کورٹ مارشل: مہاراج کی ایک اور رسوائی

کورٹ مارشل: مہاراج کی ایک اور رسوائی

یہ رویت ہلال کمیٹی کی معاملہ فہمی ہے کہ پاکستان میں رمضان المبارک کی شروعات کی طرح عید بھی پورے ملک میں ایک ساتھ ہورہی ہے۔اُدھر سیاسی درجہ حرارت میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے ۔سپریم کورٹ کی اتھارٹی کو تسلیم کرتے ہوئے حکومتی اتحاد اور اپوزیشن معاملات طے کرنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ عید کی چھٹیوں کے بعد مثبت پیشرفت کی توقع ہے۔عمران خان کی عبوری ضمانتیں ہوچکی ہیں اس کے باوجود ان کی گرفتاری کے خدشات کا اظہار رہورہا تھا مگر اب سپریم کورٹ میں ہونیوالی پیشرفت کے بعدعمران خان کی گرفتاری کا اندیشہ نہیں رہا۔پاکستان کی سیاست سے ذرا ہمسایہ ملک پر ریڈار فٹ کرتے ہیں۔دیکھتے ہیں وہاں کیا چل رہاہے۔آج کا وہاں کاگرما گرم موضوع فضائیہ کے گروپ کیپٹن کا کورٹ مارشل ہے۔یہ کیسے ہوا؟

انسانیت آج بھی زندہ ہے

انسانیت آج بھی زندہ ہے

ہمارے ملک میں گورنمنٹ ہسپتالوں کا تصور کچھ اچھا نہیں ہے۔ جب بھی کہیں سرکاری ہسپتالوں کا ذکر آئے تو 70فیصد لوگ وہاں علاج کروانے سے بھاگتے نظر آتے ہیں ہاں البتہ پرائیوٹ کو ترجیح دینے کے بعد واپس سرکاری ہسپتال کا ہی رُخ کرتے ہیں۔پاکستان بلکہ لاہور جانے مانے گورنمنٹ ہسپتالوں سے بھراپڑا ہے۔دوسرے شہروں میں کسی مریض کی حالت زیادہ خراب ہو تو اسے لاہور کے گورنمنٹ ہسپتال میں ریفر کیا جاتا ہے۔ پنجابی میں ایک لائن بہت مشہور ہے”اینے نہیں بچنا ،اینو لور لے جاؤ“ ۔ بات مذاق کی ہو سکتی ہے لیکن دیکھا جائے تو بات کی گہرائی اپنی کامیابی کا ذکر خود کر رہی ہے۔  میرا گورنمنٹ ہسپتالوں سے واسطہ پڑتا رہا ہے لیکن بس چیک اپ کے لیے گئے اور پھر ٹریٹمنٹ کروا کر واپس آگئے ۔ لیکن حال ہی میں میرا لاہور کے ایک بڑے ہسپتال سے دنوں پر محیط واسطہ پڑا، اس کی مختصر سی روداد پیشِ خدمت ہے۔

الخدمت اور رمضان

الخدمت اور رمضان

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ۔تمام جہانوں کے لئے رحمت بن کر تشریف لائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے نہ صرف انسان بلکہ تمام حیوانات،نباتات نے بھی فیض حاصل کیا۔اج امت مسلمہ میں ماہ رمضان میں جتنا بھی خدمت خلق اور رفاہ عامہ کا کام ہو رہا ہے وہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔الخدمت فاؤنڈیشن ویمن ونگ بھی اسی جذبے سےکہیں پیاسوں کو پانی پلارہی ہے ۔کہیں بھوکوں کو کھانا کھلا رہی ہے۔۔کہیں معزوروں کے لئے  سہارا بن رہی ہے تو کہیں یتیموں اور بیواؤں کی سرپرستی کر رہی ہے ۔معاشی تنگ حالی کی شکار خواتین کو راشن تقسیم کا کام بھی جاری ہے تاکہ لوگ ذہنی آسودگی کے ساتھ ماہ رمضان گزار سکیں۔۔

قصہ دو قصوں کا وہ قصے جو کسی کو جان کی طرح عزیز تھے  ان کے بارے میں کیا اور کیوں وصیت کی گئی  جب لمحوں کا توازن بگڑنے لگا

قصہ دو قصوں کا وہ قصے جو کسی کو جان کی طرح عزیز تھے ان کے بارے میں کیا اور کیوں وصیت کی گئی جب لمحوں کا توازن بگڑنے لگا

زندگی کا سفر بھی بڑا دلچسپ و عجیب ہے اس کی راہ میں آنے والی ہر منزل اپنے ساتھ نئے امکانات، واقعات اور توقعات لے کر آتی ہے دوست اور دشمن زندگی کی راہوں میں خودبخود چلے آتے ہیں۔ وقت اپنی مخصوص رفتار سے چلتا رہتاہے اور اپنے پیچھے یادوں کی ایک دھول چھوڑتا چلا جاتا ہے یادیں کبھی محو نہیں ہوتیں۔ بالخصوص اچھے اور خوبصورت لمحوں کا ایک غیر مرئی لمس دل میں ہمیشہ پھولوں کی طرح شگفتہ و تروتازہ رہتا ہے۔ ماضی خوبصورت ہوتو اس کی یادیں بڑی کربناک ہوتی ہیں اور اگر ماضی کربناک ہوتو اس کی یادیں انسان کو حوصلہ بخشتی رہتی ہیں۔ زندگی میں ہزاروں لوگ آئے اور بچھڑ گئے۔ ہزاروں ہی واقعات دل پر قیامت برپا کرتے ہوئے گذر گئے۔ زندگی انہی خوشگواریوں اور ناہمواریوں کا مجموعہ ہوتی ہیں مگر کچھ لوگ اور ان سے جڑے ہوئے واقعات اور لمحات ایسے ہوتے ہیں جو بادی النظر میں نہایت معمولی اور بے وقعت ہوتے ہیں لیکن انسانی محسوسات اور ادراک کیلئے ایسے اہم ہوتے ہیں کہ ان کی یادوں سے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا۔ لمحہ لمحہ کرکے ایک چشم کشا داستان بن جاتی ہے۔

سائنس نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا!

سائنس نے ہماری زندگی کو آسان بنا دیا!

سائنس نے بہت سی مشکلات کا حل پیش کیا ہے اور انسان کی زندگی کو آسان بنانے میں بہت حد تک مدد کی ہے۔ سائنس نے بیماروں کی صحت یابی کے لیے مختلف وسائل کو جنم دیا ہے۔ بہت سے لاعلاج مریض سائنس کی وجہ سے علاج پانے لگے ہیں۔ مسلمان کیمیا دان ابنِ سینا نے بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے ادویات کے نسخے تیار کئے جو رہتی دنیا تک کارآمد رہیں گے۔

گیلے روز و شب اور ہم

گیلے روز و شب اور ہم

برستے روز و شب ، یخ بستہ در و دیوار۔۔۔ ایسے موسم میں ٹھنڈ سے ٹھٹھرتے بچے ، بڑے اور بوڑھے ، نرم و گرم لحافوں میں دبک کر مختلف مشاغل میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور سردی سے فرار کی کوشش میں لحافوں کی پناہ میں پرسکون بیٹھے ہوتے ہیں۔

امبر شہزادہ سے سلیم کرلا اور اب اختر پاوہ۔۔۔۔۔۔ اختر لاوا ، سلیم کِرلا اورڈاکٹر امبرشہزادہ جیسے کردار  گھٹن کے ماحول میں ہمارے چہروں پر تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر خوشیاں بکھیرتے ہیں

امبر شہزادہ سے سلیم کرلا اور اب اختر پاوہ۔۔۔۔۔۔ اختر لاوا ، سلیم کِرلا اورڈاکٹر امبرشہزادہ جیسے کردار گھٹن کے ماحول میں ہمارے چہروں پر تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر خوشیاں بکھیرتے ہیں

سیاسی ماحول کتنا آسیب زدہ ہے۔ پاکستانی گھٹن اور حبس محسوس کرتے ہیں۔ گذشتہ سات آٹھ ماہ کا عرصہ عوام پر قیامت بن کر ٹوٹ رہا ہے۔ مہنگائی کے طوفان کے تھپیڑے جیتے جی مار رہے ہیں۔اس ماحول میں بھی اگر تفریح کے مواقع میسر آتے ہیں تو لوگ زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو انجوائے کرتے ہیں۔ آج کل لاہور دا پاوا اختر لاوا کردار بڑا شہرت پا رہا ہے۔ لاہوریئے خاص کر اس بحرین پلٹ لاہوریئے کی مذاحیہ بڑھکوں کو انجوائے کرتے ہیں۔

قابل بنیں انگریز نہیں!

قابل بنیں انگریز نہیں!

٭ترکی اور ترک لوگوں کی اپنی زبان سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ آپ کو شاید ہی پورے ترکی میں کوئی ایک ترک ڈاکٹر بھی ایسا نظر آئے جو انگریزی لفظ ” پین ” (درد) کے معنی جانتا ہو۔ اگر آپ ترکی نہیں بول سکتے یا آپ کے ساتھ کوئی ترجمان نہیں ہے تو پھر آپ کا ترکی گھومنا خاصا مشکل ہے۔

ورلڈ کپ فٹ بال اور کھیلوں میں عالمی سازشیں

ورلڈ کپ فٹ بال اور کھیلوں میں عالمی سازشیں

فٹ بال کئی ممالک کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ چار سال منعقد ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا ایونٹ ہے۔ 1930ءسے ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا شروع ہوا۔ برازیل سب سے زیادہ 5مرتبہ چیمپیئن بن چکا ہے۔ جرمنی تین اور فرانس، اٹلی ، ارجنٹائن دو دو بار کپ جیت چکے ہیں۔ برازیل تو فٹ بال میں مصروف ہونے کے باعث دنیا میں جانا جاتا ہے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد جب بھی ہوتا ہے دنیاکی توجہ اسی جانب مبذول ہو جاتی ہے۔ 2018ءمیں عالمی کپ روس میں ہوا، جس پر 18ارب ڈالر اخراجات آئے تھے۔18ارب ڈالر بڑی رقم ہے۔ ہماری حکومت سے آئی ایم ایف سے سوا ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے ناک سے لکیریں نکلوائی تھیں۔ عالمی کپ آج تک مسلم ممالک میں سے کسی کے حصے میں نہیں آیا۔

سفر نامہ کشمیر......زمیں کی جنت

سفر نامہ کشمیر......زمیں کی جنت

قدرت کبھی کبھی ایسے سرپرائز دیتی ہے کے زندگی کے سفر میں، ذہن و دل پر جمی پریشانیوں کی اداسیوں کی دھول پل بھر میں دھل جاتی ہے۔نظریں ایسے نظارے دیکھتی ہیں کہ خاک سے بنی انسانی ہستی خود بخود قوس و قزح کے سبھی دلنشیں رنگ اپنی ذات کے اردگرد بکھرے ہوئے محسوس کرتی ہے۔مجھے بھی پچھلے دنوں قدرت کی جانب سے ایسا ہی خوبصورت موقع ملا،جب اچانک دن کے ایک بجے مجھے پر خلوص سا پیغام اصرار کے ساتھ موصول ہوا کے شام چھ بجے کشمیر جانا ہے۔بس تیار رہیے گا

Loading…