جنرل صاحب! گمنامی کیوں؟

جنرل صاحب! گمنامی کیوں؟

پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی خوش اسلوبی سے طے پا گئی۔ یہ ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔ بہت سے ممالک میں تو اکثریت کو ایسی تبدیلی و تعیناتی کی خبر ہی نہیں ہوتی مگر ہمارے چونکہ آرمی چیف کے عہدے میں اختیارات کا ارتکاز ہو چکا ہے۔ اس عہدے کو طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت کبھی راز اور اخفا میں نہیں رہی۔ کل ہی یوم شہداء کے موقع پر جنرل(ر) قمر جاوید باجوہ نے ستر سال سے فوج کی سیاست میں مداخلت کو نہ صرف تسلیم کیا بلکہ اسے غیر آئینی بھی قرار دیا تاہم یہ دعویٰ بھی کیاکہ اب ایک ڈیڑھ سال سے فوج نے سیاست کے معاملات سے کنارہ کشی کا مصمم ارادہ اور سقہ بند فیصلہ کر لیا ہے۔

جنرل ساحرجوائنٹ سروسز،جنرل عاصم آرمی چیف ۔۔۔۔۔ امریکی کانگریس میں پاک فوج کیخلاف پھُنکارتی آگ اُگلتی اور زہراُبلتی قرارداد ۔۔۔۔ پاکستان میں اس پر مکمل سکوت

جنرل ساحرجوائنٹ سروسز،جنرل عاصم آرمی چیف ۔۔۔۔۔ امریکی کانگریس میں پاک فوج کیخلاف پھُنکارتی آگ اُگلتی اور زہراُبلتی قرارداد ۔۔۔۔ پاکستان میں اس پر مکمل سکوت

ایک ماہ سے بھی اوپر ہوادو امریکی ارکان کانگریس نے ایوان نمائندگان میں پاکستان کے خلاف پھنکارتی، آگ اُگلتی اور زہراُبلتی قرارداد پیش کی۔اس پر پاکستان میں مکمل خاموشی دیکھی گئی۔اس پر نہ کوئی خبر نہ ردعمل۔ اس قرارداد میں بنگلہ دیش کی 1971 کی "جنگ آزادی" (اسے یہ لوگ جنگ آزادی کہہ رہے ہیں جو ہماری نظر میں کچھ شرپسندوں کی بغاوت تھی)کے دوران پاکستانی فوج کے مظالم کو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا گیا ۔ کانگریس مین اسٹیو چابوٹ (Chabot)اور رو کھنہ کی طرف سے پیش کی گئی

ففتھ جنریشن....اورہیپی ریٹائرمنٹ جنرل باجوہ

ففتھ جنریشن....اورہیپی ریٹائرمنٹ جنرل باجوہ

ہم ففتھ جنریشن وار فیئر کے دورسے گزر رہے ہیں۔ یہ میڈیا کے ذریعے لڑی جانے والی جنگ ہے۔ اس کا سب سے بڑا ہتھیار افواہیں ہیں۔ وہ بیانیہ ہے جس کا حقیقت سے تعلق نہیں ہوتا مگر اسے دورِ عصر کی سب سے معتبر سچائی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ پانچویں نسل کی جنگ عالمی سطح سے سکڑتی اور سمٹتی ہوئی ملک اور معاشرے سے بھی آگے گھروں تک بھی آ پہنچی ہے۔ گھروں میں تو شایدپہلے سے کسی اور نام سے موجود تھی۔ ففھ جنریشن وار فیئر کو ہالو گرافک ٹیکنالوجی کے تناظر میں بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ ہوتا ہے چین کے شہر یویانگ کے لوگوں نے سمندر کے اوپر بادلوں میں قدیم شہر کو آباد دیکھا۔

خطرات بھرا مارچ....کمیشن کہانی

خطرات بھرا مارچ....کمیشن کہانی

تحریر: فضل حسین اعوان سیاسی حالات نے سلگنا تو عمران خان کے اقتدار میں آنے سے قبل شروع کردیا تھا۔ ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی تو حالات کی ابتری نے معیشت کو جکڑنا شروع شروع کر دیا۔ آج عروج پر پہنچی ہوئی مہنگائی: بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتیں سیاسی عدم استحکام کا شاخسانہ ہیں۔ ہر سیاسی پارٹی کا سیاسی استحکام میں مسلمہ کردار ہے۔چھوٹی سے چھوٹی پارٹی احتجاج اور مظاہروں کے ذریعے سیاسی صورت حال کو اُلجھا دیتی ہے۔ بڑی پارٹی اگر ایسا کرے تو وہی کچھ ہو سکتا ہے جو آجکل پاکستان میں ہو رہا ہے۔

خونیں نہیں بے ضررلانگ مارچ

خونیں نہیں بے ضررلانگ مارچ

تحریر: فضل حسین اعوان   عمران خان آج28اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز کر رہے ہیں۔14اگست 2014ء کو بھی لاہور سے ایک“دو دھاری“ لانگ مارچ  اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا تھا۔ طاہر القادری اور عمران خان اس دن نواز شریف  حکومت کی لنکا ڈھانے نکلے تھے، اس دوران شہباز شریف حکومت نے لاہور کو کنٹینرز لگاکر سیل کر دیا تھا تاہم جیسے تیسے لاہور سے عمران، قادری قافلے وقفے وقفے سے روانہ ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب جلد تھک گئے اور وہاں اپنی قبر کھودنے کاا علان کیا اور واپسی کی راہ اختیار کی۔ عمران خان 126دن تک ڈٹے رہے  بالآخر اے پی ایس سانحہ کے وقوع پذیر ہونے پر اپنا دھرنا ختم کردیا، نواز شریف کی حکومت گرنے سے بچ گئی۔ عمران کاالزام تھا کہ 2013ء میں ان کو انتخابات میں ہروایا گیا ہے۔وہ چارحلقے کھولنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

دورے دُوریاں الیکشن اور سلطانی

دورے دُوریاں الیکشن اور سلطانی

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات نشیب و فراز کا شکار رہے ہیں۔ کبھی تو اتنی قربت کہ امریکہ پاکستان کے دفاع کے لیے اپنا بحری بیڑا بھیجنے کا اعلان کرتا ہے۔ افغانستان میں سوویت یونین کی جارحیت ہوتی ہے تو امریکہ اور پاکستان مل کر سوویت یونین کا افغانستان میں قبرستان بنا دیتے ہیں۔ سوویت یونین روس کی حد میں سمٹ جاتا ہے۔ ایک اور وار امریکہ پھر افغانستان میں طالبان کیخلاف خود لڑتا ہے۔ جس میں پاکستان اپنی سر زمین، کئی دفاعی تنصیبات اس کے حوالے کردیتا ہے۔ دوریوں کی بات کریں تو بھارت کی لگائی بجھائی، سازشوں، پراپیگنڈے سے متاثرہو کر امریکہ پاکستان کو سبق تک سکھانے کی دھمکیوں تک اتر آتا ہے۔

ہیڈلانی……ڈبل ایجنٹ

ہیڈلانی……ڈبل ایجنٹ

ممبئی حملوں میں چھ امریکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ اس لیے بھی حملوں کے ذمہ داروں کا تعین کر کے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا چاہتا ہے۔بادیئ النظر میں اس کے پاس ممبئی حملوں کے حوالے سے ہیڈلانی(بیک وقت دو ناموں "ڈیوڈ کولمین ہیڈلی اور سید داؤد گیلانی"کی شناخت رکھنے والا) کی صورت میں ایک مہرہ آگیا۔پہلے تواس کیساتھ امریکی سرکار کا ایک معاہدہ ہوا کہ اسے سزائے موت نہیں دی جائے گی،

نسیم آہیر……اورآہیر پور

نسیم آہیر……اورآہیر پور

ملک نسیم احمد آہیر سے تعارف کا سبب  میرے کچھ کالم تھے۔وہ لاہور آتے تو ملاقات ہو جاتی۔ فون پر بات ہوتی رہتی۔ رابطوں میں بھی کبھی طویل وقفہ آجاتا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر کتاب”ناکردہ گناہوں کا قیدی“ ریوائز کررہا تھا تواتفاق سے جبار مرزا صاحب کی کتاب "جو ٹوٹ کے بکھرا نہیں "علامہ عبدالستار عاصم نے تبصرے کے لیے بھجوا دی۔اس میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کابھی ذکر تھا۔ جبار مرزا ڈاکٹر اے کیو خان کے قریبی دوستوں میں سے ہیں۔

ہیڈلانی……ساجد مجید اورممبئی حملے

ہیڈلانی……ساجد مجید اورممبئی حملے

بعض تحریریں ایسی ہوتی ہیں ان کو پڑھتے جائیں تو تاریخ کے کئی پَرت کھلتے جاتے ہیں ایسی ہی تحریر خبر کی صورت میں نظر سے گزری، اس خبر کا تعلق پندرہ سال قبل کے واقعہ سے ہے۔خبر کی دھول ڈیڑھ دہائی بعد بھی نہیں بیٹھی۔ کبھی تو یہ معاملہ طوفان کی مانند دنیا کے میڈیا پر چھا جاتا ہے، اس واقعہ میں ملوث کردار کہاں کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، کیسے کیسے ہیں اور کیا یہ اصل بھی ہیں؟؟؟۔ ان سمیت  اس واقعہ سے جڑے کئی سوال ہیں۔ پہلے خبر پر نظر ڈال لیتے ہیں۔ یہ خبرواشنگٹن سے اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہانت آمیز رویے  وہ جو نشانِ منزل تھے؟

اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اہانت آمیز رویے وہ جو نشانِ منزل تھے؟

پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت کے سینیئر ترین دو ججوں کی طرف سے ایک اور خط سامنے آیا ہے جس سے سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان تقسیم مزید واضح ہوتی نظر آرہی ہے۔

Loading…