علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال روح جسم اور خواب کے بارے میں اپنے مشاہادات بیان کرتے ہوئے کیا کہتے ہیں؟۔۔۔ جانئے اس خبر میں

2019 ,ستمبر 27



لاہور (مانیٹرنگ رپورٹ) علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال روح جسم اور خواب کے بارے میں اپنے مشاہادات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں مجھے اپنی زندگی میں چند مشاہدات نے ’عالم ارواح‘ کے وجود کا قائل کر دیا ہے۔ اس ضمن میں پہلا واقعہ تو بھٹو کو پھانسی دیے جانے سے متعلق ہے۔ ہم میں سے کسی کو علم نہ تھا کہ بھٹو کو کب پھانسی دی جائے گی مگر ماہ اپریل کے اوائل میں ایک شب میں اور ناصرہ سو رہے تھے کہ کوئی تین بجے کے قریب اچانک یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے چادر میرے اوپر سے کھینچ کر پرے پھینک دی ہے۔ 
میں ہڑبڑا کر بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ کھلے کالر اور کھلی کفوں کی قمیص اور شلوار پہنے بھٹو نہایت تلخ لہجے میں انگریزی میں بتا رہے ہیں ”لک وٹ دے ہیوڈن ٹو می‘ (دیکھو انہوں نے میرے ساتھ کیا کر دیا ہے) ناصرہ بھی جاگ اُٹھیں۔ کہنے لگیں کہ کیا کوئی ڈرانا خواب دیکھا ہے؟ میں نے جواب دیا ”ابھی ابھی بھٹو یہاں موجود تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں پھانسی دے دی گئی ہے، دوسرا واقعہ میرے پرانے دوست منور حسین بخاری کی موت کا ہے۔ اس رات ہمارا چھوٹا بیٹا ولید ہوائی جہاز پر نیویارک سے لاہور آ رہاتھا۔ ناصرہ کسی کام سے اسلام آباد گئی ہوئی تھیں اور میں خواب گاہ میں اکیلا تھا۔
 رات کوئی دو بجے کے قریب مجھے محسوس ہوا جیسے کوئی کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے۔ میں نے پہلی کھٹکھٹاہٹ تو شاید خواب میں سنی مگر دوسری بار کھٹکھٹاہٹ کے وقت میں یقینا جاگ رہا تھا۔ میں اُٹھ بیٹھا اور سمجھا کہ ممکن ہے باہر تیز ہوا چل رہی ہو۔ پردہ ہٹا کر باہر جھانکا مگر ہر طرف خاموشی اور تاریکی پھیلی ہوئی تھی۔ پھر جس دروازے پر دستک ہوئی تھی‘ میں نے کھول کر دیکھا مگر وہاں کوئی بھی موجود نہ تھا۔ میں ڈر گیا اور طرح طرح کے وسوسوں نے مجھے آ لیا۔ یہی دعا کرتا رہا کہ خداوند تعالیٰ ولید کا نگہبان ہو اور وہ بخیروعافیت لاہور پہنچ جائے۔ 

اگلے روز صبح ہمارے بیٹے منیب نے مجھے فون پر بتایا کہ گزشتہ شب دو بجے میرے دوست منور حسین بخاری حرکت قلب بند ہو جانے سے فوت ہو گئے اور چار بجے بعداز دوپہر ان کا جنازہ ہے، میرے مشاہدے سے یہ تو ثابت ہو جاتا ہے کہ جب کسی کی روح اس جہان سے پرواز کرتی ہے تو جاتے جاتے جسے چاہے اسے کسی غیرمادی یا مادی ذریعے سے اپنی رخصت کی اطلاع دے دیتی ہے مگر اس کے بعد وہ کہاں جاتی ہے؟ اس کے بارے میں قیاس یا ایمان کا سہارا ہی لیا جا سکتا ہے کیونکہ پھر اس سے ملاقات شاذونادر یا تو خوابوں میں ہوتی ہے یا بالکل نہیں ہوتی، ایک اور مسئلہ غور طلب ہے۔ جسم کے اندر روح کا مقام کہاں ہے؟ کیا روح دراصل ذہن ہے جو دماغ میں مقید ہے یا روح کا مسکن قلب ہے؟ ذہن اگر بیمار ہو جائے تو کیا روح بھی بیمار تصور کی جائے گی؟ مجھے اپنے دوست اور تایازاد بھائی مختار کی یاد آ گئی۔ ان کی وفات بیاسی برس کی عمر میں ہوئی‘ وہ اپنی یادداشت کھو بیٹھے تھے۔ میں ان کی بیمار پرسی کے لیے گیا اور ان کا احوال پوچھا۔ نہایت بے تکلفانہ انداز میں جواب دیا ”شکرالحمداللہ میں بخیریت ہوں۔“ قریب کھڑے بیٹے نے بتایا ”اباجان! یہ چچا جاوید ہیں۔ آپ نے انہیں پہچانا نہیں؟“ اس پر یکدم مجھے پہچان کر گلے لگا لیا اور زاروقطار رونے لگے۔ میں انہیں دلاسا دیتا رہا۔ اسی کشمکش میں تقریباً پندرہ منٹ گزر گئے اور ان کا رونا نہ تھما۔ پھر اچانک مجھے اپنے قریب بیٹھے دیکھ کر فرمایا ”آپ سے تعارف نہیں ہوا؟ آپ کون ہیں؟“ چند روز بعد وہ فوت ہو گئے۔ کیا ان کی روح نے یادداشت سے محرومی کی کیفیت میں قفس عنصری سے پرواز کی؟ کیا روح نکلتے وقت جسمانی نہ سہی‘ اپنی ذہنی بیماری ساتھ لے جاتی ہے؟

متعلقہ خبریں