جہنم کا وائرس

2020 ,فروری 1



آجکل ایک خطرناک وائرس آیا ہے جو کہ چائنا سے شروع ہوا ہے اور آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے اس بات کو لے کر ہر بندہ تشویش میں ہے کہ اگر کہیں یہ وائرس اس کے علاقے میں داخل ہو گیا تو سب کچھ تباہ کر دے گا اس وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی کوئی ویکسین ابھی تک نہیں بنائی جا سکی۔ پوری دنیا کے سائنسدان اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح سے اس کا توڑ نکالا جاسکے۔مگر تاحال وقت اس کا کوئی بھی حل نہیں نکالا جا سکا۔ ابھی تک صرف چائنہ میں آٹھ ہزار کے لگ بھگ مریضوں میں اس وائرس کی تشخیص کی جا چکی ھے ان میں سے جاں بحق ہونے والے مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کا نام کرونا وائرس ہے اس کی ابتداء چائنا کے ایک شہر وہ ہان کی ایک سی فوڈ مارکیٹ سے ہوئی ہے جہاں پر حرام جانوروں کا گوشت پایا جاتا ہے اسی کے پیش نظر چند پاکستانی علماءنے حرام جانور کھانے کو اس وائرس کا ذریعہ بتایا ہے ہے اور اسلامی طرز زندگی کو بہتر قرار دیا ہے جس میں حرام جانور کا گوشت کھانا ممنوع ہے

مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور وائرس بھی معاشرے میں آ چکا ہے۔ جس کی طرف ہم غور کرنا نہیں چاہتے کیونکہ کہ اس میں دنیاوی فائدہ موجود ہے جس کا نام جہنم کا وائرس ہے۔ جو کہ سود کھانے والوں، دوسروں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والوں، اشیاء میں ملاوٹ کر کے بیچنے والوں، دوسروں کی حق تلفی کرنے والوں، رشتہ داروں سے صلہ رحمی نا کرنے والوں اور اسی طرح کی کئی اور روحانی بیماریوں کے پالنے والوں میں پھیل چکا ہے۔ یہ وائرس دیمک کی طرح آ ہستہ آہستہ صحت مند انسان کو روحانی طور پر تباہ کر دیتا ہے۔ جہنم کے وائرس کے آلود زدہ شخص کی تمام عبادتیں صرف ایک دکھلاوا رہ جاتی ہیں۔لوگوں کے نزدیک ایسا شخص حاجی صاحب، قادری صاحب، چوہدری صاحب، پیر صاحب اور استاد کی طرز کا اعلیٰ انسان نظر آتا ہے مگر اللہ کے نزدیک وہ ایک ایسا شخص ہے جو امتحان میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔

جہنم کے وائرس کی خاص بات یہ ہے کہ اسکی vaccine کا فارمولا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں رکھ دیا ہےاور لوگوں کو اس معاملے میں آزادی دے دی ہے کہ جو مریض اپنا علاج کرنا چاہے وہ اس vaccine کا استعمال کر سکتا ہے۔

جہنم کا وائرس، کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک اور ہمیشہ کے لیئے تکلیف دہ ہے۔ کرونا وائرس تو صرف اس دنیا میں نقصان پہنچا سکتا ہے عین ممکن ہے کہ جلد ہی اسکی vaccine بھی تیار ہو جائے گی اور مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہو گی۔ مگر جہنم کا وائرس دائمی وائرس ہے۔جو شخص اس وائرس کا مریض بن کر مرے گا اسے ہمیشہ کے لئے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ جہاں تکلیف ہی تکلیف اور دکھ ہی دکھ ہیں۔

ہمارے لئے کرونا وائرس زحمت میں رحمت ہے جو پر خطر فضا بنا کر سب کی توجہ کو ہمارے اندر چھپے جہنم کے وائرس کی طرف دلا رہا ہے۔ تا کہ ہم ابدی زندگی سے پہلے اس وائرس کو اکھاڑ کر باہر پھینک دیں۔
اور ہمیشہ کے لئے جنت میں مزے کریں۔

متعلقہ خبریں