آپ نے بڑی سے بڑی جنگوں کے بارے میں پڑھا ہو گا لیکن یہ ایک ایسی جنگ ہے جو محبت سے بھرپور ہے۔۔۔ ایک بار لازمی پڑھیں

2019 ,اکتوبر 22



بہت جھڑپیں دیکھیں..بڑی سے بڑی wars ہیں..
اور پھر آتے ہیں ایک ہی کلاس میں پڑھنے والے دو بہن بھائی..
بھائی بہت cruel ہوتے ہیں یاررر...بہنوں کی پونی کھینچنا،...بات بات پہ چپت رسید کرنا اور ہر سنجیدہ بات میں ٹوکتے رہنا ایک طرف رہا...بہنوں کے موتیوں جیسے آنسووں کو ہنسی میں اڑانا...اور کوئی بات نہ ماننا بہت شدید ہے..
اور رہیں پھول جیسی بہنیں...
بے چاریاں شدید ناراضگی میں بھی بھائیوں پہ نظر رکھے ہوئے ہوتی ہیں..کیا کر رہا..کیا کھا رہا ہے...کہاں جارہا ہے ...کہاں سے آرہا ہے...
اگر ایک ہی کلاس میں ہیں تو "کیا پڑھ رہا ہے؟"
اندازہ کیجئے اس بہن کی آزمائش کا جسے قسمت اس کے بھائی کی ہی کلاس فیلو بنا دے...
ہم شاید کبھی اندازہ نہ کر پاتے جو اپنے چھوٹے بہن اور بھائی کی کل شام کی بحث نہ سن لیتے...
چھوٹی بہنا وقتا فوقتا ادھر سے ادھر جاتے ہوئے بار بار ہمیں سنائے جا رہی تھی..
"آپی....کل گرینڈ ٹیسٹ ہے ہمارا..!" کوئی دسویں مرتبہ جب اس نے یہی جملہ دہرایا تو ہم نے اکتا کر اسے دیکھا..."تو میں کیا کروں"...مگر ہم نے دیکھا کہ وہ کن انکھیوں سے بھیا کو دیکھ رہی ہے...(اوہ اوہ تو اسے سنایا جا رہا ہے...ہم خوامخواہ ہی سیریس ہو گئے)..ہم کول ڈاون ہوئے...
چھوٹے بھائی کو بھی بالآخر ٹیسٹ کی فکر ہو ہی گئی...چنانچہ کتاب کھول کے بیٹھ رہے...
بہن محترمہ نے یونہی اپنی کتاب سے سر اٹھا کرمطالعے میں غرق بھائی کو دیکھا تو حیران رہ گئیں..کیونکہ بھائی محترم کسی اور چیپٹر کا مطالعہ کر رہے تھے...
اب یہاں سے دلچسپ بحث کا آغاز ہوا..
"اررررے....!"یہ تم کونسا چیپٹر تیار کر رہے ہو...!!"بہن نے آنکھیں چڑھائیں..
"جو دکھائی دے رہا ہے...!"بھائی محترم شان بے نیازی سے گویا ہوئے...
"اررے..اس چیپٹر کا ٹیسٹ نہیں ہے...!"بہنا نے اسے گھورا
"تمھیں کیا...جس کا بھی ہے...!"
" فیل تم ہی ہو گے مجھے کیا...!"بہنا نے واپس اپنی کتاب میں جھانکا...مگر چین کہاں پڑتا تھا...دو منٹ بعد ہی پھر سے گھومی...بھائی ہنوز وہی چیپٹر کھولے بیٹھا تھا..
"تم اتنے ڈھیٹ کیوں ہو؟"
"اور تم اتنی چیختی کیوں ہو.....میرے سر میں درد کر دیا.."اس نے باقاعدہ دونوں کانوں پہ ہاتھ رکھا...
"یااللہ...تمھیں میری بات پہ یقین کیوں نہیں..قسم سے اس چیپٹر کا ٹیسٹ نہیں ہے..."
"جھوٹ....اسی چیپٹر کا ہے...!"
بہنا روہانسی ہو گئیں...
"کلاس میں آنکھیں کھلی رکھا کرو...!"وہ غصے سے کہہ کر وہاں سے واک آوٹ کر گئی...
اس کے بعد بھیا نے دس منٹ تک وہی چیپٹر کھولے رکھا...پھر گھوم کر اس کے کمرے میں جھانکا اور سیدھا ہو کر مطلوبہ چیپٹر کھول لیا...
ہمیں اپنی ہنسی پرکنٹرول کرنا مشکل ہوگیا...

کاپیڈ

متعلقہ خبریں