محبت حلال یا حرام ۔۔۔۔ ویلنٹائن ڈے سپیشل

2017 ,فروری 14

بنتِ ہوا

بنتِ ہوا

تہذیب

bintehawa727@gmail.com



رات کا آخری پہر تھا ، وہ دونوں مزے کی نیند سو? ہوئے تھے ، ، ، ،۔
 نوجوان کی آنکھ کھلی ،اس نے کمرے میں جلتی مدھم لائٹ میں کلاک کو دیکھا ، ، اوہ ،،،! بہت لیٹ ہو گئے ، ، اس نے سوچا ، ، ، ابھی اور آرام کر لیں !! نہیں ، ،اس نے اس خیال کو جھٹکا اور ا±ٹھ کر باتھ روم کی طرف بڑھ گیا ، ، ، ، وہ غسل کر کے باہر نکلا تو اس نے ایک محبت بھری نگاہ اپنی منکوحہ پر ڈالی اور محبت بھری آواز سے اسے بیدار کرنا چاہا ، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا ، وہ دوبارہ باتھ روم میں داخل ہوا،اپنے ہاتھ گیلے کیے اور واپس ا?کر ایک چھینٹا اپنے منکوحہ کے منہ پر مارا ،، اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دیں۔وہ مسکرایا اور اسے تہجد کے لیے خبردار کیا ، ، !!۔۔۔۔۔

یہ تھی وہ محبت بھری کوشش۔۔۔ اس مبارک جوڑے کی۔۔۔۔۔ کہ جس پر اللہ تعالیٰ بھی فرشتوں سے فخر فرماتے ہیں اور ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں ، ان پر خاصی رحمتِ الٰہی کا نزول ہو رہا تھا۔۔!!!۔۔ایک پاکیزہ محبت ، ،!!!۔۔۔۔۔۔۔۔

چودہ فروری کی ایک تاریک شام۔ ، ،۔۔۔!۔۔۔

اسے بار بار لوّ میسج وصول ہو رہا تھا ، اس نے مسکرا کر اسے اوکے کر دیا اور گھر سے نکلنے کی ترکیب سوچنے لگی۔۔ !۔

تھوڑی دیر بعد۔۔۔
وہ اپنے یونیورسٹی فیلو کے ساتھ ایک جدید ھوٹل میں بیٹھی آئس کریم کھا رہی تھی۔۔۔ !۔۔۔۔
! !۔۔
 غیر محرم ہوتے ہوئے اس ملاپ سے ان پر لعنت اللہ تعالیٰ کی طرف سے برس رہی تھی۔۔ لعن اللہ الناظر و المنظور الیہ۔۔۔۔مگر وہ دونوں اس سے بے خبر تھے۔۔۔۔ وہ اللہ تعالیٰ کے غیر محرموں سے اجتناب کے احکامات کی دھجیاں ا±ڑا کر اللہ تعالیٰ کے غضب اور قہر میں داخل ہو رہے تھے , ,اور اللہ کے عذاب کا کوڑا کسی بھی وقت ، کسی شکل میں ان پر برس سکتا تھا۔۔۔ ، ، ، ،

وہ اس کے حسن کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا تھا ، شہوت اس کی آنکھوں میں ناچ رہی تھی۔۔۔
آو¿ ، ، ،۔۔۔
ڈنر کے لیے میں نے ایک سیپریٹ کمرے میں بندوبست کروایا ہے۔۔ ، ،
اور وہ دونوں ایک خوبصورت ، ویل فرنشڈ کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔۔۔
 مگر اسے معلوم نہ تھا کہ آج جو اس کا مدعی عشق ہے ، وہ کل کا بڑا بلیک میلر ثابت ہو گا ، اور کمرے میں لگے خفیہ کیمرے سے بنی ہوئی ایچ ڈی ویڈیو جہاں اس کے نام نہاد محبوب کے لیے کمائی کا ذریعہ ہو گی، وہیں وہ اس کی معصوم زندگی کو تلخ اور ناکام بنا دے گی ، ، ،۔۔۔۔۔۔
 مگر اس وقت تو اس کی آنکھوں پر جھوٹی محبت اور مغربی تہذیب کی نقل کا ایسا پردہ پڑا ہوا تھا کہ۔۔۔۔اسے اپنی عزت ،اپنے خاندان کی عزت کے ا±ٹھتے ہوئے جنازے کا بھی احساس تک نہ تھا۔۔۔ اور وہ ایک ایسی بند گلی میں پھنس چکی تھی جہاں سے واپسی ناممکن تھی ، ، ، ،۔۔۔۔۔۔

مگر وہ خوش تھی ،۔۔۔
ناجائز اظہار ِ محبت کی آزادی پر۔۔۔
ایک بےحیائ دن # ویلنٹائن ڈے#
کی یاد تازہ کرنے پر۔۔۔

 بہت بڑی قیمت چکانے کے باوجود ۔ ۔ ۔ !!

کاش کوئی اس کو سمجھاتا تو آج اندھیروں اور ناکامیوں کے سفر سے وہ بچ جاتی ، ، ،۔۔۔۔۔۔۔

۔ ۔ یا اللہ اُمّتِ مسلمہ کی بچیوں کی حفاظت فرما ۔ ۔ ۔!!۔ ۔ آمین ، !!!۔۔۔۔۔۔۔

نوٹ:اگر آپ بھی اپنا کوئی کالم،فیچر یا افسانہ ہماری ویب سائٹ پر چلوانا چاہتے ہیں تو اس ای ڈی پر میل کریں۔ای میل آئی ڈی ہے۔۔۔۔

bintehawa727@gmail.com

ہم آپ کے تعاون کے شکر گزار ہوں گے۔

متعلقہ خبریں