ایک خاتون کے 10شوہر کے انکشاف نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا

2017 ,ستمبر 14



بنکاک(مانیٹرنگ ڈیسک) ہوشیار، خبردار! سوشل میڈیا پر شکار کی تلاش میں نکلنے والی حسیناﺅں کی دل لبھانے والی اداﺅں کے چکر میں نا آئیں ورنہ عمر بھر کی پونجی الگ لٹے گی اور دنیا بھر کے سامنے شرمندگی الگ سے ہو گی۔ انٹرنیٹ پر محبت اور شادی کے نام پر فراڈ کا بازار گرم ہو چکا ہے اور لاتعداد لوگ دلکش چہروں والی مکار حسیناﺅں کا نشانہ بننے لگے ہیں۔
تھائی لینڈ کی پولیس ایک ایسی ہی مکار حسینہ کو تلاش کر رہی ہے جس نے گزشتہ کچھ ہی عرصے کے دوران ایک، دو نہیں بلکہ اکٹھے 10 مردوں کو اپنی مکاری کی لپیٹ میں لے کر کنگال کر ڈالا ہے۔ ویب سائٹ ’ورلڈ وائڈ وئیرڈ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق 32 سالہ جاریاپورن بویائی کے بارے میں پتا چلا ہے کہ وہ فیس بک کے ذریعے مردوں کو اپنی اداﺅں کا دیوانہ بناتی ہے اور پھر ان سے قربت اختیار کرنے کے بعد سب کچھ لوٹتی ہے اور ہمیشہ کے لئے غائب ہو جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس چالاک خاتون کا طریقہ واردات بہت منفرد اور کامیاب ہے۔ ایک متاثرہ شخص نے بتایا کہ ملزمہ سے اس کی ملاقات فیس بک کے ذریعے چند ماہ قبل ہوئی۔ کچھ دنوں کے دوران ہی ان کے درمیان دوستی ہو گئی اور بات ملنے ملانے تک پہنچ گئی۔ متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ ان کے درمیاں قربت کا تعلق بھی رہا، جو اس کی بربادی کا اصل سبب بنا۔ جاریا نے کچھ عرصے بعد اس شخص کو بتایا کہ وہ حاملہ ہو چکی ہے اور اب شادی کئے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اس کی بلیک میلنگ سے تنگ آ کر یہ شخص خفیہ شادی پر مجبور ہو گیا، جبکہ اسی دوران ملزمہ نے مختلف حیلوں بہانوں سے اس سے بھاری رقم بھی لے لی۔ شادی کے بعد وہ کچھ عرصے تک اپنے اخراجات اور رہائش و دیگر انتظامات کی مد میں کافی رقم اکٹھی کر چکی تو ایک دن اچانک غائب ہو گئی، اور جاتے ہوئے جو کچھ مزید ممکن ہوا چرا کر لے گئی۔ 
متاثرہ شخص کا کہنا ہے کہ ملزمہ اسے بہت بھاری نقصان پہنچا کر گئی ہے اور کئی ہفتوں سے اس کے ساتھ رابطہ نہیں ہو رہا۔ غائب ہونے کے بعد اس کی جانب سے صرف ایک ایس ایم ایس آیا، جس میں لکھا تھا ”میں نے تمہارا بچہ ضائع کر دیا ہے۔ میرا پیچھا کرنے کی کوشش بھی مت کرنا۔“
پولیس نے اس شخص کی شکایت پر چھان بین کا سلسلہ شروع کیا تو پتا چلا کہ ایسی واردات کا نشانہ بننے والا وہ اکیلا نہیں ہے۔ ملزمہ نے فیس بک پر درجنوں جعلی اکاﺅنٹ بنا رکھے تھے جن کے ذریعے وہ محبت کے متلاشی نوجوانوں کو اپنے جال میں پھنساتی تھی۔ اب تک کی تحقیقات میں 10 ایسے افراد کا پتا چلا ہے جو اسی طرح میں ملزمہ کے جال میں پھنس کر بھاری نقصان کروا بیٹھے ہیں۔ پولیس شاطر ملزمہ کی تلاش کے لئے سرگرم ہے لیکن تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

 

متعلقہ خبریں