بھارتی سیاست میں فوج کا کردار

2022 ,مارچ 14



16 جنوری 2012ء کو بھارتی فوج نے حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کیا جس پر عملدرآمد کی ذمہ داری دو یونٹوں کو دی گئی، اس مقصد کے لئے حصار کے علاقے میں موجود 33 آرمرڈ ڈویژن اور آگرہ میں تعینات 50 پیراشوٹ بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک سپیشل فورسز یونٹ (کمانڈوز) کو دارلحکومت کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا، یہ یونٹ نئی دہلی کی طرف بڑھ رہے تھے کہ حکومت کی اطلاع مل گئی۔ حکومت نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ملائیشیا گئے ہوئے سیکرٹری دفاع ششی کانت شرما کو فوری طور پر وطن واپس بلایا۔ سیکرٹری دفاع نے دہلی واپس آ کر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل اے کے چودھری کو رات گئے طلب کیا اور پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ ڈائریکٹر جنرل کو ہدایت کی گئی کہ نئی دہلی کی طرف آنے والے ہیں فوجی یونٹوں کو فوری طور پر واپس بھیجا جائے۔ یہ ہیں اس وقت کے آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ کی فوجی انقلاب سے متعلق کوشش کا خلاصہ جسے بھارتی فوج غلط فہمی کہتی رہی۔ بھارتی حکمران اور سیاستدان ہمیشہ فوج کے دباؤ تلے رہے ہیں کسی کی کیا مجال جو فوج کی مرضی کے بغیر کوئی قومی و ملکی، داخلہ یا خارجہ پالیسی بنا سکے۔ پوری بھارتی سیاست کو فوج ہی چلا رہی ہے، اس مقصد کے لئے خفیہ فنڈز بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور سیاستدانوں کو رقوم فراہم کی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں باضابطہ انکشافات سابق آرمی چیف وی کے سنگھ نے بھی کئے ہیں، وہ اب موجودہ حکومت میں وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ ہیں۔ جب وہ آرمی چیف تھے تو ان پر بھارتی حکومت کا تختہ الٹنے کی خواہش کا الزام بھی لگا تھا اور پھر یہ بھی کہا گیا کہ فوج مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حامی حکومتیں بنوانے کے لئے بھی رقوم بانٹتی ہے اور ان کا خاص حصہ وہاں کے وزراء کو جاتا ہے تاکہ انہیں بھارت کی حمایت میں رکھا جا سکے۔ بعد ازاں ایک انٹرویو میں جب ان سے مذکورہ بالا الزامات کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اسے قہقہے میں اڑا دیا اور کہا ’’حکومتیں اس لئے نہیں گرتیں کہ انہیں کوئی گراتا ہے، وہ اپنی ناقص کارکردگی کی وجہ سے گرتی ہیں، مزید یہ کہ فوج پر اس طرح کے الزامات لگانے والے محب وطن نہیں بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں وزراء کو رقوم 1947ء سے فراہم کر رہی ہے۔ اس الزام میں کوئی نئی بات نہیں، اس کا تو سب کو علم ہونا چاہئے۔ میں تو ان لوگوں کو سیاستدان ہی نہیں مانتا جو کہتے ہیں کہ فوج مرکزی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہی تھی۔‘‘ وی کے سنگھ نے صرف مقبوضہ کشمیر کے وزراء ہی کو نہیں بلکہ فوج کی طرف سے بھارتی سیاستدانوں کو رقوم دیئے جانے کے بارے میں بھی بتایا، اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی انکشاف کیا کہ بھارتی حکومتیں کو بھی جرنیلوں کو بھی رقوم فراہم کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خود انہیں حکومت کی طرف سے خریدی گئی غیر معیاری فوجی گاڑیاں قبول کرنے کے لئے ایک موقع پر14 کروڑ روپے رشوت پیش کی گئی تھی، انہوں نے یہ چونکا دینے والی بات بھی کہی کہ ایسی سات ہزار غیر معیاری گاڑیاں پہلے سے بھارتی فوج کے زیر استعمال تھیں جو ناقص کارکردگی کے باعث کوڑیوں کے بھاؤ بیچ دینا پڑیں اور اس پر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ جس سرکاری افسر نے انہیں ناقص گاڑیاں قبول کرنے پر قائل کرنے کے لئے چودہ کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی بقول ان کے اس کی دیدہ دلیری دیکھئے کہ وہ یہ بات فوج کے سربراہ سے کہہ رہا تھا اس افسر نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ پہلے والے فوجی سربراہ ایسی رشوت لیتے رہے ہیں۔ وی کے سنگھ نے اس بات سے اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی کو آگاہ کیا جس کے بعد سے ان (آرمی چیف) کے خلاف مہم شروع کر دی گئی حتیٰ کہ انہیں اپنی غلط تاریخ پیدائش کاغذات میں درج کرانے کے کیس میں پھنسا دیا گیا۔ اس سے بھارت میں اعلیٰ ترین سطح پر اربوں کی کرپشن کا پتا چلتا ہے جس کے سامنے فوج بھی بے بس ہے۔ حکومت کی طرف سے فوجی سربراہوں اور فوج کی طرف سے سیاستدانوں کو رقوم کی ناجائز فراہمی کا چکر جاری ہے۔ مگر کوئی پوچھنے والا نہیں جنہیں پوچھنا ہوتا ہے وہ سب اس حمام میں ننگے ہیں۔ بھارتی سیاست میں فوج کا کردار بہت نمایاں ہے، بھارت میں وہی ہوتا ہے جو فوج چاہتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال سابق صدر پرویز مشرف کا ناکام دورۂ آگرہ تھا پرویز مشرف 2001ء میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کے لئے بھارت گئے، اس ملاقات کا اہتمام تاریخی شہر آگرہ میں کیا گیا۔ یہ تین روزہ بات چیت چودہ ، پندرہ، سولہ جولائی کو ہوئی۔ اس موقع پر ایٹمی ہتھیاروں میں کمی، مقبوضہ کشمیر سے متعلق معاملات اور سرحد پار سے دہشت گردی کے بارے میں تجاویز زیر غور آئیں، یہ سب کچھ بھارتی فوج کو پسند نہ آیا، دونوں رہنماؤں نے تو مشترکہ اعلامیہ سے اتفاق کیا مگر جب وہ ٹائپ کے لئے گیا تو اس کے متن میں تبدیلیاں کر دی گئیں، بالآخر بھارتی فوج کی طرف سے اپنے وزیر اعظم کو بتا دیا گیا کہ یہ مشترکہ اعلان ان الفاظ کے ساتھ جاری نہیں ہو سکتا جن الفاظ کے ساتھ دونوں ملکوں کے سربراہوں نے اتفاق کیا ہے اسی طرح یہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا اور دونوں رہنما پاکستان اور بھارت کے امن سے رہنے کی خواہش کو آگے بڑھانے میں ناکام رہے۔ *

متعلقہ خبریں