بہت ہوگئی بہانے بازی۔۔۔ حکومت نے اسپتال میں داخل ہونے والے آصف زرداری کو پکڑ کر دوبارہ جیل میں ڈال دیا

2019 ,اگست 30



راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر آصف علی زرداری کو پمز اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جس کے بعد جیل انتظامیہ انہیں اسپتال سے لے کر اڈیالہ جیل روانہ ہو گئی ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو میڈیکل بورڈ کی سفارش پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں گذشتہ دنوں ان کے خون اور یورین کے ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے لیے آنے والی ان کی صاحبزادی آصفہ بھٹو نے انتظامیہ پر اسپتال میں داخل ہونے سے روکنے کا الزام عائد کیا۔انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ پولیس نے مجھے والد سے ملاقات سے روکا اور میرے ساتھ ناروا سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کی صحت اور زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اگر انہیں کچھ ہوا تو ذمہ دار حکومت ہو گی۔آصفہ بھٹو کا کہنا تھا کہ سابق صدر کی صحت کو خطرے میں ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے اسپتال آمد پر اپنے ساتھ ہوئے سلوک پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں آج عدالت کی اجازت کے ساتھ اپنے والد سے ملنا چاہتی تھیں مگر پمز انتظامیہ نے مجھے دیکھ کر اسپتال کے دروازے بند کردئیے۔انہوں نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ جب میں آج اپنے والد سے ملاقات کے لئے اسپتال پہنچیں تو میں نے دیکھا کہ اسپتال انتظامیہ نے اس دوران کسی مریض کو نہ اندر آنے دیا اور نہ باہر جانے دیا جا رہا ہے۔انہوں نے ٹویٹر پیغام میں سوال اُٹھایا کہ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو پورا اسپتال بند کرنے کی اجازت دیتی ہے؟ کون سی اتھارٹی اس سلیکٹڈ حکومت کو مریضوں اور شہریوں کے اسپتال داخلے پر پابندی عائد کرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ مجھے روکا گیا،مجھے دھکا دیا گیا، پولیس کی جانب سے ناروا سلوک کیا گیا۔ کیا مدینے کی ریاست ایسی ہوتی ہے؟

متعلقہ خبریں