں یا نہیں ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جنہوں نے مجید امجد کو نہیں پڑھا ان کے لئے وصی بھائی کی کنگن بھی کلاسیک ہو سکتی ہے اس میں دو رائے نہیں ہونی چاہئے کہ عمیرہ احمد ایک اچھی ناول نگارہ ہیں ۔ بلا شبہ ان کے انداز تحریر نے سکیڑوں یا ہزاروں لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ انہوں نے اپنا تخلیقی سفر کامیابی سے طے کیا ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان کے پیچھے کوئی مذہبی گروہ ہے یا نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایسا ہے تب بھی اسے عمیرہ احمد کی کامیابی سمجھا جائے گا ۔ ایک رائیٹر کے لئے لکھنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اس لکھے ہوئے کی اشاعت اور اس کی پبلسٹی یا کمپین کے لئے پلیٹ فارم کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر عمیرہ احمد نے کسی پلیٹ فارم کو استعمال کیا بھی ہو تو میرے خیال میں اس میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ یقینا مجھے بھی اپنی کسی کتاب کے لئے کسی پلیٹ فارم کی سہولت ملے تو میں اسے استعمال کروں گا ۔ ہم کتب کی تقریب رونمائی کرواتے ہیں ، کیا آپ نہیں جانتے کہ اس کا کیا مقصد ہوتا ہے؟...ہم کوئی تحریر لکھتے نہیں تو کیا ہماری کوشش نہیں ہوتی یہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے ۔۔ بحرحال میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمیرہ احمد کے ناولوں کو فی الحال کلاسیک میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔ یہ فیصلہ ہم سے بہتر وقت کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم عمیرہ احمد کو تھرڈ کلاس ناول نگارہ بھی نہیں کہہ سکتے ۔ اس وقت کئی ناول نگار اور ناول نگارہ ایسی ہیں جن کا ان چند سو لوگوں کے سوا کسی کو علم نہیں جنہوں نے ان کا ناول پڑھا ہے۔ عمیرہ احمد بہرحال پڑھی جانے والی ناول نگارہ ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ ان کا دور ختم ہو رہا ہو اور لوگ اب اس طرح ان کی تحریر کی جانب مائل نہ ہوں لیکن یہ بہرحال سچ ہے کہ ایک وقت میں انہوں نے ناول نگاری کی دنیا پر حکومت کی ہے ۔ میرے نزدیک عمیرہ احمد پاپولر فکشن کے خانے میں آتی ہیں اور پاپولر فکشن لکھنے میں کوئی برائی نہیں ہے ۔ کلاسیک اور پاپوکلر فکشن مین یہ فرق بھی ہے کہ پاپولر فکشن اپنے عہد مین بہت پڑھا جاتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ گمنامی کی جانب چلا جاتا ہے جبکہ کلاسیک ادب اپنے عہد مین اتنا پاپولر نہ ہو تب بھی اپنے بعد کئی سو سال تک زندہ رہتا ہے ۔ مثال کے طور پر وصی شاہ ایک وقت مین میر و ٖالب سے زیادہ پڑھا گیا اور اس کی کتاب اس سال میر و غالب سے زیادہ فروخت ہوئی لیکن وہ عہد ختم ہونے کے بعد کنگن بکنا بند ہو گئی ، لوگ کنگن کو طاق نسیاں پر رکھنے لگے لیکن میر و غالب ابھی بھی پڑھے جا رہے ہیں۔ عمیرہ احمد فی الوقت پاپولر فکشن کی نمائندہ ہیں وہ کلاسیک کے درجے پر پہنچتی ہیں یا نہیں اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ یہ ممکن ہے کہ ان کے پلاٹ ایک سے ہوں لیکن ہم ناول میں ان کے کنٹری بیوشن سے انکار نہیں کر سکتے ۔ ڈائجسٹ کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے ، ادبی پرچوں کا اپنا مزاج ہے ۔ عمیرہ احمد ڈائجسٹ رائیٹر تھیں ، انہوں نے ادبی پرچوں کے لئے کتنا لکھا یہ میں نہیں جانتا اس لئے میرے پاس ان کا حوالہ ڈائجسٹ رائیٹر کا ہی ہے ۔ آپ کو ان کے پروڈکشن میں انے پر اعتراض ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا یہ جرم تھا ؟ کیا انہیں اپنے مالی معاملات کے لئے کمرشل رائیٹر کے طور پر چینلز میں نہیں جانا چاہئے ؟ میں مختلف چینلز کے لئے سکرپٹ لکھتا ہوں تو کیا اس سے آپ میرے ادبی سفر پر کراس لگا دیں گے ؟ میرے دونوں گروپس سے درخواست ہے کہ تنقید یا تعریف اپنے دائرے میں رہتے ہوئے کریں ۔ آپ محبان عمیرہ ہیں تو انہیں ضرور سراہیں لیکن ایسے بودے دلائل بھی نہ دیں کہ مرد عمیرہ سے خوفزدہ ہیں کیونکہ ان کے ہاتھ سے لڑکیاں نکلی جا رہی ہیں ۔ اگر آپ کی یہی سوچ ہے تو مجھ سے پوچھ لیجئے گا کہ میڈیا انڈسٹری میں ہی میں کتنی ایسی لڑکیاں ہیں جنہوں نے ترقی کے لئے جسم کا سہارا لینے کی کوشش کی اور بلیٹن کے دوران میک اپ روم میں ان کی رکھی پیر کامل موجود ہوتی تھی ۔ عمیرہ نے گند نہیں لکھا یہ اس کی خوبی ہے ۔ اس خوبی کو اتنا ہی سراہیں جتنا حق بنتا ہے ۔ اسی طرح اگر آپ دشمنان عمیرہ میں سے ہیں تو بھی انہیں تھرڈ کلاس کہنے سے پہلے کیٹگری بنا لیں کہ جو عمیرہ سے اچھا یا مقبول نہیں لکھ پائے ان کو کس کیٹگری میں رکھا جائے گا۔ ہمیں یہ تنقیدی مباحثے ایک ایسے ماحول میں کرنے چاہئے جہاں دلائل دیئے جائیں نہ کہ کیچڑ اچھالا جائے اور گالیاں بکی جائیں ۔ عمیرہ احمد قطعا خدا نہیں ہے ۔ ان کی زات سے لے کر کام تک پر تنقید ہو سکتی ہے اور ان کے سبھی قارئین کو تنقید کا حق ہے لیکن تنقید کے اصول تو سیکھ لیں ۔ مکالمہ کے ضابطے تو جان لیں ۔ آپ یہ حق رکھتے ہیں کہ عمیرہ احمد کو صدی کی سب سے بکواس لکھاری قرار دے دیں یا صدی کی سب سے بڑی لکھاری کہہ دیں لیکن اس کے لئے آپ کو بہرحال دلیل دینی ہو گی ۔ دلیل کے بنا کی گئی تعریف یا تنقید کوڑے دان میں پھینک دی جاتی ہے اور گالیاں بک کر اپنے موقف کی حمایت کرنے والوں کو مکالمہ کی میز سے اٹھا دیا جاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو ادب کے ساتھ کہا جاتا ہے " براہ کرم آپ تھوڑی دیر کے لئے باہر چلے جائیں ، ہم کچھ ضروری بات کر رہے ہیں " ۔۔۔۔

(سید بدر سعید)

متعلقہ خبریں