وضو

2019 ,نومبر 15



 

وضو کی تعریف
وضو لغت میں خوبصورتی اور پاکی کو کہتے ہیں

وضو شریعت کی اصطلاح میں خاص اعضاء میں پاکی کی نیت سے پانی کے استعمال کو کہتے ہیں۔

وضو کا حکم
وضو کرنا کبھی واجب ہوتا ہے اور کبھی مستحب

أ- تین چیزوں کی وجہ سے وضو واجب ہو جاتا ہے
1۔ وہ چیزیں جن کی وجہ سے وضو واجب ہو جاتا ہے ان میں سے پہلی چیز نماز ہے
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لو اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لو"

2۔ وضو کے وضوب کی دوسری چیز کعبۃ اللہ کا طواف ہے
کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حائضہ عورت سے فرمایا "اس وقت تک طواف نہ کیجیے گا جب تک حیض سے پاک نہ ہو جاؤ"[ اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے]

3۔ وضو کے وضوب کی تیسری چیز قرآن کریم کو چھونا ہے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتے ہیں "قرآن کریم کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں"
ب- ان تین چیزوں کے علاوہ باقی چیزوں میں وضو کرنا مستحب ہے۔
کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "وضو کی حفاظت نہیں کرتا، مگر مومن" [اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے]

ہر نماز کے لیے وضو کرنا مستحب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور دعا کے لیے وضو کرنا مستحب ہے، قرآن کریم کی تلاوت کے لیےوضو مستحب ہے، سونے سے پہلے، غسل سے پہلے، میّت اٹھانے کے لیے اور اسی طرح ہر حدث کےبعد جب نماز پڑھنے کا ارادہ نہ ہو، وضو کرنا مستحب ہے۔
وضو کی فضیلتیں
1۔ وضو اللہ تعالیٰ کی محبت کا سبب ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے"

2۔ وضو امت محمدیہ کی نشانی ہے اس اعتبار سے کہ قیامت کے دن آتے ہوئے ان کے چہرے اور وضو کرنے والی جگہیں چمک رہی ہوں گی۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "میرے امتی قیامت کے دن بلائے جائیں گے تو وضو کے اثر سے ان کے چہرے اور ہاتھ اور پاؤں روشن اور منور ہو ں گے۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی وہ روشنی اور نورانیت پڑھا سکے اور مکمل کر سکے تو ایسا ضرور کرے" [ یہ حدیث متفق علیہ ہے]

3۔ وضو گناہوں اور غلطیوں کا کفارہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "جس شخص نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا تو اس کےجسم سے سارے گناہ نکل جائیں گے یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی" [اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

4۔ وضو سے درجات بلند ہوتے ہیں
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں "کیا میں تم کو وہ اعمال نہ بتاؤں جن کی برکت سے اللہ گناہوں کو مٹاتا ہے اور درجے بلند کرتا ہے؟ حاضرین صحابہ نے عرض کیا، حضرت ضرور بتلائیں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تکلیف اور ناگواری کے باوضود پوری طرح کامل وضو کرنا اور مسجدوں کی طرف قدم زیادہ لینا [المکارہ) سے مراد وہ کام ہیں جن کو انسان اچھا نہیں سمجھتا اور ان کا کرنا اس پر انتہائی ناگوار ہوتا ہے] اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا منتظر رہنا، پس یہی ہے حقیقی رباط، یہی ہے اصلی رباط"[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

وضو کرنے کا طریقہ
1۔ دل میں وضو کرنے کی نیت

2۔ «بسم اللہ» پڑھتے ہوئے وضو شروع کرنا، پس وضو کرنے والا کہے «بسم اللہ»

3۔ اس کے بعد دونوں ہتھیلیوں کو تین مرتبہ دھوئے۔

4۔ پھر منہ میں پانی ڈالتے وقت مسواک کرے۔

5۔ پھر تین دفعہ کلی کرے، تین دفعہ ہی ناک میں پانی ڈالے اور تین دفعہ ہی ناک سے پانی نکالے

(مضمضہ) منہ میں پانی ڈال کر ہلانے کو کہتے ہیں۔

اور (الاستنشاق) سانس کے ذریعے سے ناک میں پانی کھینچنے کو کہتے ہیں۔

مضمضہ اور استنشاق دونوں ایک ہی چلو کے پانے سے کرے اور (الاستثار) ناک سے پانی نکالنےکو کہتے ہیں۔

6۔ اس کے بعد منہ کو تین دفعہ دھوئے اور داڑھی کا بھی خلال کرے اور چہرے کی حدود لمبائی میں پیشانی کے بالوں سے لیکر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے اور چوڑائی میں ایک کان سے دوسرے کان تک ہے۔

7۔ پھر دائیں ہاتھ کو کہنی تک تین مرتبہ دھوئے اور پھر بائیں ہاتھ کو اسی طرح تین مرتبہ دھوئے۔

8۔ اس کے بعد سر کا مسح کرے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ پانی کے ساتھ گیلا کرے اور سر کے شروع سے آخر تک لے جائے اور پھر واپس آخر سے شروع تک لے آئے۔

9۔ پھر ایک دفعہ کانوں کے اندرونی حصے کا شہادت کی انگلی کے ساتھ اور بیرونی حصے کا انگوٹھے کے ساتھ مسح کرے۔

10۔ اس کے بعد دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک تین مرتبہ دھوئے اور پھر بائیں پاؤں کو تین مرتبہ دھوئے۔

11۔ اور آخر میں وضو سے فارغ ہونے کے بعد ان الفاظ میں دعا مانگے" أشهد أن لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله"[ اس حدیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے]

"اللهم اجعلني من التوابين، واجعلني من المتطهرين"[ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے]

"سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك " [اس حدیث کو امام نسائی نے روایت کیا ہے]

متعلقہ خبریں