لڑکی کو وٹس ایپ پے ایسے مسیج ملے کہ پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔خود کشی کا فیصلہ کر لیا اور پھر۔۔۔۔۔

2017 ,مئی 27



کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)آج کے دور میں سوشل میڈیا کا استعمال بہت عام ہو چکا ہے اور خصوصاً نوعمر افراد تو کسی صورت اس سے الگ نہیں رہ پاتے۔ سماجی روابط کیلئے یہ بہت اچھا ذریعہ ہے لیکن بدقسمتی سے کچھ شیطان صفت لوگوں نے اسے بلیک میلنگ اور بھیانک جرائم کا ذریعہ بھی بنا لیا ہے۔ خصوصاً سوشل میڈیا استعمال کرنے والی لڑکیوں اور خواتین کیلئے کوئی بھی ایسا واقعہ ڈراﺅنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی نو عمر لڑکی حبیبہ کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ایک ایسی ہی افسوسناک مثال ہے ۔ ویب سائٹ مینگو باز کی رپورٹ کے مطابق حبیبہ اپنے ساتھ پیش آنے والے دردناک واقعہ کی تفصیل کچھ یوں بیان کرتی ہیں:میں ایک اکیڈمی میں ٹیوشن پڑھنے جاتی تھی جہاں میری ملاقات ایک لڑکے سے ہوئی۔ ہم دونوں او لیول کی تیاری کر رہے تھے۔ ہمارے درمیان بات چیت کا آغاز ہوا تو جلد ہی دوستی اور پیار میں بدل گیا۔ ابتداءمیں تو سب سے اچھا تھا لیکن پھر اس نے مجھ سے برہنہ تصاویر مانگنا شروع کر دیں۔ میں اس بات پر بہت پریشان ہوئی اور اسے منع کر دیا۔ میرے انکار کے باوجود وہ اصرار کرتا رہا اور بالآخر دھمکیوں پر اتر آیا۔
جب میں نے اس کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا تو اس نے میرا فون نمبر کئی لڑکوں کو دے دیا جو مجھے بیہودہ کالز کرتے اور فحش میسج بھیجتے تھے۔ پھر ایک روز مجھے واٹس ایپ پر ایک میسج ملا جس میں میری پانچ سے چھ فحش تصاویر تھیں۔ یہ تصاویر فوٹو شاپ کے ذریعے بنائی گئی تھیں اور ان کیلئے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی میری تصاویر کو استعمال کیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا سے میری تصاویر لے کر میرے چہرے کے ساتھ برہنہ لڑکیوں کے جسم کو ملا کر ایسی تصاویر بنائی گئی تھیں جنہیں دیکھ کر میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔ ان تصاویر کے ساتھ ہی یہ دھمکی دی گئی تھی کہ جلد ہی انہیں میرے عزیزو اقارب تک پہنچا دیا جائے گا ۔ 
یہ صورتحال بے حد خوفناک تھی اور میں نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ کیا کروں۔ اور پھر واقعی یہ تصاویر میرے عزیزوں کو موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ مجھے پے در پے کالز اور میسجزآنے لگے لیکن میرے اندر اتنی ہمت نہیں تھی کہ میں اپنے فون کو چھو سکتی ۔ مجھے اب ایک ہی راستہ نظر آرہا تھا کہ اپنی زندگی کا خاتمہ کر لوں۔ میں نے بڑی مقدار میں نیند کی گولیاں اپنی مٹھی میں بھر لیں لیکن یہ گولیاں کھانے سے عین قبل میں نے سوچا ایک بار دیکھ لوں کہ مجھے میسج بھیجنے والے کیا کہہ رہے ہیں۔ 
اتفاق سے میں نے جس کا بھی میسج دیکھا اس نے میرے ساتھ اظہار ہمدردی کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ کسی نے جعلسازی کر کے میری جعلی تصاویر بنائی ہیں ۔ ان میسجز کو پڑھ کر مجھے کافی حوصلہ ملا اور میں نے خودکشی کا ارادہ ترک کر دیا۔ میری کچھ قریبی سہیلیوں سے بات بھی ہوئی اور انہوں نے مجھے مزید حوصلہ دیا اور کہا کہ میں اپنے والدین کو اس معاملے سے آگاہ کروں ۔ 
اگرچہ یہ بہت مشکل تھا لیکن میں نے اپنے والدین کو سارا معاملہ بتایا۔ انہیں گہرا صدمہ پہنچا لیکن انہیں مجھ سے ہمدردی تھی۔ انہوں نے نہ صرف مجھے حوصلہ دیا بلکہ مجرموں کے خلاف ہر ممکن کارروائی بھی کی۔ میں خوش قسمت تھی کہ میرے آس پاس ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے انتہائی مشکل وقت میں مجھے سہارا دیا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں روز ایسے واقعات پیش آتے ہیں اور نجانے کتنی لڑکیاں اس بھیانک جرم کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ اور اس بات سے خود کو محفوظ رکھنا لڑکیوں کے لیے مشک ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں