"فاروق الحق"

2022 ,اپریل 30



فاروق احمد خان لغاری پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ناقابلِ فراموش اور" سبق آموز" کردار ہیں۔وہ بے نظیر بھٹو کے معتمد ساتھیوں میں سے تھے، محترمہ کی ان پر اعتماد کی انتہا تھی کہ دوسری مرتبہ وزیر اعظم کے منصب پرمتمکن ہوئیں تو لغاری کو صدر پاکستان کا عہدہئ جلیلہ تفویض کردیا۔ اُس دور میں صدر اختیار ات کا منبع و محور تھا۔وہ 58ٹو بی حکومت توڑنے کے اختیارات سے لیس تھے۔ بے نظیر بھٹو کو اپنی حکومت کے خلاف اپنے صدر کی طرف سے ان اختیارات کے استعمال کا شائبہ تک نہیں تھا۔ ان کی یہ خوش فہمی یا غلط فہمی جلد دور ہو گئی۔ لغاری صاحب نے بڑی بے خوفی، اور بے دردی سے اختیار استعمال کرتے ہوئے اپنی محسن پارٹی کی گردن پرپانچ نومبر 1996ء کو خنجر چلا دیا۔ بے نظیر بھٹو کا اس اقدام پر دکھی ہونا، غم و غصہ اور اشتعال میں آنا فطری امر تھا۔اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے صنم کو وہ صدر بننے سے پہلے اور صدر بننے کے کچھ عرصہ بعد تک فاروق کہا کرتی تھیں۔طاقت کے خمار میں بینظیر کو آنکھیں دکھانے لگے تو تیور بھانپ کے انکوفاروق بھائی کہنے لگیں۔ ان کو محترمہ کی زبان سے فارق بھائی سن کر چڑ ہونے لگی تھی۔ وہ شاید اپنی محسنہ کی زبان سے آپ جناب،صدر صاحب،قبلہ، محترم جیسے الفاظ سننے کی خواہش رکھتے تھے۔ شب خون مارے جانے کے بعد محترمہ نفرت آمیز لہجے میں ان کو فاروق الحق کہا کرتی تھیں۔ضیاء الحق نے بے نظیر بھٹوکے باپ ذوالفقار علی بھٹوکو تخت سے اتار کر تختہ دار پر چڑھایا تھا۔ "فاروق الحق" نے اپنے محسنوں کے اقتدار کو پھانسی لگادیا۔فاروق الحق اُن دنوں بے وفائی،احسان فراموشی اور محسن کُشی کا استعارہ بن گیا تھا۔ جس روز فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت کا خاتمہ کیا اسی روز اپنے اقدام کو جائز ثابت کرنے کے لیے پریس کانفرنس کی۔ وہ عمدہ سوٹ میں ملبوس تھے۔ دھاری دار شرٹ سرخ ٹائی سمیت سوٹ، لگتا تھا انہوں نے اسی پریس کانفرنس کے لیے تیار کروایا تھا۔ وہ بڑے دبدبے، طنطنے اور طمطراق کے ساتھ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کی وجوہات بیان کر رہے تھے۔ وہ پارٹی کی طرف سے خیرات میں صدر بنائے گئے تھے۔کانفرنس میں خود کو اس دور کا ارسطو، افلاطون، سقراط اورعقل کل ظاہر کر رہے تھے۔متقی پرہیزگار تہجد گزار کی شہرت رکھنے والے لغاری صاحب اطمینان سے پہلو بدل بدل کرگفتگو کرتے ہوئے وہ رعونت تکبر اور غرور کے ساتویں آسمان پر بیٹھے تھے۔فاروق لغاری نے بعد میں ملت پارٹی بنائی مگر وہ سیاست میں اپنی عزت و وقار برقرار رکھ سکے نہ سیاست میں کوئی معرکہ آرائی کر سکے۔ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہواہے۔ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو گئی۔ایک بیچ گِھس گیا، پِھس گیا اور پھٹ گیا۔ عمران خان نے شہر شہر جلسے کئے اور سیاست میں کہرام بپا کر دیا۔ عمران خان کے خلاف جو کچھ ہواعمران خان اسے امریکی سازش قرار دیتے ہیں مگر یہ مقتدر حلقوں کی دوسرے فریق کی حمایت کے بغیر ممکن نہیں تھا۔فوجی سربراہ کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی ہم آہنگی مثالی تھی۔زبان زدِ عام ہے کہ اکتوبر میں ڈی جی، آئی ایس آئی کی تقرری پر دونوں کے مابین دراڑ پڑی جو ایک خلیج کی شکل اختیار کر گئی۔حکمت کی کونپلیں،دانائی کے شگوفے اوردانشوری کے چشمے یہیں سے پھوٹتے ہیں۔یہ تقرری انا کی جنگ بن گئی۔ وزیراعظم نے اسی تقرری کو بعدازاں رولز کے مطابق ہونے پرقبول کرکے دراڑ کو پُرکرنے کی کوشش کی۔مگر دوسری طرف انا ہمالہ بن چکی تھی جسے تسکین چھیڑ خانی کرنیوالے کوگھر بھجوا کر ملی۔ عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ہو جاتا ان کی جگہ ایسے لوگ آجاتے جن کے کردارپر انگلی اٹھانے کی گنجائش نہ ہوتی تو عمران خان کو شہر شہراتنی پزیرائی ملتی نہ ضمانتوں پر رہا لوگوں کواقتدار میں لانے والوں کوسبکی کا سامناہوتا۔ آج ادارے اور سٹیک ہولڈر سب کے سب عمران خان کے خلاف ہیں۔ یارلیمنٹیرینز کی اکثریت بھی ادھار کھائے بیٹھی ہے۔ مگر بادی النظر میں عوام کی اکثریت عمران کے ساتھ ہے۔اس کا ثبوت ایک تو عمران خان کے میگا جلسے ہیں اور دوسرا کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے پی ٹی آئی کے حق میں ہوشربانتائج اور ہنگوسے تحریک انصاف کے امیدوار کی بڑے مارجن سے جیت ہے۔ ایاز صادق نے ابھی نندن کی گرفتاری اور رہائی کے حوالے سے ہمارے چیف کی ٹانگیں کانپنے کی بات کی تھی۔ عمران خان کو گھر بھجوا کر کسی کی ٹانگیں تو نہیں کانپیں شاید ضمیر پر کبھی بوجھ محسوس ہوتا ہو۔ سیاست سے لاتعلق اور نیوٹرل رہنے کے الفاظ کی حد تک بات ضرور کی جاتی رہی مگر عملاً اس کے بر عکس ہوا اور ہو رہا ہے۔فاروق لغاری نے جس لب و لہجے میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے پر پریس کانفرنس کی تھی اس کی جھلک یا کیفیت جنرل صاحب کی لاہور میں سابق سنیئر فوجی افسروں کے ساتھ گفتگو میں بھی نظرآئی۔ چند روز میں "امپورٹڈ حکومت" نے جو کار ہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اس سے لگتا ہے "زرداریف" (زرداری اور نواز شریف)نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ تقرر و تبادلے شروع، جرائم پیشہ لوگوں کے نام ای سی ایل سے خارج، آئی ایم ایف کی شرائط پرقرض کا حصول، ایوانِ وزیر اعظم میں پُرتکلف اور مہنگی افطاریاں اور پارٹیاں، جہاز بھر خاندان کے لوگوں، اتحادیوں اور حامیوں کو عمرے پر لے جانا۔ یہ سب تاریخ کو ٹھینگا دکھانے والی بات ہے۔ عمران خان کی طرف سے آج کے سول حکمرانوں کے نام لے کر ان کو میر جعفر اور صادق کہا جا رہا ہے۔ کچھ لوگوں کااس حوالے سے اشارہ فوج اور عدلیہ کی اعلیٰ شخصیات (چیفس)کی طرف بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت کچھ کہا جا رہا ہے۔ اس میں بہت کچھ غیر حقیقی بھی ہے،مگر سب کچھ کوغیر حقیقی نہیں کہا جاسکتا۔ چیف جسٹس صاحب کی طرف سے کہا گیا کہ ہمیں تنقید کی کوئی پروا نہیں قوم کی خدمت کرتے رہیں گے۔بڑے ادب سے گزارش ہے کہ ججوں سے قوم کی خدمت کی نہیں قانون کے مطابق فیصلوں کی توقع ہے۔قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انصاف بڑی بولی دینے والے کے لیے بک رہا ہے۔فائز عیسیٰ کے یہ ریمارکس کسی بھی دور کے حالات کے تناظر میں ہوں اسے خوش قسمتی نہیں کہا جا سکتا۔ میر جعفر اور میر صادق نے اپنے اقدامات سے کبھی رجوع کیا نہ شرمندگی کا اظہار کیا۔ آج جن لوگوں کو ایسے القابات سے نوارا جا رہاہے ان کے پاس اصلاح احوال کا موقع اور وقت موجود ہے۔ آج کوئی اقتدار کی اونچی مچان پر ہے تو بھی طنزو تنقید کے تیر برس رہے ہیں۔ایک روز دنیا سے جانا ہے اور اس سے پہلے ریٹائر ہونا ہے۔ایسے الزامات اور القابات کے ساتھ عوا م کو چھوڑیں اپنے ہی خاندانوں اور اقارب کا سامنا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ادارے اور ان کے سربراہان قوم کے سر کا تاج شملہ اور پَگ ہیں۔پگڑی سروں پر ہی سجتی ہے۔

متعلقہ خبریں