اہم خبریں

ٹویٹ اور فوج کیخلاف بیانیہ

(گزشتہ سے پیوستہ )
ایک نظر ڈاکو منٹری کے متن پر ڈالتے ہیں جو عمران خان کے ٹویٹ میں جاری کی گئی۔ 
"مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار بنا کر پیش کیا۔لیکن ملک توڑنے کے اصل ذمہ دار فوجی حکمران جنرل یحییٰ اور اس کے حواریوں کا کبھی ذکر نہیں تک نہیں کیا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ جنرل یحییٰ اور شیخ مجیب الرحمن میں سے اصل غدار کون تھا؟


شیخ مجیب اکثریتی پاکستان کا منتخب نمائندہ تھا جنرل یحییٰ پاکستانیوں کے حقوق کا غاصب تھا۔
شیخ مجیب پاکستان ہی میں رہنے کا خواہش مند تھا.جنرل یحییٰ کی مشرقی پاکستان کو بچانے کی کوئی نیت نہ تھی شیخ مجیب نے جمہوری اصولوں کے عین مطابق اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا، جنرل یحییٰ کا کرسی بچانے کے لیے اقتدار کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ شیخ مجیب کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ جنرل یحییٰ نے اپنے ہی بھائیوں پر بدترین کریک ڈاؤن اور خون ریزی کی۔شیخ مجیب کو سویلین ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزا دلوائی گئی۔جنرل یحییٰ اس وقت بھی  داد عیش دیتا رہاجبکہ مشرقی پاکستان ڈوبتا رہا۔حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پاکستان کے دولخت ہونے کا ذمہ دار جرنیلوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بد نام زمانہ اپریشن سرچ لائٹ کا ذکر ہے جس کے مطابق اس وقت کی عسکری قیادت نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو  روکنے کا بہانہ بنا کر ایسٹ بنگال رجمنٹ کے افسران،بزنس مین اینڈ انڈسٹریلسٹس اور ہندو اقلیت کا قتل کیا۔بہت بڑی تعداد میں  بنگالی عورتوں کا ریپ کیا گیا اور سب کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔  یہ سلسلہ اپریشن کے آغاز سے جنگ کے اختتام تک جاری رہا ۔جو عسکری قیادت اپنے ہی عوام سے لڑنے میں مصروف تھی وہ دشمن کا کیا مقابلہ کرتی ۔محض دو ہفتے میں جنرل نیازی نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔شکست کی ذلت آمیز دستاویز پر دستخط کیے جو آج تک پاکستان پر سیاہ دھبہ ہے۔کمیشن رپورٹ میں پاک فوج کی سینیئر قیادت کی ناقص حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران کے کورٹ مارشل کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی ۔آخر اس کا قصور کیا تھا؟کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کرایا تھا؟کیا جمہوری  اصولوں کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ۔اگر ان باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس شیخ مجیب کو غدار ثابت کیا گیا ہے کیا واقعی وہ اس لقب کا حقدار تھا۔یا اس کا حقدار جنرل یحییٰ تھا؟ ۔ آج پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہےجو  1971ءکے ملک توڑنے کے ذہن کی عکاس ہے"۔

شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان - BBC News اردو
یہ تھا ڈاکومنٹری کا متن جو عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس پیغام کے ساتھ جاری کی گئی کہ قوم اس ڈاکومنٹری کو دیکھے کہ مشرقی پاکستان توڑنے کا ذمہ دار یحیی خان تھا یا شیخ مجیب الرحمن تھا۔
آرمی چیف کا نام لئے بغیر ان کو تضحیک آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں سیاست میں صریحاً مداخلت کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے افواج کے اندر بے چینی جنم لے سکتی ہے۔آرمی چیف کا نام نہیں لیا گیا مگر ان کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا کچھ عمران خان نے اپنی زبان سے نہیں کہا مگر  یہ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اب بھی موجود ہے۔
 ایک ایسے شخص سے یہ کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہو اور آئندہ بھی اس کے وزیراعظم بننے کا امکان موجود ہو۔

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟
 جاوید ہاشمی جنہوں نے عمران خان کا ساتھ دھرنے کے عروج پر چھوڑا وہ اب خان صاحب کی حمایت میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ڈاکو منٹری میں جو کچھ کہا گیا میں اسے قبول کرتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی، اختر مینگل،ایمل  ولی خان کی طرح جاوید ہاشمی بھی فوج پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔
عمران اور مذکورہ بالا دیگران ہی نہیں اور بھی بڑے سیاستدان فوج پر منفی تبصرے کرتے رہے ہیں۔ الطاف حسین نے تو بھارت سے فوج کے خلاف مدد بھی مانگ لی تھی۔ میاں نواز شریف جلسہ عام میں جرنیلوں کو مخاطب کر کے حساب چکانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی طرح حدیں کسی سیاستدان نے عبور نہیں کیں۔ خواجہ صاحب دوسری تیسری مرتبہ وزیر دفاع لگا دیئے گئے۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔
ماضی میں افواج کے خلاف نفرت پھیلانے والے کردار محفوظ رہے۔ ان کو آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے دائرے میں لایا جاتا  تو افواج کے خلاف بیانیے کی بیخ کنی ہو چکی ہوتی مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر ماضی میں کسی کو نہیں پوچھا گیا تو حال اور مستقبل میں اس سلسلے کی حوصلہ فزائی کی جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں بیٹھ کر بھی عمران خان اپنا ٹویٹر چلا رہے ہیں۔ یہ ٹویٹ انہوں نے خود کیایا ان کی مرضی سے کیا گیا اور ڈاکومنٹری لگائی گئی ہےتوخان صاحب سے حساب لیا جانا چاہیے۔ جرم جرم ہوتا ہے۔ مجرم کے خلاف کارروائی میں تاخیر سے جرم کی شدت کم نہیں ہو جاتی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ رضوان کو ان کی سروس کے دوران غداری کی  سزا(سزائے موت )ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سامنے آنے اور ثابت ہونے پر دی گئی تھی۔جس نے جب بھی فوج کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی وہ احتساب کا مستوجب ہے۔

ٹویٹ اور فوج کیخلاف بیانیہ

(گزشتہ سے پیوستہ )
ایک نظر ڈاکو منٹری کے متن پر ڈالتے ہیں جو عمران خان کے ٹویٹ میں جاری کی گئی۔ 
"مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار بنا کر پیش کیا۔لیکن ملک توڑنے کے اصل ذمہ دار فوجی حکمران جنرل یحییٰ اور اس کے حواریوں کا کبھی ذکر نہیں تک نہیں کیا۔ آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ جنرل یحییٰ اور شیخ مجیب الرحمن میں سے اصل غدار کون تھا؟

عمران خان کی مذاکرات کی آفر، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے منہ پھیر لیا -  Pakistan - AAJ
شیخ مجیب اکثریتی پاکستان کا منتخب نمائندہ تھا جنرل یحییٰ پاکستانیوں کے حقوق کا غاصب تھا۔
شیخ مجیب پاکستان ہی میں رہنے کا خواہش مند تھا.جنرل یحییٰ کی مشرقی پاکستان کو بچانے کی کوئی نیت نہ تھی شیخ مجیب نے جمہوری اصولوں کے عین مطابق اکثریتی جماعت کو اقتدار کی منتقلی کا مطالبہ کیا، جنرل یحییٰ کا کرسی بچانے کے لیے اقتدار کی منتقلی کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ شیخ مجیب کو بالآخر گرفتار کر لیا گیا۔ جنرل یحییٰ نے اپنے ہی بھائیوں پر بدترین کریک ڈاؤن اور خون ریزی کی۔شیخ مجیب کو سویلین ہوتے ہوئے ملٹری کورٹ سے سزا دلوائی گئی۔جنرل یحییٰ اس وقت بھی  داد عیش دیتا رہاجبکہ مشرقی پاکستان ڈوبتا رہا۔حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں پاکستان کے دولخت ہونے کا ذمہ دار جرنیلوں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بد نام زمانہ اپریشن سرچ لائٹ کا ذکر ہے جس کے مطابق اس وقت کی عسکری قیادت نے مشرقی پاکستان میں بغاوت کو  روکنے کا بہانہ بنا کر ایسٹ بنگال رجمنٹ کے افسران،بزنس مین اینڈ انڈسٹریلسٹس اور ہندو اقلیت کا قتل کیا۔بہت بڑی تعداد میں  بنگالی عورتوں کا ریپ کیا گیا اور سب کو اجتماعی قبروں میں دفن کیا گیا۔  یہ سلسلہ اپریشن کے آغاز سے جنگ کے اختتام تک جاری رہا ۔جو عسکری قیادت اپنے ہی عوام سے لڑنے میں مصروف تھی وہ دشمن کا کیا مقابلہ کرتی ۔محض دو ہفتے میں جنرل نیازی نے بھارتی جنرل کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔شکست کی ذلت آمیز دستاویز پر دستخط کیے جو آج تک پاکستان پر سیاہ دھبہ ہے۔کمیشن رپورٹ میں پاک فوج کی سینیئر قیادت کی ناقص حکمت عملی اور غلط فیصلوں کی وجہ سے سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داران کے کورٹ مارشل کا بھی مطالبہ کیا گیا جبکہ مقتدرہ نے ہمیشہ شیخ مجیب کو غدار ثابت کرنے کی کوشش کی ۔آخر اس کا قصور کیا تھا؟کیا پاکستان کے عوام نے اسے سب سے زیادہ نشستوں پر کامیاب نہیں کرایا تھا؟کیا جمہوری  اصولوں کے مطابق اقتدار عوامی لیگ کو منتقل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ۔اگر ان باتوں کا جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے کہ جس شیخ مجیب کو غدار ثابت کیا گیا ہے کیا واقعی وہ اس لقب کا حقدار تھا۔یا اس کا حقدار جنرل یحییٰ تھا؟ ۔ آج پاکستان میں سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہےجو  1971ءکے ملک توڑنے کے ذہن کی عکاس ہے"۔

شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان - BBC News اردو
یہ تھا ڈاکومنٹری کا متن جو عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے اس پیغام کے ساتھ جاری کی گئی کہ قوم اس ڈاکومنٹری کو دیکھے کہ مشرقی پاکستان توڑنے کا ذمہ دار یحیی خان تھا یا شیخ مجیب الرحمن تھا۔
آرمی چیف کا نام لئے بغیر ان کو تضحیک آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے انہیں سیاست میں صریحاً مداخلت کا موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہے۔ اس سے افواج کے اندر بے چینی جنم لے سکتی ہے۔آرمی چیف کا نام نہیں لیا گیا مگر ان کی تصویر لگا دی گئی ہے۔ یہ سارا کچھ عمران خان نے اپنی زبان سے نہیں کہا مگر  یہ ان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اب بھی موجود ہے۔
 ایک ایسے شخص سے یہ کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی جو پاکستان کا وزیراعظم رہا ہو اور آئندہ بھی اس کے وزیراعظم بننے کا امکان موجود ہو۔

پاکستان کا اگلا آرمی چیف کون ہو سکتا ہے؟
 جاوید ہاشمی جنہوں نے عمران خان کا ساتھ دھرنے کے عروج پر چھوڑا وہ اب خان صاحب کی حمایت میں سرگرم ہیں۔ وہ کہتے ہیں ڈاکو منٹری میں جو کچھ کہا گیا میں اسے قبول کرتا ہوں۔ مولانا فضل الرحمن ، محمود اچکزئی، اختر مینگل،ایمل  ولی خان کی طرح جاوید ہاشمی بھی فوج پر غصہ نکالتے رہتے ہیں۔
عمران اور مذکورہ بالا دیگران ہی نہیں اور بھی بڑے سیاستدان فوج پر منفی تبصرے کرتے رہے ہیں۔ الطاف حسین نے تو بھارت سے فوج کے خلاف مدد بھی مانگ لی تھی۔ میاں نواز شریف جلسہ عام میں جرنیلوں کو مخاطب کر کے حساب چکانے کی بات کرتے رہے ہیں۔ خواجہ آصف کی طرح حدیں کسی سیاستدان نے عبور نہیں کیں۔ خواجہ صاحب دوسری تیسری مرتبہ وزیر دفاع لگا دیئے گئے۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے فوج کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دی تھی۔
ماضی میں افواج کے خلاف نفرت پھیلانے والے کردار محفوظ رہے۔ ان کو آرمی ایکٹ اور سیکرٹ ایکٹ کے دائرے میں لایا جاتا  تو افواج کے خلاف بیانیے کی بیخ کنی ہو چکی ہوتی مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اگر ماضی میں کسی کو نہیں پوچھا گیا تو حال اور مستقبل میں اس سلسلے کی حوصلہ فزائی کی جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ جیل میں بیٹھ کر بھی عمران خان اپنا ٹویٹر چلا رہے ہیں۔ یہ ٹویٹ انہوں نے خود کیایا ان کی مرضی سے کیا گیا اور ڈاکومنٹری لگائی گئی ہےتوخان صاحب سے حساب لیا جانا چاہیے۔ جرم جرم ہوتا ہے۔ مجرم کے خلاف کارروائی میں تاخیر سے جرم کی شدت کم نہیں ہو جاتی۔ بریگیڈیئر ریٹائرڈ رضوان کو ان کی سروس کے دوران غداری کی  سزا(سزائے موت )ریٹائرمنٹ کے بعد جرم سامنے آنے اور ثابت ہونے پر دی گئی تھی۔جس نے جب بھی فوج کے خلاف نفرت انگیز زبان استعمال کی وہ احتساب کا مستوجب ہے۔

کراچی میں 15 کروڑ روپے کے جعلی اور غیر قانونی سگریٹ نذر آتش

چرس ہیروئن افیون شراب پکڑی جانے پر جلا دی جاتی ہے یا تلف کر دی جاتی ہے۔ سگریٹ جعلی پکڑے جائیں ان کو نذرآتش کر دیا جائے، یہ پہلی مرتبہ سنا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ بھرے ہوئے سگریٹ ہوں۔ جعلی سگریٹ کیسے بنے ہوں گے ؟ تمباکو کی بجائے کس چیز کا برادہ کاغذ میں لپیٹ دیا گیا ہوگا۔ یہ برادہ ہوگا یا بارود ہوگا اور پھر غیر قانونی سگریٹ کیسے بنتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بڑے برانڈ کی نقل کر لی جاتی ہو۔

جعلی اور غیر قانونی سگریٹوں کے لیے کاغذ کی بجائے سستے ٹشو استعمال کیے جاتے ہیں؟ یقینی طور پر جعلی اور غیر قانونی سگریٹ ہر لحاظ سے غیر معیاری ہی ہوتے ہیں ۔اس کے دھوئیں سے مرغولے بھی نہیں بنتے ہوں گے۔ کش لے کر سگریٹ نوش دھواں منہ اور ناک سے نکالتا ہے جو سگریٹ غیر قانونی اور جعلی ثابت ہوئے ہیں ۔اس کا سوٹا لگانے سے کیا دھواں کانوں سے نکلتا ہے۔ایک دوست نے دوسرے سے کہا یار تو 10 سال سے سگریٹ نوشی کر رہا ہے۔ روزانہ ایک ڈبی بھی پئے تو اب تک تو پانچ لاکھ روپے پھونک چکا ہے۔نصیحت کرنے والے دوست سے دوسرے  دوست نے اگلے دن اس کے گھر جا کر 10 ہزار روپے ادھار مانگے تو اس نے کہا میرے پاس کہاں سے 10 ہزار روپے آئے ۔جس پر ادھار مانگ لینے والے نے کہا کہ یارتو نے جو سیگرٹ نہ پی کر پانچ لاکھ روپے بچائے تھے ان میں سے مجھے صرف 10 ہزار روپے دے دو۔

جون اہم، اگلے 45 دن بھی اہم ہیں، شیخ رشید

کچھ دنوں سے شیخ رشید اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کی طرح خاموش تھے ۔ عدالتوں میں پیشیوں پر آتے رہے ۔صحافی سوال کرتے تو کہتے فی الحال کچھ بھی نہیں کہنا۔میرا چپ کا روزہ ہے۔ شیخ صاحب اب پاکستان کے ایسے گوروؤں میں شامل ہو گئے ہیں جن کی زندگی دھوپ چھاؤں بادلوں، بگولوں اور برسات جیسی ہوتی ہے۔شیچ جی ایسے  درویش بھی نہیں جن کا  کہیں کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا۔

شیخ صاحب کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ کب جیل میں ہوتے ہیں کب باہر آ جاتے ہیں۔ سیاسی پیشگوئیاں کرنا مرغوب مشغلہ ہے ۔10 بار ہ میں سے دو چار ویسے ہی پوری ہو جاتی ہیں۔ اسی پر پھر اتراتے رہتے ہیں کہ دیکھا میں نے نہیں کہہ دیا تھا کہ دو پارٹیوں میں سے ایک جیتے گی، ایک ہار جائے گی۔ قربانی کی بات کیا کرتے تھے کہ عید سے قبل فلاں کی قربانی ہو جائے گی ۔اب پھر بقر عید آ رہی ہے اور جون  میں ہی آرہی ہے۔خود کو پیر پگارا کی طرح جی ایچ کیو کے قریب باورکراتے رہے ۔

ایسے لوگ  سیاسی سرد گرم سے محفوظ رہتے ہیں مگر شیخ صاحب کے کڑاکے نکلتے دیکھے گئے۔ گھر سے دکان پر دودھ لینے گئے تو چلّہ لگا کر واپس آئے ۔حکومت بنانے چلانے الٹانے کی پیش گوئیاں کرتے رہتے ہیں مگر اپنی سیٹ  کی پیش گوئی کر سکے نہ بچا سکے۔ کسی اور نے آٹھ فروری کے نتائج تسلیم کیے یا نہیں کیے، شیخ صاحب نے بڑی متانت اور انکساری سے  سر تسلیم خم کرتے ہوئے مان لئے ۔جس طرح سے منصوبہ بندی کرتے ہیں کچھ مخالفین دل جلے انہیں شیخ چلی بھی کہہ دیتے ہیں مگر وہ خود کو چلہ لگانے کے بعد شیخ چلہ ثابت کر چکے ہیں۔

عید کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ اسد قیصر

تحریک چلانے کی ضرورت کیا ہے حکومت نے کیا کہا اور ایسا کیا کر دیا کہ دو تین ماہ بھی نہیں ہوئے کہ تحریک چلانے کا ڈراوا دے دیا ہے۔ اسد قیصر  پہلے بھی تحریک چلانے کا بیان دے چکے ہیں مگر اس بیان میں زیادہ جوش و جذبہ نہیں تھا اب ان کے بیان میں ایک انرجی اور ولولہ انگیزی نظر آتی ہے ۔وہ کہتے ہیں مولانا فضل الرحمن بھی تحریک میں شامل ہوں گے۔

عید کے بعد جو تحریک چلانی ہے وہ ابھی کیوں نہیں چلائی جا سکتی شاید کارکنوں کو قربانی کے گوشت سے توانا اور طاقتور بنا کر تحریک میں زور اور جان ڈالنے کا ارادہ ہے تحریک چلے گی جسے ان کی طرف سے پر امن کہا جا رہا ہے تحریکوں میں کارکن کب پر امن رہتے ہیں۔حکومت نے اگر اٹھانا ہے گرفتار کرنا ہے تو پھر کارکن اور لیڈر پرامن رہیں نہ رہیں اٹھا لیے جائیں گے ۔کارکن تو اب بھی مظاہروں کے لیے دستیاب ہیں مگر لیڈر مصروف ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں شیڈو کیبنٹ بن رہی ہے گویا پنجاب حکومت کی کارکردگی پر نظر رکھی جائے گی۔ مرکز اور دوسرے صوبوں میں سب ٹھیک چل رہا ہے؟

اس لیے وہاں شیڈو کیبنٹ بنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی .تحریک چلے گی لیڈر کارکن پکڑے جائیں گے جیلوں میں ڈالے جائیں گے ان کا جوش بڑھانے کے لیے عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں کی فہرست ان کے سامنے رکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔ ایکسرسائز کا سامان واک کی جگہ ایئر کولر کچن بیڈ گدا کرسی کتابیں اور بھی کافی کچھ مگر حیران کن بات یہ ہے کہ کپڑے استری کرنے کے لیے فرائی پین نظر نہیں آیا ۔کارکنوں کو اس کی ضرورت بھی شاید نہیں ہوگی ۔باقی سہولتیں اور  سامان  جودستیاب ہے ٹھاٹھ باٹھ کیلئے وہی کافی ہے۔

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا بڑا اپ سیٹ۔ امریکہ نے پاکستان کو سپر اوور میں ہرا دیا۔

پاکستانی ٹیم  کسی ایری  غیری ٹیم سے نہیں ہاری،سپر پاور سے ہاری ہے۔ وہاں تک تو چین روس جرمنی جاپان پہنچ بھی نہیں سکے۔ہماری ٹیم وہاں جا کر کڑک چائے تلاش کر رہی ہے ،بل فائٹنگ دیکھ رہی ہے سیر سپاٹے جاری ہیں۔ یہ سارا کچھ بہتر کارکردگی کے پیچھے اوجھل رہتا ہے لیکن جب کارکردگی اپ سیٹ والی ہو تو معمولی خامیاں کوتاہیاں بھی بلنڈر نظر آنے لگتی ہیں۔ امریکی ٹیم نے ہماری ٹیم کو159 پر آؤٹ کر لیا تھا . امریکی بیٹسمین اچھا کھیلے میچ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن  محمد عامر  کی بہترباؤلنگ کی وجہ سے پاکستانی ٹیم ایک بار پھر میچ میں لوٹ آئی۔انہوں نے بیٹھی ٹیم کو اٹھا دیا۔  

سپر اوور تک نوبت گئی تو  عامر نے ٹیم کو وہیں بٹھا دیا جہاں سے اٹھایا تھا۔سپر اوور کا بھی سن لیں۔امریکیوں نے 18 رنز بنائے ایک امریکی کھلاڑی نے 11 رنز بنائے اور دوسرے کا سکور صفر رہا باقی سات رنز وائڈ بالز کی صورت میں تحفہ۔۔۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستانی ٹیم کو شاہی حج کرانے کا اعلان کیا گیا ہے بشرطیکہ ٹیم یہ کپ جیت جائے امریکیوں  نے گرین پاسپورٹ کی جھلکی تو نہیں کرادی تھی؟۔کچھ لوگ کہتے ہیں پاکستانی ٹیم خیر سگالی کے جذبے کے تحت اور اعتماد سازی اقدام کے لیے جان بوجھ کر ہاری ہے۔ ویسے بھی پاکستان میں امریکی سفیر ڈولڈ بلوم اس میچ میں مہمان خصوصی تھے۔ وہ ہمارا کتنا خیال رکھتے ہیں۔

انہوں نے ہمارے کہنے پر امریکہ میں ورلڈ کپ کروا دیا۔آنکھ کی حیا بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔اگر ان کے ملک میں ان سے جیت جاتے تو آفیشلزشرمسار شرمسار سے پھرتے۔جہاں تک اعتماد سازی اور خیر سگالی کی بات ہے ،پاکستان ایک مرتبہ بنگلہ دیش سے دوسری مرتبہ افغانستان سے ایسے جذبے کے تحت ہارا تھا ۔ اس کے بعد یہی دو ٹیمیں پاکستان کے آج تک گلے پڑتی آ رہی ہیں۔یہ ٹیمیں پاکستان کے ساتھ کھیلنے کے لیے میدان میں اترتی ہیں تو لگتا ہے کہ فوج  محاذ جنگ پر آگئی ہے ۔امریکی ٹیم نئی ضرور ہے مگر ماٹھی اور ماڑی نہیں ہے۔ ہماری ٹیم نے شاید نو آموز سمجھ کر سیریس نہیں لیا۔جس نے بھی حریف کو سَوکھا لیا اس پر اوکھا وقت ہی آیا ۔ اب بھی میدان کھلا ہے پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ جیت کر اس اپ سیٹ اور اگلےاپ سیٹوں کےدھونے دھو سکتی ہے۔اس اپ سیٹ کے  دعاؤں سے اثرات  زائل ہو سکتے ہیں کہ بھارت مالدیب سے ہار جائے مگر مالدیب کی ٹیم تو ٹورنامنٹ میں حصہ ہی نہیں لے رہی۔

عظیم خوشخبری

نام،محمد دین،عمر،75سال،رنگ،گندی،قد5فٹ2انچ،سرپربال ابھی کچھ کچھ باقی ہیں،یعنی کہ مکمل گنجے نہیں ہوئے،آئرش کیپ پہنتے ہیں،شلوارقمیض ہی ان کا پسندیدہ لباس ہے،قمیض زیادہ تران کا دوجیبوں والا ہی ہوتا ہے،ہلکی سی داڑھی بھی رکھی ہوئی،مکمل صحت مند،کوئی بیماری ان کے قریب سے بھی نہیں گزری،پیدل بہت زیادہ چلتے ہیں،دلیل سے بات کرتے ہیں،اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹتے،دوسروں کی عزت کرنا فرض سمجھتے ہیں،

مایوس نہیں ہوتے نہ ہی کبھی انہوں نے مایوسی والی بات کی،ہر بات پر رونا دھونا انہیں نہیں آتا،دل کے سخی ہیں،آپ کسی ہوٹل میں اکٹھے کھانا کھالیں،انکی کوشش ہوتی ہے بل وہ ادا کریں،دفترمیں اگر وہ بسکٹ کا ایک پیکٹ لے آئیں،اکیلے نہیں کھاتے،تقسیم کردیتے ہیں،اگر انکے بیٹھے کوئی دوسراشخص دفترآئے انہیں شکل سے پہچان جاتے ہیں کہ اسے پیاس لگی ہے،فوری طورپر کولر سے پانی بھر کر گلاس پیش کرتے ہیں،صحافی ہیں،مصنف ہیں،زیادہ تر بے روزگار ہی رہتے ہیں،کیونکہ انہیں سینئر کااحترام کرنا آتا ہے خوشامد کرنا نہیں،غلط بات کو دوسرے کے منہ پرہی غلط کہہ دیتے ہیں،کسی کے ناراض یا خوش ہونے کی پروا نہیں کرتے۔ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ ملک میں چلنی والی مختلف تحاریک میں گزرا ہے،بائیں بازوسے تعلق رکھتے ہیں،یونین رہنماؤں کے ساتھ کئی ممالک کا دورہ بھی کرچکے ہیں۔

امریکا سےجتنی زیادہ نفرت کرتے ہیں اتنی ہی روس سے محبت کرتے ہیں۔ دنیا میں ہونیوالی ہر جنگ،سازش،رجیم چینج کا الزام امریکا پر لگاتے ہیں،پاکستان میں بھی تحریک انصاف کی حکومت تبدیل ہونے کا ذمہ دار انہوں نے امریکا کو ہی ٹھہرایا تھا۔ان کا کہنا ہے امریکا نے ہی طالبان کوبنایا تھا،امریکا نے ہی مطلب نکلنے پر انہیں دہشت گرد قرار دےدیا۔ گزشتہ دنوں انہوں نے مجھےویب سائٹ ’’ sott.net‘‘ پر کاﺅنٹر کرنٹس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کار جیمز اے لوکس کی رپورٹ بھیجی۔ رپورٹ  میں ان کی تحقیق کے مطابق امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے خاتمے سے لے کر اب تک دنیا بھر کے درجنوں ممالک میں تقریباً دو سے تین کروڑ لوگوں کا خون بہایا ہے۔۔۔ انہوں نے اپنی رپورٹ میں دنیا کے 37 ممالک میں امریکا کے جنگی جرائم سے پردہ اٹھایا ہے اور تفصیلی وجوہات بھی بیان کی ہیں کہ ان ممالک میں کروڑوں لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکا کس طرح سے ہے۔ جیمزلوکس کے مطابق امریکا نے کوریا اورویتنام کی جنگوں اور عراق پرمسلط کی گئی دو جنگوں کے دوران تقریباً ایک سے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو ہلاک کیا۔ بعدازاں افغانستان، انگولا، کانگو، مشرقی تیمور، گوئٹے مالا، انڈونیشیا، سوڈان اور پاکستان میں بھی امریکا کی طرف سے لوگوں کو ہلاک کیا گیا۔ ان ممالک میں امریکی بربریت کا نشانہ بننے والوں کی کل تعداد 90 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ کے درمیان بتائی گئی ہے، رپورٹ میں مصنف لکھتے ہیں کہ 70 سال کے دوران دو سے تین کروڑ لوگوں کی ہلاکت کے علاوہ اسی عرصے کے دوران امریکی تباہ کاریوں کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد مرنے والوں کی نسبت تقریباً 10 گنا زیادہ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کو حکومت نے اپنے اصل کردار سے بے خبر رکھا ہے اور امریکا کے عوام یہ نہیں جانتے کہ ان کے ہاں تو ایک نائن الیون ہوا تھا، لیکن امریکا دنیا بھر میں بے شمار نائن الیون کرچکا ہے۔بابا جی پاکستان میں تمام سیاسی پارٹیوں میں سب سے زیادہ جماعت اسلامی کیخلاف ہیں،کہتے ہیں منصورہ امریکی ڈالرزسے تعمیر ہوا تھا،یہاں تک کہہ دیتے ہیں ،جاؤ،کھدائی کرکے دیکھ لو،منصورہ کی بنیادوں میں اب بھی امریکی ڈالرزمل جائیں گے،پیپلز پارٹی کو پسندکرتے ہیں،صرف ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر تک،زرداری والی پیپلز پارٹی سے نفرت کرتے ہیں،انکا موقف ہے زرداری نے نہ صرف بھٹو خاندان کی جائیدادوں  پر بلکہ پارٹی پر بھی قبضہ کیا،اوربھٹو کی پارٹی کو ختم کردیا،اب اس سیاسی پارٹی کو پیپلز پارٹی نہیں،زرداری پارٹی کہناچاہیے۔شریف خاندان کو بھی بالکل پسندنہیں کرتے،انکے بارے ان کی سوچ ہے،کہتے ہیں انہیں کوئی لیڈر نہ کہا کرے،یہ تو سیاستدان بھی نہیں ہیں،تاجرہیں۔تاجر کا کیا کام ہوتا ہے۔۔۔؟

 بس منافع کمانا،جیسے بھی کمایا جائے،انہوں نےسیاست کو کاروبار بنایا ہے۔۔۔عمران خان کیلئے نرم گوشہ رکھتے ہیں،جب سے عمران خان نے امریکا کیلئے سخت رویہ اپنایا ہے۔۔۔دنیا میں اس وقت ان کا پسندیدہ لیڈر روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور  دوسرے نمبرپر عمران خان ہے۔۔۔جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے،میں ان کا حال چال پوچھنےکے بعد  کہتا ہوں۔۔۔اورسناؤ۔۔۔؟ میرے اس سوال کو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ کیا پوچھ رہاہوں ۔۔۔؟ سوال یہ ہوتا ہے کہ کہیں نوکری ملی ۔۔۔؟ کیونکہ وہ آجکل چار،پانچ ماہ سے بے روزگار ہیں۔۔۔کافی دن ہوگئے ان سے ملاقات نہیں ہوسکی تھی،کل وہاں جانا ہوا،جس مقام پر ہماری ملاقات ہوتی ہے۔۔۔دور سے ہی مجھےدیکھ کر کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے،یوں لگا جیسے میرا شدت سے انتظارکررہے تھے،ان کے چہرے پر ڈھیر ساری خوشیوں کے اثرات تھے،جونہی میں قریب پہنچا،انہوں نے اپنے دونوں بازوپھیلائے اور یوں مجھ سےلپٹ گئے جیسے کسی باپ کو کئی سالوں سے لاپتہ اکلوتا بیٹا مل گیا ہو۔۔۔کہنے لگے،کئی دنوں سے  آپ سے ملنے کو د ل کررہا تھا، آپکو بہت بڑی خوشخبری سنانا تھی۔۔۔

خوشخبری کا سن کر میرے چہرے پر بھی خوشی کے اثارآئے۔۔۔میں سمجھاکہیں نوکری مل گئی ہوگی۔۔۔میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے،کرسیوں پر بیٹھ گئے۔۔۔انہوں نے جیب سے پیکٹ نکالا۔۔۔سگریٹ  سلگایا۔۔۔دھواں فضا میں چھوڑا ۔۔۔۔ اورکہنے لگے،سناؤں خوشخبری۔۔۔؟سناؤ بھئی،کیوں سسپنس میں ڈال رہے ہو۔۔۔ان کے چہرے پرایسے تاثرات تھے جیسے کوئی ملک فتح کرنے کے بعدکسی فاتح کےچہرے پر ہوتے ہیں۔۔۔ بولے۔۔۔بیٹے کوامریکی سفارتخانے میں ڈائریکٹر کی نوکری مل گئی ہے۔

فوج کیخلاف ہرزہ سرائی

سائفر کیس میں عمران خان  اور شاہ محمود قریشی کو اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بری کر دیا۔اس کیس میں دونوں کو 10 دس سال کی سزا سنائی گئی تھی۔عمران خان پر اسی نوعیت کے بلکہ اس سے زیادہ سنگین کیس پر انکوائری جاری ہے۔یہ ٹویٹ کرنے کا کیس ہے جس میں پاک فوج کے افسروں کے خلاف نفرت  پھیلانے اور پیدا کرنے کا الزام ہے۔
فوج نام ہے سپاہی سے آرمی چیف تک ، سی مین سے نیول چیف اور ایئر مین سے ایئر چیف تک۔ مزید برآں سب سے اعلیٰ عہدیدار جائنٹ  سروسز چیف تک کے تمام سٹاف کا۔ اس میں ایف سی رینجرز اور دیگر کچھ ادارے بھی آجاتے ہیں۔ کسی بھی فوج کی ابتدائی و بنیادی ذمہ داری جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے۔ پاکستان اور دیگر کچھ ممالک میں فوج کو زلزلے، سیلاب اور کورونا جیسی  وباؤں پر قابو پانے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ مشرف دور  میں تو نہروں کی بھل صفائی اور واپڈا کے ساتھ مل کر میٹر چیکنگ پر بھی فوجی تعینات رہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاک افواج کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ پاک افواج کی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کی دنیامیں انفرادی حیثیت ہے۔

ترجمان پاک فوج کا عمران خان کے الزامات پر ردعمل
ہم چاہتے ہیں کہ ملک کے اندر پاک فوج کو دہشتگردی کے خلاف ہی نہیں دیگر ہنگامی حالات میں بھی استعمال کیا جائے مگر فوج سیاسی معاملات سے دور رہے۔ جیسا کہ بہت سے ممالک میں ہوتا ہے۔ جن ممالک کی مثال دی جاتی ہے ایک تو وہاں سیاست دان ایسے نہیں ہیں جیسے ہمارے ہاں کچھ یا اکثر پائے جاتے ہیں ،دوسرے وہاں عدلیہ آزاد ،خود مختار اور مضبوط ہے۔ پاکستان میں ایسے سیاستدان بھی حکومت میں آئے جو پاکستان اور بھارت کے مابین بارڈر کو محض ایک لکیر قرار دیتے تھے۔ بھارت کے ساتھ تجارت اور تعلقات عروج پر لے جانے کی خواہش کا اظہار کیا جاتا تھا۔یہ خواہش کوئی معیوب نہیں ہے مگر کشمیر اور کشمیریوں کو نظر انداز کر کے ایسا کرنا انسانیت کے خلاف جرم سے کم نہیں ہے۔ ایک وزیر اعظم نے راجیو گاندھی کے سامنے ایٹمی پروگرام رول پیک کرنے میں پاک فوج کی وجہ سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا تھا۔ جنرل ضیاءالحق نے راجیو کو ایٹم بم کی دھمکی دے کر انکو خوف میں مبتلا کر کے پتا پانی کر دیا تھا۔ ایسے بھی پاکستان میں حکمران آئے، ان پر نظر نہ ہوتی تو پاکستان کے ایٹمی پروگرام حتیٰ کہ ملک کا ہی سودا کر جاتے۔
سیاسی معاملات میں فوج کی بطور ادارہ کبھی مداخلت نہیں ہوتی۔ ایسے فیصلے چند  پالیسی ساز سینئر جرنیل کرتے ہیں۔ جن کی سربراہی انکا ہیڈکرتا ہے۔ اس میں پاک افواج کے پورے سٹاف کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ فوج ایک منظم ادارہ ہے۔ اس میں جمہوری رویے  ہر جگہ کار فرمانہیں ہوتے۔دنیا بھر کی افواج میں انکی ضرورت ہوتی ہے نہ گنجائش۔ کمانڈر کا حکم چلتا ہے۔ جنگ کے دوران جو کمانڈر نے کہا ہے زیر کمانڈ ہر کسی نے وہی کرنا ہے۔ کسی کو آرگیوکرنے اور آئین اور قانون کے حوالے دینے کی اجازت نہیں۔ جنگ کے بعد تحفظات کے اظہار کی گنجائش اور اجازت البتّہ ضرور ہوتی ہے۔
آرمی چیف  سینئر ترین ساتھیوں کے ساتھ مل کر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔ اگر  مشاورت کو  ضروری نہیں سمجھتا تو بھی اس کا فیصلہ حتمی اور فوج کا فیصلہ سمجھا جاتاہے۔ جسے اوپر سے نیچے تک سب کو ماننا ہوتا ہے، اور ہر کوئی مانتا ہے۔ حکم عدولی کی گنجائش نہیں ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر ہوتے ہوئے جنرل آصف غفور دو حوالوں سے تا دیر یاد رکھے جائیں گے۔ ایک تو انہوں نے ڈان لیکس انکوائری پر ریجیکٹڈ کے ریمارکس دیئے تھے ۔دوسرے ان کی طرف سے کہا گیا تھا کہ آرمی چیف جدھر دیکھتا ہے پوری فوج اُدھر دیکھتی ہے بلکہ اس میں اضافہ یہ کیا جانا چاہیے کہ جدھر آرمی چیف دیکھتا ہے  اُدھر پوری فوج دیکھتی ہے اور پوری قوم بھی اسی رخ دیکھتی اور چلتی ہے۔
فوجی سربراہان کے فیصلوں اور احکامات پر سویلین بات کر سکتے ہیں وہ بھی ایک حد تک، اس سے آگے سیکرٹ اور آرمی ایکٹ سدِ راہ بنے ہوتے ہیں۔مارشل لاؤں اور فوج کی سیاست میں مداخلت آزاد عدلیہ ہی روک سکتی ہے۔ ہمارے ہاں ایسی عدلیہ کوچراغِ رُخ زیبا لے کر ہی ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ جس نے ہر مارشل لاءکو جائز قرار دیدیا۔ البتّہ  آج کی عدلیہ اپنی ایسی غلطیوں کو تسلیم کر کے کفارہ ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
 فوج میں ڈسپلن کی کارفرمائی کے لیے کمانڈر کے احکامات کی بجا آوری ناگریز ہے۔ بصورت دیگر فوج اورشوز یا صابن کمپنی میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا۔ جو لوگ فوجی رینکس میں اختلافات پیداکرنے، نفرت پھیلانے کے لیے بیانیہ بناتے اپناتے اور افواج تک پہنچاتے ہیں ان کیخلاف کارروائی کیلئے قوانین موجود ہیں۔


آج کل عمران خان کا ایک ٹویٹ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے جس میں سوا تین منٹ کی ایک ڈاکومنٹری بھی لگائی گئی ہے۔ عمران خان کے نام پر بنے اس اکاؤنٹ پر جاری ہونے والے ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ قوم حمود الرحمن کمیشن رپورٹ پڑھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان شیخ مجیب الرحمن نے توڑا یا یحییٰ خان نے توڑا۔
عمران خان کی طرف سے یہ کوئی نئی بات نہیں کی گئی۔ ڈاکو منٹری میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں بھی زیادہ تر ایسا ہی ہے جو نیا نہیں مگر اس میں سب سے خطرناک آخری15سیکنڈ میں بات کی گئی جو عمران خان کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے, بلکہ یہ سائفر سے بھی زیادہ سنگین اور شدت والا کیس ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ یہ ثابت ہو جائے کہ ٹویٹ عمران خان نے کیا ہے یا عمران خان کے ایما پر کیا گیا ہے۔(باقی آئیندہ )

پانچ نیول افسروں کو سزائے موت کی مکمل تفصیلات سامنے  آگئیں

2014 میں ڈاک یارڈ حملے میں دہشت گردوں کے ساتھ دیا 2016 میں سزائے موت سنائی گئی معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں گیا اور اس کے بعد سے اب تک کی رودا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان نیوی کے پانچ سابق افسران کو جنرل کورٹ مارشل کے ذریعے دی گئی سزائے موت پر عمل درآمد روکتے ہوئے حکم دیا  کہ مذکورہ درخواست پر حتمی عدالتی فیصلے تک نیوی کے اہلکاروں کو دی گئی سزاؤں پر عملدرآمد نہ کیا جائے۔
 نیوی ٹربیونل نے نیوی ڈاک یارڈ حملے کے مقدمے میں گرفتار نیوی کے پانچ افسروں کو ڈاک یارڈ پر حملے اور نیوی کی قیادت کے خلاف سازش کے الزام میں مجرم ثابت ہونے پر 2016 میں موت کی سزا سنائی تھی۔ان افسران میں لیفٹینینٹ محمد حماد، لیفٹینینٹ ارسلان نذیر ستی، لیفٹینینٹ حماد احمد خان، سب لیفٹینینٹ محمد عرفان اللہ اور محمد طاہر رشید شامل ہیں۔

بی ںی سی کے مطابق کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ پر ستمبر 2014 میں حملہ کیا گیا تھا جس کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ پاکستان نیوی کی جانب سے اس وقت جاری ہونے والے بیان کے مطابق اس حملے میں دو شدت پسند ہلاک جبکہ ایک نیوی اہلکار شہید ہوئے تھے۔ پاکستان نیوی کے مطابق اس حملے کے بعد چار حملہ آوروں کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔

AFP

اس وقت کے پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بعد میں بیان دیا تھا کہ ’کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ پر ہونے والے حملے میں نیوی کے اہلکار بھی شامل ہیں جن سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔‘

2016 میں جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے موت کی سزا سنائے جانے کے بعد اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں چیلنج کیا گیا تاہم اس وقت لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی (جو بعد میں سپریم کورٹ کے جج بنے اور ایک ریفرنس کی بنیاد بر طرف کر دیئے گئے تھے) اور لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس امیر حسین بھٹی نے دو سال تک اس درخواست پر فیصلہ نہ کیا جس کے بعد اس درخواست کو نمٹا دیا گیا کہ یہ درخواست عدالت کے دائرہ سماعت میں نہیں۔

Family
اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیا ہوا؟گزشتہ دنوں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے پانچ نیوی اہلکاروں کی جانب سے دائر ایک درخواست پر سماعت کی جس میں ان سزاوں پر عمل درآمد روکنے اور کورٹ مارشل کی کارروائی کی دستاویز فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔پاکستان بحریہ کی جانب سے ڈپٹی جج ایڈووکیٹ جنرل کمانڈر حامد حیات نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان نیوی رولز 1961 کے تحت اگر نیول چیف یہ رائے قائم کر لیں کہ کسی ایسی قسم کی دستاویز، جن کے عوامی سطح پر آنے سے ملکی مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے، تو نیول چیف کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ دستاویزات کی فراہمی کے لیے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کر سکتے ہیں۔

درخواست گزاروں کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم نے عدالت میں سماعت کے دوران موقف اپنایا کہ ان کے موکلوں کو 2014 میں پاکستان بحریہ نے حراست میں لیا تھا جس کے بعد ان کے اہلخانہ نے نیوی کے اعلی حکام سے رابطہ کیا۔ ان کے مطابق 2016 میں ان افسران کی اہلخانہ سے ملاقات کروائی گئی۔

درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ گرفتاری سے قبل موکلین پی این ایس ذوالفقار پر تعینات تھے اور جب انھیں بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا اس وقت ان کی مدت ملازمت کو دو سے تین سال ہوئے تھے۔

مجھے فیل کردیا گیا۔۔۔۔

تیمور میرا دوست بڑے الٹے مزاج کا آدمی ہے،ہمیشہ الگ سوچتا ہے،اس کے پاس لیلیٰ کو مجنوں،مجنوں کو لیلیٰ ثابت کرنے کی بھی دلیل ہے۔۔۔ وہ دیدار یار بھی آنکھیں بند کرکے کرتا ہے،والدین کی ضد تھی ڈاکٹر بنے لیکن وہ پروفیسربنا،ماں کی بھانجی کو بہو بنانے کی خواہش تھی لیکن وہ کلاس فیلو کوبیاہ لایا۔۔۔ مجھے سوفیصد یقین اگر پورے ملک کے عوام کسی آفت کی وجہ سے مشرق کو بھاگنا شروع ہوجائیں وہ مغرب کی طرف چلنا شروع ہوجائے گا۔۔۔ وہ کہتاہے زندگی میری ہے،میں اپنی مرضی کے مطابق بسر کرنا چاہتا ہوں،میں لوگوں یا خاندان  کی مرضی کے مطابق کیوں چلوں ؟ کیا میں ان کا غلام ہوں،مجھے میرے رب نے آزاد پیدا کیا ہے اورمیں آزادی کے مطابق ہی زندگی بسرکروں گا،اس کا موقف ہے ہر آدمی کو زندہ رہنے کا حق دیا جائے،اسے مرضی کے مطابق بولنے،لکھنے،کچھ کرنے کی مکمل آزادی ملنی چاہیے۔۔۔ دوسروں کی زندگی میں عمل دخل بند ہونا چاہیے،زندگی ایک بار ملتی ہے، دوسروں کی خواہشوں پر کیوں گزاری جائے۔۔۔ ؟ میں اسے اس لئے پسند کرتا ہوں، وہ منفرد سوچتا ہے،لکیرکا فقیرنہیں،ایک تخلیقی شخص ہے،ایسے افراد اپنی پہچان بنا جاتے ہیں،ایسی پہچان جو تاریخ بن جاتی ہے،بجا ایسے لوگوں کو زیادہ ترافراد ’’ پاگل،بے وقوف،دیوانے‘‘ سمجھتے ہیں لیکن ایسے لوگ انتہائی مضبوط ہوتے ہیں،وہ کسی کی پروا نہیں کرتے،جو ارادہ کرلیں،پورا کرتے ہیں،جس رستے پرچل پڑھیں،منزل پر پہنچتے ہیں،تنیقد کی انہیں پروا نہیں ہوتی۔ وہ اکثر چرچل کا قوم سناتاہے ’’ اگر آپ راستے میں ہر بھونکنے والے کتے کو پتھر ماریں گے تو آپ کبھی منزل پر نہیں پہنچ سکتے‘‘۔۔۔ آج ایسے ہی بیٹھے بیٹھے اس کا ایک دلچسپ وقعہ یاد آگیا،سوچا آپ دوستوں سے شیئر کردوں۔
اردو فاضل کے پیپر تھے،اس امتحان میں سونمبر کا ایک ایسا سبجیکٹ ہے جس میں صرف ایک ہی سوال آتا ہے،جس پر جامع مضمون لکھنا ہوتا ہے۔۔۔۔ سوال کیا آیا ’’ دو قومی نظریہ پر مضمون لکھاجائے‘‘ ۔۔۔۔
تیمور صاحب کیا لکھتےہیں !!
’’’’’ معذرت کے ساتھ ،جس استاد محترم نے یہ سوال لکھا ہے،مجھے یہ بات کہنے میں کوئی حرج نہیں،یہ سوال انکی کم علمی کو ظاہر کررہا ہے۔۔۔ اور یہ سوال نامکمل اور ادھورا ہے، انہیں لکھنا چاہیے تھا،دوقومی نظریہ ( پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد) پر جامع مضمون لکھیں۔۔۔ چلو خیر۔۔۔دراصل دوقومی نظریہ دوحصوں پر مشتمل ہے،ہم سے پوری وضاحت نہیں پوچھی گئی،اس لئے میں اپنی مرضی کے مطابق ایک حصہ لکھ رہا ہوں،جو قومی نظریہ پاکستان بننے سے پہلے تھا،اس وقت تو میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا،جو کچھ سنا،جوکچھ پڑھا،اس پر کتنا یقین کیا جاسکتا ہے۔۔۔؟ کیونکہ ہمیں جو مطالعہ پاکستان میں پڑھایا گیا ہے،اس میں مجھے کہیں سچائی نظرنہیں آرہی،لہٰذا میں پاکستان بننے کے بعد والا نظریہ پاکستان لکھنا چاہتا ہوں،جو میں اپنی گناہگارآنکھوں سے دیکھ رہا ہوں،سن رہا ہوں،پڑھ رہا ہوں،محسوس کررہاہوں ۔۔۔
دو قومی نظریہ ( پاکستان بننے کے بعد)
پاکستان میں دو قومیں بستی ہیں،ایک مقدس قوم،ایک دلت قوم ۔۔۔ مقدس قوم میں فوج، عدلیہ، بیوروکریسی، سیاستدان، حکمران خاندان، کارپوریٹ سیکٹر، تاجر، صنعتکار، ٹھیکیدار، جاگیردار، پیرصاحبان، علما کرام شامل ہیں۔۔۔ جبکہ باقی تمام طبقے دلت قوم ہیں۔دونوں طبقوں کی الگ الگ ذمہ داریاں ہیں،دلت قوم کی ذمہ داری دن رات محنت کرنا۔۔ اور اپنی تمام ترکمائی مقدس قوم کے حضور پیش کرنا،تاکہ وہ اور انکے اہل خانہ عیش وعشرت کی زندگی بسر کرسکیں، اورباقی بچنے والے چند لقمے دلتوں کوخیرات میں مل جاتے ہیں تاکہ وہ زندہ رہ سکیں اور انکی خدمت کرسکیں ،مقدس قوم کیلئے تعلیمی ادارے،ہسپتال،شاپنگ سینٹر،ٹرانسپورٹ،خوراک،ملبوسات،رہائش گاہیں، دلت قوم سے الگ الگ ہیں، دلت قوم کو اجازت نہیں ہے وہ مقدس قوم کے کسی بھی طبقےکیخلاف کوئی بات کرسکیں،اس کی بڑی سخت سزائیں ہیں،جو تشدد سے شروع ہوتی ہیں،قید اور موت تک جاتی ہیں۔دلتوں کو اس بات کی بھی اجازت نہیں وہ مقدس قوم کے کسی بھی شخص کے برابر بیٹھ سکیں،اس کی طرف اشارہ کرکے بات کرسکیں،انکے ساتھ بیٹھ کر کھاناکھانے کی کوشش کرسکیں،ان جیسا لباس پہن سکیں،اپنے بچوں کو ان کے تعلیمی اداروں میں داخل کروانے کی ہمت کرسکیں۔۔۔۔ویسے بھی اگر دیکھا جائے تویہ دلتوں کیلئے ممکن ہی نہیں،یہ بےچارے تو دووقت کی روٹی کھالیں یہی انکی بہت بڑی عیش ہے،دلتوں کو صرف ایک کام کی کھلی آزادی ہے،وہ جب چاہیں خودکشی کرلیں،اپنے بچوں کو نہر میں پھینک دیں یا زہر دے دیں۔مقدس افراد کیلئے ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں جبکہ دلتوں کیلئے تمام قانون موجودہیں۔ ایک اہم ترین بات،جب دلتوں کی کمائی مقدس قوم کیلئے کم پڑجائے تو مقدس قوم کو حق حاصل ہے وہ دیگر ممالک اور عالمی اداروں سے قرضے حاصل کرکے اپنی ضروریات پوری کرلیں اور ان قرضوں کو ادا کرنا دلتوں پر فرض ہے،اس وقت مقدس قوم 272ارب ڈالرقرضہ لے چکی ہے یہ سب دلتوں نے دن رات محنت کرکے واپس کرناہے،مقدس قوم کو یہ بھی حق حاصل ہے وہ دلتوں کی کمائی سے اپنے بیرون ملک محلات،بنگلے خرید سکیں تاکہ اگر خدا نخواستہ ملک میں کوئی آفت آجائےتو وہاں جاکرمقیم ہوسکیں۔
میں اس موضوع پرایک پوری کتاب لکھ سکتا ہوں،لیکن پیپر کا وقت ختم ہوچکا ہے۔۔۔۔‘‘
تیمور نےاپنا لکھا ہوا سارا پیپر مجھے زبانی سنایا۔۔۔ میں تھوڑی دیرخاموش رہا۔۔۔ پھر پوچھا،رزلٹ کیا آیا۔۔۔ ؟ وہ طنزیہ مسکرایا۔۔۔ اور بولا۔۔۔ مجھےفیل کردیا گیا۔۔۔۔

چلڈرن مقتل ہسپتال

زندگی کے کسی بھی پہلو کو سمجھنے کیلئے اس کے تجربات سے گزرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔۔ایک ایسا انسان جس نے بھوک دیکھی ہو، فاقہ کاٹا ہو، مشکلات دیکھی ہوں، پریشانیوں کا سامنا کیا ہو، گرمی کی شدت سے جلتے ہوئے جسم کی تپش کو محسوس کیا ہو، سردی کی شدت میں کانپتے جسم کی تھرتھراہٹ اور خشک جلد پر پڑنے والی سلوٹوں کو محسوس کیا ہو، دو روٹیوں کی موجودگی اور چار بھوکے بچوں کی اداسی دیکھی ہو، ہسپتال میں بیمار بچوں کو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں اترتے دیکھا ہو، قرض ادا نہ کرنے پر چوہدری یا تاجر کے طعنے سنے ہوں، مار کھائی ہو، غربت کے کیچڑ میں اپنی جوان بچیوں کے حسن کو ڈھلتے دیکھا ہو، اپنے جگر کے گوشوں کو کچرا چنتے یا سکول کے باہر ٹھہر کر پاپڑ بیچتے وقت سکول کے اندر تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو دیکھتے ہوئے اپنی زندگی کے کچھ خوابوں کا جنازہ نکلتے دیکھا ہو، اپنے بہت سے ارمان کچلے جانے کا درد محسوس کیا ہو، فٹ پاتھ پر اپنی بیوی یا ماں اور بہن کی ڈلیوری دیکھی ہو، ادویات یا آپریشن کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے اپنوں کو مرتے اور بچھڑتے دیکھا ہو، ساری رات اندھیرے میں پسینے کی بہتی آبشاروں کے سنگ گزاری ہو، دن کے اجالے میں اپنے بچوں کو بھوک کی بدولت بلک بلک کر مرتے دیکھا ہو اور پھر اس بات پر ماتم کیا ہو کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر کچھ نہیں کر پایا۔
کارل مارکس نے کہا تھا۔۔۔
‏وہ لوگ جنہوں نے سردی گرمی صرف کھڑکیوں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کر سکتے۔۔۔
دو خواتین میری پاس آئیں،کہنے لگیں،بھائی ! آپکا موبائل چاہیے،میں سمجھا کال کرنا ہوگی،نمبر پوچھا،کہنے لگیں،کال نہیں کرنی،موبائل چاہیے،میں حیران ہوا،موبائل کیوں چاہیے؟ اتنے میں وہ بولیں،ہمارے ساتھ چلیں،میں چل دیا،ایکسرے روم میں لے گئیں،ایکسرے کی تصویر لینی ہے،میں سمجھ گیا ،کسی کو واٹس ایپ پر ایکسرے کی تصویر بھیجنا ہوگی،لیکن معاملہ کچھ اور نکلا،آپریٹر نے مجھ سے موبائل لیا،سکرین سے تصویریں بنائیں، اور کہا جاؤ ڈاکٹر کو چیک کرالیں۔ پوچھا ! کہنے لگا آٹھ ماہ سے پرنٹر نہیں ہے،ڈاکٹر کو ایکسرےایسے ہی چیک کرائے جاتے ہیں، وہ دیکھ لیں،ہم نے نوٹس لگایا ہوا ہے،نوٹس دیکھا اور ان سے تصویر بنانے کی اجازت طلب کی،وہ کہنے لگے بنالیں تصویر۔  کیا لکھا تھا ’’ایمرجنسی میں داخل مریضوں کے ایکسرے کی موبائل پر تصویر ملے گی،لہٰذا موبائل ساتھ لیکر آئیں،موبائل ساتھ نہ ہونے کی صورت میں ڈیوٹی پر موجود عملے سے بحث نہ کریں‘‘ ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے موبائل پر سرسری سے نظر دوڑائی اور رپورٹ لکھ دی۔۔۔مسلسل چھ روز ہسپتال میں آنا جانا رہا،ایک سے ایک بڑھ کر دردناک کہانیاں،پاس بیٹھا ایک شخص بتانے لگا بہاؤلنگر سے آیا ہوں،بچے کا آپریشن ہے،پندرہ روزہوگئے،سول عدالتوں کی طرح تاریخ پر تاریخ دیئے جارہے ہیں، چھ سے سات لاکھ خرچ ہوچکے،آٹھ بوتلیں خون کی دیں،اب کہہ رہے ہیں خون خراب ہوگیا،دوبارہ چاربوتلوں کابندوبست کریں۔دھچکااس وقت لگاجب معلوم ہوا نرسری ایمرجنسی میں صرف آٹھ وینٹی لیٹر ہیں،سینکڑوں مریض بچے،ہاتھ سے پمپمنگ کرکے بچوں کو آکسیجن دی جاتی ہیں،کیاہم پتھر کے زمانے میں رہ رہے؟ ہاتھ سے پمپنگ کرکے آکسیجن دی جاسکتی ہے؟ بچے ایک،دو روز میں زندگی موت کی جنگ لڑتے ہوئے دم توڑ جاتے ہیں،ایک ڈاکٹر نے مجھے خود بتایا کوئی ایک ہزار میں سے ایک بچہ صحت یاب ہوتا ہے، ہر دس منٹ بعد کہیں نہ کہیں سے رونے کی آواز آتی ہے،والدین اپنے بچے کی لاش اٹھائے ہوئے ہوتےہیں،پینے کیلئے پانی نہیں،بیٹھنے کی جگہ نہیں،کنٹین مافیا لوگوں کی جیبیں کاٹ رہا۔۔،سب سے بڑی خوفناک بات،ہسپتال میں میڈیکل عملے سے زیادہ سکیورٹی گارڈز ہیں،مرد اور خواتین،اتنے بدتمیز،لوگوں کو دھکے دے رہے ہوتے ہیں،انتہائی درجے کی بدتمیزی،پریشان والدین کو ذلیل کررہے ہوتے ہیں۔پرچی بنوانے کیلئے ساتھ،آٹھ لائنیں، ایک لائن میں  ستر،اسی مرد اورخواتین،اکثر بچے پرچی ملنے سے پہلے ہی انتقال کرجاتے ہیں۔
اربوں روپے کا بجٹ،کہاں خرچ ہورہا؟ کس سےگلہ،کس سے شکوہ،کس پر تنقید۔۔۔؟؟ گزشتہ دنوں مریم صاحبہ سفید کوٹ پہن کرہسپتال گئیں تھیں،نام کی تختی بھی آویزاں کرآئیں،فوٹو شوٹ بھی ہوگیا،ٹک ٹاک بھی بن گئی،بس یہی مقصد تھا،پورا ہوگیا۔۔۔صرف مریم ہی نہیں،اس سے پچھلے بھی ایسے ہی تھے،اس سے پچھلے بھی ایسے،سب رنگباز،نالائق،جاہل،فرق صرف اتنا،کوئی بزدار پلس ہے،کوئی بزدارمینس،قوم کو سب بزدار ہی ملے۔
کارل مارکس نے صیح کہا تھا۔۔۔
‏وہ لوگ جنہوں نے سردی گرمی صرف کھڑکیوں سے دیکھی ہو اور بھوک صرف کتابوں میں پڑھی ہو وہ عام آدمی کی قیادت نہیں کر سکتے۔۔۔
میرا تو مطالبہ ہے چلڈرن ہسپتال لاہور کا نام چلڈرن مقتل ہسپتال لاہور رکھ دیا جائے،ڈاکٹرزلوگوں کے جگر گوشوں پر تجربات کرتے رہیں،حکومت اور ڈاکٹروں کو کیا فرق پڑھتا ہے،درد تو اس ماں کوہوتا ہے جس کا لخت جگرعلاج نہ ہونے سے چل بستا ہے۔۔۔
 

عمران خان قاضی کوٹ اور فوج کا غصہ سوا نیزے پر

قاضی فائز عیسی کی طرف سے خصوصی نشستوں کے حوالے سے تحریک انصاف کی اپیل پر 13 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے 13 رکنی اس لیے بنایا گیا ہے کہ اس سے زیادہ جج ہی موجود نہیں تھے ججوں کی کل تعداد 14 ہے ان میں سے مسرت ہلالی کی طبیعت بہتر نہیں ہے اس لیے باقی جتنے بھی صاحبان دستیاب تھے ان پر مشتمل قاضی فائز نے بینچ بنا دیا۔اس پر کچھ حلقوں کی طرف سے تنقید کی جا رہی ہے کہ قاضی فائز اپنی مرضی کا فیصلہ لانا چاہتے ہیں۔ان کو تین سال کی ایکسٹینشن دینے کا لالی پاپ دیا گیا ہے اگر یہ نشستیں تحریک انصاف کو واپس مل جاتی ہیں یا یہ نشستیں خالی چھوڑ دی جاتی ہیں تو قاضی فائز کی ایکسٹینشن کے لیے دو تہائی اکثریت اس حکومت کے پاس نہیں ہوگی۔کہا جاتا ہے کہ قاضی فائز وہ خطرہ تھا کہ فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آ سکتا ہے  اسی لیے سات رکنی سینیئر ججوں پر بنچ نہیں بنایا اس کی بجائے انہوں نے اپنی سربراہی میں 13 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔کتنی بد قسمتی ہے کہ اگر سات رکنی لارجر بینچ تشکیل دیا جاتا  تو اس پر چہ میگوئیاں ہو رہی تھیں کہ فیصلہ چار کے مقابلے میں تین سے آئے گا۔اب بھی کہا جا رہا ہے کہ سات جج قاضی فائز عیسیٰ سمیت ایک طرف ہوں گے باقی چھ دوسری طرف فیصلہ دے سکتے ہیں۔لوگ کیا کہیں گے اس کی پروا کیے بغیر قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی سربراہی میں 13 رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ عہدے سے کب ریٹائر ہوں گے؟
 6 مئی  کوسپریم کورٹ نے 14 مارچ کے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے ساتھ ساتھ یکم مارچ کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سنی اتحاد کونسل کو خواتین اور اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں سے محروم کرنے کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا۔ 3 مئی کو ‏پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر ہوگیا تھا۔4 مارچ کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی درخواستیں مسترد کردیں تھیں۔
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے 28 فروری کو درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 53 کی شق 6، الیکشن ایکٹ کےسیکشن 104 کےتحت فیصلہ سناتے ہوئے مخصوص نشستیں الاٹ کرنے کی سنی اتحاد کونسل کی درخواست کو مسترد کیا ہ۔

چار ایک کی اکثریت سے جاری 22 صفحات پر مشتمل فیصلے میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں الاٹ نہیں کی جا سکتیں، قانون کی خلاف ورزی اور پارٹی فہرست کی ابتدا میں فراہمی میں ناکامی کے باعث سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں، سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کے لیے لسٹ جمع نہیں کرائی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ یہ مخصوص نشستیں خالی نہیں رہیں گی، یہ مخصوص متناسب نمائندگی کے طریقے سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جائیں گی۔الیکشن کمیشن نے تمام خالی مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کو الاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) ، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جو یو آئی ف) کو دینے کی درخواست منظور کی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر، ممبر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے اکثریتی فیصلے کی حمایت کی جب کہ ممبر پنجاب بابر بھروانہ نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا تھا۔

قاضی فائز عیسیٰ کے تحریک انصاف کے ساتھ تعصب سے ہر کوئی آگاہ ہے ایک تو ان کی طرف سے بلے کا نشان تحریک انصاف سے چھین لیا گیا تھا۔جب تحریک انصاف کی طرف سے ان کی کورٹ میں یہ کہا گیا کہ لیول پلینئنگ فیلڈ تحریک انصاف کو نہیں مل رہا اس پر قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے بھی تحریک انصاف کے خلاف ہی فیصلہ دیا گیا تھا۔13 رکنی بینچ سے قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جو فیصلہ ا سکتا ہے اس سے تحریک انصاف کوئی اچھائی کی امید نہیں رکھ رہی۔
نیب ترامیم کے حوالے سے عمران خان کی مدعیت میں سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی تھے۔اس کی پہلی سماعت پر قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے عمران خان کو ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی اجازت دی گئی لیکن یہ سماعت براہ راست نہ دکھائی گئی عمران خان کو بولنے کا موقع بھی نہیں مل سکا تھا البتہ عمران خان کی ایک تصویر ضرور سپریم کورٹ کے اندر سے باہر آگئی جس پر سپریم کورٹ کی طرف سے انکوائری بٹھا دی گئی تھی۔اسی کیس کی دوبارہ سماعت گزشتہ روز یعنی تیس مئی کو ہوئی۔اس میں عمران خان کو بولنے کا موقع تو ضرور ملا لیکن ایک باقاعدہ بینچ کی طرف سے فیصلہ بھی آگیا کہ عمران خان کی کیس کی لائیو سٹریمنگ نہیں ہوگی۔اس کو کوئی دہرا معیار کہے یا تہرا معیار کہے قاضی فائز نے کہا کہ یہ عوامی مفاد کا کیس نہیں ہے بلکہ ٹیکنیکل کیس ہے۔یہ الگ بات ہے کہ دنیا کی نظریں اسی کیس پر ٹکی ہوئی تھیں جو قاضی فائزہ کی طرف سے براہ راست نشر نہیں کیا گیا اس کی وجہ بھی یہی بتائی جا رہی ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کو ایکسٹینشن کی ضرورت ہے۔اس روز کی روداد کچھ اس طرح سے ہے:
نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کےخلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر نے کی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ میں شامل تھے۔بانی پی ٹی آئی عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے، انہوں نے رائل بلیو کلر کی شرٹ اور ڈارک بلیو کلر کی جینز پہن رکھی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت لائیو نشر کرنے کی حمایت کر دی اور ریمارکس دیےکہ کیس پہلے لائیو چلتا تھا تو اب بھی لائیو چلنا چاہیے۔

آمریت کی حمایت غداریوں کی توثیق؛جسٹس اطہر من اللہ کی ججوں کے کنڈکٹ پر شدید  تنقید

ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کا کہنا تھا یہ کیس عوامی مفاد اور دلچسپی کا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیےکہ کیس ٹیکنیکل ہے، اس میں عوامی مفاد کا معاملہ نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست دائر کی ہے، سماعت براہ راست دکھائی جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا یہ عوامی مفاد کا مقدمہ نہیں آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا، سپریم کورٹ کی کی عدالتی کارروائی براہ راست نشر ہوگی یا نہیں؟ فیصلہ مشاورت کے بعد ہوگا۔

لارجر بینچ میں شامل ججز آپس میں مشاورت کرنے چیمبر میں چلےگئے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی کی لائیو اسٹریمنگ کی درخواست چار ایک سے مسترد کر دی، چیف جسٹس نے بتایا کہ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے سے اختلاف کیا۔

کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عمران خان سے پوچھا کہ یہ ایک تکنیکی معاملہ ہے، آپ اپنے دلائل مکمل کرنے میں کتنا وقت لیں گے، عمران خان نے کہا میں جیل میں ہوں اور یہاں لائبریری اور دیگر مواد میرے پاس دستیاب نہیں ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم آپ کو کیس سے متعلقہ تمام مواد فراہم کریں گے اور اگر آپ کو لیگل ٹیم سے متعلق رہنمائی درکار ہو تو اس کا بھی بندوبست کیا جاسکتا ہے، جس پر عمران خان نے کہا میرے لیے یہ کیس سپریم نیشنل انٹرسٹ کا کیس ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خواجہ حارث سے پوچھا آپ کتنے وکلا کے ساتھ عمران خان سے ملاقات کرنا چاہیں گے جس پر خواجہ حارث نے کہا میں چاہوں گا کہ میں خود جا کر عمران خان سے ملاقات کروں۔
عمران خان نے بینچ کو آگاہ کیا کہ آٹھ فروری اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر میری دو درخواستیں زیرالتوا ہیں۔ اس لیے آپ سے بات کرنے کا موقع شاید دوبارہ نہ ملے۔اس پر چیف جسٹس نے سابق وزیرِ اعظم سے استفسار کیا کہ ان کیسز میں آپ کے وکیل کون ہیں؟ جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ حامد خان ان کے وکیل ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ حامد خان کو معلوم ہے کیسز کیسے جلدی مقرر کرائے جاتے ہیں۔ آج کیس نیب ترامیم کے حوالے سے ہے۔عمران خان نے کہا کہ اڈیالہ میں سب کچھ کرنل صاحب کنٹرول کرتے ہیں۔

Roznama Dunya: عمران خان تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج 9 مئی کے دونوں مقدمات سے  بری
30 مئی کو ہی کور کمانڈر اور فارمیشن کمانڈر کانفرنس ہوئی جس کی سربراہی جنرل عاصم منیر نے کی ۔اس کانفرنس میں بھی عمران خان ہی کو ان کا نام لیا بغیر موضوع بحث بنایا گیا۔فارمیشن کمانڈر کانفرنس میں کہا گیا  کہ پاکستانی قوم جھوٹ اور پروپیگنڈا کرنے والوں کے مذموم اور مکروہ عزائم سے پوری طرح باخبر ہے، جن کا مقصد جھوٹ اور پروپیگنڈے سے پاکستانی قوم میں مایوسی پیدا کرنا ہے۔فورم کے مطابق پروپیگنڈے کا مقصد قومی اداروں بالخصوص افواج پاکستان اور عوام کے درمیان خلیج ڈالنا ہے۔اس موقع پر شرکائے کانفرنس نے کہا کہ اِن ناپاک قوتوں کے مذموم ارادوں کو مکمل اور یقینی شکست دی جائے گی۔فورم نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ 9 مئی کے منصوبہ سازوں، مجرموں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے، 9 مئی کے مجرمان کے خلاف فوری، شفاف عدالتی اور قانونی کارروائی کے بغیر ملک سازشی عناصر کے ہاتھوں یرغمال رہے گا۔
حکومت عدلیہ اور پاک فوج کی جانب سے عمران خان اور تحریک انصاف کا گھیرا مزید تنگ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔
یہ سارا کچھ کرنے کے باوجود بھی عمران خان کے مخالفین کو سٹیبلٹی کی امید ہے۔