بینظیر بھٹو کا خون رزقِ خاک ہوا

2021 ,دسمبر 27



سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے 14ویں یوم شہادت کے موقع پر ان کے قتل میں ملوث کرداروں کی تفصیلات پر مشتمل کتاب "محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت"مرتب کی ہے جس کو انگریزی اور اردو میں شائع کیا گیا۔ اس کی تقریب رونمائی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمان ملک نے بہت کچھ سامنے لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا، یہ غلط تاثر دیا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنے پانچ سالہ دور میں محترمہ بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات میں ناکام رہی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث تمام دہشتگردوں کو شناخت کیا گیا، گرفتار کیا گیا، ٹرائل کیا گیا اور سزا بھی سنائی گئی سوائے ان کے جو پراسرار طور پر مارے گئے اور وہ جو مفرور ہیں۔ منصوبہ سازوں، ہینڈلرز اور سہولت کاروں کے پراسرار قتل کے ساتھ ساتھ جرم میں ان کے مخصوص کردار اور ان کے پروفائلز کی تفصیلات اس کتاب میں درج ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ بات تفتیش کاروں کے ذہنوں میں ایک معمہ بنی ہوئی ہے کہ عباد الرحمان عرف چٹان کو مارنے کے لیے کس طرح واحد ڈرون کے ذریعے خیبر ایجنسی میں حملہ کیا گیا۔ عباد قتل کے منصوبے کا مرکزی سرغنہ تھا۔ ملک صاحب نے اپنی طرف سے یہ انکشاف بھی کیا کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے کمرہ نمبر 96 میں اس مدرسے کے سابق طالب علم عباد الرحمان نے تیار کی تھی جو ٹی ٹی پی سربراہ بیت اللہ محسود سے اس مدرسے میں خودکش بمبار لایا تھا اوروہ رات اسی کمرے میں رہے۔ملزم نصراللہ 26 دسمبر 2007 ءکو راولپنڈی میں خودکش حملہ آور لایا تھا اور منصوبہ ساز عباد الرحمان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے الگ الگ کارروائیوں میں مارے گئے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کی سربراہی نور ولی کے پاس ہے۔نور ولی نے ایک ضخیم کتاب بھی لکھی۔رحمٰن ملک کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لاادن نے بینظیر بھٹو کو سیاست سے نکالنے کیلئے پیسہ استعمال کیا۔ نور ولی نے بھی بینظیر بھٹو کے قتل کا اسی کتاب میں اعتراف کیا ہے۔ رحمٰن ملک نے اپنی کتاب میں کچھ سوالات بھی اُٹھائے ہیں۔وہ پوچھتے ہیں کہ سابق وزیراعظم کو سکیورٹی فراہم کرنا اس وقت کی حکومت کی ذمہ داری تھی جس میں وہ ناکام رہی۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں، سکیورٹی کے سخت انتظامات کیوں نہیں کیے گئے اور بلیو بک کے مطابق سکیورٹی کیوں مہیا نہیں کی گئی۔ رحمان ملک نے ایک اور بڑا سوال بھی اٹھایا کہ شہادت کے فوری بعد کرائم سین کو کیوں اور کس کے کہنے پر دھویا گیا۔ملک صاحب نے جے آئی ٹی کی کاکردگی کو بھی سراہا ہے۔کہتے ہیں: جے آئی ٹی نے مدرسے سے تصاویر، پتے اور والدین کے ساتھ اصل داخلہ ریکارڈ اکٹھا کیا جنہوں نے سازش کی اور پھر اس سازش کو انجام دیا۔ بینظیر بھٹو کے قتل پر جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری ایک دوسرے پر قتل کے الزمات لگاتے رہے ہیں۔رحمٰن ملک کو پیپلز پارٹی کا ترجمان بھی کہا جاسکتا ہے۔وہ گاہے بگاہے اپنے بیانات میں بینظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سے بیانات دیتے رہے ہیں۔ان بیانات میں ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی گرفتاریوں،عدالتی ٹرائل اور فیصلوں کے بارے میں بتاتے رہے ہیں۔کس کو کب اور کتنی سزا ملی،سب میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے۔اُدھر جیسے ہی محترمہ کو قتل کیا گیا پرویز مشرف حکومت کی طرف سے فوری طورپر ٹی ٹی پی پر الزام عائد کردیا گیا۔ایک آڈیو ٹیپ بھی اُس وقت کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ کے سربرہ بریگیڈیئر(ر) جاوید اقبال کی طرف سے میڈیا کو ٹی ٹی پی کے اس قتل میں ملوث ہونے کے ثبوت کے طور پر سنائی گئی تھی جس میں ایک شخص ایک دوسرے شخص کو اس واقعے پر مبارکباد دے رہا تھا۔ ان افراد میں سے ایک حکومت کے بقول بیت اللہ محسود تھا جو اپنے دوسرے ساتھی سے بات کر رہا تھا لیکن اس پوری ریکارڈنگ میں بے نظیر بھٹو کا نام نہیں لیا گیا۔ یکم ستمبر2017ءکو انسداد دہشتگردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں محمد رفاقت، حسنین گل، عبدالرشید، شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو بینظیر قتل کیس میں بری کردیاجبکہ سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو مجرمانہ غفلت برتنے پر مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ پی پی قیادت اور جنرل مشرف ایکدوسرے کو بیظیر بھٹو کا قاتل باور کراتے ہیں۔مگر ایک عجب اتفاق کہ دونوں کے مابین پایا جاتا ہے کہ یہ قتل ٹی ٹی نے کیا ہے۔رحمٰن ملک کا تو پورا زور اسی پر رہا ہے جس کی گواہی ان کے بیانات اور اب ان کی کتاب"محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت" سے بھی ملتی ہے۔ ایک لمحے کیلئے فرض کرلیا جائے کہ یہ قتل ٹی ٹی پی نے کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس نے یہ قتل اپنی وجوہات کی بناپر کیا یا ٹی ٹی پی کو کسی نے استعمال کرکے یہ سب کچھ کیا۔رحمٰن ملک نے جس طرح کچھ سوالات اُٹھائے ہیں اسی طرح رحمٰن ملک کی طرف بھی کچھ انگلیاں اُٹھتی رہی ہیں۔یہ تو ہوسکتا ہے رحمٰن ملک کسی کیلئے استعمال ہوئے ہوں مگر یقین کیساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ملک صاحب حملہ ہونے تک کسی سازش سے آگاہ نہیں تھے۔اگر ان کو بینظیر بھٹو کے قتل کی بھنک پڑ جاتی تو وہ کسی صورت جلسے میں نہ جاتے جبکہ ان کی گاڑی اُس روز حملہ کا نشانہ بننے والی بینظیر بھٹو کی گاڑی سے تھوڑا آگے تھی۔ بیت اللہ محسود کا اس قتل سے پہلے یہ بیان سامنے آیا تھا کہ بینظیر بھٹو کو بکری کی طرح ذبح کردیں گے۔ٹی ٹی ایسے حملے کرکے ذمہ داری قبول کرلیاکرتی تھی مگر بینظیر بھٹو کے قتل کی اس کی طرف سے ذمہ داری نہ صرف قبول نہیں کی گئی بلکہ اس قتل میں ملوث ہونے کی تردید بھی کی گئی تھی۔کوئی انکارکرے یا کچھ بھی کہے یہ حقیقت ہے کہ بینظیر بھٹو کو قتل کیا گیا ہے مگر اس قتل کے مجرم سامنے نہیں آئے۔کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ خونِ خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا۔ایسا ہے تو اس کی سب سے زیادہ ذمہ داری پیپلز پارٹی کی قیادت پر آتی ہے جو اس قتل کے فوری بعد اقتدار میں آئی مگرآنکھیں بند کر کے مچھلی پکڑنے کی طرح بینظیر کے قاتلوں کو تلاش کرتی رہی۔اگر پی پی کی حکومت کے دوران قاتل نہیں پکڑے گئے تو یہ قاتل کبھی نہیں پکڑے جائیں گے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پی پی کی حکومت میںشامل طاقتور لوگ اس قتل میں ملوث ہوں۔ان کی طرف سے قاتلوں کو سامنے لانے کے بجائے تحفظ دیا گیا ہو۔ ایسا ہوا ہے قاتل کسی بھی وقت نے نقاب ہوسکتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں: جو چپ رہے گی زبانِ خنجر لہو پکارے گا آستیں کا یہ کہنے والے لوگوں کا بینظیر بھٹو کے قاتلوں کے کٹہرے میں آنے کا یقین ہے ۔ ان کے سامنے اسی شعر کا پہلا حصہ رکھنے کی ضرورت ہے قریب ہے یارو روز محشر چھپے گا کشتوں کا خون کیونکر آج نہیں قیامت کے روز آستیں کا خون بولے گا۔گویا بینظیر بھٹو کے قاتل بھی روز محشر ہی سامنے آئیں گے۔

متعلقہ خبریں