آرمینیا اور آزر بائیجان کی مختصراً تصیل

2020 ,ستمبر 28



آرمینیا اور آزر بائیجان باقاعدہ تب آزاد ہوئے جب روس کے ٹکڑے ہوئے سویت یونین جب ٹوٹاتب انیس سو اکانوے کے بعد یہ دونوں نئے ملک بن گئے پہلے یہ روس کا حصہ تھے۔ اور جب سے ان کا وجود قائم ہوا تب سے ان میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ دونوں الگ الگ ریاستیں تھیں لیکن ان میں سب سے بڑا تنازعہ انیس سواٹھاسیمیں شروع ہوا تھا۔آذربائیجان کے ایک طرف روس اور جورجیا ، آرمینیا اورایران ہے اس کے علاوہ سمندر کا ایک بہر بڑا علاقہ اس کے ساتھ لگتا ہے۔آذربائیجان کے بلکہ بیچ میں ایک علاقہ ہے جسے کرباخ کہتے ہیںاس میں کاراباخ بھی کہتے ہیں اور نگورنو کاراباخ بھی کہتے ہیں۔ 
کاراباخ کا یہ علاقہ قبل مسیح سے یعنی عیسیٰؑ سے بھی پہلے کاہے یہ علاقہ لگ بگ پچیس سو سال سے مقامی باشندوں کی ملکیت ہے اور شروع سے وہی لوگ اس پر قابض ہیں۔یہ علاقہ دراصل آذربائیجان کا ہی حصہ ہے ۔ 
اگر آرمینیا کی بات کی جائے تو آرمینیا کو زمینی راستہ ہوئی نہیں لگتالیکن اس کے باوجود آرمینیا کی فوجوں نے اس علاقہ پر یعنی کاراباخ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ نائن ٹینز کے شروع میں انہوں سے اس علاقہ پر قبضہ کیا تھاتب سے لے کر اب تک ان کا اس جگہ پر قبضہ ہے۔یہاں کی مقامی آبادی میں سارے مسلمان تھے۔ آرمینیا نے ان پر بہت زیادہ تشدد اور جبڑ کیا۔ ایک لاکھ لوگ یہاں سے ہجرت کر کے آذربائیجان چلے گئے جو مسلمان تھے۔چھے ہزار لوگوں کو ایک ہی دن میں ایک ہی محاذ پر مار دیا گیا تھاجبکہ تیس ہزار کے قریب لوگ یہاں شہید ہو چکے ہیں۔اور کئی آرمینیا کے لوگ بھی یہاں مارے گئے ہیں۔ آرمینیا نے یہاں زبردستی قبضہ کیا ہے کیوں کہ وہ اپنی جگہ بڑھانا چاہتا تھا۔
 خیر اگر میں وہاں موجود مسجد کی بات کرو جس کا نام آرگام۔ یہ اٹھاراں سو ستر میں تعمیر ہوئی تھی اور ایک مسلمان نے اسے تعمیر کیا تھا۔ کاراباخ پر قبضہ کرنے کے بعد انہوں نے اس مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لیے اس مسجد کی توہین کی۔ یہ مسجد بڑی مضبوط ہے اس کے باوجود اسے گرانے کی کوش کی گئی۔ یہاں جنگلی جانوروں اور مویشیوں کو مسجد کے اندر باندھا۔اور اس کی تصویریں بنا کر مسلمانوں کوے جذبات کو بھرکانے کی کوشش کی تاکہ مسلمان احتجاج کریں اور ہم ان پر گولیاں چلائیں انہیں ماریں اور ان پر مزید غلبہ حاصل کریں۔
خیر ان کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن اس بار جو جنگ شروع ہوئی وہ ایسے ہوئی کہ 16ستمبرکو ایک لڑائی ہوئی جس میںایک آرمینی فوجی مارا گیا۔اس کے پانچ دن بعد ایک اور لڑائی ہوئی اور ایک آذربائیجان کا سارجنٹ شہید ہوا۔ان جھڑپوں میں سویلیئن بھی مارے گئے ہیں جن میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔اس سے پہلے 2014میں ہونے والی 4دن کی جنگ میں اٹھاسی آرمینیا کے فوجی جبکہ30سے زائد آذربائیجانی وجی شہید ہوئے تھے۔
متنازعہ ریجن نگورنو کاراباخ کے سرحدی علاقے میں ا?رمینیا اور ا?ذربائیجان کی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ مسلم علاقے پر مسیحی علیحدگی پسندوں کا قبضہ اس علاقائی تنازعہ کا باعث بنا۔ آذربائیجان کی جوابی کارروائی میں آرمینیا کے 16 فوجی ہلاک اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ جھڑپیں 27 ستمبر کی صبح سے نگورنو کاراباخ میں ہو رہی ہیں۔ متنازعہ علاقہ نگورنو کاراباخ کے صدر ا?رائیک ہاروتیونیان کا کہنا ہے کہ صورتحال سے نمٹنے کے لئے مارشل لا نافذ کر دیا گیا ہے۔ ا?رمینیا اور ا?ذربائیجان ایک دوسرے پر جھڑپیں شروع کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ا?رمینیا کی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ا?ذربائیجان کی فوج نے نگورنو کاراباخ کے خطے کے شہری علاقوں میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یریوان حکومت نے اس علاقے کے مرکزی شہر پر بھی گولہ باری کا الزام لگایا ہے۔ جوابی کارروائی میں دو لڑاکا ہیلی کاپٹر اور تین ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ دوسری جانب ا?ذربائیجان نے سرحدی علاقے میں ا?پریشن شروع کرنے کی اطلاع تو دی ہے مگر شہری علاقوں پر بمباری کی تردید کی ہے۔ ا?ذربائیجان کی وزارت دفاع کے مطابق ا?رمینیا کی جنگی سرگرمیوں کے رد عمل میں اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ٹینکوں، میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کو حرکت میں لایا گیا ہے۔ فریقین ایک دوسرے کے بھاری جانی اور مالی نقصانات کے دعوے کر رہے ہیں۔ ا?رمینیا کے مسیحی علیحدگی پسندوں نے نگورنو کاراباخ پر 1990 کی دہائی کے ا?غاز پر قبضہ کر لیا تھا۔ اب یہ ا?رمینیا کی فوج کے کنٹرول میں ہے۔ بین الاقوامی برادری نگورنو کاراباخ کو مسلم اکثریتی ملک ا?ذربائیجان ہی کا حصہ قرار دیتی ہے۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق آذربائیجان نے آرمینیا کے6 دیہات کا دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ا?ذر بائیجان کی فوج کے مطابق کئی فوجی تنصیبات اینٹی ایئر کرافٹ میزائل سسٹم اور فوجی گاڑیان تباہ کر دیں ادھر صدر یورپی یونین نے آرمینیا اور آذربائیجان سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ وہاں مارشل لاءلگا دی گئی ہے۔ صدر یورپی یونین نے کہا ہے کہ فریقین مذاکرات سے تنازعہ حل کریں۔ سابق سوویت یونین کی یہ دونوں ریاستیں ایک دوسرے پر مسلح تنازعہ شروع کرنے کا الزام لگا رہی ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کو ہونے والے بھاری جانی اور مالی نقصانات کے دعوے کر رہے ہیں۔ تفصیلات ابھی غیرواضح ہیں۔ روس نے ان تازہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک پر فوری جنگ بندی کے لئے زور دیا ہے۔ ماسکو میں روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین کشیدگی میں کمی اور حالات میں بہتری کے لئے حملے بند اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ترک صدر طیب اردگان نے کہا ا?رمینیا نے ثابت کر دیا وہ علاقائی امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے ہم ہمیشہ کی طرح اپنے ا?ذری بھائیوں کیساتھ ہیں۔
پاکستان نے کو نگورنو کاراباخ ریجن میں سلامتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ا?رمینیا کی افواج کی ہفتہ رفتہ سے ا?زربائیجان کے ترتر، اغدام، فزولی اور جبرائل خطوں کے دیہات میں شہری ا?بادی پر شدید شیلنگ انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔اس سے پورے خطے کا امن وسلامتی داوپر لگ سکتا ہے۔ ا?رمینیا اپنی فوجی کارروائی فوری بند کرے تاکہ کشیدگی میں مزید اضافہ سے بچا جا سکے۔ پاکستان برادر قوم ا?زربائیجان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے دفاع کے حق کی حمایت کرتا ہے۔ ہم نگورنو کاراباخ پر ا?زربائیجان کے موقف کی حمایت کرتے ہیں جو متفقہ طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ متعدد قراردادوں کے مطابق ہے۔
آذربائیجان کایہ علاقہ چوالیس سو مربع کلو میٹر کا علاقہ ہے۔اور آذربائیجان میں 93فیصد مسلمان ہیں۔یہ بڑا تگڑا مسلمان ملک ہے. اقوام متحدہ کی 8قراردادوں کے بعد آخری قرار داد میں وضح الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ آرمینیا کی قابض فوج اس علاقے کو چھوڑ دے۔لیکن آرمینیا یہاں سے نہیں نکل رہا۔ اگر اسلحہ کے بارے میں بات ہو تو ان دونو ں کے باس روسی اسلحہ ہے ایک جیسا۔آذربائیجان کی فوجی طاقت آرمینیا سے دوگنی نہیں تو نہیں لیکن دوگنی کے قریب ہے۔ اگر یہ لوگ جنگ کرتے ہیں اور انہیں ترکی کی سپوٹ حاصل ہو جاتی ہے تو ممکن ہے کہ آرمینیاکو یہ علاقہ چھوڑنا پڑ جائے۔اور یہی ایک موقع ہے جب مسلمانوں کے اس علاقے کو آزاد کروایا جا سکتا ہے۔


 

متعلقہ خبریں