اسلام چھوڑ کر یہودی ہونے والا پاکستانی

2019 ,ستمبر 20



 اس شخص کا اصل نام عتیق ہے۔ یہ برطانوی شہری ہے۔ جبکہ اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ یہ شخص ایک دہائی قبل برطانوی اسلام پسند نوجوانوں کی تنظیم "المھاجرون" کا رکن تھا۔ اس تنظیم سے اسے اسکی مشکوک سرگرمیوں کے باعث نکال دیا گیا۔ وہاں سے نکلنے کے بعد اس کے نظریات میں تبدیلی آئی اور اس کی مالی حالت بھی آسودہ ہوتی گئی۔ کچھ عرصے بعد پتا چلا کہ یہ برٹش سیکرٹ سروسز کے لیے کام کرتا ہے۔۔۔ اس کے بعد اس نے سات سال تک برطانوی پولیس میں برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پے رول پر ملازمت کی۔ اس دوران یہ مسلمانوں اور بالخصوص اسلام پسند نوجوانوں کی جاسوسی کرتا رہا اور اس نے لندن سمیت برطانیہ بھر میں بہت سے اسلام پسند نوجوان برطانوی ایجنسیوں سے گرفتار کروائے کہ جن کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ نہ صرف اسلام پہ کاربند تھے بلکہ نوجوان مسلمانوں کو بھی اسلام کے ساتھ وابستہ کر رہے تھے۔
سات سال برطانوی پولیس میں کام کرنے کے بعد یہ شخص کافی عرصہ منظر عام سے غائب رہا۔ اس نے روپوشی کا یہ تمام عرصہ اسرائیل میں موساد کی زیرِ نگرانی و تربیت گزارا۔ جہاں سے یہ شخص ایک مکمل صیہونی بن کر "نور داھری" کے نئے نام سے واپس برطانیہ آیا۔ اور مختلف اسلام مخالف اور صیہونی تنظیموں کے ساتھ منسلک رہا۔ بہت سے برطانوی، امریکی اور اسرائیلی جریدوں میں کالمز و آرٹیکلز لکھنا شروع کیئے کہ جس میں یہ خود کو فخریہ طور پہ صیہونی کہتا رہا۔ اس دوران اس نے "اسلامی دہشتگردی" پہ تین کتابیں بھی لکھیں کہ جس میں یہودیوں کو دنیا کی مظلوم ترین اور مسلمانوں اور بالخصوص عربوں اور فلسطینیوں کو ظالم اور وحشی قوم قرار دیا۔
اس دوران اس نے Islamic theology of counter terrorism نامی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اس وقت یہ اس تنظیم کا سربراہ ہے۔۔۔۔ اس تنظیم کا اصل مقصد برطانیہ میں مقیم نوجوان مسلمانوں، بالخصوص پاکستانی نوجوانوں میں اسلام پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا ہے۔ اور انہیں اسلام کی غلط تشریحات کے ذریعے مذھب سے دور کرنا اور گمراہ کرنا ہے۔ جبکہ اس تنظیم کا ایک مقصد مسلمان نوجوانوں اور بالخصوص پاکستانی نوجوانوں میں فلسطینیوں سے محبت و ہمدردی اور اسرائیل کے لئے پائی جانے والی نفرت کا خاتمہ کرنا بھی ہے۔ اس تنظیم کا خاص ٹارگٹ ٹین ایجر مسلمان لڑکے اور لڑکیاں ہیں۔ کہ جنہیں گمراہ کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔
جبکہ اس تنظیم کو اسرائیلی اور برطانوی حکومت اور دنیا بھر کی صیہونی تنظیموں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ نور داھری کہ جو اس تنظیم کا سربراہ ہے، برطانیہ کی ریاستی سرکردگی میں مسلمان بچوں کی اسکولز وغیرہ میں برین واشنگ کرنے کے لیے باقاعدہ سیمینارز منعقد کرتا ہے۔ کہ جہاں مسلمان بچوں کو اسرائیل اور صیہونیت کی "مثبت تصویر" دکھائی جاتی ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ظالم فلسطینی مظلوم اسرائیلیوں پر کیسے کیسے مظالم ڈھا رہے ہیں اور مسخ شدہ تاریخی حوالوں سے یہ بتایا جاتا ہے کہ یہودی فلسطین کے اصل مالک ہیں اور فلسطینی غاصب ہیں۔

آج کل یہ شخص برطانوی شہر Nottingham میں رہائش پذیر ہے اور ایک عدد ڈرائیونگ اسکول چلا رہا ہے۔ جبکہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی صیہونی سرگرمیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہے کہ جس میں اسکا خاص نشانہ پاکستانی نوجوان ہیں۔ جب یہ شخص اسرائیل سے واپس آیا تھا تو پاکستان بھی گیا تھا اور تب کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت سے اس نے مختلف عوامی اجتماعات میں ملاقاتیں بھی کیں تھیں کہ جس کی اس کے پاس تصاویر بھی موجود ہیں۔ پاکستانی نو عمر بچوں کو برطانیہ بھر میں یہ ان ہی تصاویر کے ذریعے گمراہ کرتا ہے۔ تاہم یہ چار پانچ سال سے پاکستان نہیں آیا کہ جس کی وجہ اس کا پاکستانی ایجنسیوں کے راڈار پہ آنا ہے۔۔۔۔۔ لیکن یہ شخص تاحال اپنی ان ہی پرانی تصاویر کو استعمال کر کے نو عمر پاکستانی لڑکوں اور لڑکیوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ اور اس کا دعوی ہے کہ I'm a proud Muslim and Zionist، اس ہی کی تعلیم وہ پاکستانی نوجوانوں کو دے رہا ہے جبکہ اسکے ساتھ ساتھ یہ شخص پاکستان و اسرائیل کے تعلقات کا زبردست حامی بھی ہے اور اس کے فوائد یہ اپنی تنظیم کی ہر میٹنگ میں پاکستانی نوجوانوں کو گنواتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم برطانیہ میں مقیم اپنے مسلمان اور بالخصوص پاکستانی بہن بھائیوں کو اس صیہونی ایجنٹ سے خبردار کریں تا کہ وہ اس کے شر سے اپنی نوجوان نسل کو محفوظ رکھ سکیں۔۔۔۔ اس پوسٹ کو برطانیہ میں مقیم اپنے عزیز و اقارب تک پہنچائیں تاکہ وہ اس سے باخبر ہو سکیں۔ جزاکم اللہ خیرا کثیرا۔

متعلقہ خبریں