وزیراعظم پر پہلے سے زیادہ اعتماد کا اظہارِ پی ڈی ایم پٹ گئی اور پیٹتی تہ گئی

2021 ,مارچ 6



وزیرِ اعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس کا اعلان اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018ء میں عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیرِ اعظم بنے تھے جبکہ مارچ 2021ء میں 178 ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کے نعرے بلند کیئے گئے۔ آج قومی اسمبلی کے اجلاس کا آغاز قرآن مجید کی تلاوت سے ہوا جس کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہدایت پر وزیرِ اعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کی قرار داد وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو وزیرِ اعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا طریقہ بتایا۔ قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں، 5 منٹ گھنٹیاں بجنے کے بعد ایوان کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے۔ اسپیکر نے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایوان کے دروازے بند کرائے۔ اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کرنے پر ایوان میں ڈیسک بجائی گئیں۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیرِ اعظم عمران خان کی حمایت میں ووٹ دینے والوں کو دائیں لابی کی طرف جانے کی ہدایت کی۔ جس پر ارکان اعتماد کے ووٹ کے لیے ایک ایک کر کے لابی میں جانے لگے۔ اس دوران وزیرِ اعظم عمران خان تسبیح پر اذکار کا ورد کرتے رہے، بعد میں انہوں نے بھی اپنے ووٹ کا اندراج کرایا۔ اس کے بعد گھنٹی دوبارہ بجائی گئی جسے سن کر اراکین اسمبلی اور وزیرِ اعظم عمران خان اپنی نشستوں پر دوبارہ براجمان ہو گئے۔ سینیٹ انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والے جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی بھی ایوان میں موجود تھے تاہم انہوں نے وزیرِ اعظم کو ووٹ دینے سے انکار کیا۔ حکومتی اراکین کی جانب سے اپوزیشن کی نشستوں پر نوٹوں کے ہار رکھے گئے۔ حکومتی اراکین ’نوٹ کو عزت دو‘ کے پلے کارڈ بھی اپنے ہمراہ لائے تھے جو اپوزیشن نشستوں پر رکھے گئے۔ اپوزیشن رکن محسن داوڑ قومی اسمبلی کے ایوان پہنچے جنہوں نے اپوزیشن نشستوں پر اپوزیشن کے خلاف حکومت کے لگائے گئے کارڈز ہٹا دیئے۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے ایوان میں پہنچنے پر حکومتی ارکان نے نعرے بازی کی۔ آج صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں مشترکہ ناشتے کا اہتمام کیا گیا، جس میں وزیرِ اعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔ وفاقی کابینہ، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی پی ٹی آئی ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے ناشتے میں شریک ہوئے۔ اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو ناشتے کی دعوت دی گئی۔ ایم کیو ایم کے ارکان ناشتے کے لیے ایک ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ناشتے کی بیٹھک میں حکومت و اتحادی مشترکہ حکمتِ عملی طے ہوئی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس پر سیکیورٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے سلسلے میں حکومت کو 180 ارکان کی حمایت حاصل تھی، سادہ اکثریت کے لیے عمران خان کو 172 ووٹوں کی ضرورت تھی جبکہ اپوزیشن کے پاس نشستوں کی تعداد 160 ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے ارکانِ پارلیمنٹ کو ہدایت کی تھی کہ ان کی ذمے داری ہے کہ اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کرائیں جبکہ انہوں نے بطور پارٹی چیئرمین کے ارکینِ قومی اسمبلی کو خط بھی لکھا تھا۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر دیا، اپوزیشن کے انکار کے بعد اب اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت ہی نہیں رہی، ملک میں کوئی وزیرِ اعظم نہیں۔

متعلقہ خبریں