"کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے"۔

2022 ,فروری 18



پشتو کی ایک کہاوت ہے "دا چا پہ شر کی دا چا خیر یی۔" جس کا ترجمہ ہے "کسی کے شر میں کسی کی خیر ہوتی ہے"۔ قیام پاکستان سے لیکر آج تک ہم نے دوسروں کے شر میں اپنی خیر منائی ہے۔ہم نے خود سے کچھ نہیں کیا نا اپنے ادارے مضبوط کئے نہ انڈسٹری بنائی نہ برآمدات بڑھائی۔ تعلیم صحت اور انصاف کسی شعبے پر محنت نہیں کی۔۔۔ پچاس کی دہائی میں ہم نے "سیٹو" اور "سینٹو" کے مزے اڑائے۔ ساٹھ کی دہائی میں سرد جنگ میں امریکہ کا ڈارلنگ بن کر بڈھ بیر میں یوٹو طیاروں کو اڈے دیکر ڈالر بٹورے۔ ستر کی دہائی میں بھٹو صاحب نے عرب اسرائیل جنگوں جے کانت شکرے کا کردار نبھایا اور ڈائیلاگ بول بول کر مفت تیل کے مزے اڑائے۔ اسی کی دہائی میں روس افغانستان والے کھاتے ہم نے خوب "ریمبو تھری" بنا کر باکس آفس پر پیسے بنوائے۔ نوے کی دہائی میں کسی کا شر ہمارے ہاتھ نہیں آیا اور ہماری حالت بہت پتلی ہوگئی۔ دو ہزار کے بعد رحمت خداوندی نے پھر جوش مارا اور امریکہ نے افغانستان پر حملہ کردیا۔ اس شر کا جام لیکر ہم خوب جھومے، اسلحے اور ڈالروں کی برسات ہوئی۔ اس دفعہ ہم اکشے کمار بنے رہے کیونکہ "جو ہم بولتے وہ ہم کرتے اور جو نہیں بولتے وہ ڈیفنٹلی کرتے ہیں"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آٹھ سال ہوئے کہ خدا ہم سے ناراض ہے اور ہمارے اردگرد کوئی شر نہیں ہورہا۔ حالت بہت خراب ہے ڈالر ایک سو ستتر(177) پر پہنچ گیا ہے۔لوگوں کا معیار زندگی جانوروں سے بھی بدتر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔ آئیں سب مل کر اپنے رب کریم سے دعا مانگتے ہیں "اے تمام جہانوں کے مالک امریکہ کا ایران پر حملہ کروادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چین اور امریکہ کی کوئی زبردست سرد جنگ شروع کرادے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعودی اور حوثیوں کی لڑائی ہمارے مکران ساحل تک پھیلا دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ روس اور یوکرین کی لڑائی میں ہمیں فریق بنادے۔۔۔۔۔۔۔ پروردگار ہم تیرے نادان بندے ہیں اگر رحم کا معاملہ نہیں کروگے تو ہم بھوکے مرجائے گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

متعلقہ خبریں