خواتین ڈرپوک ہوتی ہیں پر بزدل نہیں ہوتی۔

2019 ,ستمبر 2




          (ڈاکٹر فوزیہ سعید (ماہر نفسیات
خواتین ! ڈرپوک کیوں ہوتی ہیں؟
    بہت دفعہ مجھ سے یہ سوال کیا گیا۔کہ آپ ماہر نفسیات ہیں یہ بتائیں ۔خواتین ڈرپوک کیوں ہوتی ہیں؟ کیا خواتین کی ترقی تحفظ کے بغیر ممکن ہے؟ 
عورت عام طور پر صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں سے محروم رہتی ہے۔ملازمت اور تربیت کے مواقع بھی کم ملتے ہیں۔معاشرے کی سرگرمیوں میں کھل کر حصہ نہں لے سکتی۔اس طرح تجربات سے بھی محروم رہتی ہے۔یہی کمی آگے چل کر اس کو مردوں سے ایک قدم پیچھے کر دیتی ہے۔
    دراصل کسی بھی ڈر یا خوف کی بنیادی وجہ کا تعلق اس کے ماضی سے ہوتا ہے۔جب پیدائیشی طور پر ماں کا رویہ لڑکے اور لڑکی میں ایک جیسا نہیں ہوتا۔تو لڑکی ڈرپوک ہونا شروع ہو جاتی ہے۔جب کے وہ بائیولوجوکلی مرد سے زیادہ برداشت رکھتی ہے۔اگر کوئی عورت نو ماہ تک کسی بچے کو پیدا کرنے کی تکلیف برداشت کر سکتی ہے۔تو وہ باقی کے مشکل کام بھی انجام دے سکتی ہے۔قائد اعظم نے کہا  عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ ملک کی ترقی میں حصہ لینا چاہیے۔مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے اسلامی ملک میں عورتوں کو عدم تحفط اور دہرے احساس کا سامنا ہے۔او ر روزبروز اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔جیسے گھر سے ہر خوف وہراس ،سڑکوں،بسوں میں عورتوں پر فقرے بازی اور ملازمت کی جگہ پر ہراساں کرنا۔بے حرمتی۔خاندانی دشمنی کا انتقام لینے کے لیے عورتوں سے زیادتی کرنا۔مثلا کاروباری۔سیاہ کاری۔عورتوں پر ہی آئے دن چولہے پھٹے ہیں۔عورت ہی ناموس کے نام پر ماری جاتی ہے۔وغیرہ۔سماجی تشدد کی یہ محتلف قسمیں پورے معاشرے کی سطح پر عورتوں اور لڑکیوں کو خوف وہراس میں مبتلا رکھتی ہے۔جس سے ان میں عدم تحفط کا احساس شدت سے بڑھ جاتا ہے۔والدین اور گھر والے اکژ شہر سے باہر تعلیم حاصل کرنے کے لئے مردوں کو بآسانی جانے دیتے ہیں۔جبکہ پڑھے لکھے والدین بھی لڑکی کو بآسانی گھر سے دور جانے نہیں دیتے۔حکومت نے عورتوں کے حقوق برابری اور با احتیار بنانے کے لئے بہت کام کیا ہے۔حدود آرڈینینس کے اندر تبدیلی لا کر اس قانون کو عورتوں کے خلاف استعمال کرنے سے روکا ہے۔تحریک نسواں بل پر پہلی بار سیاسی طور پر عورت کو لوکل باڈی میں ۳۳ فیصد صوبائی اور قومی اور سینٹ میں ۷۱ فیصد نمائیدگی دے کر عورتوں کو ملکی معاملات میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا۔
    گورنمنٹ کے اداروں میں دس فیصد عورتوں کا ملازمت کا کوٹہ مقرر کیا گیا۔عورتوں کے لئے شیلٹر ہوم اور کرئر سینٹر ہر ضلع میں کھولے۔دیہات کی عورتوں کو اقتصادی طور پر با اختیار کرنے کے لئے جفاکشی پروگرام شروع کیا گیا۔چھوٹے قرضے پروگرام کے زریعے عورتوں کو اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہونے کا موقع فراہم کیا گیا۔مگر ان کاموں نے بھی عورتوں کو تشدد سے پاک معاشرہ نہیں دیا۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ۱۲ وی صدی میں پاکستان کا معاشرہ ۸۱ وی صدی میں جی رہا ہے۔پا کستان میں جاگیردارانہ زہنیت ، مذہبی انتہا پسندی ،قبائلی رسم و رواج عورت کو مرد کی ملکیت سمھجتا ہے۔ایک انسان نہیں۔جب تک یہ سوچ تبدیل نہں ہو گی ہمارا معاشرہ عورتوں کو برابر کا حق دینے کو تیار نہیں ہو گا۔ہمارا مذہب نہ صرف عورتوں کا احترام سکھاتا ہے۔بلکہ عورت اور مرد کے کسی قسم کا امتیاز نہیں پیدا کرتا۔کوئی جنگ یا ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خوااتین اس میں شامل نہ ہوں۔ ۳۷۹۱ ءکے آئین میں عورت اور مرد کو برابری کا حق دیتا ہے۔جس کی بنیاد پر کوئی قانون امتیازی نہیں ہو سکتا۔مگر عموما دیکھا یہی گیا ہے۔مذہبی انتہا پسند گروہ،جاگیردار اور قبائل مل کر عورت کو تعلیم نہ دے کر اس کی صحت کا خیال نہ رکھ کر رسم و رواج کی بھینٹ چڑھا کر ،گھریلو تششدد ، قرآن سے شادی،ونی ،سوارہ کی رسم،وٹہ سٹہ کی شادی،کوڑے مارنے اور غیرت کے نام پر قتل حق سمجھتے ہیں۔اسی لیے اس سال پہلے ۳ ماہ میں ہزراروں عورتوں کو پاکستان میں تششدد کا نشانہ بنایاگیا۔مگر افسوس ہمارا معاشرہ اس کو تشدد نہیں سمجھتا۔یا پھر ہمارا معاشرہ بے حس ہے۔خواتین پر جسمانی اور ذہنی دباﺅ تششدد کی آمدگی کر رہے ہیں۔اسی طرح خوااتین معاشی خوشحالی اور معاشرتی ترقی میں شرکت سے محروم ہو جاتی ہے۔دکھ تو یہ ہے ہمارے ملک کی کسی بھی سےاسی جماعت کے منشور یا ایجنڈے میں اس ظلم کے خلاف کچھ نہں ہوتا ۔اور نہ ہی یہ سےاسی نمائدے نمائشی دوروں،جزباتی تقریرں اور وعدوں کے علاوہ کوئی با معنی قدم اٹھانے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔کسی بھی پارٹی کی ترجیحات میں عورتوں کے حلاف تششدد ،انکا تحفظ شامل نہں ہوتا۔
قائداعظم نے کہا۔ آدھی آبادی کو گھروں میں بندکرنا ظلم ہے۔
حدیث ہے۔ علم حاصل کرو،چاہے تم کو چین جانا پڑھے۔
    علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
آج کی عورت ، فوج میں۔ پولیس میں۔انجیرنگ میں۔ڈاکٹری میں۔ائرپورٹ میں،امحکمہ تعلیم میں،غرض ہر جگہ منوا چکی ہے ۔ اس کے باوجود وہ ڈرپوک کیوں ہے؟
مندرجہ ذیل وجوہات ہیں۔
مردوں کا رویہ۔
۔عورتوں کا رویہ، جن میں ماں ۔ دادی،نانی،سب مل کر اس طرح تربیےت کرتی ہیں،کہ لڑکا شیر بنا کر اور لڑکی کو بزدل بکری بنا کر پالتی ہیں۔۔طلاق کا حق عام طور پر مرد کے پاس ہوتا ہے اس سے بھی عورت خوفزہ رہتی ہے۔
حکومت کی بے حسی۔۵۔قانون بنانے والے اداروروں کا برا رویے۶۔دفتری ماحول میں عورتوں کا حراساں کرنا۔
۔کالجوں اور ےونیورسٹی میں استادوں کا رویہ۔
۔جنسی امتیاز Gender Discrimination
۹۔آزادی رائے کا فقدان۔
۰۱۔قوت فیصلہ میں کمی۔
ماہر نفسیات ہونے کے ناطے میں کہہ سکتی ہوں۔اس خوف کو کم کیا جا سکتا ہے۔مگر ختم نہں کیا جا سکتا۔کےونکہ جو تربیت آپکو بچپن میں والدہ کی طرف سے ملتی ہے اس کا اثر تا زندگی رہتا ہے۔لڑکی جوان ہو جائے تو باپ پریشان ہو جاتا ہے۔ جس سے وہ بھی خوف زدہ رہنے لگتی ہے۔لڑکا جوان ہع جائے توما ں باپ پھولے نہیں سماتے۔عورت کے اندر کا خوف یہ چیزیں حتم نہیں ہونے دیتا۔وہ ترقی کر کے کسی بھی عہدے پر پہنچ جاتی ہے۔مگر اس حوف سے نظریں نہں ملا پاتی۔یہی چیز اسے ڈریارکھتی ہے۔اس کمزوری سے ہی مرد فائدہ اٹھاتے ہیں۔
حل۔ اس کا حل نکل سکتا ہے اگر گھر والے شروع سے تربیےت میں فرق نہ رکھیں۔ حکومت کی حمکت عملی اس میں بہتر کردار ادا کر سکتی ہے۔پاکستان کی ۰۵فیصد آبادی سے کام لیا جا سکتا ہے۔ اگر ان دونوں کی امنصوبہ بندی نہ صرف لکھنے کی حد تک ہو، بلکہ عملی طور پہ قانون سازی کی جائے۔تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔ مگر المیہ یہ ہے قانون بنا بھی دیے جایں تو ان پے عمل نہیں کیا جاتا۔ 
اقبال نے کیا حوب کہا ہے۔
    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری۔

               

متعلقہ خبریں