پانی زندگی ہے

2017 ,مئی 10



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک/ مظہر حسین شیخ): سردیوں کے موسم میں ننھے منے دوست پانی سے دوربھاگتے ہیں اورنہانے کے لئے لاپرواہی سے کام لیتے ہیں چونکہ سردی میں یونیفارم تبدیل کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ نہانا تو دور کی بات،حالانکہ موسم کوئی بھی ہو ہر روز نہانے سے انسان نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ سارا دن ہشاش بشاش چاق و چوبند رہتا ہے‘سردیوں میں روزانہ ایک مرتبہ جبکہ گرمیوں میں دوتین مرتبہ نہانا ضروری ہے۔ آپ نے محسوس کیا ہو گا، جب نیند کا غلبہ طاری ہوتا ہے اور نہ چاہتے ہوئے بھی سونا پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر نیند کو بھگانا ہوتو منہ پر تازہ پانی کے چھینٹے مارنے سے نیند غائب ہو جاتی ہے۔جبکہ گرمیوں کے موسم میں باربارنہانے کو جی چاہتا ہے، شدت کی گرمی میں پیاس کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے اور بچے پانی میں کھیلتے ہیں، گھر میں جب فرش دھویا جاتا ہے تو ننھے مُنے بچے معمولی پانی بھرے فرش پر تیرنے کی کوشش کرتے ہیں ، لیکن یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ جہاں پھسلن ہو وہاں چوٹ لگنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے لیکن بچے اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتے۔پانی کا بے جا استعمال گناہ ہے۔ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب نہانے کے لئے واش روم میں گُھستے ہیں تو ٹب پانی سے بھر بھی جائے تو نل بند نہیں کرتے اور اس طرح کافی پانی ضائع ہوتا رہتا ہے اور یہی حال بجلی کا ہے جس کمرے میں لائیٹ کی ضرورت نہ بھی ہو دن کے اوقات میں بھی لائیٹ جلتی رہتی ہے۔ کسی بھی چیز کا ضیاع اچھی بات نہیں ہمیں ہر چیز کا آگے چل کر حساب دینا ہے۔

ننھے منے دوستو! پانی زندگی ہے اور تعجب اس بات پر ہے کہ ہم زندگی کی پروا نہیں کرتے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دانت صاف کرنے کے لئے جب بیسن کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور دانت صاف کرتے ہوئے بلا وجہ بیسن کا نل کھلا ہی رہتا ہے اور اس طرح پانی کا ضائع ہوتا رہتا ہے۔ ہمیں پانی کے بے جا استعمال کو روکنا چاہئے۔ پاکستان میں ایسے علاقہ جات بھی ہیں جہاں لوگ پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں اور پانی حاصل کرنے کے لئے کئی کئی میل دورپیدل جانا پڑتا ہے۔ سندھ میں بے شمار ایسے گاؤں ہیں جہاں پانی کی بہت قلت ہے اور وہ پانی کا بے جا استعمال نہیں کرتے پانی کی قدر اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے پانی کا معمولی ذخیرہ کیسے کیا؟ایسی جگہ پر جہاں پانی دستیاب ہوتا ہے اپنے گھر میں پانی کا ذخیرہ کرنے کے لئے مرد،خواتین اور بچے برتن اٹھائے لائن میں لگے ہوتے ہیں اسی پانی سے خواتین اپنے روزمرہ کے کام سر انجام دیتی ہیں اور پینے کے لئے بھی وہی پانی استعمال کرتی ہیں۔

زیرزمین پانی کی سطح دن بدن گرتی جا رہی ہے لہٰذا پانی کے استعمال میں نہایت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ یہی پانی کل کو ہمارے کام ہی آئے گا۔ پانی اتنا پیئیں جتنی ضرورت ہے۔ زیادہ پانی ڈال کر آدھا گلاس پی لینا اورباقی پانی بہا دینا بھلا کہاں کی عقلمندی ہے۔اس طرح کسی بھی چیز کو دھونے کے لئے پانی کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی پانی کے ضیاع کے زمرے میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے پانی بہت بڑی نعمت ہے جو بلا تردد آپ کو بڑی آسانی سے مل جاتا ہے۔اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ گرمی کی شدت میں جب ننھے منے نونہال سکول سے گھر آتے ہیں یا کھیل کود کے دوران انہیں شدت کی پیاس محسوس ہوتی ہے اور اس وقت دنیا کا کوئی بھی مشروب پیاس نہیں بجھاسکتا ۔ صرف پانی سے ہی انسان کی پیاس بجھتی ہے اور تسکین ملتی ہے ۔ اگر شدت کی پیاس کے بعد پانی نہ ملے تو انسان کا مارے پیاس کے بُرا حال ہو جاتا ہے۔ اس لئے پانی کو ضائع مت کیجئے اور اپنے بہن بھائیوں کو بھی سمجھائیں کہ اس کا بے دریغ استعمال نہ کریں۔ مثل مشہور ہے کہ فلاں شخص نے اپنا روپیہ پانی کی طرح بہا دیا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم پانی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔موسم گرما کا آغاز ہو چکا ہے اور پانی میں کھیلنا بچوں کا پسندیدہ مشغلہ ہے اور اگر شدت کی گرمی میں بچوں کو کھلا پانی مل جائے تو کیا کہنے۔ اندرون شہر جو بچے بالائی منزلوں پر رہائش پذیر ہیں ان کے لئے پانی نایاب ہے جبکہ پنجاب کے دیہی علاقوں میں رہنے والے ننھے منے بچوں کو پانی کی اس لئے کمی نہیں‘ کھیتوں میں نصب ٹیوب ویل کے ذریعے بچے پانی سے محظوظ ہوتے ہیں۔جونہی موسم گرما کی شروعات ہوتی ہیں پارکوں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔ موسم گرما کی چھٹیوں سے قبل ہر شہر گاؤں سے تعلق رکھنے والے تفریحی مقامات جہاں سبزہ ہی سبزہ ہو ایسے پارکوں کا رخ کرتے ہیں جہاں چھوٹے چھوٹے سوئمنگ پول بنائے گئے ہوں اور بچے اس پول میں نہ صرف ایک دوسرے پر پانی پھینکتے ہیں بلکہ کھلے پانی سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں