ایسا قبیلہ جس کا دنیا کے ساتھ رابطہ نہ تھا

2016 ,دسمبر 24



نیو یارک (شفق ڈیسک) آجکے اس جدید دور میں پہنچ کر ہم سوچتے ہیں کہ 20 ہزار سال قبل ہمارے آباؤ اجداد کس طرح کی زندگی بسر کیا کرتے تھے؟ مگر یہ انکشاف بہت سوں کیلئے حیرت کا باعث ہو گا کہ آج بھی دنیا میں کئی مقامات پر ایسے قبا پائے جاتے ہیں جو جدید دنیا سے الگ تھلگ جنگلوں میں اپنے 20 ہزار سال قبل کے آباء کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ جنوبی امریکہ کے ایمازون کے جنگلات ان قبائل کے حوالے سے معروف ہیں۔ ان جنگلات میں ایک اور ایسے قبیلے کا انکشاف ہوا ہے جو آج بھی پتھر کے دور کی طرح کی زندگی گزار رہا ہے، جس کا بیرونی دنیا سے کسی طرح کا کوئی واسطہ نہیں۔ یہ قبیلہ برازیل میں پیرویان کے بارڈر کے ساتھ جنگلات میں رہائش پذیر ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں ماہ ریکارڈو سٹوکرٹ نامی فوٹوگرافر نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس قبیلے کی تصاویر بنائی ہیں جن سے ان کی زندگیوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ریکارڈو ایسے ہی ایک قبیلے سے ملنے جا رہا تھا جس سے اس کا قبل ازیں رابطہ ہو چکا تھا اور وہ کئی بار ان سے ملاقاتیں کر چکا تھا۔ تاہم طوفانی بارش کے باعث ہیلی کاپٹر کو راستہ تبدیل کرنا پڑا اور نئے راستے پر جاتے ہوئے اس نے ’’انڈینز‘‘ (Indians) کایہ نیا قبیلہ دریافت کر لیا۔جب پہلی بار ہیلی کاپٹر ان کی خس و خاشاک سے بنی جھونپڑیوں کے اوپر قدرے نیچے آیا تو یہ قبائلی خوفزدہ ہو کر اپنی جھونپڑیوں سے نکلے اور بھاگتے ہوئے گھنے درختوں کے نیچے چھپنے لگے۔ پھر ان میں سے ایک نے ہمت کا مظاہرہ کیا اور درخت کی اوٹ سے نکل کر ہیلی کاپٹر پر تیر پھینکنے شروع کر دیئے۔ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس قبیلے کے لوگ پتوں کی بنائی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اور ان کے جسم پوشیدہ حصوں کے علاوہ کھلے ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا ہتھیار تیر اور بھالے ہیں۔ ریکارڈو سٹوکرٹ کا کہنا ہے کہ ہم 21 ویں صدی کے متعلق سوچیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اب بھی اس دنیا میں ایسے لوگ رہتے ہیں جن کا جدید معاشروں سے کوئی رابطہ نہیں۔ وہ اپنے 20ہزار سال قدیم آباؤ اجداد کی طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔یہ لوگ ہم جدید دنیا کے لوگوں اور ہمارے آلات کو دیکھ کر خوفزدہ ہونے سے زیادہ متجسس ہوتے ہیں۔ وہ مجھے اور میرے پاس موجود چیزوں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں اور میں اس جدید دور میں ان کے طرزمعاشرت کو دیکھ کر تجسس کا شکار ہوتا ہوں۔ انہیں دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں گزشتہ صدی میں مصور تھا۔‘‘ رپورٹ کے مطابق ان قبیلوں کی زبان کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ وہ کون سی زبان بولتے ہیں۔ تاہم یہ لوگ ہم جدید لوگوں کی نسبت زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ ایسے ہر قبیلے کی رہائش گاہوں کے آس پاس کیلے کے پیڑ عام دیکھے جاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق اس نئے دریافت ہونے والے قبیلے کے افراد کی تعداد 100سے 300کے درمیان ہے۔ریکارڈو سٹوکرٹ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہم پر جو تیر پھینکے ان کا مطلب تھا کہ ہمیں پرامن طریقے سے جینے دو، ہمیں تنگ مت کرو۔

متعلقہ خبریں